اسلام ٹائمز 24 Mar 2020 گھنٹہ 19:35 https://www.islamtimes.org/ur/news/852341/کورونا-کے-حوالے-سے-حکومتی-احکامات-شرعی-حیثیت-رکھتے-ہیں-سنی-اتحاد-کونسل -------------------------------------------------- ٹائٹل : کورونا کے حوالے سے حکومتی احکامات شرعی حیثیت رکھتے ہیں، سنی اتحاد کونسل -------------------------------------------------- کونسل سے وابستہ 2 ہزار علماء نے قوم سے اپیل میں کہا ہے کہ قوم لاپرواہی اور سستی سے شدید مسائل پیدا کر رہی ہے، لاک ڈاؤن کے احکامات پر ہر فرد سختی سے عمل کرے، بلاضرورت گھروں سے باہر مت نکلیں۔ کرونا وائرس سے حفاظت کیلئے گھروں، بازاروں، گلیوں، چوراہوں میں آذانیں دی جائیں، آفات و بلیات کو روکنے کیلئے اذان دینا خاص عمل ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ سنی اتحاد کونسل سے وابستہ دو ہزار علماء نے جاری کی گئی اجتماعی اپیل میں کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حکومتی احکامات کو شرعی حیثیت حاصل ہے، قوم لاپرواہی اور سستی سے شدید مسائل پیدا کر رہی ہے، لاک ڈاؤن کے احکامات پر ہر فرد سختی سے عمل کرے، بلاضرورت گھروں سے باہر مت نکلیں۔ کرونا وائرس سے حفاظت کیلئے گھروں، بازاروں، گلیوں، چوراہوں میں آذانیں دی جائیں، آفات و بلیات کو روکنے کیلئے اذان دینا خاص عمل ہے، ہر گھر میں بار بار اذانیں دی جائیں اور گھروں سے باہر نکل کر آذانوں کا اہتمام کیا جائے، آزمائش کی گھڑی میں تاجر ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی سے باز رہیں، کیونکہ ایسا کرنا بدترین گناہ اور گھناؤنا جرم ہے۔ علماء نے کہا ہے کہ امیر لوگ ضرورت سے زائد اشیائے خورد و نوش اور دوسری اشیاء خرید کر جمع کرنے سے باز رہیں تاکہ اشیائے ضرورت کی قلت پیدا نہ ہو۔ موجودہ سنگین صورتحال میں سیاستدان سیاسی محاذ آرائی ختم کر کے متحد ہو جائیں۔ کرونا سے جنگ کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے۔ پوری قوم احتیاطی تدابیر اختیار کرے کیونکہ بیماری اور وبا میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سنت رسول ہے۔ عوام گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار نہ ہو اور لوگ غیر ضروری میل جول ترک کر کے گھروں میں رہ کر دعاؤں، تلاوت قرآن اور نوافل کی ادائیگی میں مصروف رہیں۔ وبا سے نجات کیلئے اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے، با جماعت نماز اور نماز جمعہ کو کسی صورت معطل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی مساجد کو تالے لگائے جا سکتے ہیں البتہ اردو خطبات جمعہ کی بجائے صرف عربی خطبات جمعہ پر اکتفا کیا جائے، علماء و مشائخ کرونا آگاہی مہم چلائیں اور قوم کی راہنمائی کریں۔ علماء نے کہا کہ وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتیں کرونا سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں، عوام افواہوں پر کان نہ دھرے اور صبر، حوصلے، ہمت اور حکمت سے کام لے۔ مصافحہ واجب یا فرض نہیں اس لئے وقتی طور پر مصافحہ ترک کیا جا سکتا ہے، بچے، بوڑھے اور بیمار افراد فی الحال مساجد میں نہ آئیں، کرونا وبا سے سب کو مل جل کر نمٹنا ہوگا اور کرونا سے نہیں اللہ سے ڈرنا ہو گا، اللہ نے بھٹکی انسانیت کو جھٹکا دیا ہے، انسانیت اللہ کی بغاوت چھوڑ کر اللہ کی فرمانبرداری شروع کرے، حکومت اشیائے خورد و نوش کی قلت یا قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے دے، کرونا وائرس سے مقابلہ کیلئے قومی اتحاد کی ضرورت ہے، حکومت کرونا کی وبا سے بچاؤ کیلئے چینی تجربات سے استفادہ کرے۔ اجتماعی اپیل جاری کرنے والے علماء میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا سمیت مفتی گلزار احمد نعیمی، شیخ الحدیث علامہ محمد سعید قمر سیالوی، علامہ صاحبزادہ عبدالمالک،مفتی محمد رحمت اللہ سیالوی،مفتی محمد بخش رضوی، علامہ سید رفاقت علی، علامہ سید فدا حسین شاہ حافظ آبادی، ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، مفتی محمد حسیب قادری، علامہ نعیم جاوید نوری، علامہ حامد سرفراز، علامہ ارشد مصطفائی، مولانا محمد اکبر نقشبندی، مفتی مشتاق احمد نوری، مولانا محمد علی نقشبندی، علامہ ممتاز ربانی، علامہ سعید احمد نقشبندی، علامہ راحت عطاری، مولانا قاری فیض بخش رضوی، علامہ سید شمس الدین بخاری، مفتی محمد اقبال چشتی، مفتی مسعود الرحمن، مفتی فضل جمیل رضوی، علامہ لیاقت علی، علامہ رضوان یوسف، مفتی عمران انور نظامی علامہ محمد بلال طارق، مفتی محمد افضل نعیمی، مفتی محمد عظیم قادری، مفتی محمد سلیم، مفتی امان اللہ شاکر، مفتی محبوب احمد شرقپوری، مفتی محمد اکبر ساقی، علامہ ڈاکٹر شمس الرحمن شمس، مولانا قاری محمد صدیق چشتی، مولانا عبد القدیر رضوی، مولانا اللہ وسایا، مولانا شبیر حسین عثمانی، مولانا کوکب اویسی، مولانا محمد صدیق رضوی، مولانا غلام عثمان غنی اور دیگر شامل ہیں۔