اسلام ٹائمز 16 Mar 2020 گھنٹہ 16:50 https://www.islamtimes.org/ur/article/850675/کورونا-وائرس-سے-بائیولوجیک-جنگ-تک -------------------------------------------------- ٹائٹل : کورونا وائرس سے بائیولوجیک جنگ تک -------------------------------------------------- یہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ یہ اعتراض کریں کہ اس میں تو امریکہ کو بھی نقصان ہو رہا ہے تو اسکا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بڑے اقتصادی اہداف کے لیے چند ہزار امریکی شہریوں کو قربان کیا جا سکتا ہے، جیسا ماضی میں ضیاالحق کو راستے سے ہٹانے کے لیے امریکہ نے اپنا سفیر بھی قربان کر دیا تھا۔ متن : اداریہ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے ٹویٹ میں امریکی افواج کو چین میں کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے امریکہ کو اس حوالے سے جوابدہ قرار دیا ہے۔ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے فوج کے سربراہ کے نام جو حکمنامہ جاری کیا ہے، اُس میں بائیولوجیک وار یا جراثیمی جنگ کے خلاف جنگی مشقوں کی تیاری کا تاثر ملتا ہے۔ ادھر یورپ کے بعض ممالک بالخصوص اٹلی، جس انداز سے اس وائرس کا شکار ہوا ہے اور اسکے پیچھے پیچھے یورپی ممالک کی جو لائن لگ گئی ہے، اس نے صورتحال کو پیچیدہ کر دیا ہے۔ اُس سے پہلے بھی وبائیں پھیلتی رہی ہیں، لیکن اُن وباوں میں پھیلاو کی یہ شرح نہیں تھی۔ وہ زیادہ سے زیادہ کسی ایک براعظم تک پھیلنے میں کامیاب ہوئی ہیں، لیکن ایسی کبھی وبائی مرض کا مسئلہ سامنے نہیں آیا، جس نے چند دنوں میں ڈیڑھ سو کے قریب ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ الزامات اور جوابی الزامات کا یہ سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا، لیکن اس میں سب سے مشکوک کردار جاری ہے اور جاری رہے گا۔ اس میں سب سے مشکوک کردار امریکہ میں موجود صہیونی لابی کا نظر آ رہا ہے۔ صہیونی نظریات کے بانی افراد اور صہیونی پروٹوکولز میں اسطرح کی وباوں اور ان کی ویکسینیز کو اپنے اہداف کیلئے استعمال کرنے کے اشارے ملتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور بعض دوسری سامراجی طاقتوں کیطرف سے ماضی میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی وسیع پیمانے پر تیاری اور اپنے دشمنوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ میں موجود نو قدامت پسند یا "نئیوکانز" دنیا کو تباہی کے دھانے پر لے جانے میں ہمیشہ آمادہ و تیار رہتے ہیں۔ امریکہ اور جرمنی نے اس سے پہلے بھی ایچ آئی وی کی ویکسینز میں اربوں ڈالر کمائے تھے، آج ایک بار پھر یہ چیزیں سامنے آ رہی ہیں کہ ڈونالڈٹڑامپ نے جرمنی کی ایک کمپنی "کیوسیک" سے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی ویکسین کو مارکیٹ میں لائے۔ ساتھ یہ بھی کہ اس پر اٹھنے والے تمام اخراجات امریکہ دے گا، بشرطیکہ اس ویکسین کے خرید و فروخت کے تمام حقوق اور اسکی رائیلیٹی امریکہ کے پاس رہے۔ تاجر پیشہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ اگر اس ویکسین کو مارکیٹ کرنے یا جرمنی کے ساتھ ملکر پوری دنیا میں کرونا کے علاج میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، تو اس شک کو تقویت مل سکتی ہے کہ HIV کیطرح کورونا کے پیچھے بھی اُن طاقتوں کا ہاتھ ہے، جو اس سے ویسع مالی مفادات حاصل کرنے کے درپے ہیں۔ البتہ ممکن ہے کچھ لوگ یہ اعتراض کریں کہ اس میں تو امریکہ کو بھی نقصان ہو رہا ہے تو اسکا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بڑے اقتصادی اہداف کے لیے چند ہزار امریکی شہریوں کو قربان کیا جا سکتا ہے، جیسا ماضی میں ضیاالحق کو راستے سے ہٹانے کے لیے امریکہ نے اپنا سفیر بھی قربان کر دیا تھا۔