اسلام ٹائمز 7 Apr 2020 گھنٹہ 14:31 https://www.islamtimes.org/ur/article/855197/مہدی-موعود-منجی-بشریت -------------------------------------------------- ٹائٹل : مہدی موعود منجی بشریت -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ظہور امام ایک حتمی امر ہے، جسے آج یا کل ہونا ہی ہونا ہے۔ ان روحانی مکاشفات سے یہ تصور لینا کہ یہ ظہور کل یا پرسوں ہوگا درست نہیں ہے، تاہم ان مکاشفات میں کوئی پیغام ضرور ہے، شاید دنیا کو اس حقیقت کی جانب بار بار متوجہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ انسانیت اپنی درست راہ و روش تعین کرے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم صاحب کی آمد سے قبل معاشرے کی تشکیل اس انداز سے کریں کہ انکے کام میں آسانیاں پیدا ہوں یا کم از کم اپنے آپکو ایسے تیار کریں کہ انکے انصار میں شامل ہوسکیں۔ متن : تحریر: سید اسد عباس مکتب اہل بیت کی روایات کے مطابق ماہ شعبان امام حسین علیہ السلام، حضرت ابو الفضل العباس، امام زین العابدین اور مہدی موعود کی ولادت کا مہینہ ہے۔ ظہور مہدی کے حوالے امت میں اجماع ہے اور تمام مسالک اور مکاتب فکر احادیث پیغمبر کے تناظر میں اس امر کو جانتے ہیں کہ نسل رسول سے ایک شخص آخری زمانے میں دنیا میں قیام کرے گا اور اس دنیا کو عدل و انصاف سے یوں بھر دے گا، جیسے وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی۔ مسلمانوں کے مابین اختلاف ہے تو اس امر پر کہ آیا مہدی کی ولادت ہوچکی ہے یا ابھی ہونا ہے۔۔ اہل سنت اس بات کے قائل ہیں کہ ان کی ولادت ہونی ہے جبکہ اہل تشیع کے نزدیک امام مہدی پیدا ہوچکے ہیں اور پردہ غیبت میں ہیں۔ دنیا کو عدل و انصاف سے یوں بھر دے گا، جیسے وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی یہ جملہ فقط اسلام سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا کے بہت سے ادیان کے ماننے والے ایسے شخص کے منتظر ہیں، جو اس خصوصیت کا حامل ہوگا۔ ان ادیان کے ماننے والوں کے پاس اس شخصیت کے لیے مختلف نام اور خصوصیات ہیں۔ یہودی اسے مسایا کہتے ہیں تو عیسائی اسے مسیح کے نام سے پکارتے ہیں، ہندو اس شخص کو کالکی اوتار کہتے ہیں تو بدھ اسے میتریا کا عنوان دیتے ہیں، زرتشتی اسے سوشیانت کہتے ہیں اور قدیم امریکی اسے ٹرو مین کہتے تھے۔ مختلف نام لیکن ایک مشترک خصوصیت کہ یہ شخص دنیا کو عدل و انصاف سے پر کر دے گا۔ مسلمان انہیں مہدی کے نام سے جانتے ہیں۔ مہدی کا تصور عالم اسلام میں اس قدر راسخ تھا کہ ہمیں بعد کے زمانوں میں بہت سے مہدویت کے دعویدار نظر آئے۔ گذشتہ صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کا بنیادی دعویٰ تو نبوت کا تھا، تاہم بعد ازاں وہ اپنے آپ کو مہدی موعود بھی کہلوانے لگا۔ ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ دنیا کے حالات بہت تیزی سے بدل رہے ہیں، یہ وہ واقعات ہیں، جن کی نظیر اس سے قبل انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ مکتب تشیع میں یہ روش ہے کہ ہم ہر بڑے واقعے کا تعلق ظہور امام زمان سے ضرور جوڑتے ہیں۔ خروج یمانی، قیام خراسانی دنیا میں ظلم و جور کی حکمرانی کے مظاہر ہم نے گذشتہ چند برسوں میں اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیے۔ اب دنیا میں کرونا کی عالمی وباء کا پھوٹنا اور اس کے ذریعے انسانون کی بڑے پیمانے پر اموات۔ ظہور مہدی کی علامات میں سے ہے کہ دنیا میں وباء پھوٹے گی اور بڑی جنگیں ہوں گی، جس کے سبب دنیا کی آبادی آدھی رہ جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ جو علائم ہمارے سامنے وقوع پذیر ہو رہی ہیں، یہ وہی علائم ہوں، جن کا تذکرہ روایات و احادیث میں ملتا ہے، تاہم مشابہت ضرور ہے۔ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ کرونا کا ظہور امام زمان سے کوئی تعلق ہو۔ میری نظر میں کائنات میں ہونے والا ہر واقعہ اس دنیا کو ظہور امام کی جانب لے جا رہا ہے، بالخصوص ایک ایسا واقعہ جس نے پوری انسانیت کو متاثر کیا ہے، یقیناً انسانیت کو اگلے مرحلے میں لے جا چکا ہے۔ اقوام عالم کے کئی ادارے مل کر اس آفت سے نبرد آزما ہونے کی بات کر رہے ہیں۔ وسائل کو مجتمع کیا جا رہا ہے، انسانیت کے اس مشترکہ دشمن کے خلاف شفافیت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ اگر اس وائرس کو باقی دنیا سے چھپایا گیا یا اس کے بارے غلط معلومات مہیا کی گئیں تو شاید اس پر قابو کرنا ممکن نہ ہو۔ ممالک کے مابین سیاسی اور ریاستی مسائل موجود ہیں، تاہم اس وقت اقوام متحدہ پوری دنیا میں سیز فائر کی بات کر رہی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ چین میں وائرس آیا تو اس کے ہمسایہ ممالک جن سے اس کے سیاسی اختلافات بھی تھے، نے بھی مدد کی اور اور اب چین کی جانب سے ادویات، طبی عملہ اور دیگر وسائل ان ممالک میں بھیجے جا رہے ہیں، جہاں یہ وائرس اب تک کنٹرول نہیں ہوا ہے۔ ہاں یہ کہنا درست ہے کہ اس علامت کو حتمی علامت نہیں کہا جاسکتا کہ اس وباء کے بعد امام زمانہ، میتریا، کالکی اوتار، مسایا یا مسیحا کا ظہور ہوگا۔ میرے خیال میں ایسا کہنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ضروررت اس امر کی ہے کہ ہم منتظر رہیں، منجی بشریت سے قرب اختیار کریں اور اپنے کردار و عمل کو ایسے قالب میں ڈھالیں کہ ہم عالمی نجات دہندہ کے لشکر میں شامل ہوسکیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بہت سی روحانی شخصیات عرصہ دراز سے اس جانب متوجہ کر رہی ہیں کہ ظہور قریب ہے، ترکی کی ایک روحانی شخصیت اور نقشبندی سلسلے کے ایک بزرگ نے تو یہاں تک کہ دیا کہ امام کا ظہور صغریٰ ہوچکا ہے۔ شیخ ناظم الحقانی نے اس بات کا اظہار اس وقت کیا، جب اچانک وہ حج کے ایام میں بیمار ہوئے اور تقریباً بے ہوش ہوگئے۔ ہوش میں آنے کے بعد ان کے معتقدین نے ان سے سوال کیا کہ آپ ایک پورا دن کس کیفیت میں رہے تو انہوں نے بتایا کہ میں تو ٹھیک ٹھاک تھا، میں نے ڈاکٹر کو اپنی عیادت کے لیے آتے دیکھا ہے، جبکہ ڈاکٹروں کے مطابق شیخ ناظم کو شدید بخار کے سبب غنودگی کی کیفیت تھی اور ان کو آرام کرنے کا کہا گیا تھا۔ شیخ ناظم کہتے ہیں کہ ہمیں روحانی طور پر مکہ لے جایا گیا اور وہاں نور کا عظیم دھماکہ ہوا، جس کے بارے میں میرا گمان یہ ہے کہ صاحب کا ظہور خاص ہوچکا ہے۔ شیخ ناظم امام زمان کو صاحب کے نام سے پکارتے تھے۔ شیخ ناظم سے کسی نے سوال کیا کہ اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ امام زمانہ کا تولد ہوچکا ہے اور وہ امام حسن عسکری کی اولاد سے ہیں تو شیخ نے جواباً کچھ توقف کیا اور پھر کہا: ہاں وہ درست کہتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اہل تشیع کے برعکس اہل سنت کے عقیدے کے مطابق امام زمان کا تولد ہونا ہے جبکہ شیخ ناظم کہہ رہے ہیں کہ اہل تشیع کا عقیدہ درست ہے۔ شیخ ناظم نے 2011ء سے قبل عرب بہار کی پیشین گوئی کی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ مصر، شام، لیبیا، لبنان، تیونس، یمن اور کئی ایک دیگر ممالک میں حکومتیں ختم ہو جائیں گی۔ شیخ ناظم اپنے مرشد شیخ داغستانی کے بارے کہتے ہیں کہ ایک روز میرے مرشد خواب میں آئے، جیسے وہ کسی لشکر سے سلامی لے رہے ہوں، میں ان کے ہمراہ تھا، میں نے شیخ سے پوچھا کہ یہ لشکر کیسا ہے تو شیخ نے کہا کہ یہ لشکر امام زمانہ ہے، جو آمادہ ہے۔ آیت اللہ تقی بہجت اور چند دیگر روحانی شخصیات کی جانب سے بھی ایسے ہی اشارے موصول ہو رہے ہیں، بہرحال ظہور امام ایک حتمی امر ہے، جسے آج یا کل ہونا ہی ہونا ہے۔ ان روحانی مکاشفات سے یہ تصور لینا کہ یہ ظہور کل یا پرسوں ہوگا درست نہیں ہے، تاہم ان مکاشفات میں کوئی پیغام ضرور ہے، شاید دنیا کو اس حقیقت کی جانب بار بار متوجہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ انسانیت اپنی درست راہ و روش تعین کرے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم صاحب کی آمد سے قبل معاشرے کی تشکیل اس انداز سے کریں کہ ان کے کام میں آسانیاں پیدا ہوں یا کم از کم اپنے آپ کو ایسے تیار کریں کہ ان کے انصار میں شامل ہوسکیں۔ تمام احباب کو نیمہ شعبان روز ولادت منجی بشریت بہت بہت مبارک ہو۔