اسلام ٹائمز 23 May 2020 گھنٹہ 9:34 https://www.islamtimes.org/ur/news/864360/اسرائیل-جھوٹے-ڈھونگ-اور-بڑے-سیاسی-جھوٹ-پر-مبنی-ہے-محمد-رضا-ناظری -------------------------------------------------- ٹائٹل : اسرائیل جھوٹے ڈھونگ اور بڑے سیاسی جھوٹ پر مبنی ہے، محمد رضا ناظری یوم القدس کے موقع پر محمد رضا ناظری قونصل جنرل ایران لاہور کا پیغام -------------------------------------------------- ایرانی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کیلئے امریکی اور صہیونی حکومت کی طرف سے پیش آنیوالے سانحے کی گہرائی اور خطرہ کچھ یوں ہے کہ بار بار امریکی دھمکیوں اور فلسطینیوں پر دو عرب ریاستوں کی طرف سے اس معاہدے کو قبول کرنے کیلئے دباؤ کے باوجود، فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ، محمود عباس، جو اوسلو معاہدوں میں اہم مذاکرات کاروں میں شامل تھے، آج اس منصوبے کیخلاف ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ عالمی یوم القدس کی مناسبت سے لاہور میں تعینات ایران کے قونصل جنرل محمد رضا ناظری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ یوم القدس کہلاتا ہے، بانی انقلاب اسلامی جمہوریہ ایران امام خمینیؒ نے اس دن کو قدس کا عالمی دن قرار دیا۔ اسرائیل جھوٹے ڈھونگ اور ایک بڑے سیاسی جھوٹ پر مبنی ہے۔ عالمی صیہونی تحریک کے بانی اور کتاب یہودی ریاست کے مصنف، تھیوڈور ہرزل کا خیال ہے کہ دنیا میں، خاص طور پر یورپ میں کہیں بھی رہنے والے یہودی مظلومیت دکھاتے ہیں۔ اس مظومیت کو ظاہر کرنے اور اپنے اصلی ہدف(یہودی حکومت) تک پہنچنے کیلئے انہوں نے بہت سی کہانیوں اور واقعات کو خود ہی گھڑ لیا ہے۔ رضا ناظری نے کہا کہ آج فلسطین کی حمایت صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ تمام مذاہب کے پیروکار، یہاں تک کہ کچھ صیہونی یہودی گروہ، اسرائیل کی انسانیت دشمن پالیسیوں کی مخالفت میں، یوم القدس مناتے ہیں اور جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ محمد رضا ناظری کا کہنا تھا کہ فلسطین کے دفاع اور قبضے سے انکار اور تمام سمجھوتوں کے معاہدوں کو مسترد کرنے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشن واضح ہے لیکن اسرائیل کے مظالم اور حکومت کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کی یکطرفہ حمایت اور اس کے غیر قانونی اقدامات جیسے سفارتخانہ کو یروشلم منتقل کرنا اور صدی ڈیل کا منصوبہ، آج اس قدر مروج ہے کہ بہت سارے حامی اور صلح آمیز ممالک بشمول یورپی ممالک بھی جو اس کی وجہ ہیں۔ انہوں نے امریکی پالیسیوں کی مخالفت کی ہے اور سلامتی کونسل میں امریکہ اور اسرائیل کے موقف پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ صدی ڈیل کا منصوبہ، یعنی ریاست فلسطین کے قیام کا خاتمہ اور دو ریاستی حل کا خاتمہ، امریکی حکومت کے اس عمل سے زیادہ بدقسمتی یہ ہے کہ کچھ عرب ممالک کی خیانت اور خفیہ معاملات ہیں جس نے صدی معاہدے پر عملدرآمد میں سہولت فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینیوں کیلئے امریکی اور صہیونی حکومت کی طرف سے پیش آنیوالے سانحے کی گہرائی اور خطرہ کچھ یوں ہے کہ بار بار امریکی دھمکیوں اور فلسطینیوں پر دو عرب ریاستوں کی طرف سے اس معاہدے کو قبول کرنے کیلئے دباؤ کے باوجود، فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ، محمود عباس، جو اوسلو معاہدوں میں اہم مذاکرات کاروں میں شامل تھے، آج اس منصوبے کیخلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کی عظمت جو کہ مظلوم فلسطینی عوام کے دفاع میں کھڑی ہے اور بھاری قیمت ادا کر رہی ہے، یہ تاریخ میں قائم رہے گا اور آئندہ آنیوالوں کے بیدار ضمیروں کے ذریعہ اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔