اسلام ٹائمز 19 May 2017 گھنٹہ 23:32 https://www.islamtimes.org/ur/news/638403/افغانستان-میں-طالبان-اور-داعش-پاکستان-پر-حملوں-کیلئے-دہشتگردوں-کو-تربیت-دیتے-ہیں-کرنل-ہارون -------------------------------------------------- ٹائٹل : افغانستان میں طالبان اور داعش پاکستان پر حملوں کیلئے دہشتگردوں کو تربیت دیتے ہیں، کرنل ہارون -------------------------------------------------- لفٹینٹ کرنل ہارون نے شمالی وزیرستان میں پشاور کے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔ پاک فوج نے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے حوالے سے سیٹلائٹ تصاویر حاصل کر لی ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ لیفٹینٹ کرنل ہارون نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان اور داعش پاکستان پر حملوں کے لئے دہشتگردوں کو عملی تربیت دیتے ہیں، پاک فوج نےاس حوالےسے اہم ثبوت حاصل کر لئے ہیں۔ لفٹینٹ کرنل ہارون نے شمالی وزیرستان میں پشاور کے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔ پاک فوج نے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے حوالے سے سیٹلائٹ تصاویر حاصل کر لی ہیں۔ ان تصاویر میں تحریک طالبان، خالد سجنا گروپ اور داعش کے دہشتگردوں کو جنگی تربیت حاصل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ دہشت گرد پاکستان میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے آزادانہ طور پر افغان سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی کمانڈر عبد الولی ننگرہار میں رہائش پذیر ہے اور پاراچو علاقے میں دہشت گردوں کو منظم کرکے پاکستان کے خلاف تیار کر رہا ہے۔ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے لفٹینٹ کرنل ہارون کا کہنا تھا کہ بارڈر مینجمنٹ انتہائی ضروری ہے، ہم کسی بھی صورت میں پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور افغانستان سے بھی ایسے ہی اقدامات کی توقع کرتے ہیں۔ پاکستان نے اپنے علاقے میں 205 چیک پوسٹیں قائم کی ہیں جبکہ افغانستان میں صرف 133 چیکنگ پوائنٹس قائم ہیں۔ پاکستان نے غیر قانونی آمدو رفت کو روکنے کے لئے فاٹا اور 7 ایجنسیز میں 443 سکیورٹی قلعے قائم کئے ہیں، 35 قلعے مالاکنڈ، 54 باجوڑ جبکہ 55 شمالی وزیرستان میں قائم ہیں، 77 قلعے زیر تعمیر ہیں اور ہم افغانستان سے بھی ایسے ہی اقدامات کی توقع ہے۔ لیفٹینٹ کرنل ہارون کا کہنا تھا کہ پاک فوج قبائلی علاقوں میں تعلیم و صحت کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوششیں بھی کر رہی ہے جبکہ ہم اقوام متحدہ اور دیگر مخیر اداروں کے لئے بھی اس کام میں معاونت کی توقع رکھتے ہیں۔