اسلام ٹائمز 30 May 2019 گھنٹہ 9:10 https://www.islamtimes.org/ur/article/796843/سینچری-ڈیل-ایک-تحقیقی-جائزہ-4 -------------------------------------------------- ٹائٹل : سینچری ڈیل ایک تحقیقی جائزہ(4) -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: سینچری ڈیل امریکہ کے ذریعے صہیونی لابی کا ایک خطرناک حملہ اور وار ہے۔ استقامتی بلاک کو اپنی صفوں کو نئے سرے سے ترتیب دیکر نئی صورت حال میں صف بندی کی اشد ضرورت ہے۔ ایران اور حزب اللہ سمیت خطے میں استقامت اور مقاومت کا مورال بلند ہے۔ حزب اللہ اور مقاومت کی فورسز جولان کے قریب تعینات ہیں۔ جس نے صہیونی حکام کی نیندوں کو حرام کر رکھا ہے۔ غاصب صہیونی حکومت کی طرف سے غزہ پر بڑی کارروائی نہ کرنے کے پیچھے جولان کے محاذ کا بھی خوف ہے۔ اگر غزہ کا محاذ طول کھنچتا ہے تو جولان کی طرف سے مجاہدین کی پیش قدمی ناممکن امر نہیں۔ عالم اسلام اور عرب دنیا کی رائے عامہ اس وقت فسلطین کے ساتھ ہے۔ متن : تحریر: ڈاکٹر راشد عباس گذشتہ سے پیوستہ اردن بھی فلسطین کا سب سے قریبی ہمسایہ ہونے کی بنا پر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اردن کے موقف کا اندازہ اس بیان سے کیا جاتا ہے، جب صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو نے اردن کا ہنگامی دورہ کیا تھا۔ اردن کے شاہ نے اس دورہ کے اختتام پر بیان دیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مسئلہ کو دو مستقل حکومتوں کے قیام کے تناظر میں حل کیا جائے۔ تیتن یاہو کی طرف سے جو بیان سامنے آیا تھا، اس میں کہا گیا تھا کہ تل ابیب بیت المقدس کے مقدس مقامات کی حفاظت کا پابند رہے گا۔ اردن کے لیے فسطینی مہاجرین کی واپسی نہایت اہم ہے جبکہ سینچری ڈیل میں اس کا ذکر تک نہیں ہے، لہذا اردن کے لیے یہ معاملا ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ مصر سینچری ڈیل کے حوالے سے اس لیے اہیمت کا حامل ہے، کیونکہ مصر کی سرحدیں صحرائے سینا کی وجہ سے غزہ پٹی سے ملتی ہیں، اس لیے مصر کو اس ڈیل سے بہت سے فوائد بھی ہیں اور کچھ خطرات و تحفظات بھی۔ موصولہ خبروں کے مطابق ڈونالڈ ٹرامپ کے داماد کوشنر نے ایک ہی دورے میں مصری حکام کو مسحور کر لیا ہے۔ کوشنر کے دورہ مصر کے دوران اور بعد میں سامنے آنے والے بیانات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مصر فلسطین میں قومی آشتی نیز غرب اردن اور غزہ پٹی کو ایک زون بنانے پر تاکید کرتا ہے۔ غزہ پٹی اور غرب اردن کو ملانے کا آئیڈیا سنچری ڈیل میں بھی موجود ہے اور اسرائیل مصر سے یہ بات کہلوا کر فلسطینی مجاہدین اور حماس وغیرہ پر اپنا دبائو بڑھانا چاہتا ہے۔ مصر کی کوشش ہے کہ حماس پر دبائو بڑھا کر سینچری ڈیل کے اس منصوبے پر استقامتی و مزاحمتی جماعتوں اور گروہوں کو ایک پیج پر اکٹھا کر دے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو روس مجموعی طور پر اس ڈیل کا مخالف ہے، جبکہ امریکہ اسرائیل کی نیابت میں اس ڈیل اور سودا کا خالق و بانی ہے۔ یورپی یونین کے آٹھ ممالک نے سلامتی کونسل کے نام اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ ایسا کوئی معاملہ یا ڈیل ہمیں قبول نہیں ہوگی، جو عالمی معاہدے کے خلاف 1967ء کی سرحدوں کے مطابق دو مستقل ریاستوں کے قیام کے علاوہ اور قدس شریف کے مشترکہ دارالحکومت بنانے کے بغیر ہوگا۔ عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کے سابقہ فیصلوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں سنچری ڈیل کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مکمل خلاف ہے۔ سینچری ڈیل کے نفاذ سے اقوام متحدہ کی قانونی حیثیت مشکوک ہو جائے گی۔ اس ڈیل کے قبول ہونے سے عالمی تعلقات اور ان کے قانونی اور سیاسی معاملات ایک نئے بحران سے دوچار ہوں گے۔ ایک ایسا بحران جس میں سفارتی اور مذاکراتی عمل کو ناکارہ بنا کر جس کی لاٹھی اس کی بھینس اور جنگل کے قانون کے نفاذ کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ اس وقت امریکہ، اسرائیل اور اس کے چند عرب اتحادیوں کے علاوہ کسی نے بھی سینچری ڈیل کو قبول نہیں کیا ہے۔ اس تناظر میں اگر اسلامی ممالک اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے نیز اقوام متحدہ جیسا مقتدر ادارہ بین الاقوامی اتفاق پیدا کرکے سینچری ڈیل کو ناکام یا کم از کم چیلنج کرسکتا ہے۔ ایک خاص نکتہ جو عالمی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، وہ اس ڈیل میں فلسطینی مہاجرین کی واپسی کو مکمل نظرانداز کرنا ہے۔ اس مسئلے میں فلسطین کی تمام تنظمیں اور ادارے متفق ہیں کہ فلسطینی مہاجرین کو اپنے وطن واپس آنے کا حق دیا جائے۔ مہاجر کیمپوں میں پروان چڑھنے والی تیسری نسل کو اب اپنے وطن آنے کی اجازت ملنی چاہیئے۔ مہاجرین کی واپسی کا حق اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ لہذا اگر عالمی سطح پر صرف اس مسئلے کو ہی اٹھایا جائے تو دنیا بھر سے ہمدردی سمیٹی جا سکتی ہے۔ چہ باید کرد سینچری ڈیل امریکہ کے ذریعے صہیونی لابی کا ایک خطرناک حملہ اور وار ہے۔ استقامتی بلاک کو اپنی صفوں کو نئے سرے سے ترتیب دیکر نئی صورت حال میں صف بندی کی اشد ضرورت ہے۔ ایران اور حزب اللہ سمیت خطے میں استقامت اور مقاومت کا مورال بلند ہے۔ حزب اللہ اور مقاومت کی فورسز جولان کے قریب تعینات ہیں۔ جس نے صہیونی حکام کی نیندوں کو حرام کر رکھا ہے۔ غاصب صہیونی حکومت کی طرف سے غزہ پر بڑی کارروائی نہ کرنے کے پیچھے جولان کے محاذ کا بھی خوف ہے۔ اگر غزہ کا محاذ طول کھنچتا ہے تو جولان کی طرف سے مجاہدین کی پیش قدمی ناممکن امر نہیں۔ عالم اسلام اور عرب دنیا کی رائے عامہ اس وقت فسلطین کے ساتھ ہے۔ شام، عراق، لبنان اور تیونس سمیت مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک سنچری ڈیل کے مخالف ہیں۔ دوسری طرف ساز باز اور سینچری ڈیل کو خفیہ قبول کرنے والے ممالک سعودی عرب، اردن اور مصر میں رائے عامہ تیزی سے حکمرانوں کے خلاف ہو رہی ہے۔ عوام اسرائیل سے سے بڑھتے ہوئے تعلقات پر ناخوش ہیں۔ اگر انہیں سینچری ڈیل کے حقائق کا علم ہو جائے تو ان ممالک کے ڈکٹیٹروں کے لیے عوامی مطالبات وبال جان بن جائیں۔ عالم اسلام بھی اس میں موثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔