اسلام ٹائمز 12 Jun 2021 گھنٹہ 23:21 https://www.islamtimes.org/ur/news/937764/پروفیسر-ظاہر-علی-سید-کا-قتل-پولیس-نے-24-گھنٹے-سے-بھی-کم-وقت-میں-قاتل-کو-پکڑ-لیا -------------------------------------------------- ٹائٹل : پروفیسر ظاہر علی سید کا قتل، پولیس نے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں قاتل کو پکڑ لیا -------------------------------------------------- پولیس کا کہنا تھا کہ پروفیسر ظاہر سید کی گاڑی نہ رکنے پر ملزمان نے ایک ہی فائر کیا اور فرار ہوگئے، واقعہ ممکنہ طور پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نتیجہ ہے، تاہم ڈرائیور کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے، مقتول کی رہائش رنگوں والا ہال بہادر آباد کے قریب ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ ایسٹ زون پولیس نے اسٹیڈیم روڈ پر نجی یونیورسٹی کے پروفیسر کے قاتل سمیت 3 ملزمان کو 24 گھنٹے سے بھی کم وقت پکڑ لیا، ملزم نے بیان میں کہا کہ گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کی۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے کراچی کے اسٹیڈیم روڈ پر پروفیسر ظاہر سید کے قاتل سمیت 3 ملزمان کو خفیہ اطلاع پر گرفتار کر لیا۔ ایس پی گلشن ڈویژن معروف عثمان نے کہا کہ ایسٹ زون پولیس نے چند گھنٹوں میں ملزمان گرفتار کئے، نجی انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ظاہر سید کو گذشتہ روز قتل کیا گیا۔ گرفتار تیسرا ملزم ملزمان کا سہولت کار ہے، ملزمان نشے میں تھے، ڈکیتی کے دوران فائر کیا، سہولت کار ملزمان کو کرائے پر پستول دیتا تھا، ملزمان پروفیسر کے قتل کے بعد بھی شہری کو لوٹ رہے تھے، گرفتار ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔ ملزمان نے دوران تفتیش 22 وارداتوں کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سہولت کار ذاکر ہر واردات کا 50 فیصد لیتا تھا، پروفیسر ظاہر سید پر ملزم رستم پٹھان نے فائر کیا اور ابراہیم بنگالی موٹر سائیکل چلا رہا تھا، گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کی۔ ایس پی گلشن نے بتایا کہ ملزمان نے پروفیسر سے پہلے خاتون سمیت 2 شہریوں کو لوٹنے کا اعتراف بھی کیا، ملزم ذاکر پہلے بھی جیل کاٹ چکا ہے۔ اس سے قبل پولیس کا کہنا تھا کہ ظاہر علی سید اپنے ڈرائیور کو گاڑی سے اتار کر گھر جا رہے تھے، ڈرائیور کو اتار کر گاڑی آگے بڑھی تو موٹر سائیکل سوار 2 ملزم آئے۔ ڈرائیور نے بتایا کہ ملزموں کے چہرے واضح تھے، نقاب ہیلمٹ نہیں تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ گاڑی نہ روکنے پر ملزمان نے ایک ہی فائر کیا اور فرار ہوگئے، واقعہ ممکنہ طور پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نتیجہ ہے، تاہم ڈرائیور کا بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے، مقتول کی رہائش رنگوں والا ہال بہادر آباد کے قریب ہے۔