اسلام ٹائمز 20 Sep 2019 گھنٹہ 18:35 https://www.islamtimes.org/ur/news/817340/سعودی-عرب-اور-ایران-باہمی-تنازعات-کا-سفارتی-حل-نکالیں-اعجاز-ہاشمی -------------------------------------------------- امریکہ سے دور رہنے میں سعودی عرب کی بہتری ہوگی ٹائٹل : سعودی عرب اور ایران باہمی تنازعات کا سفارتی حل نکالیں، اعجاز ہاشمی -------------------------------------------------- جے یو پی کے مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں امن و امان اور مذاکرات کی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے، جنگ کبھی بھی تنازعات کا حل نہیں رہی بلکہ یہ تباہی و بربادی کا راستہ ہے، امریکہ کی سعودی عرب کو شہہ خطرے سے خالی نہیں، کوئی جذباتی قدم نہ اٹھایا جائے، جس سے اجتماعی نقصان ہو، دونوں ممالک امت مسلمہ میں اہمیت رکھتے ہیں، پاکستان کو غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز ہاشمی نے زور دیا ہے کہ سعودی عرب اور ایران باہمی تنازعات کا سفارتی حل نکالیں۔ ایک دوسرے پر الزامات سے امت مسلمہ کمزور اور اسلام دشمن قوتیں امریکہ، اسرائیل اور بھارت مضبوط ہوں گے، ہمیں امن و امان اور مذاکرات کی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے، جنگ کبھی بھی تنازعات کا حل نہیں رہی بلکہ یہ تباہی و بربادی کا راستہ ہے، امریکہ کی سعودی عرب کو شہہ خطرے سے خالی نہیں، کوئی جذباتی قدم نہ اٹھایا جائے، جس سے اجتماعی نقصان ہو، دونوں ممالک امت مسلمہ میں اہمیت رکھتے ہیں، پاکستان کو غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے دور رہنے میں سعودی عرب کی بہتری ہوگی، ٹرمپ سعودی عرب کو اشتعال دلا کر ایران سے لڑوانا چاہتا ہے۔ جس کا فائدہ امریکہ اور نقصان امت مسلمہ کو ہوگا۔ لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یمن کا تنازع، انصاراللہ کے نام سے حوثی قبائل کے اتحاد اور وہاں کی حکومت کے درمیان جاری ہے۔ حیرانی ہے کہ 39 ممالک کی فوج قبائل کا مقابلہ نہیں کر سکی اور اتنی جنگ کے بعد بھی حوثی قبائل اگر سعودی آئل تنصیبات اور ملک کے اندر حملے کرنا شروع ہوگئے ہیں تو سعودی عرب کو بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا چاہیے ۔حملوں کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ کب تک ایک دوسرے پر حملے کرکے اسلام کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے ۔دوسرے ممالک سے اپیل ہے کہ ایران سعودی عرب تنازع کو عرب و عجم کی نظر میں دیکھا جائے ،اسے سنی شیعہ اختلاف نہ بنایا جائے۔