اسلام ٹائمز 13 Mar 2020 گھنٹہ 7:28 https://www.islamtimes.org/ur/video/849961/مولانا-غلام-محمد-عطار-کا-حالات-حاضرہ-پر-خصوصی-ویڈیو-انٹرویو -------------------------------------------------- ٹائٹل : مولانا غلام محمد عطار کا حالات حاضرہ پر خصوصی ویڈیو انٹرویو -------------------------------------------------- مقبوضہ کشمیر کے معروف عالم دین اور برصغیر کی معروف دینی تنظیم ’’جماعۃ التبلیغ‘‘ کے دیرینہ کارکن مولانا غلام محمد عطار کا ’’اسلام ٹائمز‘‘ کیساتھ خصوصی انٹرویو میں کشمیری مسلمانوں پر ہورہے ظلم و تشدد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری مسلمان گزشتہ ستر برسوں سے ایک بڑی طاقت کی تشدد پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ متن : اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے معروف عالم دین مولانا غلام محمد عطار نے انٹرویو میں کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش مسائل و مشکلات کی اصل وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کے احکامات، قرآنی تعلیمات اور رسول اکرم (ص) کے پیغامات کو فراموش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلمان اپنا وقار و سربلندی چاہتے ہیں تو انہیں وحدت امت کے لئے اقدام کرنے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی موجودہ حالت کے لئے غیروں سے زیادہ ہم خود قصوروار ہیں۔ مولانا غلام محمد عطار نے سینچری ڈیل کو دشمن کی پرانی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میں کیسے خاموش بیٹھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تمام دشمنان اسلام کفر کی شکل میں ایک متحد ملت کے طور پر ہمارے سامنے موجود ہیں لیکن مسلمانان عالم بکھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مسلم ممالک کی باہمی منافرت و خلفشاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملت کے باشعور افراد کو ملت کا درد سمجھ کر آگے آنا چاہیئے۔ کشمیری مسلمانوں پر ہورہے ظلم و تشدد کی مخالفت و مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری مسلمان گزشتہ ستر برسوں سے ایک بڑی طاقت کی تشدد پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے لئے بی جے پی کی حکومتی پالیسیاں کانگریس حکومت کی پالیسیوں سے مختلف نہیں ہیں بلکہ اس دور کا آغاز کانگریس کی دور حکومت میں ہی ہوا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ بھاجپا حکومت مسلم مخالف صاف اور واضح بات کرتے ہیں۔ جب ان سے بھارتی مسلمانوں پر حکومتی ظلم و تشدد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ بھارتی مسلمانوں نے جو فیصلہ تقسیم ہند کے وقت لیا تھا تو وہ جانتے ہونگے کہ انہوں نے تب کیا اور کیوں یہ فیصلہ لیا تھا۔ وحدت امت کی کمی کو مسلمانوں کا عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور کشمیر میں بھی مسلمانوں میں باہمی تضاد پایا جاتا ہے جسکی وجہ سے وہ مشکلات میں گرفتار ہیں۔