اسلام ٹائمز 21 Oct 2021 گھنٹہ 19:26 https://www.islamtimes.org/ur/article/959891/رسول-خدا-صلی-اللہ-علیہ-وآلہ-وسلم-کی-شخصیت-امام-علی-السلام-نظر-میں -------------------------------------------------- ٹائٹل : رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت امام علی علیہ السلام کی نظر میں -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (سمعت رسول الله یقول: ما هممت بشیء مما کان اهل الجاهلیة یعملون به غیر مرتین کل ذلک یحول الله بینی و بین ما ارید من ذلک)18"میں نے کبھی بھی جاہلیت کے زمانے میں معمول کاموں کو انجام دینا نہیں چاہا، سوائے دو دفعہ کہ ہر بار خداوند متعال نے میرے اور اس چیز کے درمیان کوئی مانع اور رکاوٹ ڈال دی۔" امام صادق علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصی تربیت کے بارے میں فرماتے ہیں: (ان اللہ ادب محمداً (ص) فاحسن تعدیبہ)19"خداوند متعال نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تربیت کی اور کتنی اچھی انکی تربیت کی۔" متن : تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے ایام میں یہ عالم بالعموم اور ملک عرب بالخصوص ہر لحاظ سے ایک ظلمت کدہ تھا۔ ہر طرف کفر و ظلمت کی آندھیاں نوع انسان پر گھٹا ٹوپ اندیھرا بن کر امڈ رہی تھی۔ انسانی حقوق یا فرائض کا کوئی ضابطہ یا آئین موجود نہ تھا۔ اغواء، قتل و غارت گری اور اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا معمول کی زندگی تھی۔ ذرا سی بات پر تلواریں نکل آتیں اور خون کی ندیاں بہا دی جاتیں۔ انسانیت ہر لحاظ سے تباہی و بربادی کے کنارے پر کھڑی تھی۔ ان حالات میں رحمت حق جوش میں آئی اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی اور آپ مبعوث بہ رسالت ہوگئے۔ دنیا چشم زدن میں گہوارہ امن و امان بن گئی۔ راہزن رہنماء بن گئے۔ جاہل شتربان اور صحرا نشین جہان بان و جہان آراء بن گئے اور سرکش لوگ معلم دین و اخلاق بن گئے۔ امام علی علیہ السلام کے کلمات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت سے اوصاف اور خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ یہاں ہم کچھ نمونے ذکر کرنے کی کوشش کریں گے۔ ۱۔ امانت دار (ان الله بعث محمد (ص) نذیراً للعالمین و امیناً علی التنزیل)۱"یقیناً خداوند متعال نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عالمین کو عذاب الہیٰ سے ڈارانے والا اور اپنی کتاب کا امین بنا کر مبعوث کیا ہے۔۔" ایک اور مقام  پر آپ فرماتے ہیں: (حَتَّى أَوْرَى قَبَساً لِقَابِسٍ وَ أَنَارَ عَلَماً لِحَابِسٍ، فَهُوَ أَمِينُكَ الْمَأْمُونُ وَ شَهِيدُكَ يَوْمَ الدِّينِ)۲ "خداوند متعال نے ہر روشنی کے طلب گار کے لئے آگ روشن کر دی اور ہر گم کردہ راہ اور ٹھہرے ہوئے مسافر کے لئے نشان منزل روشن کر دیئے۔ پروردگارا: وہ تیرے معتبر امانتدار اور روز قیامت کے گواہ ہیں۔" ۲۔ استقامت اور پائیداری رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمایاں صفات میں سے ایک صفت مقدس ہدف کی راہ میں استقامت اور استقامت اور پائیداری ہے، جسے امام علی علیہ السلام نے متعدد مرتبہ ذکر فرمایا ہے۔ (أَرْسَلَهُ دَاعِياً إِلَى الْحَقِّ وَ شَاهِداً عَلَى الْخَلْقِ فَبَلَّغَ رِسَالاتِ رَبِّهِ غَيْرَ وَانٍ وَ لَا مُقَصِّرٍ وَ جَاهَدَ فِي اللَّهِ أَعْدَاءَهُ غَيْرَ وَاهِنٍ وَ لَا مُعَذِّرٍ، إِمَامُ مَنِ اتَّقَى وَ بَصَرُ مَنِ اهْتَدَى).۳ "اللہ تعالیٰ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوقات کے اعمال کا گواہ بنا کر بھیجا تو آپ نے پیغام الہیٰ کو مکمل طور سے پہنچا دیا۔ نہ کوئی سستی کی اور نہ کوئی کمزوری دکھلائی اور نہ کسی حیلہ اور بہانہ کا سہارا لیا۔ آپ متقین کے امام اور طلب گاران ہدایت کے لئے آنکھوں کی بصارت تھے۔" امام علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کی تعلیم کے ضمن میں فرماتے ہیں: (اجْعَلْ شَرَائِفَ صَلَوَاتِكَ وَ نَوَامِيَ بَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَ رَسُولِكَ، الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ وَ الْفَاتِحِ لِمَا انْغَلَقَ وَ الْمُعْلِنِ الْحَقَّ بِالْحَقِّ وَ الدَّافِعِ جَيْشَاتِ الْأَبَاطِيلِ وَ الدَّامِغِ صَوْلَاتِ الْأَضَالِيلِ كَمَا حُمِّلَ فَاضْطَلَعَ قَائِماً بِأَمْرِكَ مُسْتَوْفِزاً فِي مَرْضَاتِكَ غَيْرَ نَاكِلٍ عَنْ قُدُمٍ وَ لَا وَاهٍ فِي عَزْمٍ، وَاعِياً لِوَحْيِكَ حَافِظاً لِعَهْدِكَ مَاضِياً عَلَى نَفَاذِ أَمْرِكَ حَتَّى أَوْرَى قَبَسَ الْقَابِسِ وَ أَضَاءَ الطَّرِيقَ لِلْخَابِطِ وَ هُدِيَتْ بِهِ الْقُلُوبُ بَعْدَ خَوْضَاتِ الْفِتَنِ وَ الْآثَامِ وَ أَقَامَ بِمُوضِحَاتِ الْأَعْلَامِ وَ نَيِّرَاتِ الْأَحْكَامِ)۴ "اپنی پاکیزہ ترین اور مسلسل بڑھنے والی برکات کو اپنے بندہ اور رسول حضرت محمد (ص) پر قرار دے، جو سابق نبوتوں کے ختم کرنے والے، دل و دماغ کے بند دروازوں کو کھولنے والے، حق کے ذریعے حق کا اعلان کرنے والے، باطل کے جوش و خروش کو دفع کرنے والے اور گمراہیوں کے حملوں کا سر کچلنے والے تھے۔ جو بار جس طرح ان کے حوالہ کیا گیا، انہوں نے اٹھا لیا۔ تیرے امر کے ساتھ قیام کیا۔ تیری مرضی کی راہ میں تیز قدم بڑھاتے رہے۔ نہ آگے بڑھنے سے انکار کیا اور نہ ان کے ارادوں میں کمزوری آئی۔ تیری وحی کو محفوظ کیا۔ تیرے عہد کی حفاظت کی، تیرے حکم کے نفاذ کی راہ میں بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ روشنی کی جستجو کرنے والوں کے لئے آگ روشن کر دی اور گم کر دہ راہ کے لئے راستہ واضح کر دیا۔ ان کے ذریعے دلوں نے فتنوں اور گناہوں میں غرق رہنے کے بعد بھی ہدایت پالی اور انہوں نے راستہ دکھانے والے نشانات اور واضح احکام قائم کر دیئے۔" ۳۔ شجاعت اور فداکاری اس سلسلے میں امام (ع) فرماتے ہیں: (كُنَّا إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ (صلی الله علیه وآله)، فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَّا أَقْرَبَ إِلَى الْعَدُوِّ مِنْهُ.)۵ "جب بھی جنگ چھڑ جاتی تھی تو ہم لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پناہ میں رہا کرتے تھے اور کوئی شخص بھی آپ سے زیادہ دشمن سے قریب نہیں ہوتا تھا۔" ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں: (وَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (صلی الله علیه وآله) إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ وَ أَحْجَمَ النَّاسُ قَدَّمَ أَهْلَ بَيْتِهِ، فَوَقَى بِهِمْ أَصْحَابَهُ حَرَّ السُّيُوفِ وَ الْأَسِنَّةِ؛ فَقُتِلَ عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ يَوْمَ بَدْرٍ وَ قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ وَ قُتِلَ جَعْفَرٌ يَوْمَ مُؤْتَةَ، وَ أَرَادَ مَنْ لَوْ شِئْتُ ذَكَرْتُ اسْمَهُ مِثْلَ الَّذِي أَرَادُوا مِنَ الشَّهَادَةِ وَ لَكِنَّ آجَالَهُمْ عُجِّلَتْ وَ مَنِيَّتَهُ [أُخِّرَتْ] أُجِّلَتْ.)۶ "اور رسول اکرم (ص) کا یہ عالم تھا کہ جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھتے تھے اور لوگ پیچھے ہٹنے لگے تھے تو آپ اپنے اہل بیت کو آگے بڑھا دیتے تھے اور وہ اپنے کو سپر بنا کر اصحاب کو تلوار اور نیزوں کی گرمی سے محفوظ رکھتے تھے۔ چنانچہ بدر کے دن جناب عبیدہ بن الحارث مارے گئے۔ احد کے دن حمزہ شہید ہوئے اور موتہ میں جعفر کام آگئے۔ ایک شخص نے جس کا نام بتا سکتا ہوں، انہیں لوگوں جیسی شہادت کا قصد کیا تھا، لیکن ان سب کی موت جلدی آگئی اور اس کی موت پیچھے ٹال دی گئی۔" ۴۔ پیغمبر رحمت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے رسول رحمت ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: (و ما ارسلناک الارحمة للعالمین)7۔ "ہم نے آپ کو عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔" امام باقر علیہ السلام نے امام علی علیہ السلام سے اس طرح نقل کیا ہے: (وَ حَكَى عَنْهُ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَاقِرُ (علیه السلام) أَنَّهُ (علیه السلام) قَالَ: كَانَ فِي الْأَرْضِ أَمَانَانِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ وَ قَدْ رُفِعَ أَحَدُهُمَا، فَدُونَكُمُ الْآخَرَ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ؛أَمَّا الْأَمَانُ الَّذِي رُفِعَ فَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ (صلی الله علیه وآله)، وَ أَمَّا الْأَمَانُ الْبَاقِي فَالاسْتِغْفَارُ؛قَالَ اللَّهُ تَعَالَى"وَ ما كانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فِيهِمْ وَ ما كانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ)۸ "امام محمد باقر علیہ السلام  نے آپ کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ روئے زمین پر عذاب الٰہی سے بچانے کے دو ذرائع تھے۔ ایک کو پروردگار نے اٹھا لیا ہے ( پیغمبر اسلام (ص) ) لہٰذا دوسرے سے تمسک اختیار کرو۔ یعنی  استغفار کہ مالک کائنات نے فرمایا ہے کہ خدا اس وقت تک ان پر عذاب نہیں کرسکتا ہے، جب تک آپ موجود ہیں اور اس وقت تک عذاب کرنے والا نہیں ہے، جب تک یہ استغفار کر رہے ہیں۔" امام باقر علیہ السلام کی روایت سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امان اور مہربان ہونے کی وجہ معلوم ہوئی، لیکن قرآن کریم کی آیت کے مطابق وہ (رحمة للعالمین) یعنی عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور جو بھی لوگوں کی ابدی سعادت کا باعث بنتا ہے، اسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں۔ یہاں تک کہ کافروں اور مشرکوں کے لیے بھی باعث رحمت ہیں، کیونکہ یہ ایک وسیع دستر خوان کی مانند ہے، جس میں ہر قسم کا طعام موجود ہو، لیکن  بعض لوگ اس وسیع دستر خوان سے مستفید نہیں ہوتے ہیں۔۹ 5۔ تمام انبیاء سے برتر اس سلسلے میں حضرت فرماتے ہیں: (أَرْسَلَهُ بِالضِّيَاءِ وَ قَدَّمَهُ فِي الاصْطِفَاءِ،)۱۰ "اس نے پیغمبر کو ایک نور دے کر بھیجا ہے اور انہیں سب سے پہلے منتخب قرار دیا ہے۔" اور ایک اور جگہ فرماتے ہیں: (و اشهد ان محمد عبده و رسول المجتبی من خلائقه)۱۱ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کا بندہ اور برگزیدہ رسول ہیں۔ ۶۔ خاتم النبیین اس سلسلے میں حضرت فرماتے ہیں: (إِلَى أَنْ بَعَثَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مُحَمَّداً [صلی الله علیه وآله] رَسُولَ اللَّهِ لِإِنْجَازِ عِدَتِهِ وَ إِتْمَامِ نُبُوَّتِهِ) 1۲ "یہاں تک کہ مالک نے اپنے وعدہ کو پورا کرنے اور اپنے نبوت کو مکمل کرنے کے لئے حضرت محمد (ص) کو بھیج دیا۔۔۔" اسی طرح فرماتے ہیں: (۔۔۔ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَ رَسُولِكَ، الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ)1۳ "۔۔۔۔اپنے بندہ اور رسول حضرت محمد (ص) پر قرار دےو جو سابق نبوتوں کے ختم کرنے والے۔ وہی نبی جس نے انبیاء اور آسمانی قوانین کا سلسلہ مکمل کیا۔" ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں: (أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوهَا عَنْ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ (صلى‏ الله‏ عليه‏ و آله‏وسلم ) إِنَّهُ يَمُوتُ مَنْ مَاتَ مِنَّا وَ لَيْسَ بِمَيِّتٍ وَ يَبْلَى مَنْ بَلِيَ مِنَّا وَ لَيْسَ بِبَالٍ فَلَا تَقُولُوا بِمَا لَا تَعْرِفُونَ،)1۴ "اے لوگو! حضرت خاتم النبیین کے اس ارشاد گرامی پر عمل کرو کہ ہمارا مرنے والا میت نہیں ہوتا ہے اور ہم میں سے کسی کی میت زمانے کے گزرنے کے ساتھ بوسیدہ نہیں ہوتا ہے۔ خبردار وہ نہ کہو جو تم نہیں جانتے ہو۔" اور جب آپ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الوداع  کرنے کا وقت آیا اور جب آپ غسل دے رہے تھے تو آپ نے فرمایا: (وَ مِنْ كَلَامٍ لَهُ (علیه السلام) قَالَهُ وَ هُوَ يَلِي غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ (صلی الله علیه وآله) وَ تَجْهِيزَهُ‏: بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدِ انْقَطَعَ بِمَوْتِكَ مَا لَمْ يَنْقَطِعْ بِمَوْتِ غَيْرِكَ مِنَ النُّبُوَّةِ وَ الْإِنْبَاءِ وَ أَخْبَارِ السَّمَاءِ؛ ۔۔۔وَ لَوْ لَا أَنَّكَ أَمَرْتَ بِالصَّبْرِ وَ نَهَيْتَ عَنِ الْجَزَعِ، لَأَنْفَدْنَا عَلَيْكَ مَاءَ الشُّئُونِ وَ لَكَانَ الدَّاءُ مُمَاطِلًا وَ الْكَمَدُ مُحَالِفاً، وَ قَلَّا لَكَ، وَ لَكِنَّهُ مَا لَا يُمْلَكُ رَدُّهُ وَ لَا يُسْتَطَاعُ دَفْعُهُ. بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي، اذْكُرْنَا عِنْدَ رَبِّكَ وَ اجْعَلْنَا مِنْ بَالِكَ‏).۱۵"یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ آپ کے انتقال سے وہ نبوت الٰہی احکام اور آسمانی اخبار کا سلسلہ منقطع ہوگیاو جو آپ کے علاوہ کسی کے مرنے سے منقطع نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ آپ نے صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور نالہ و فریاد سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم آپ کے غم میں آنسووں کا ذخیرہ ختم کر دیتے اور یہ درد کسی درمان کو قبول نہ کرتا اور یہ رنج و الم ہمیشہ ساتھ رہ جاتا۔ لیکن موت ایک ایسی چیز ہےو جس کا پلٹا دینا کسی کے اختیار میں نہیں ہے اور جس کا ٹال دینا کسی کے بس میں نہیں ہے۔" ۷۔ شریف و بہترین نسب امام علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک نسب کے بارے میں فرماتے ہیں: (فَاسْتَوْدَعَهُمْ فِي أَفْضَلِ مُسْتَوْدَعٍ وَ أَقَرَّهُمْ فِي خَيْرِ مُسْتَقَرٍّ، تَنَاسَخَتْهُمْ كَرَائِمُ الْأَصْلَابِ إِلَى مُطَهَّرَاتِ الْأَرْحَامِ، كُلَّمَا مَضَى مِنْهُمْ سَلَفٌ قَامَ مِنْهُمْ بِدِينِ اللَّهِ خَلَفٌ. حَتَّى أَفْضَتْ كَرَامَةُ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى إِلَى مُحَمَّدٍ (صلی الله علیه وآله) فَأَخْرَجَهُ مِنْ أَفْضَلِ الْمَعَادِنِ مَنْبِتاً وَ أَعَزِّ الْأَرُومَاتِ مَغْرِساً مِنَ الشَّجَرَةِ الَّتِي صَدَعَ مِنْهَا أَنْبِيَاءَهُ وَ انْتَجَبَ مِنْهَا أُمَنَاءَهُ. عِتْرَتُهُ خَيْرُ الْعِتَرِ وَ أُسْرَتُهُ خَيْرُ الْأُسَرِ وَ شَجَرَتُهُ خَيْرُ الشَّجَرِ)۱۶"پروردگار نے انہیں بہترین مقامات پر ودیعت رکھا اور بہترین منزل میں مستقر کیا۔ وہ مسلسل شریف ترین اصلاب سے پاکیزہ ترین ارحام کی طرف منتقل ہوتے رہے کہ جب کوئی بزرگ گزر گیا تو دین خدا کی ذمہ داری بعد والے نے سنبھال لی۔ یہاں تک کہ الہیٰ شرف حضرت محمد مصطفیٰ  (ص) تک پہنچ گیا اور اس نے انہیں بہترین نشوونما کے معدن اور شریف ترین اصل کے مرکز کے ذریعے دنیا میں بھیج دیا۔ اسی شجرۂ طیبہ سے جس سے انبیاء کو پیدا کیا اور اپنے امینوں کا انتخاب کیا۔ پیغمبر (ص) کی عترت بہترین اور ان کا خاندان شریف ترین خاندان ہے۔ ان کا شجرہ بہترین شجرہ ہے۔" ۸۔ خصوصی تربیت امام علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصی تربیت کے بارے میں فرماتے ہیں: (وَ لَقَدْ قَرَنَ اللَّهُ بِهِ (صلی الله علیه وآله) مِنْ لَدُنْ أَنْ كَانَ فَطِيماً أَعْظَمَ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَتِهِ يَسْلُكُ بِهِ طَرِيقَ الْمَكَارِمِ وَ مَحَاسِنَ أَخْلَاقِ الْعَالَمِ لَيْلَهُ وَ نَهَارَهُ)۱۷"اسی وقت سے ہی جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ چھڑوایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایک عظیم ترین فرشتہ (جبرئیل) ان کی تربیت پر مامور کر دیا، جو ان کو نیک اور اچھے راستوں اور بہترین اخلاق کی راہنمائی کرتا تھا اور شب و روز یہی سلسلہ رہا کرتا تھا۔۔" حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (سمعت رسول الله یقول: ما هممت بشیء مما کان اهل الجاهلیة یعملون به غیر مرتین کل ذلک یحول الله بینی و بین ما ارید من ذلک)18"میں نے کبھی بھی جاہلیت کے زمانے میں معمول کاموں کو انجام دینا نہیں چاہا، سوائے دو دفعہ کہ ہر بار خداوند متعال نے میرے اور اس چیز کے درمیان کوئی مانع اور رکاوٹ ڈال دی۔" امام صادق علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصی تربیت کے بارے میں فرماتے ہیں: (ان اللہ ادب محمداً (ص) فاحسن تعدیبہ)19"خداوند متعال نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تربیت کی اور کتنی اچھی ان کی تربیت کی۔" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حوالہ جات: ۱۔ نهج البلاغه، خطبه26. ۲۔ ایضا، خطبه ۱۰۶ ۳۔ ایضا، خطبه ۱۴۷ ۴۔ ایضا، خطبه ۷۲ ۵۔ نهج البلاغه، {غریب} کلمه9. ۶۔ نهج البلاغه، خط،۹ ۷۔ انبیاء: 107. ۸۔  نهج البلاغه، حکمت88. ۹۔ تفسیر مجمع البیان، ج4، ص67. ۱۰۔ نهج البلاغه، خطبه213. ۱۱۔ ایضا، خطبه ۱۷۸ ۱۲۔ ایضا، خطبه ۱ ۱۳۔ ایضا، خطبه ۷۲ ۱۴۔ ایضا، خطبه ۷۸ ۱۵۔ ایضا، خطبه ۲۳۵۔ ۱۶۔ ایضا، خطبه ۹۴۔ 17. نهج البلاغه، خطبه 192. 18. تاریخ طبری، ج2، ص34؛ سیره حلبی، ج1، ص122، باب ما حفظه فی صغره؛ دلائل النبوة، ج2، ص30۔ ۱۹۔ تهذیب الاحکام، ج9، ص279؛ بحارالانوار، ج16، ص210؛ ر.ک، جامع الصغیر، ج1، ص15؛ کنزالعمال، ج11، ص406.