اسلام ٹائمز 7 Apr 2013 گھنٹہ 7:51 https://www.islamtimes.org/ur/news/252167/عراقی-شہر-بعقوبہ-میں-سیاسی-جلسے-پر-خود-کش-حملہ-22-افراد-جاں-بحق -------------------------------------------------- ٹائٹل : عراقی شہر بعقوبہ میں سیاسی جلسے پر خود کش حملہ، 22 افراد جاں بحق -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: اس قبل مقامی حکومت کے انتخابات میں حصہ لینے والے 11 امیدواروں کو قتل کیا جا چکا ہے مگر سیاسی جلسوں پر یہ پہلا براہِ راست حملہ ہے۔ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر 2 صوبوں میں انتخابات ملتوی کیے جا چکے ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ عراق کے صوبے دیالہ کے دارالحکومت بعقوبہ میں ایک سیاسی جلسے پر گرنیڈ اور خود کش حملے کے نتیجے میں 22 افراد جاں بحق جبکہ 50 زخمی ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں پہلے جلسے کی جگہ پر ایک شامیانے پر گرنیڈ پھینکا گیا جس کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس قبل مقامی حکومت کے انتخابات میں حصہ لینے والے 11 امیدواروں کو قتل کیا جاچکا ہے مگر سیاسی جلسوں پر یہ پہلا براہِ راست حملہ ہے۔ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر 2 صوبوں میں انتخابات ملتوی بھی کیے جا چکے ہیں۔ بغداد سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق حملوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے بلکہ ان مزید شدت پیدا ہوگئی ہے جسکی وجہ سے دوسرے کئی صوبوں میں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں پر بھی اثر پڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق حزبِ اختلاف نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابات کو اس لیے ملتوی کرنا چاہتی ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ حکومت مخالف امیدوار کہیں انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر لیں۔ اس جلسے میں شامل سنّی امیدوار مثانہ الجرانی اپنے حامیوں سے بعقوبہ کے علاقے میں مل رہے تھے جسکے نتیجے میں ان کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا مگر ان کے کئی حامی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ 34 سالہ احمد حدلوج بھی اسی جلسے میں شریک تھے جنکے والد بھی ان کی طرح زخمی ہوئے۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ یہ ہمارا عوام کی خاطر بہنے والا خون ہے اور ہم انتخابات میں حصہ ضرور لیں گے۔ بعقوبہ دیالہ صوبے کا دارالحکومت ہے جس کی سرحد ایران سے ملتی ہے اور یہ صوبہعراق میں سب سے زیادہ پر تشدد علاقہ رہا ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے مگر عموماً اس نوعیت کے حملوں کے حوالے سے شک القاعدہ ہی پر کیا جاتا ہے۔ عراق میں تشدد کے واقعات 2006 کی نسبت بہت کم ہو گئے ہیں مگر پھر بھی بم حملے عام ہیں۔ 2010ء کے بعد یہ پہلی بار ہوگا عراق میں مقامی حکومتوں کے انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔