اسلام ٹائمز 18 Apr 2018 گھنٹہ 14:40 https://www.islamtimes.org/ur/news/718785/قدیم-ایام-سے-ہزارہ-برادران-کا-قدردان-ہوں-سید-علی-خامنہ -------------------------------------------------- شام میں داعش کیخلاف برسرپیکار مجاہدین ٹائٹل : قدیم ایام سے ہزارہ برادران کا قدردان ہوں، سید علی خامنہ ای لشکر فاطمیون کے خانوادہ شہداء سے ملاقات -------------------------------------------------- رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فاطمیون بریگیڈ کے بعض خانوادگان شہداء سے ملاقات میں کہا ہے کہ میں افغانستان کے ہزارہ برادران کو نزدیک سے جانتا ہوں، انکے دینی طلباے کا ہمارے ساتھ آنا جانا تھا اور قدیم ایام سے انکے ساتھ آشنائی رہی ہے۔ یہ ملاقات نوروز کے ایام میں مشہد مقدس میں حرم حضرت امام رضا علیہ السلام میں انجام پائی۔ رہبر انقلاب نے شہداء کے لواحقین سے خطاب کیا اور اسکے بعد ہر ایک فیملی سے الگ الگ ملاقات کی گئی۔ متن : اسلام ٹائمز۔ افغانستان کے مدافعین حرم حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا، لشکر فاطمیون کے نام سے شام میں داعش اور دوسرے تکفیری دہشت گرد گروہوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے نوروز کے ایام میں اس لشکر کے شہید ہونے والوں مجاہدین کے بعض لواحقین سے ملاقات کی۔ خانوادہ شہداء سے یہ ملاقات حرم حضرت امام رضا علیہ السلام کے آئینہ ہال میں انجام پائی۔ شہداء کے خانوادگان نے رہبر انقلاب اسلامی کا انقلابی نعروں اور صلوات کے ساتھ استقبال کیا ہے۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے افغانستان کے شہدائے فاطمیون کے لواحقین کے درمیان تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں قدیم ایام سے افغانستان کے ہزارہ برادران کا قدردان ہوں، چونکہ میں ان کو قریب سے جانتا تھا، ان کے دینی طلباء ہمارے ساتھ مانوس تھے اور میں قدیم ایام سے ان کو جانتا تھا۔ افغانستان سے بڑی تعداد میں خاندان ایران آئے اور انہوں نے انقلاب اور مقدس دفاع کے دوران ہمارا ساتھ دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فاطمیون کے خانوادگان کی مختلف امور میں فعالیت کے بارے میں کہا کہ افغانستانی بھائی اور ہزارہ شام کے مسائل میں حرم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے دفاع، عراق میں دوسرے پاک حرموں کے دفاع اور داعش کے مسئلہ میں فعال ترین گروہوں میں سے ہیں۔ انہوں نے بہترین انداز میں ان مسائل میں شرکت کی اور بہترین انداز میں جنگ کی۔ ہم آپ کے شہداء کے قدردان ہیں، یہ واقعات ان میں سے ہیں کہ جو پوری اسلامی تاریخ میں بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا یہ (شہدائے فاطمیون) اپنی دینی، شیعی اور ولائی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایک سخت میدان میں حاضر ہوئے اور اپنے امتحان کو بہترین انداز میں گزارتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ میری نگاہ میں شہداء کے خانوادے بھی صبر اور مزاحمت کے لحاظ بلافاصلہ شہداء کے بعد والی صف میں قرار پاتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مزید کہا کہ اگر خانوادگان شہدائے فاطمیون کا صبر نہ ہوتا تو ایسی عظیم تاریخ رقم نہ ہوتی۔ یہ شہداء کے گھر والوں کا صبر ہے کہ جس کے باعث شہادت کے مشتاق ترقی کرتے جا رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ قیامت والے دن آپ کے شہداء شفاعت کریں اور یہاں ہم آپ کے شہداء کی دعاوں کی برکت سے مستفید ہوسکیں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ بعض گھرانوں سے دو افراد شہید ہوئے اور یہ سب کچھ دینی ذمہ داری کے احساس کی وجہ سے ہے کہ جس کے باعث ان کے جگر گوشے ایسے خطرناک میدان میں حاضر ہوئے کہ جس کی سرنوشت معلوم نہ ہو۔ ان خاندانوں کو اس قربانی کی عظمت کا احساس ہونا چاہیئے اور ان کو معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ خدا کے نزدیک عزیز ہیں۔ ایک ایسا شہید ہے کہ جس کے چار فرزند ہیں، یہ بہت ارزشمند ہے۔ خدا آپ کو صبر و اجر عطا فرمائے آپ دنیا و آخرت میں عزیز ہیں۔ انشاء اللہ ہم بھی آپ کے شہداء کی برکت سے عاقبت بخیر ہوں اور قیامت والے دن آپ کے ساتھ محشور ہوں۔ شہداء کے خاندانوں سے ملاقات کے بعد رہبر انقلاب اسلامی نے ہر ایک خانوادہ شہید سے الگ الگ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے شہید مصطفٰی کریمی کی والدہ سے کہا کہ آپ راہ ولایت کے شہداء میں سے شہید کی بیٹی بھی ہیں، شہید کی بہن بھی ہیں اور شہید کی ماں بھی ہیں۔ شہید کے نام اور یادوں کو زندہ رکھیں اور کسی مضمون کی صورت میں لکھیں اور اس کی حفاظت کریں۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر شہید مصطفٰی کریمی کے بھائی نے ایک خط رہبر انقلاب کے سامنے قرائت کیا۔