اسلام ٹائمز 22 Mar 2020 گھنٹہ 16:24 https://www.islamtimes.org/ur/article/851904/کورونا-وائرس-سندھ-حکومت-کا-صوبے-بھر-میں-مکمل-لاک-ڈاؤن-اعلان -------------------------------------------------- ٹائٹل : کورونا وائرس، سندھ حکومت کا صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے کراچی سمیت صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد وفاق اور سندھ ایک پیج پر نہیں ہیں، سندھ بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان تو کر دیا گیا، لیکن دیہاڑی دار طبقہ اور غریب عوام کو کسی منظم سسٹم کے بغیر کیسے ریلیف فراہم کیا جائے گا، اس پر کیسے عمل درآمد ہوگا، غریب عوام شدید پریشانی کا شکار ہوچکے ہیں۔ متن : رپورٹ: ایس حیدر حکومتِ سندھ نے کورونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر سخت فیصلہ کر لیا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کراچی سمیت صوبے بھر میں 15 روز کیلئے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے حکام کو بھی اعتماد میں لے لیا، دوسری جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے خطاب میں لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری اس وقت ایسی صورتحال نہیں کہ لاک ڈاؤن کریں، اگر آج پورا لاک ڈاؤن کر دیتا ہوں تو غریب لوگوں کا کیا ہوگا، پورا لاک ڈان کا مطلب کرفیوں لگانا ہوتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا سخت فیصلہ کر لیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی سمیت سندھ بھر میں آج رات بارہ بجے سے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں آج کراچی میں اہم اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزراء، ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سعید غنی، مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری سندھ، ڈی جی رینجرز سندھ، آئی جی سندھ، کور ہیڈکوراٹر کے بریگیڈیئر وسیم، اے جی سندھ، سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، تمام ڈویژنل کمشنرز اور آر پی اوز ویڈیو لنک پر شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے 15 روز کے لئے لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام دفاتر اور اجتماع گاہیں بند ہوں گی، لوگوں کو بلاضرورت گھرسے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی، قانون نافذ کرنے والے ادارے ضرورت کے تحت باہر نکلنے والوں کو اجازت دیں گے، ایک گاڑی میں ایک ڈرائیور کے ساتھ صرف ایک شخص سفر کر سکے گا۔ مراد علی شاہ نے حکم دیا کہ اگر کوئی شخص کسی کام سے نکلے گا تو وہ اپنے پاس قومی شناختی کارڈ رکھے، کوئی شخص بیمار ہے تو اس کو اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے، احتیاطی تدابیر کے ساتھ ضروری سروسز اور کھانے پینے کی چیزوں کی سپلائی جاری رہے گی، ہم مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کو روکیں گے، جب ہم سختی کریں گے، تو مسئلے مسائل ہوں گے۔ قبل ازیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد شہریوں کے بلاضرورت گھروں سے نکلنے پر پابندی ہوگی، اشیائے خورونوش کی دکانیں کھلی رہیں گی، کریانہ اور میڈیکل اسٹور بھی بند نہیں ہوں گے۔ تمام سروسز، فون، پانی، بجلی، گیس، نکاسی آب و دیگر یوٹیلیٹی سروسز، ٹی وی کیبل، فون، موبائل سروسز بلاتعطل جاری رکھی جائیں گی، یہ لاک ڈاؤن پورے صوبے میں ہوگا، اس دوران کے الیکٹرک، حیسکو، سیپکو، واسا، کے ڈبلیو ایس بی، ایس ایس جی سی اور دیگر اداروں کو اپنی سروسز عوام کو بلاتعطل فراہم کرنی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران اے ٹی ایمز کھلے رہیں گے، بینک اپنا ضروری اسٹاف بلا کر اپنا کام جاری رکھیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے عوام سے 21 تا 23 مارچ گھروں میں رہنے کی اپیل کی تھی، لیکن عوام نے گھروں میں آئسولیشن کے بجائے سیر و تفریح اور عزیر و اقارب سے ملنے جلنے کو ترجیح دی تھی، جس کے باعث سندھ میں لاک ڈاؤن کا باضابطہ اعلان آج کسی بھی وقت متوقع تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے حکام کو لاک ڈاؤن کے حوالے سے اعتماد میں لے لیا ہے۔ صوبے میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پہلے ہی کور کمانڈر کراچی اور ڈی جی رینجرز سندھ سے طویل ملاقات اور صوبے کی عوام کو گھروں میں رہنے اور حکومتی فیصلے پر سختی سے عملدرآمد سے متعلق حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔ سندھ میں لاک ڈاؤن کی تیاری مکمل ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ آج اپنی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد اس بندش کی تفصیلات سے عوام کو آگاہ کرینگے۔ مکمل لاک ڈاؤن کے دوران کریانہ اسٹور، میڈیکل اسٹورز اور سودے سلف کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ لاک ڈاؤن کے دوران باہر نکلنے والے افراد کو حراست ميں ليا جائيگا۔ ایمرجنسی میں بھی صرف ایک شخص باہر نکل سکتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کی آسانی کیلئے 2 سے 3 گھنٹے نرمی کی بھی تجويز دی گئی ہے۔ اس دوران فیکٹریز اور نجی ادارے بند ہوں گے۔ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے دیگر حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کراچی سمیت صوبے بھر میں اشیائے خوردونوش کی دکانوں، میڈیکل اسٹورز کے علاوہ تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں، شاپنگ مالز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس، دکانیں بند اور تفریحی و تجارتی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں، پارکس بھی بند اور ساحلی مقامات جانے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ سول حکام کی جانب سے احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر دکانوں اور ہوٹلوں کو سیل کرنے اور حراست میں لینے کا سلسلہ جاری ہے۔آج بروز اتوار سڑکوں پر ٹریفک انتہائی کم اور شاہراہوں پر سناٹا نظر آرہا ہے۔ دوسری جانب لاک ڈاؤن کے اعلان کے پیش نظر شہریوں کی بڑی تعداد نے اشیائے خوردونوش کی دکانوں کا رخ کرلیا، جہاں شہری دو ہفتے کے لاک ڈاؤن کی صورت میں بڑے پیمانے پر راشن کی خریداری میں مصروف ہیں۔ صوبائی و شہری انتظامیہ کی جانب سے کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے علاقوں، ریلوے اسٹیشنوں، اسپتالوں اور بس اڈوں پر اسپرے کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میرے پاس اب سوائے لاک ڈاؤن کے کوئی اور راستہ نہیں ہے، آج کے فیصلے سے عوام کو محتاط ہو کر گھروں پر بیٹھنا ہے، لاک ڈاؤن کے دوران تمام ایڈمنسٹریشن الرٹ ہوں گی، معقول وجہ کے بغیر عوام کو سڑکوں پر نہیں آنے دیں گے، لاک ڈاؤن کے فیصلے سے جو مسائل پیدا ہوں گے، ان کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے آئی جی پولیس اور ڈی جی رینجرز کے دفاتر میں کنڑول رومز قائم کیے جائیں گے۔ سندھ حکومت نے کورونا وائرس کے شکار مریضوں کے اعداد و شمار کی غلطی پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 396 نہیں بلکہ 292 ہے، تفتان سے آنے والے 187 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی، جبکہ کراچی میں 105 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی، ایک مریض انتقال کر چکا، جبکہ 3 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو جا چکے۔ واضح رہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے اس سے قبل صوبے میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 396 بتائی گئی تھی۔ مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر نکلنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ کام پر نہیں جائیں گے تو گھر کے چولھے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ اس تناظر میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس اہم فیصلے سے جو روزگار کے مسائل پیدا ہوں گے، میں اُن کے حل کیلئے اقدامات کروں گا، جس کیلئے ہم ایک ٹیم بنا رہے ہیں، جسے گریڈ 20 کا افسر ڈیل کرے گا، انڈسٹریز، ہیلتھ، محکمۂ بلدیات اور دیگر ادارے اپنی خدمات کم ہونے کی صورت میں ٹیم سے فون پر رابطہ کریں گے، ٹیم چیف سیکریٹری کی مشاورت سے اُس مسئلے کا حل دے گی۔ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کر دی ہے۔ قومی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے حالات اٹلی اور چین کی طرح ہوتے تو پورا پاکستان لاک ڈاؤن کر دیتا، بحث چل رہی ہے کہ ملک کو لاک ڈاؤن کرنا چاہیے، لاک ڈاؤن یا کرفیو کا مطلب شہریوں کو گھروں میں مکمل بند کر دینا ہے، اگر آج پورا لاک ڈاؤن کر دیتا ہوں، تو دہاڑی والے گھروں میں بند ہو جائیں گے، 25 فیصد غریب لوگوں کا کیا ہوگا، کیا ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں کہ دہاڑی والے تمام لوگوں کو گھروں میں خوراک پہنچا سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں آج پورا پاکستان لاک ڈاؤن کر دیتا، اگر ہمارے حالات اٹلی اور چین کی طرح ہوتے، ہم نے اسکول، یونیورسٹیاں اور شاپنگ سینٹرز بند کر دیئے ہیں، تاہم عوام کو خود اپنے آپ کو لاک ڈاؤن کرنا چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے کراچی سمیت صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد وفاق اور سندھ ایک پیج پر نہیں ہیں، سندھ میں لاک ڈاؤن کا اعلان تو کر دیا گیا، لیکن دیہاڑی دار طبقہ اور غریب عوام کو کسی منظم سسٹم کے بغیر کیسے ریلیف فراہم کیا جائے گا، اس پر کیسے عمل درآمد ہوگا، غریب عوام شدید پریشانی کا شکار ہوچکے ہیں۔