اسلام ٹائمز 5 Mar 2020 گھنٹہ 18:51 https://www.islamtimes.org/ur/article/848638/کرونا-وائرس-اور-شاخ-نازک-پہ-آشیانہ -------------------------------------------------- ٹائٹل : کرونا وائرس اور شاخ نازک پہ آشیانہ۔۔۔۔۔۔ -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ یہ ہمارے کبھی بھی خیرخواہ نہ تھے، نہ ہونگے، کیونکہ یہ اس لاریب اور بے عیب کا فرمان ہے۔ بقول ترکوں کے کہ انہوں نے یورپ میں ہمیں شامل کرنیکی شرائط میں عریاں تک کر دیا ہے، لیکن یورپی یونین میں شامل نہیں کیا۔ علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، جسکا حصول اس کا حق ہے، لیکن اگر آگاہانہ طریقے سے آگے بڑھا جائے، نہ کہ ہم اپنے نظریئے پر ساز باز کر لیں۔ ساتھ ساتھ یہ بات بھی جان لیں کہ ترقیّ عریاں پنڈلیوں سے نہیں بلکہ عقل کے درست استعمال سے ممکن ہے، جو وحی ِالٰہی کے سایہ میں ہو اور اس ٹیکنالوجی کا استعمال ہے، جو یہ ہمیں کبھی نہیں دینگے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اپنے مطالبات منواتے رہینگے۔ متن : تحریر: مقدر عباس مولانا روم ؒنے مثنوی معنوی، میں ایک واقعہ بیان کیا ہے: فرماتے ہیں کہ ایک مینڈک اور چوہا تالاب کے کنارے ہنسی خوشی زندگی بسر کررہے تھے۔ دونوں میں اچھی دوستی ہوگئی۔ اتنے مانوس ہوگئے کہ ایک دوسرے کی جدائی برداشت سے باہر تھی۔ ایک دن چوہے نے مینڈک سے کہا: اے میرے پیارے! دل کرتا ہے کہ آپ سے زیادہ مانوس رہوں اور زیادہ دل لگی کی باتیں کروں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آپ کا رہن سہن پانی میں ہے اور میرا پانی میں آنا محال۔ کوئی ایسی راہ نکلے کہ جب میرا آپ سے بات کرنے کا دل کرے تو آپ میرے پاس پہنچ جائیں اور میں آپ کے دیدار سے مشرف ہو سکوں۔ مینڈک نے جب اپنے دوست کا اصرار دیکھا تو کہا: ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ ہے کہ ایک رسی سے اپنے آپ کو باندھ لیں جو بھی، جب بھی ایک دوسرے کے لیے اداس ہو، اس رسّی کو کھینچ کر دوسرے کو آگاہ کر دے۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا۔ ایک روز چوہا اپنے دوست سے ملنے کے لیے باہر نکلا ہی تھا کہ تاک میں بیٹھا کوّا اس پر جھپٹا، چوہے کو دبوچ کر اڑنے لگا، جیسے ہی تھوڑا بلند ہوا، پانی سے مینڈک سرکار بھی ہوا میں معلَّق ہوگئے۔ لوگ کوّے کی چالاکی پر ورطۂ حیرت میں تھے کہ اتنے میں مینڈک کی صدا آئی۔ اے لوگو! یہ ان کا انجام ہے کہ جو بغیر سوچے سمجھے ایسوں سے رشتہ جوڑ لیتے ہیں کہ جن کیساتھ ان کا ماحول، رہن سہن اور فرہنگ و ثقافت میل نہیں کھاتی۔ آتے ہیں اصلِ موضوع کی طرف، جب بھی کوئی نظام تشکیل دیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے ایک فلاسفی ہوتی ہے اور نظام اسی فلاسفی کا پرَتو َہوتا ہے۔ اگر ہم نے نظام سازی کرنی ہے تو جس ہستی کے لیے اس نظام کو بنا رہے ہیں، اس ہستی کی شناخت کا ہونا ضروری ہے۔ نظام سازی میں اس چیز کا بہت عمل دخل ہے کہ نظام بنانے والے اس دنیا اور انسان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، وہ جب بھی نظام بنائیں گے، اسی فکر کے تناظر میں بنائیں گے۔ بہترین خالق، بہترین قانون ہم اپنی روز مرہ زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب بھی ہم بازار سے کوئی بڑی یا چھوٹی مشینری خریدتے ہیں تو دیکھنے میں آتا ہے کہ اس مشینری کیساتھ ایک چھوٹا سا کِتابچہ بھی موجود ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کِتابچے میں اِس مشین کو بنانے والے نے وہ تمام اہم باتیں بیان کر دی ہیں کہ اگر ان باتوں کو مدنظر رکھ کر اس مشین کو استعمال کیا جائے تو ہم آپکو ضمانت دیتے ہیں کہ یہ مشین زندگی بھر آپ کیساتھ رہے گی اور اگر آپ نے اپنی مرضی سے اس کو استعمال کرنے کی کوشش کی تو ہم ایک لمحے کی بھی ضمانت دینے سے قاصر ہیں، کیونکہ بنانے والا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کو کیسے استعمال کرنا ہے اور وہی بہترین قانون بھی دے سکتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ خالق پر یقین کامل کرتے ہوئے ویسا ہی استعمال کرتے ہیں یا بے یقینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے استعمال میں اپنی مرضی شامل کرتے ہیں۔ انسان بہترین مخلوق ہے اور قرآن مجید ہی بہترین قانون ہے۔ نظام سازی اور حاکم نظریات (الف) اگر وہ اس جہان اور انسان کو فقط مادی خیال کرتے ہیں تو فقط مادی نگاہ سے نظام تشکیل دیں گے۔ (ب) اگر ان کو مادہ سے ماوراء سمجھتے ہیں تو فقط معنوی پہلو کو ترجیح دیں گے اور اصلاً مادہ کو زیر بحث نہیں لائیں گے۔ (ج) اگر مادہ کو اصل قرار دیں گے اور روح و معنویت کو ایک ثانوی حیثیت دیں گے تو ان کا ہدفِ اصلی مادیت ہوگا اور اس کے لئے معنویت کو قربان کر دیں گے، یعنی حرام کمائی کریں گے لیکن اس کو پاک کرنے کے لئے حج بھی کر لیں گے۔ (د) اگر اصل روح و معنویت کو قرار دیں گے اور مادہ کی اہمیت سے بھی انکار نہیں ہوگا تو ایک ایسا نظام تشکیل دیں گے کہ جس میں روح و مادہ دونوں کو اہمیت دی جائیگی، مگر معنویت کو اصالت حاصل ہوگی۔ یعنی جب ان میں سے کسی ایک کو قربان کرنے کا وقت آئے گا تو مادیت کو قربان کر دیں گے اور جس کو بقا حاصل ہے اس کو بچا لیں گے۔ یعنی اقدار کو بچائیں گے، چاہے اپنے مادی وجود کے ٹکڑے ہو جائیں اور جو اس نظریئے کا حامل ہو، وہی برحق ہے اور وہی یہ نعرہ لگا سکتا ہے کہ میں گردن تو کٹوا سکتا ہوں، مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا۔ مُلکِ پاکستان کہ جس کی بنیاد بھی ایک نظریئے پر استوار ہے اور وہ ہے (لا الٰہ الاّ اللہ) اور اس ملک کو چلانے کے لیے ایک آئین بھی تشکیل دیا گیا ہے، جس کو پڑھ کر یہی احساس ہوتا ہے کہ واقعاً اپنے نظریئے کی ترجمانی کر رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اس پر کتنا عمل پیرا ہیں۔ ہماری مشکل یہی ہے کہ ہم احساسِ کمتری کا اتنا شکار ہو جاتے کہ ہیں یا کر دیا جاتا ہے کہ دُور کے ڈھول سُہانے لگنے لگتے ہیں اور کوّا ہنس کی چال چلتے چلتے اپنی بھی بھول بیٹھتا ہے۔ آج کل ایک وبا (کرونا) جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور پوری دنیا اس سے پریشان اور نالاں ہے۔ وبا آتی ہے اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد چلی جاتی ہے۔ وبا اور نظریہ وبا جسموں کو نقصان دیتی ہے، لیکن جس مسئلے کو میں کرونا سے بڑا مسئلہ کہہ رہا ہوں، وہ ہمارے نظامِ تعلیم میں ایسے نظریوں کا سرایت کر جانا ہے کہ جو نسلوں کو اپنے نظریہ حیات سے کوسوں دور لے جائیں گے، نسلوں کو تباہ کرکے رکھ دیں گے اور ہم سر پیٹیں گے کہ ہو کیا گیا ہے۔؟ ہم نے ابھی تک اپنے دوست و دشمن کو نہیں پہچانا۔ برّصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی مہربانیوں سے آئی ایم ایف کے قرضوں تک، ہمیں لولی پاپ دیا جاتا ہے اور یہی کہا جاتا ہے کہ تم کچھ نہیں کرسکتے، تمہیں ہر چیز ہم ہی عطا کریں گے۔ ہم ہر قدم پر تمہارے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ جنٹلمین ریشم کے دستانے، اپنے خون آلود ہاتھوں پر چڑھا کر ہمارے مہربان بن کر آتے ہیں اور پھر دس سال بعد ہم اخبار کی مین سرخی میں لکھتے ہیں کہ زلزلے کے دوران جو امدادی کارکن آئے تھے، وہ تو جاسوس تھے۔ ہمارے وزیرِاعظم فرماتے تھے کہ جس سے قرضہ لیا جاتا ہے، اس کی شرائط بھی ماننا پڑتی ہیں اور اب وہی ہو رہا ہے کہ ویلیوز ایجوکیشن کے نام پر ایک ایسا ڈاکیومنٹ عنایت فرمایا جا رہا ہے کہ جس کی بنیاد سیکولر ہیومنزم پر ہے اور اس فلسفے کے ثمرات وہی نعرے ہونگے، جو ٹاک شوز میں لگ رہے ہیں اور 8 مارچ کو لگنے جا رہے ہیں۔ ہمیں انسانیت وہ سکھانے جا رہے ہیں کہ جن کی تاریخ، انسانیت پر ظلم و ستم سے بھری پڑی ہے۔ یہ عِلم، یہ حکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومت پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیمِ مساوات بے کاری و عُریانی و مےَ خواری و افلاس کیا کم ہیں فَرنگی مَدنِیّت کے فتوحات (اقبالؒ) ہیومنزم دینی، سیکولر ہیومنزم ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم نے اس کو نہیں تھاما کہ جس کا نعرہ یہی ہے (وَلَقَد کرّمنا بنی آدمَ) اور اصل ہیومنزم یہی ہے(دینی ہیومنزم)۔ یعنی جس میں حاکمِ اصلی خدا ہے اور انسان خلیفۃُ اللہ۔ ہم نے اس کے برحق نمائندے کی تعلیمات کو بھی فراموش کر دیا کہ جس نے آکر جاہلوں کو عالم، سود خوروں کو کسب حلال، قاتلوں اور زندہ در گور کرنے والوں کو فرزند دوستی، مشرکوں کو موحِّد، فرقوں میں منقسِم لوگوں کو منسجم، خرافات زدوں کو حقیقت کے متلاشی اور ذلّت میں پڑے ہوؤں کو عزت و عظمت کی راہ دکھائی۔ "ذرّہ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب۔" علامہ اقبال ؒ کا پیغام یہی ہے کہ اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی (اقبالؒ) ایک اہم بات کہ جس کی جستجو میں ہر انسان سرگرداں و پریشان ہے کہ آج تعلیم تو بہت ہے، لیکن جو اس کا ہدف تھا کہ انسانیت کو سکون فراہم کرے، اس کی نگاہیں آج بھی متلاشی ہیں۔ تو اس سوال کا جواب بھی یہی ملتا ہے کہ جب انسان نے اپنی عقل پر ہی بھروسہ کرکے اپنے آپ کو خدا کی جگہ پر کھڑا کر دیا ہے اور خدا محوری کی بجائے خود محوری پر انحصار کیا ہے تو نابغۂ احمق(پڑھے لکھے جاہل) کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔ پرانے زمانے کی جاہلیت یہی تھی کہ وہ زندہ درگور کر دیتے تھے اور آج کی جدید جاہلیت بھی اپنی ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر دنیا میں بسنے والوں پر بموں کا استعمال کرتے ہیں اور ہنستی، بستی آبادیوں کو نوحہ کناں کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر اسی ٹیکنالوجی سے دنیا کی تاریکیاں دور کی جائیں، بیماریوں کا معالجہ کیا جائے، انسانیت کو دکھ کی بجائے سُکھ فراہم کیا جائے تو یہی ٹیکنالوجی انسانیت کی دنیاوی و اخروی فلاح کی ضامن ہے۔ سیکولر ہیومنزم کا عنوان بھی انسان ہی ہے، لیکن ایسا انسان کہ جو ہر قید و بند سے آزاد ہو۔ یعنی وہ جو چاہے سرانجام دے، اس کو آزادی حاصل ہے اور اس کا نتیجہ یہی سامنے آئیگا کہ قرآن، انبیاء، قیامت، جنت و جہنم، جزا و سزا سب مفروضے ہیں۔ اس وجود کا حاکم انسان ہے اور جو اس کے جی میں آئے سرانجام دے۔ المختصر ہیومنزم دینی میں معیار خداوندِ متعال کی ذات ہے اور سیکولر ہیومنزم میں معیار خود انسان۔ کس کو اسوۂ قرار دیں؟ ہمیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ یہ ہمارے کبھی بھی خیرخواہ نہ تھے، نہ ہوں گے، کیونکہ یہ اس لاریب اور بے عیب کا فرمان ہے۔ بقول ترکوں کے کہ انہوں نے یورپ میں ہمیں شامل کرنے کی شرائط میں عریاں تک کر دیا ہے، لیکن یورپی یونین میں شامل نہیں کیا۔ علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، جس کا حصول اس کا حق ہے، لیکن اگر آگاہانہ طریقے سے آگے بڑھا جائے، نہ کہ ہم اپنے نظریئے پر ساز باز کر لیں۔ ساتھ ساتھ یہ بات بھی جان لیں کہ ترقیّ عریاں پنڈلیوں سے نہیں بلکہ عقل کے درست استعمال سے ممکن ہے، جو وحی ِالٰہی کے سایہ میں ہو اور اس ٹیکنالوجی کا استعمال ہے، جو یہ ہمیں کبھی نہیں دیں گے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر اپنے مطالبات منواتے رہیں گے۔ اگر ہم نے بے بصیرتی کا مظاہرہ کیا تو ہمیں خاتون گھر میں بچوں کی تربیت کی بجائے سڑکوں پر نظر آئے گی اور یہی صدا بلند کرے گی "میرا جسم۔۔۔۔۔" اور علامہ اقبالؒ کی اس نصیحت کو بھول جائیگی کہ (مادراں را اُسوۂ کامل بتولؑ)۔ ماؤں کے لئے اسوۂ کامل حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا ہیں۔ تہذیبِ فرنگی ہے اگر مرگ ِامومت ہے حضرتِ انسان کے لئے اس کا ثمر موت جس علم کی تعلیم سے زن ہوتی ہے نا زن کہتے ہی اسی علم کو اربابِ نظر موت بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت (اقبالؒ) نتیجہ صبح کا بھولا شام کو واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی، اگر ہم اپنی اصل کو برقرار رکھیں اور ایسی ترقی کے متلاشی بنیں جو دنیا و آخرت میں عزت کا باعث ہوگی اور اگر ہم نے اپنی تہذیب و فرھنگ و ثقافت کو نظر انداز کر دیا تو ہمارا انجام اسے مینڈک والا ہوگا جو مولانا رومؒ نے بیان فرمایا ہے اور آخر میں علامہ اقبالؒ کے اشعار پر ہی بات تمام کرتا ہوں، کیونکہ یہ اس حکیم کی باتیں ہیں، جس نے مغرب کو قریب سے دیکھا ہے اور پُکار پُکار کر کہے جا رہا ہے۔ دیار ِمغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہوگا تمھاری تہذیب، اپنے خنجر سے، آپ ہی خود کشی کرے گی جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا (اقبالؒ)