اسلام ٹائمز 24 Oct 2019 گھنٹہ 8:12 https://www.islamtimes.org/ur/article/823713/عشق-علی-اور-کمیل-ابن-زیاد -------------------------------------------------- ٹائٹل : عشق علی ؑ اور کمیل ابن زیاد -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: کمیل لمبی سانس لیتے ہوئے کہا سب کچھ چھوڑ سکتا ہوں لیکن علی ؑ کو نہیں۔ یہاں تک کہ کمیل نے امام علی ؑ سے محبت پر اپنا سخت موقف قائم کرلیا جس کے ساتھ ہی حجاج بن یوسف نے جلاد کو حکم دیا کہ کمیل کا سر تن سے جدا کردو، یوں 84 سال کا کمیل محبت علی ؑ میں درجہ شہادت پر فائز ہوجاتا ہے۔ شہادت کے بعد کمیل کو نجف و کوفہ کے درمیان مقام ثنویہ دفن کردیا گیا۔ اسی مقام پر کمیل کے ساتھ ہی مشہور محدث حدیث رد الشمس جناب جویریہ بھی مدفن ہیں جن کے بارے میں آگلے آرٹیکل میں آپ کو معلومات دیں گے۔ متن : تحریر: نادر بلوچ کمیل ابن زیاد امام حضرت علی علیہ السلام کے اُن باوفا ساتھیوں میں سے ایک تھے، جنہیں فقط امام علیؑ سے محبت کی پاداش میں شہید کر دیا گیا، یہ وہ شخصیت تھے جنہیں امام علی ؑ نے کئی علوم اور دعائیں عطا کی تھیں، کمیل جنگ جمل، صفین اور نہروان میں امام علی ؑ کی رقاب میں جنگ لڑے، تاہم سن 40 ہجری کو امام علیؑ کی شہادت کے بعد کمیل گمنامی کی زندگی میں چلے جاتے ہیں اور تقریباً 80 ہجری تک وہ تاریخ کے اوراق میں کہیں بھی نظر نہیں آتے، تاریخ میں ان کا کوئی حوالہ نہیں ملتا، ایک مفروضہ قائم کیا جاتا ہے کہ کمیل کو عبید اللہ ابن زیاد نے زندان میں ڈال دیا تھا، مگر اس کی کوئی تاریخی سند نہیں ملتی، کمیل تقریباً 40 سے 42 سال تک گمنامی کی زندگی گزاری، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دوران واقعہ کربلا ہوجاتا ہے تب بھی کمیل کہیں نظر نہیں آتے، واقعہ کربلا کے بعد اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوجاتی ہے یہاں تک آپ کی عمر 84 برس ہو جاتی ہے اور مسند اقتدار پر حجاج ابن یوسف جیسا ظالم و جابر شخص آجاتا ہے جو مکتب اہل بیت کے ماننے والوں کو چن چن کر شہید کرتا ہے۔ تاریخ میں حجاج ابن یوسف کے بارے میں ملتا ہے کہ وہ ظالم اور جابر ترین افراد میں سے ایک تھا جس نے 30 ہزار مردوں اور 20 ہزار خواتین کو بغیر چھت والی جیلوں میں ڈال دیا تھا، ان پچاس ہزار میں تین ہزار ایسے مرد و خواتین قیدی بھی تھے، جن کے تن پر کپڑے نہیں تھے، یہ اسیر کھلے آسمان تلے ہر موسم کی شدت برداشت کرتے تھے، گرمی ہو یا سردی یا بارش جیلوں میں پڑے ان اسیروں کو موسم کی شدت برداشت کرنا پڑتی تھی۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ کوفہ کی ایک عورت اپنے بیٹے سے جیل ملنے آئی تو وہ بیٹے کو نہ پہنچان سکی اور کہا کہ یہ اس کا بیٹا نہیں ہے، اس کا بیٹا سیاہ رنگت والا نہیں تھا۔ یہاں تک کہ وہ رونا شروع ہوجاتی ہے اور اس کا بیٹا والدہ کو بتاتا ہے کہ وہ ہی اس کا بیٹا ہے جو گرم موسم کی وجہ سے اس حال میں پہنچ گیا ہے۔خیر بات کمیل ابن زیاد کی ہورہی تھی جو 80 ہجری تک غیب رہے، یہاں تک کہ حجاج بن یوسف نے اس کی تلاش شروع کردی، ناکامی پر حجاج نے کمیل کے قبیلہ نخعی (مالک اشتر کا تعلق بھی اسی قبیلہ سے تھا) کے لوگوں کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنا شروع کردیا، کئی افراد کو اٹھا لیا گیا، اور یہاں تک حجاج نے دھمکی دے دی کہ اگر کمیل سامنے نہ آئے تو نخعی قبیلے کے لوگوں کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ جس پر کمیل ابن زیاد نے سامنے آنے کا فیصلہ کیا، جس پر لوگوں نے کمیل سے کہنا شروع کردیا کہ حجاج کی دشمنی فقط آپ کے ساتھ ہے اور قبیلے والوں کو کچھ نہیں کہے گا، آپ کیوں اپنے آپ کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں، جس پر کمیل گویا ہوئے کہ اب بہت ہوگیا، جو شخص میرے آقا اور میرے استاد (امام علی ؑ) کی توہین کرتا ہے اور میں اپنے آپ کو چھپاتا پھروں، یہ (حجاج) توہین کرنے والا ہوتا کون ہے؟، حجاج بن یوسف کہتا ہے کہ کہاں ہے ابوتراب (امام علی ؑ) سے محبت کرنے والا؟، اس دوران کمیل اُس وقت کو یاد کرتا ہے جب وہ 400 فوجیوں کے ساتھ معاویہ بن ابی سفیان کے لشکر سے لڑنے جا رہا ہوتا ہے اور اسے امام علی ؑ کا خط موصول ہوتا ہے، کمیل خط کے متن کو زہن میں دہراتا ہے اور پھر سامنے آجاتا ہے جس پر حجاج کے فوجی اسے پکڑ لیتے ہیں۔جب کمیل کو حجاج کے دربار میں پش کیا جاتا ہے تو وہاں پر موجود تلوار اٹھائے جلاد رونے لگ جاتا ہے، کمیل کو یقین ہوجاتا ہے اس کی موت اب یقینی ہے۔ اس دوران حجاج اور کمیل کے درمیان جملوں کو تبادلہ ہوتا ہے۔ حجاج: تو جناب ہیں کمل ابن زیاد؟۔ کمیل: جی میں ہی کمیل ہوں۔ حجاج: میں نے تمہارے بارے میں بہت کچھ سن رکھا ہے جب تم جوان تھے اس وقت ہم خلیفہ حضرت عثمان کے بارے میں باتیں کیا کرتے تھے؟۔ کمیل: جی وہ میں ہی ہوں جس کے بارے میں آپ نے سن رکھا ہے۔ حجاج: میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ معاویہ کے خلاف باتیں کرنے والوں میں بھی تم شامل ہو۔ کمیل: جی میں ہی ہوں۔ حجاج: میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ تم حضرت علیؑ سے محبت کرتے ہو، تم ابوتراب سے محبت کرتے ہو۔ کمیل: جی میں ابوتراب سے محبت کرتا ہوں۔ حجاج: تم پر اور ابوتراب پر (نعوزبااللہ) لعنت ہو۔ اپنا ابوتراب سے ناطہ توڑ دو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔ کمیل: تم مجھے ابوتراب سے ناطہ توڑنے کا راستہ دکھا رہے ہو، میں امام علی ؑ کا ماننے والا ہوں اور مانتا رہوں گا، میرے امام نے فرمایا تھا کمیل تمہیں مار دیا جائیگا ، اب تم کیا چاہتے ہوکہ میرے قتل کے بعد تمہارے فیصلے کا دن بھی آجائے گا۔ حجاج: اپنے زندگی کی بقا کیلئے اب تمہارے پاس وقت ہے کہ علیؑ سے رشتہ ناطہ توڑ دو۔ کمیل نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا کہ سب کچھ چھوڑ سکتا ہوں، لیکن علی ؑ کو نہیں۔ یہاں تک کہ کمیل نے امام علی ؑ سے محبت پر اپنا سخت موقف قائم کرلیا، جس کے ساتھ ہی حجاج بن یوسف نے جلاد کو حکم دیا کہ کمیل کا سر تن سے جدا کردو، یوں 84 سال کا کمیل محبت علی ؑ میں درجہ شہادت پر فائز ہوجاتا ہے۔ شہادت کے بعد کمیل کو نجف و کوفہ کے درمیان مقام ثنویہ دفن کردیا گیا۔ اسی مقام پر کمیل کے ساتھ ہی مشہور محدث حدیث رد الشمس جناب جویریہ بھی مدفن ہیں جن کے بارے میں آگلے آرٹیکل میں آپ کو معلومات دیں گے۔