اسلام ٹائمز 28 Oct 2014 گھنٹہ 17:57 https://www.islamtimes.org/ur/news/416931/دنیا-میں-ا-زادی-کی-ہر-تحریک-کربلا-سے-ہی-درس-حریت-لیتی-ہے-معصوم-نقوی -------------------------------------------------- تمام مکاتب فکر متفق ہیں کہ محبت اہلبیت جزو ایمان ہے ٹائٹل : دنیا میں آزادی کی ہر تحریک کربلا سے ہی درس حریت لیتی ہے، معصوم نقوی مسلمانوں کو فروعی اختلافات پر کان دھرنے کی بجائے مشترکات پر توجہ دینی چاہیے -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: لاہور میں جے یو پی نیازی کے زیراہتمام "حسین سب کے" سیمینار سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ محبت اہل بیت علیہم السلام ایسا سرمایہ ہے جو مسلمانوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم سے جوڑتا ہے، تمام مکاتب فکر متفق ہیں کہ محبت اہلبیت جزو ایمان ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء پاکستان نیازی کے سربراہ پیر سید محمد معصوم حسین نقوی نے کہا ہے کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی نے دین محمدی کو جلا بخشی اور یزیدی ملوکیت کے خاتمے کا باعث بنی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو پی نیازی کے زیراہتمام بین المذاہب امن کونسل کے تعاون سے مقامی شادی ہال میں حسینؑ سب کے سیمینار سے خطاب میں کیا۔ سیمینار سے ڈاکٹر امجد حسین چشتی، پیر اختر رسول قادری، پیر نفیس الحسن بخاری، پیر محی الدین محبوب، علامہ کرامت عباس حیدری، علامہ وقارالحسنین نقوی، علامہ محمد یاسین، علامہ محمد عباس توحیدی، سکھ رہنما اور جے یو پی نیازی اقلیتی ونگ کے صدر سردار جنم سنگھ، ہندو رہنما پنڈت کاشی رام، بشپ عارف انتھونی، آغا ذوالفقار علی اور دیگر رہنماوں نے بھی امام عالی مقام علیہ السلام کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ پیر معصوم نقوی نے کہا کہ کربلا ایسی لازوال تحریک ہے جس نے 61 ھجری کے دوران اسلام میں ایسی روح پھونکی کہ آج بھی دنیا میں آزادی کی تحریکیں کربلا سے ہی درس لیتی ہیں۔ انہوں نے کہ امام حسین علیہ السلام سب کے محبوب ہیں، کسی ایک مسلک یا مذہب تک محدود نہیں، ان کا کہنا تھا کہ محبت اہل بیت علیہم السلام ایسا سرمایہ ہے جو مسلمانوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم سے جوڑتا ہے، تمام مکاتب فکر متفق ہیں کہ محبت اہل بیت جزو ایمان ہے۔ اس کے بغیر مسلمان کہلوانا ناممکن ہے۔ پیر معصوم نقوی نے کہا کہ محرم الحرام اتحاد و اتفاق اور تعلیمات اسلامی کا درس دیتا ہے۔ تمام مسلمانوں کو فروعی اختلافات پر کان دھرنے کی بجائے مشترکات پر توجہ دینی چاہیے اور میڈیا بھی انہیں اجاگر کرے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت پھیلانے والے پیٹ کے پجاری ہیں، یہ دین کی خدمت نہیں کر رہے، نقصان پہنچانے والے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یزیدیت ملوکیت کا نام ہے، جو آج گالی بن چکی ہے۔ شہادت دین کے احیا کا نام ہے، جو امام حسین علیہ السلام کے حصے میں آئی اور آج ان کا روضہ مقدس منور ہے اور لوگوں کی عقیدت کا مرکز بن چکا ہے جبکہ یزید کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔ پیر اختر رسول قادری نے کہا کہ فلسفہ شہادت امام حسین علیہ السلام ہر ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت کا درس دیتا ہے۔ چاہے اس کا مذہب یا مسلک کوئی بھی ہو۔ بین المذاہب امن کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر امجد حسین چشتی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگوں کے جذبات کا احترام کیا جاتا ہے اور انہیں مذہبی آزادی ہے۔ سیمینار میں ہندو، سکھ اور مسیحی رہنماؤں نے بھی امام حسین علیہ السلام کو اپنا رہبر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امام حسین ہر مظلوم کے گرو ہیں، دنیا بھر کے مظلومین کربلا سے درس حریت لے کر ہی عظمت کی بلندیوں پر پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں حریت و بہادری کی جو تاریخ رقم کی ہے وہ دنیا کے تمام مذاہب کے لئے مشعل راہ ہے اور دنیا میں امام حسین کی قربانی جیسی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔