اسلام ٹائمز 22 Oct 2019 گھنٹہ 17:37 https://www.islamtimes.org/ur/news/823472/درباری-مولوی-آئندہ-سے-خود-کو-دیو-بندی-نہ-کہلوائیں-مولانا-عبدالغفور-حیدری -------------------------------------------------- ٹائٹل : درباری مولوی آئندہ سے خود کو دیو بندی نہ کہلوائیں، مولانا عبدالغفور حیدری -------------------------------------------------- اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے رہنماء نے ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں دوسری طرف ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے کے کردار کو دیکھیں، چھوٹے چھوٹے راستوں پر خندقیں کھودی جارہی ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہدرباری مولوی آئندہ سے خود کو دیو بندی نہ کہلوائیں۔ یہ وہ ملاء ہیں جو ہمیشہ سے سرکار کے درباری رہے ہیں۔ اسلام آباد میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہابھی آزادی مارچ شروع نہیں ہوا مگر حکومت گھبرا گئی ہے۔حکومت بوکلاہٹ میں اندھی ہو کر کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، ہمارے لوگوں کو بینرز لگانے پر گرفتار کیا گیا ہے، بینرز پورے شہر میں لگے ہوئے ہیں۔ مولانا غفور حیدری نے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں دوسری طرف ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے کے کردار کو دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہمارے آنے سے پہلے ڈھیر ہو گئی ہے، چھوٹے چھوٹے راستوں پر خندقیں کھودی جارہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ تم تو کہتے تھے مولانا فضل الرحمان کی سیاست ختم ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئیں گے، مولانا فضل الرحمان کے جیالے آئیں گے،یہ راستے بند کریں گے اور ہمیں ایسے احمق چاہیں جو خود سب بند کر دیں، ہم پر آمن احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا غفور حیدری نے کہا کہ ان کا وضو تنگ ہو گیا ہے اور وضو ٹوٹ بھی گیا ہے۔ جن لوگوں نے ان کو ووٹ دیا وہ ہی ان کو گالیاں دے رہے ہیں۔ جے یو آئی کے رہنما کا کہنا تھا کہ مزاکرات کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ پہلے روز ان کو کہا ہے کہ عمران خان کا استعفی اور فل فور انتخابات ہمارا مطالبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزاکراتی ٹیم کے سربراہ (پرویز خٹک) نے اپوزیشن سے بات کیے بغیر پریس کانفرنس کی، پریس کانفرنس میں دھمکیاں دیں۔ تم سے تمہارے گھر والے نہیں ڈرتے ہم کیا ڈریں گے۔