اسلام ٹائمز 11 Aug 2015 گھنٹہ 20:33 https://www.islamtimes.org/ur/interview/479156/ا-پریشن-ضرب-عضب-میں-توقعات-سے-کہیں-بڑھ-کر-نتائج-مل-رہے-ہیں-لیفٹیننٹ-جنرل-ر-عبدالقیوم -------------------------------------------------- ایران کے امریکہ کیساتھ معاملات ٹھیک ہونا ہمارے مفاد میں ہے ٹائٹل : آپریشن ضرب عضب میں توقعات سے کہیں بڑھ کر نتائج مل رہے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: اپنے خصوصی انٹرویو میں قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیدوار کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ایران کے امریکہ کیساتھ معاملات کا بہتر ہونا پاکستان کے مفاد میں ہے، بھارت ابھرتے ہوئے پاکستان کو برداشت نہیں کرسکتا، یمن کی پالیسی پر ہمیں سراہا گیا، دہشتگردی کا ناسور پاکستان سے جلد ختم ہوجائیگا۔ متن : لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کا نام ملک کے ممتاز محققین اور سیاسی نشیب و فراز پر گہری نظر رکھنے والے بلند پایہ دفاعی و سیاسی تجزیہ نگاروں میں ہوتا ہے، جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم، پاکستان آرڈینسنس بورڈ اور پاکستان سٹیل ملز کے سابق چیئرمین رہے ہیں، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ممبر اور سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے ملٹری سیکرٹری کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ جنرل عبدالقیوم اس وقت مسلم لیگ نون کے سینیٹر ہیں، اس کے علاوہ سینیٹ میں قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیدوار کے چیئرمین ہیں، اسلام ٹائمز نے ان سے آپریشن ضرب عضب اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ایک اہم انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ ادارہ اسلام ٹائمز: کراچی میں ایم کیو ایم یہ تاثر دے رہی ہے کہ اسے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، باقی دیگر جماعتیں اور کالعدم گروہوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا ہے، کیا واقعاً ایسا ہی ہو رہا ہے۔؟ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم: میں دیانت داری سے کہتا ہوں کہ کراچی میں ایم کیو ایم کو ٹارگٹ نہیں کیا جا رہا ہے، ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے اور سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے ماضی کے کچھ اسباق ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ آپ جب ان کو ٹارگٹ کرتے ہیں اور طاقت کے زور پر ختم کرنا چاہتے ہیں تو وہ ختم نہیں ہوتیں، سیاسی جماعتوں کی طاقت یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کی نگاہوں میں مضوبط رہیں، اگر وہ عوام کی نگاہوں میں گر جائیں تو ان کی ہمیشہ کیلئے سیاسی موت واقع ہوجاتی ہے، اب آپ دیکھیں کہ پیپلزپارٹی سمٹ کر ایک صوبے کی طرف چلی گئی ہے، اس کی وجہ ان کے اعمال ہیں، جس کے باعث وہ یہاں تک پہنچے ہیں، اس لئے یہ لوگوں کو فیصلہ کرنے دیں کہ انہوں نے جو ٹاپ پر لیڈر بٹھایا ہوا ہے وہ پاکستان کے بارے میں کیا کہتا ہے، کیا رائے رکھتا ہے، وہ انڈیا کے بارے میں کیا کہتا ہے، وہ خود فیصلہ کریں گے، طویل المدتی کام یہی ہے کہ یہ عوام سے خود بخود ہی کٹ جائیں اور سکڑ کر اپنی موت مرجائیں گے۔ آصف زرداری کے بارے میں سب کو پتہ ہے کہ وہ یہاں پانچ سال حکومت کرکے گئے ہیں، ان کے 6 کروڑ ڈالر کا بھی سب کو پتہ ہے، لوگوں کو سرے محل کا پتہ ہے۔ جب آپ اسے گرفتار کریں گے تو وہ عوام سے ہمدردیاں سمیٹے گا۔ سیاسی لیڈر کیلئے سب سے بڑی سزا یہی ہے کہ اسے بیلیٹ کے ذریعے سزا ملے۔ اسلام ٹائمز: ضرب عضب کو ایک سال مکمل ہوگیا ہے، اسکی پراگرس پر کیا کہیں گے۔؟ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم: ضرب عضب ہماری توقعات سے کہیں آگے گیا ہے۔ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ شمالی وزیرستان میں ہم اتنی کامیابیاں سمیٹیں گے، یہ وہ علاقہ ہے کہ جہاں انگریزوں نے بھی متھہ مارا تھا، یہ ان کیلئے نوگو ایریاز تھے، لیکن آپ کی فوج نے جو دونوں باڈرز کا خیال رکھتی ہے، ادھر انڈیا نے بھی ہمیں کوئی سکون تو نہیں دیا ناں، ہمیں دوطرفہ محاذ پر لڑنا پڑا ہے، ادھر یہ سرحد کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں، ادھر افغانستان میں انہوں نے کونصل خانے بنائیں ہیں، پراکسی وار کی، اپنے بندے تیار کئے اور ہمارے ملک میں بھیجے، لیکن سلام ہو پاکستان قوم پر جن کی دعاوں سے فوج نے توقعات سے بڑھ کر پرفارمنس دی ہے، اس کو دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ جس ملک میں پچاس ہزار سویلین شہید ہوئے ہیں، جن کے آٹھ ہزار فوجی شہید ہوئے ہیں ان پر کتنے اٹیک ہوئے ہیں، جی ایچ کیو، کامرہ اور دیگر اٹیکس سب کے سامنے ہیں لیکن انہوں نے بلآخر پلڑا الٹ دیا ہے۔ ان دہشتگردوں کی کمین گاہیں ختم کردی گئی ہیں، تاہم یہ ہارے ہوئے ہیں، جو کبھی کوئی نہ کوئی کارروائی کرسکتے ہیں، لیکن ان کا مرکز ختم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز: ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر ہونیوالے واقعات سے انڈیا کیا نتائج لینا چاہ رہا ہے۔؟ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم: ایل او سی اور لائن آف کنٹرول پر ہونے والے واقعات یہ انڈیا کی فرسٹیشن ہے، کیونکہ انڈیا نہیں چاہتا تھا کہ نیٹو کی فورسز افغانستان سے نکل جائیں، انڈیا نہیں چاہتا تھا کہ افغانستان میں امن لانے کیلئے پاکستان کو کوئی کردار ملے یا کردار ادا کرے، انڈیا نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان سفارتی سطح پر آگے بڑھے، آپ دیکھیں کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا ممبر بن گیا، روس کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے، ابھی افغان کیڈٹس پی ایم اے میں ٹرینگ کر رہے ہیں، یہ چند چیزیں بھارت کیلئے موت ہیں، اس لئے ان کی پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششیں جاری رہتی ہیں، انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں، اب تو پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی ہو رہی ہے، عالمی جریدے پاکستان کے بارے میں لکھ رہے ہیں، ہر ادارہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان ٹیک اوور کرنے کی پوزیشن میں آرہا ہے۔ پاکستان کیلئے خوشخبری ہے اور انڈیا کیلئے موت ہے۔ اسلام ٹائمز: افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ملنا کیا یہ بھی ایک کامیابی ہے۔؟ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم: جی بالکل، یہ بھی پاکستان کیلئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے کہ دونوں فریق پاکستان پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، امریکیوں نے تو ہمییں ذلیل کیا، انہوں نے تو کہا کہ آپ دہشتگردوں کی پناہ گاہ ہیں، آپ دوغلی پالیسی کر رہے ہیں، ہم کہہ رہے تھے کہ ہمارے ملک میں جو نبردآما ہیں وہ ملک دشمن ہیں، وہ انڈین را کے ایجنٹ ہیں، موساد کے ایجنٹ ہیں، ان کے پیچھے عالمی طاقتیں ہیں، اسلحہ ہے اور انٹیلی جنس ہے، ہم اپنی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ افغان طالبان اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، آپ نے انہیں طاقت کے زور پر ہٹایا۔ ہم ان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، یہی وجہ بنی ہے کہ آج افغان عوام، حکومت اور تمام فریق ہم پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، حتٰی چین بھی کرتا ہے اور روس بھی اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز: ایران کے عالمی طاقتوں کیساتھ مذاکرات کو کس نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔؟ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم: ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کے امریکہ کیساتھ معاملات ٹھیک ہونا ہمارے مفاد میں ہے، نمبر ایک ایران ایک مسلم ملک ہے، نمبر دو وہ ہمارا ہمسایہ ملک ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مڈل ایسٹ میں جو آگ لگی ہے، اس کے پیچھے یہ مغرب اور امریکہ ملوث ہیں، جو تیل اور معدنی وسائل کی بو سونگ کو جنگیں کرا دیتے ہیں، اس لئے ہم نہیں چاہتے کہ امریکہ حملہ کرکے ایران کو بھی توڑ دے، اسرائیل تو یہی چاہتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب کو اب ہوش کے ناخن لینا ہوں گے اور دیکھنا چاہیئے کہ ہمارے اندر جو فرقہ واریت کی فالٹ لائنز ہیں، امریکہ ان کو ہمارے کیخلاف استعمال کرتا ہے، آج ہماری باری ہے تو کل ان کی باری ہے۔ اسی طرح پاکستان اور پھر ترکی کی باری آسکتی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ ہم نے جو یمن کے معاملے پر پالیسی اختیار کی ہے، اسے ایران زبردست سراہ رہا ہے اور اسی طرح ہم نے سعودی عرب کیساتھ بھی معاملات ٹھیک کر لیئے ہیں۔ اسلام ٹائمز: اس معاہدے کے بعد ایران پاکستان گیس پائپ لائن کو تو اب چلنا چاہئے۔؟ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم: میری دعا ہے کہ اللہ کرے یہ منصوبے چلیں، لیکن امریکن ابھی بھی دباو بڑھا رہے ہیں کہ ٹھیک ہے کہ ہمارا ایران کسیاتھ معاہدہ ہو رہا ہے لیکن گیس پائپ لائن کا آپکو بتائیں گے۔ معاہدے کے اگلے ہی دن انہوں نے بیان جاری کیا، وہ نہیں چاہیتے کہ نیوکلیئر پاکستان اور وسائل سے مالا مال پاکستان ترقی کرسکے۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کسی بھی لحاظ سے مستحکم ہوجائے۔ یہ ہمارے ساتھ تقسیم کرو اور لڑاو کی پالیسی پر عمل کرکے ہمیں الجھا رہے ہیں، کچھ ہماری پالیسیاں اور ناکامیاں ہیں، جن کے باعث یہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔