اسلام ٹائمز 29 Nov 2019 گھنٹہ 18:45 https://www.islamtimes.org/ur/article/829724/لاہور-میں-دھماکہ-کیسے-ہوا-نشانہ-کون-تھا -------------------------------------------------- ٹائٹل : لاہور میں دھماکہ کیسے ہوا، نشانہ کون تھا؟؟ -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز۔ سی ٹی ڈی نے واقعہ کا مقدمہ انسپکٹر کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔ مقدمہ اقدام قتل، ایکسپلوژر ایکٹ اور دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ سول ڈیفنس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ 3 سے 5 کلو گرام کا وزنی بم بنا کر کہیں دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی پھٹ گیا۔ متن : لاہور سے ابوفجر کی رپورٹ لاہور کے علاقہ چوبرجی کوارٹرز ملتان روڈ پر رکشہ میں زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 10 افراد زخمی جبکہ تین موٹر سائیکل اور 2 رکشے تباہ ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر سروسز اور گنگا رام ہسپتال داخل کروا دیا گیا، جن میں ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ دھماکے سے ہر طرف تباہی پھیل گئی اور اس کی آواز بھی دُور دُور تک سنی گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران اور رینجرز کے اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ فرانزک سائنس ایجنسی، سول ڈیفنس اور سی ٹی ڈی سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں نے جائے حادثہ کو گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات شروع کر دیں۔ فرانزک سائنس ایجنسی کے اہلکاروں کے مطابق جائے وقوعہ سے بال بیئرنگ اور لوہے کے ٹکڑے بھی ملے ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ سمن آباد کی حدود میں پیش آیا ہے، جہاں ایک رکشہ میں زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ بارودی مواد سے ہوا، جس میں 3 سے 5 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔ ایس پی سول لائنز کے مطابق رکشہ ڈرائیور نے بتایا ہے کہ اس نے سواری کو شیراکوٹ سے اُٹھایا تھا۔ جب وہ سمن آباد کے قریب پہنچے تو مشکوک شخص وہاں اُتر گیا۔ جیسے ہی رکشہ سمن آباد سے چوبرجی کی جانب روانہ ہوا تو دھماکہ ہوگیا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور انعام وحید کا کہنا ہے کہ پہلے ایسے لگا کہ یہ سلینڈر دھماکہ ہے، مگر بعد ازاں جائے وقوعہ سے بال بیرنگ ملے، جس سے معاملہ مشکوک ہوگیا۔ ڈی آئی جی کے مطابق دھماکے میں 5 کلو تک بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ ایس پی سول لائن دوست محمد کے مطابق رکشہ ڈرائیور کی شناخت محمد رمضان کے نام سے ہوئی ہے، جو خود بھی معمولی زخمی ہے، جسے طبی امداد کے بعد حراست میں لے لیا گیا اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سی ٹی ڈی نے واقعہ کا مقدمہ انسپکٹر کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔ مقدمہ اقدام قتل، ایکسپلوژر ایکٹ اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ سول ڈیفنس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسلام ٹائمز کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ 3 سے 5 کلو گرام کا وزنی بم بنا کر کہیں دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں ہی پھٹ گیا۔ سول ڈیفنس افسر کے مطابق بم ٹائم ڈیوائس نوعیت کا تھا، جو مقررہ وقت سے قبل ہی پھٹ گیا۔ دوسری جانب پولیس نے رکشہ کی ملکیت کا ریکارڈ بھی نکلوا لیا ہے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق رکشہ حمزہ سعید نامی شہری کی ملکیت ہے۔ رکشہ 22 مئی 2015ء میں رجسٹرڈ کروایا گیا، لائف ٹائم ٹوکن ادا شدہ ہیں۔ فرانزک سائنس ایجنسی کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد رکشے میں نصب کیا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ رکشے کا پورا ڈھانچہ زور دار دھماکے کیساتھ فضا میں بلند ہوا اور اورنج لائن میٹرو ٹرین کے پل سے ٹکرا کر واپس زمین پر آن گرا۔ سی ٹی ڈی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ رکشے میں بارودی مواد کہیں منتقل کیا جا رہا تھا۔ دہشتگردوں کا نشانہ جوبرجی میں واقع مسجد قادسیہ بھی ہوسکتی ہے اور اس کا ہدف سول سیکرٹریٹ یا ایوان عدل بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ جس وقت دھماکہ ہوا، اس سے تھوڑی دیر بعد دفاتر میں جمعہ کی نماز کا وقفہ ہوتا ہے جبکہ مسجد قادسیہ میں جمعہ کی ادائیگی کیلئے شہریوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔ ذرائع کے مطابق رکشے میں نصب کیا گیا بم وقت سے پہلے ہی پھٹ گیا، جس سے شہر بہت بڑی تباہی بڑی تباہی سے بچ گیا۔ تحقیقاتی ادارے اس حوالے سے مختلف پہلووں پر تفتیش کر رہے ہیں۔ رکشہ سے اترنے والے شخص کو بھی سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے تلاش کیا جا رہا ہے جبکہ رکشہ ڈرائیور بھی تحقیقاتی اداروں کی تحویل میں ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ کے تمام پہلووں پر الگ الگ انداز میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بہت جلد اصل ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔ بعدازاں دھماکے میں تباہ ہونیوالے رکشہ کا ملبہ اُٹھا کر سڑک کو کھول دیا گیا۔ جمعہ کے روز شہر میں عام دنوں کی نسبت سکیورٹی کافی زیادہ سخت ہوتی ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ واقعہ میں زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔