اسلام ٹائمز 22 Apr 2012 گھنٹہ 21:11 https://www.islamtimes.org/ur/news/155627/ایرانی-ماہرین-نے-امریکی-ڈرون-کو-آسانی-سے-ڈی-کوڈ-کر-لیا-امیر-علی-حاجی-زادہ -------------------------------------------------- ٹائٹل : ایرانی ماہرین نے امریکی ڈرون کو آسانی سے ڈی کوڈ کر لیا، امیر علی حاجی زادہ -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ایرانی ایرو اسپیس ڈویژن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہم نے ڈرون کی تمام اطلاعات اور سافٹ وئیر کو ڈی کوڈ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے قتل سے دو ہفتے پہلے عین اسی مقام پر جہاں اسامہ مارا گیا اس ڈرون نے پرواز کی ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ ایرانی پاسدران انقلاب کے ایرو اسپیس ڈویژن کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ماہرین نے بڑی آسانی سے امریکہ کے پیشرفتہ ڈرون (RQ170) کو ڈی کوڈ کر لیا ہے۔ جنرل امیر علی حاجی زاده نے کہا کہ امریکی ڈرون کو ڈی کوڈ کرنے سے اس کے آپریشن اور اسے جو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں ان کی تفصیلات معلوم ہو چکی ہیں۔ امیر علی حاجی زاده نے کہا کہ ہم نے امریکی ڈرون کو ڈی کوڈ کرکے اسکی میموری، پروٹوکول، اور مرمتوں نیز پروازوں کی معلومات حاصل کر لی ہیں۔ انہوں نے کہا ان تفصیلات میں اس ڈرون کو القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کی جاسوسی کرنے کے لئے بھی تعینات کیا گیا تھا اس کا ڈیٹا بھی ہم نے حاصل کر لیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایران کے سائـبر اور ایئر ڈیفنس ماہرین نے گذشتہ برس 4 دسمبر کو امریکہ کے نہایت ہی پیشرفتہ ڈرون کو ایرانی حدود میں کامیابی سے اتار لیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق ایرو اسپیس ڈویژن کے سربراہ نے کہا کہ مختلف وجوہات کی بنا پر ہم اس ڈرون کے بارے میں زیادہ تفصیلات بیان نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اب ایران کے لئے ملی سرمایہ محسوب ہوتا ہے، لہذا ہم اسکے تمام اسرار و رموز بیان نہیں کر سکتے، لیکن چونکہ امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران اس کے ڈیٹا پر دسترس پیدا نہیں کر سکتا، صرف امریکہ کو یہ بتانے کے لئے کہ ایرانی ماہرین کومکملعبور ہے ہمنے 4 کوڈز کا انتخاب کیا ہےکہ انکو بیان کرنے سے امریکہ سمجھ جائے کہ ہم نے ڈرون کو مکمل طور پر ڈی کوڈ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون کچھفنی نقائص کی بنا پراکتوبر 2010ء میں کلیفورنیا میں تھا پھر اسکو ٹھیک کرنے اور فلائنگ ٹیسٹ لینے کے بعد نومبر 2010ء میں قندھار بھیجا گیا اور یہ وہاں پرواز کرتا رہا لیکن وہاں بھی اس ڈرون میں کچھ فنی مشکلات تھیں کہ جنکو دور نہیں کیا جا سکا جو ہم نے بھی مشاھدہ کی ہیں۔جنرل حاجی زادہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہااس ڈرون کو دوبارہ دسمبر 2010ء میں اسکے فنی مشکلات اور نقائص کو دور کرنے کے لئے دوبارہ لاس اینجلس لے جایا گیا، اور اسکوٹھیک کرنے اورمزید مجھّز کرنے اور ٹیسٹ پروازیں کرنے کے بعد دوبارہ قندھار لے جایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی معلومات میں اضافے کے لئے بتاتا چلوں کہ ہم نے ڈرون کی تمام اطلاعات اور سافٹ وئیر کو ڈی کوڈ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کے قتل سے دو ہفتے پہلے عین اسی مقام پر جہاں اسامہ مارا گیا اس ڈرون نے پرواز کی ہے۔ امیر علی حاجی زاده نے مزید کہا اگر ہم نے اس ڈرون کے سافٹ اور ہارڈ وئیر پر مکمل دسترس پیدا نہ کی ہوتی تو ہم یہ تمام معلومات حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ ہمارے ماہرین کو اس ڈرون کی ٹیکنالوجیپر مکمل عبور ہے۔ جنرل حاجی زادہنے کہا کہ امریکہ کی 50 سالہ ڈورن ٹیکنالوجی جس میں پائلٹ اور بغیر پائلٹ کے ڈرون شامل ہیں، اس جاسوس ڈرون (RQ170) میں پائی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 1960ء میں جبU2 ڈرون جسکو روس نے سرنگوں کیا اور پائلٹ کو گرفتار کر لیا، اسکے بعد سے امریکہ بغیر پائلٹ کے ڈرونز کی فکر میں پڑا اور یہ اسوقت سے لے کر (RQ170) ڈرون تک کی امریکی ٹیکنالوجی ہے۔ حاجی زاده نے اپنی گفتگو کے آخر میںایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس ڈرون میں بمباری کا آٹو میٹک سسٹم موجود نہیں ہےگو کہیہ سسٹم راکٹس میں موجود ہے لیکن تمام ڈرونز میں نہیں ہے، امریکی اس ڈرون پرکچھ زیادہ مطمئن تھے اسلئے اس میںیہ سسٹم نہیں ہے۔