اسلام ٹائمز 20 Dec 2014 گھنٹہ 13:03 https://www.islamtimes.org/ur/interview/426177/اگر-عدلیہ-نے-قاتلوں-کو-سرعام-سزا-دی-ہوتی-پشاور-کا-اندوہناک-سانحہ-رونما-نہ-ہوتا-علامہ-اقتدار-نقوی -------------------------------------------------- ٹائٹل : اگر عدلیہ نے قاتلوں کو سرعام سزا دی ہوتی تو پشاور کا اندوہناک سانحہ رونما نہ ہوتا، علامہ اقتدار نقوی -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے ''اسلام ٹائمز'' کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ مجلس وحدت مسلمین بہت جلد تنظیمی سطح پر جنوبی پنجاب کا سیٹ اپ لا رہی ہے تاکہ تنظیم کو مزید فعال کیا جا سکے۔ متن : علامہ اقتدار حسین نقوی نے جھنگ کی تحصیل شوروکوٹ کے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی، آپ کا خاندان آل محمد (ع) کی مداحی میں ملک بھر میں معروف تھا، ابتدائی تعلیم شوروکوٹ ہائی سکول سے حاصل کی، بعدازاں دینی تعلیم ملتان کی معروف دینی درسگاہ جامعہ شہید مطہری ملتان سے حاصل کی۔ حوزوی تعلیم علامہ بشیر احمد مومن نجفی(مرحوم)، علامہ حافظ احمد رضا نجفی، علامہ محمد سلیم محمدی سمیت دیگر اساتذہ سے حاصل کی۔ شروع سے ہی مذہبی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ حوزوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملتان کی مرکزی جامع مسجد الحسین میں بطور خطیب ذمہ داریاں انجام دینے لگے۔ دوران طالبعلمی میں ہی آپ نے ایک مذہبی کیس میں جیل کاٹی، مجلس وحدت مسلمین کے آغاز سے ہی ملتان کی نمائندگی کی۔ جس کی بناء پر آپ ملتان کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ چار سال اپنی ذمہ داریاں بطور احسن انجام دے رہے ہیں، بہتر کارکردگی کی بنیاد پر مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس کے کہنے پر آپ کو مجلس وحدت مسلمین پنجاب صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل (برائے جنوبی پنجاب) نامزد کیا گیا۔ ''اسلام ٹائمز'' نے ڈپٹی سیکرٹری جنرل پنجاب نامزد ہونے کے بعد موجودہ ملکی صورتحال اور بالخصوص جنوبی پنجاب کے حوالے سے ایک نشست کی جو قارئین کے لیے حاضر خدمت ہے۔ ادارہ اسلام ٹائمز: جنوبی پنجاب کے شہر مظفرگڑھ میں کاروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے چار کارکنوں کو پولیس مقابلے کے بعد ہلاک کیا گیا جبکہ مقامی سیاستدان اسے جھوٹا قرار دے رہے ہیں؟ علامہ اقتدار حسین نقوی: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ خدا کا شکر ہے کہ محرم الحرام کے بعد صفرالمظفر بھی امن و امان سے گزر گیا۔ جس کی طرف آپ اشارہ کر رہے ہیں میں اُس دن اتفاق سے مظفر گڑھ میں ہی موجود تھا ہمیں بھی باخبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ محمودکوٹ کے قریب پولیس نے ایک مشکوک گاڑی کو رُکنے کا اشارہ کیا جب وہ نہ رُکی تو پولیس کا شک حقیقت میں تبدیل ہو گیا جس پر اُنہوں نے تعاقب کیا اور بالاخر پولیس مقابلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے اس فائرنگ کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا تھا۔ میڈیا نے اُن کو دکھایا اور اُن سے جو سامان برآمد ہوا وہ بھی دکھایا گیا۔ جتنا بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے یہ پورے جنوبی پنجاب کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ لیکن اس واقعے کے بعد کالعدم تنظیم کے ترجمان ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی نے ان دہشتگردوں کی حمایت میں پولیس کے خلاف بیانات دیئے پریس کانفرنسز کیں جس سے جمشید دستی کا چہرہ مزید واضح ہو گیا ہے۔ اسلام ٹائمز: سانحہ پشاور کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کس کڑی سے جوڑتے ہیں؟ علامہ اقتدار حسین نقوی: دیکھیں جی سانحہ پشاور ( آرمی پبلک سکول ) حالیہ دور میں دنیا کی تاریخ میں بچوں کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔ اس سانحے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم نے اس واقعے کے خلاف ملتان میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے اور شہداء سے اظہار یکجہتی کے لیے شمعیں بھی روشن کی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس واقعے کی کڑیاں ضرب عضب آپریشن، ملالہ یوسفزئی کو ملنے والا نوبل انعام اور یوم سقوط ڈھاکہ سے ملتی ہیں۔ ضرب عضب آپریشن نے طالبان سمیت دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے، جس ملالہ کو وہ راستے سے ہٹانا چاہتے تھے وہی ملالہ آج دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہے۔ جبکہ تیسری یہ کہ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دن یعنی یوم سقوط ڈھاکہ کے موقع پر کیا گیا۔ اگر اس واقعہ میں غیرملکی مداخلت کا کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا کیونکہ ایک عینی شاہد طالبعلم کے مطابق حملہ کرنے والے دہشت گرد عربی اور انگلش میں باتیں کر رہے تھے۔ اسلام ٹائمز: اس واقعے کے بعد بھی کسی کے دل میں طالبان اور ان دہشت گردوں کے لیے محبت باقی ہوگی؟ علامہ اقتدار حسین نقوی: جی ہاں جس طرح یہ حملہ آور (کہ جن پر لفظ انسان بھی صادق نہیں آتا ) مردہ دل ہیں اسی طرح بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی ہیں جن کے دل میں ابھی تک طالبان کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔ وہ عناصر کہ جو دہشت گردوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تو ہمارے بچے ہیں وہ آج بھی اُن کی حمایت اور ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل لال پر مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز سے پوچھا کہ کیا آپ اُن لوگوں کی مذمت کرتے ہیں کہ جنہوں نے پشاور میں انسانیت کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا ہے جس پر اُنہوں نے کہا کہ میں ایسے کسی پر کیسے لعنت کر دوں جب تک اُس کے موقف سے آگاہی نہیں ملے گی۔ اس کے علاوہ کچھ اور جماعتیں ہیں جو پارلیمنٹ کا حصہ ہیں لیکن پس پردہ ملک دشمن عناصر کی سرپرستی کر رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز: حال ہی میں اسلام آباد کے ایک مدرسے سے ایک ویڈیو پیغام داعش کے سربراہ (بغدادی) کے نام نشر ہوا ہے جس میں مدرسے کی طالبات نے بغدادی کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے؟ علامہ اقتدار حسین نقوی: میں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس ویڈیو کو دیکھا ہے کہ جس میں مدرسے کی ایک ٹیچر اپنی طالبات کے ہمراہ داعش کے سربراہ کو اپنی حمایت کا یقین دلا رہی ہے، یہ کام ان سے بعید نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ طالبان ہوں یا داعش دونوں کے سرپرست اور حامی ہیں لیکن مجھے افسوس وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان پر ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں داعش نام کی کوئی چیز نہیں جبکہ اسلام آباد میں ہی اُن کی ناک کے نیچے یہ لوگ رہتے ہیں جو اپنے آپ کو داعش کے حمایتی اور وفادار شمار کرتے ہیں۔ کراچی سے جنوبی پنجاب تک داعش کے حق میں وال چاکنگ کی گئی بعض شہروں میں وال چاکنگ کرنے والوں کو گرفتار بھی کیا گیا لیکن آج تک ان کو منظر عام پر نہیں لایا گیا؟ آخر درپردہ کیا ہو رہا ہے؟ اگر پہلے دن سے ہی مجرم کو اُس کی سزا ملتی تو آج اتنا بڑا سانحہ رونما نہ ہوتا۔ اسلام ٹائمز: سانحہ پشاور کا ذمہ دار کس کو ٹھہراتے ہیں؟ علامہ اقتدار حسین نقوی: سانحہ پشاور کا ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں دونوں ہیں لیکن وفاقی حکومت زیادہ ہے کیونکہ پالیسی بنانا وفاق کا کام ہوتا ہے نون لیگ کی حکومت دہشت گردوں کی محافظ اور سرپرست ہے بھلا وہ کیسے دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کر سکتی ہے۔ شہداء کے ورثاء اب جمہوریت کی بجائے فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت بھی اس سانحے کی مکمل ذمہ دار ہے پی ٹی آئی کی حکومت صوبے کی گڈگورننس کی جانب توجہ نہیں دے رہی۔ اس کے ساتھ عدلیہ، سپریم کورٹ اور پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیاں بھی اگر عدلیہ نے اپنا کام انجام دیا ہوتا اور قاتلوں کو سرعام سزا دی ہوتی تو یہ اندوہناک سانحہ رونما نہ ہوتا۔ اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے حوالے سے کیا موقف رکھتی ہے؟ علامہ اقتدار حسین نقوی: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بہت پہلے اس بات کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ جنوبی پنجاب سمیت دیگر انتظامی صوبے بنائے جائیں، تاکہ اقتدار نچلی سطح تک منتقل ہو اور احساس محرومی کا خاتمہ ہو، اس وقت جنوبی پنجاب تخت لاہور سے چھٹکارا چاہتا ہے ملتان سمیت بہاولپور، مطفرگڑھ، خانیوال، وہاڑی، راجن پور، رحیم یارخان، لیہ، بھکر سمیت دیگر اضلاع تخت لاہور کے رویے سے دل برداشتہ ہوچکے ہیں، ن لیگ کی صوبائی حکومت جنوبی پنجاب کا بجٹ بھی اپر پنجاب اور لاہور پر لگا رہی ہے، جنوبی پنجاب میں تعلیم کی صورتحال، صحت کی صورتحال، کرائم کی صورتحال ابتر ہے۔ اس کے علاوہ مجلس وحدت مسلمین بھی جلد تنظیمی سطح پر جنوبی پنجاب کا سیٹ اپ لا رہی ہے۔ تنظیمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور جنوبی پنجاب کی صورتحال کو مزید فعال کرنے کے لیے مجلس وحدت مسلمین تنظیمی سیٹ لا رہی ہے تا کہ تنظیم کو مزید فعال کیا جاسکے، کیونکہ یہ جنوبی پنجاب کے اضلاع کی ڈیمانڈ ہے اور تنظیمی ضرورت بھی۔ اسی مہینے کے آخر میں مجلس وحدت مسلمین پنجاب کی صوبائی تربیتی ورکشاپ بھی ملتان میں منعقد ہو رہی ہے اس ورکشاپ میں مرکزی سیکرٹری جنرل کی آمد بھی متوقع ہے اُمید ہے کہ اس ورکشاپ میں ہی جنوبی پنجاب کے تنظیمی سیٹ اپ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز: آپ جنوبی پنجاب کے الگ سیٹ اپ کی کوششیں کر رہے تھے لیکن آپ کو تو صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نامزد کردیا گیا ہے کیا اب بھی جنوبی پنجاب کی تحریک میں کوئی ہلچل ہے یا دم توڑ گئی ہے؟ علامہ اقتدار حسین نقوی: مسکراتے ہوئے، میں یقینا ملتان میں جنوبی پنجاب کے الگ صوبے کی حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کا مرکزی ممبر ضرور ہوں اور ہم نون لیگ سے جنوبی پنجاب کو الگ کروائیں گے۔ یہ تو مقامی طور پر تمام جماعتوں کے رہنمائوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ لیکن ایسی بات نہیں کہ مجھے مجلس وحدت مسلمین نے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نامزد کر دیا ہے تو یہ تنظیمی سیٹ اپ کمزور ہو گیا ہے اور نہ مجلس وحدت مسلمین مسلم لیگ نواز کی طرح کی جماعت ہے۔ آپ دیکھیں گے بہت جلد مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کو تنظیمی حوالے سے الگ سیٹ اپ کا اعلان کر دے گی کیونکہ اسی میں ہی تنظیمی کا مفاد ہے۔ رہی بات سیاست کی تو ہم ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں نواز لیگ حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں اور اپنا حق لے کر رہیں گے۔