اسلام ٹائمز 4 Jun 2017 گھنٹہ 21:30 https://www.islamtimes.org/ur/news/643366/امام-خمینی-نے-تیس-پینتیس-سال-قبل-فرمایا-تھا-کہ-امریکہ-بڑا-شیطان-ہے-اور-اس-پر-اعتماد-نہیں-کیا-جا-سکتا-سید-علی-خامنہ -------------------------------------------------- ٹائٹل : امام خمینی نے تیس پینتیس سال قبل فرمایا تھا کہ امریکہ بڑا شیطان ہے اور اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، سید علی خامنہ ای -------------------------------------------------- تہران میں امام خمینی کی 28ویں برسی کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر سعودی عرب کے پست نظام حکومت کے ایوانوں میں جاتا ہے اور قبیلے کے سردار کے بغل میں کھڑے ہو کر رقص شمشیر کرتا ہے اور پھر ایران میں چار کرورڑ رائے دہندگان کی شرکت سے ہونیوالے صدارتی انتخابات پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت امریکہ کے نئے صدر کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کیلئے اپنے بجٹ کا آدھا حصہ امریکہ کے حوالے کرنے پر مجبور ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی کی برسی کے موقع پر انہیں شاندار انداز میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اسلامی انقلاب امام خمینی کا سب سے بڑا کارنامہ تھا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امام خمینی کی برسی کے پروگرام میں شریک سوگواروں اور عقیدت مندوں کے بہت بڑے اجتماع سے، جن میں ملک کی سبھی اعلٰی سول، فوجی شخصیات اور غیر ملکی مہمان بھی موجود تھے، سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب اور امام خمینی کی شخصیت کو بار بار بیان کرنے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر انقلاب اور امام خمینی (رہ) کی شخصیت کے بارے میں تحریف کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے آج کے دور کے ایرانی نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ آپ نے اسلامی انقلاب کی تحریک اور اس کی کامیابی کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا، اس لئے میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ امام خمینی کی قیادت میں جو اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تھا، وہ صرف حکومت کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک گہری تبدیلی تھی، یہ تبدیلی سیاست کے میدان میں بھی تھی اور سماجی میدان میں بھی ایک بڑی تبدیلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس انقلاب نے میدان سیاست میں اغیار اور دشمنوں سے وابستہ ایک پٹھو اور آلہ کار حکومت کا خاتمہ کرکے حکومت کا اختیار ایرانی عوام کو دے دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ سماجی تبدیلی کے اعتبار سے جو تبدیلی رونما ہوئی، وہ یہ کہ ایران کے معاشرے کو جو ایک غیر متحرک اور مغرب زدہ معاشرے میں تبدیل کر دیا گیا تھا، امام خمینی نے اس انقلاب کے ذریعے دوبارہ زندہ کیا اور ایران کی عظیم قوم کو اس کی شناخت دوبارہ عطا کی۔ انہوں نے امام خمینی کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام خمینی ایک پرکشش شخصیت کے مالک تھے اور ان میں پائی جانے والی جذابیت کی وجہ ان کی صداقت اور اللہ پر ان کا توکل تھا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ امام خمینی نے کسی کی پروا کئے بغیر اصل اسلام کو پیش کیا، جس میں آزادی اور خود مختاری کا نعرہ دیا گیا تھا، ایسا اسلام جس میں نہ تو رجعت پسندی تھی، نہ ہی تنزلی تھی اور یہی چیز نوجوانوں کے لئے بہت ہی پرکشش تھی۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ امام خمینی نے جو نظریات پیش کئے، ان میں آزادی و خود مختاری، سماجی انصاف کا قیام اور ایرانی عوام کا امریکہ کے تسلط سے آزاد ہونا تھا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ دنیا کی ہر قوم کے نوجوان اغیار کے تسلط سے آزاد رہنا چاہتے ہیں، مثال کے طور پر آج سعودی عرب جیسے ممالک کے نوجوان بھی جن کی حکومتیں امریکہ سے وابستہ اور طویل المیعاد معاہدے کئے ہوئے ہیں، آزادی اور اغیار کے تسلط سے رہائی کے خواہاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امام خمینی کی شخصیت اور ان کے ذریعے پیش کئے گئے نظریات انتہائی پرکشش ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی پابندیوں کے مقابلے میں ایران کو مضبوط اور مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکام کو چاہئے کہ وہ اقتصادی میدان میں ملک کو ناقابل تسخیر بنا دیں اور بین الاقوامی مسائل کے حوالے سے بھی سب کا موقف اور نظریہ ایک ہونا چاہئے۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ ماہ مبارک رمضان میں یمن، لیبیا اور شام میں ہمارے بھائی سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے یمن اور بحرین میں سعودی عرب کی جارحیتوں اور مداخلتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام شب و روز یمن کے عوام پر بمباری کر رہے ہیں، لیکن اگر وہ بیس سال تک بھی یہ اقدامات کرتے رہیں، پھر بھی انہیں یمن کے عوام پر کامیابی نصیب نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے لئے انتقام الٰہی کو اور زیادہ سخت کر رہے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی کہا کہ سعودی حکام اگر کسی قوم پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں تو ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکے گی، بلکہ اس سے سعودی حکام مزید ذلیل ہوں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیوں ایک بیرونی حکومت کسی ملک میں اپنی فوج اتارے اور وہاں اپنی پالیسی مسلط کرے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے شام کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب جبکہ شام اور عراق میں جو داعش کی جائے پیدائش ہے، داعش کا خاتمہ کیا جا رہا ہے تو شام کے بحران کو سیاسی اور پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس سلسلے میں ایران کا موقف واضح اور شفاف ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کی ڈھٹائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی یمن پر شب و روز بمباری کرتے ہیں اور یمن کے کوچہ و بازار اور مسجد و رہائشی مکانات پر بمباری کرنے اور یمنی عوام کا خون بہانے میں سعودی عرب کا ساتھ دیتے ہیں۔ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر سعودی عرب کے پست نظام حکومت کے ایوانوں میں جاتا ہے اور قبیلے کے سردار کے بغل میں کھڑے ہو کر رقص شمشیر کرتا ہے اور پھر ایران میں چار کرورڑ رائے دہندگان کی شرکت سے ہونے والے صدارتی انتخابات پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت امریکہ کے نئے صدر کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لئے اپنے بجٹ کا آدھا حصہ امریکہ کے حوالے کرنے پر مجبور ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امریکہ کے سلسلے میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے اقوال و نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج یورپی حکومتوں کے سربراہ بھی امریکہ کو غیر قابل اعتماد قرار دے رہے ہیں جبکہ امام خمینی نے تیس پینتیس سال قبل فرمایا تھا کہ امریکہ بڑا شیطان ہے اور اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔