اسلام ٹائمز 6 Feb 2020 گھنٹہ 1:22 https://www.islamtimes.org/ur/news/842911/اگر-امریکہ-نے-مزید-کوئی-مجرمانہ-اقدام-اٹھایا-ا-سے-پھر-بھرپور-جواب-دینگے-ایرج-مسجدی -------------------------------------------------- شہید قاسم سلیمانی کا آخری پیغام دہشتگردی کیخلاف ایرانی موقف کی غمازی کرتا ہے ٹائٹل : اگر امریکہ نے مزید کوئی مجرمانہ اقدام اٹھایا تو اُسے پھر بھرپور جواب دینگے، ایرج مسجدی ایران کیخلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کی ذمہ داری خطے میں موجود امریکی اڈوں پر عائد ہوگی -------------------------------------------------- عراق میں ایرانی سفیر نے کہا کہ اگر خطے کی حکومتیں امریکی دہشتگردانہ سیاست کا جواب نہیں دینا چاہتیں تو ایران حق کی خاطر آواز ضرور بلند کریگا۔ متن : اسلام ٹائمز۔ عراق میں امریکی دہشتگردانہ کارروائی کے نتیجے میں ایرانی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی عراقی حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس اور دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ شہادت کے تیسرے روز عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کیطرف سے جاری ہونیوالے اس بیان کہ شہید قاسم سلیمانی انکے پاس سعودی عرب کیلئے ایرانی حکومت کا پیغام لے کر آرہے تھے، کیطرف اشارہ کرتے ہوئے عراق میں ایرانی سفیر ایرج مسجدی نے کہا ہے کہ شہید جنرل قاسم سلیمانی کے عراق آنے کی وجہ (خطے میں امن و امان کیلئے) بغداد انیشی ایٹو کے حوالے سے ایرانی موقف پہنچانا تھا جبکہ وہ سعودی عرب کیلئے ایرانی حکومت کا پیغام بھی عراقی وزیراعظم تک پہنچانا چاہتے تھے۔ عراق میں ایرانی سفیر ایرج مسجدی نے کہا کہ شہید جنرل قاسم سلیمانی کا آخری پیغام دہشتگردی اور خطے کے استحکام و امن و امان کے حوالے سے ایرانی موقف کی غمازی کرتا ہے۔ انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان موجود مسائل کے حل میں عراقی کردار کو تعمیری قرار دیتے ہوئے سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کیساتھ اپنے اختلافات کو جلد از جلد حل کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایران اس حوالے سے عراق یا کسی بھی دوسرے برادر ملک کیطرف سے ہونیوالی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ایرج مشہدی نے عین الاسد نامی امریکی فوجی اڈے پر ایرانی جوابی کارروائی کیطرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ امریکی اقدام کا جواب دینے کیلئے اس فوجی اڈے کا انتخاب عراقی خود مختاری کی خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ اُس امریکی دہشتگردانہ اقدام کا جواب تھا جو عراقی سرزمین سے ہی جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کو شہید کرنیکے مقصد سے اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے شہید قاسم سلیمانی اور انکے ساتھیوں کی شہادت میں ملوث ہیں کیونکہ وہ ڈرون جس نے انہیں شہید کیا، امریکہ سے پرواز کرکے نہیں آیا تھا بلکہ اس نے خطے کے اندر سے ہی اڑان بھری اور اس دہشتگردانہ اقدام کیلئے عراقی سرزمین کو چُنا تھا۔ عراق میں ایرانی سفیر ایرج مسجدی نے کہا کہ اگر امریکہ کیطرف سے مزید کوئی مجرمانہ اقدام اٹھایا گیا تو اُسے ایک مرتبہ پھر بھرپور جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کیخلاف ہونے والے کسی بھی جارحانہ اقدام کی ذمہ داری خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ اور امن و امان کا نعرہ لگاتا ہے، لیکن یہ امریکہ ہی ہے جس نے جنرل قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کے قتل سے اپنے ہاتھوں کو رنگا ہے درحالیکہ وہ دہشتگردی کا مصداق نہیں تھے بلکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑنے والے دو برادر ممالک کے سپہ سالار تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خطے کی حکومتیں امریکی دہشتگردانہ سیاست کا جواب نہیں دینا چاہتیں تو ایران حق کی خاطر آواز ضرور بلند کریگا۔