اسلام ٹائمز 5 Aug 2017 گھنٹہ 16:00 https://www.islamtimes.org/ur/article/658784/قائد-شہید-احساسات-مشاہدات-کردار -------------------------------------------------- ٹائٹل : قائد شہید۔۔۔۔ احساسات، مشاہدات، کردار -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ہم نے انبیاء اور معصومین ؑ کو نہیں دیکھا، مگر ان کی حیات و زندگی کے واقعات اور کردار بارے پڑھتے، سنتے رہتے ہیں اور یہ بھی سنتے ہیں کہ علماء ٗ انبیا کے وارث ہیں، مگر بدقسمتی سے جب علماء کے نزدیک ہوتے ہیں تو بہت ہی مایوسی ہوتی ہے، مگر شہید قائد ایسی ہستی تھے، جن کے جتنا بھی نزدیک ہوتے، ان کی قدر اور عزت پہلے سے کہیں بڑھ جاتی اور بندہ پہلے سے کہیں زیادہ ان کا دیوانہ ہو جاتا۔ وہ واقعی انبیاء و معصومین کی سیرت کا نمونہ تھے اور ان کی زبان اور عمل میں یعنی گفتار و کردار میں فرق نہیں تھا، کوئی نہیں جس نے ان سے کسی کی غیبت نہیں سنی اور کون ہے جو اس سطح پر ہوتے ہوئے اپنے کپڑے اور اپنے گارڈز کے کپڑے بھی چپکے سے دھو دیتا ہو۔ متن : تحریر: ارشاد حسین ناصر قائد شہید سید عارف حسین الحسینی کو ہم سے بچھڑے 29 برس ہوگئے، وقت کی رفتار کا اندازہ ہی نہیں ہوتا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کل کی بات ہے، جب ہم مینار پاکستان کے سائے تلے سخت گرمی میں 6 جولائی 1987ء منگل کے دن ان کا تاریخ ساز خطاب سننے کیلئے اپنے شہر سے لاہور آئے تھے، وہ منظر آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی مانند آرہا ہے، جب وہ ایک اوپن جیپ پہ اسکائوٹس کی معیت میں اسٹیج کی جانب آرہے تھے اور پوری قوم نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا تھا اور یہ شعار بلند کیا تھا کہ؛ پوری قوم کے دل کا چین۔۔۔۔ عارف حسین عارف حسین۔۔۔ اور پھر ان کی للکار اور خلوص سے بھری یادگار تقریر جس نے ہماری قوم کی راہیں بدل کے رکھ دیں اور پہلی بار اہل تشیع قومی سطح پر ایک سیاسی و قومی پلیٹ فارم جس کا نیٹ ورک ملک کے چاروں صوبوں اور قبائلی علاقوں اور آزاد کشمیر تک دیکھا جا رہا تھا، شیعہ قوم نے بھی اس پروگرام کے ذریعے ایک عرصہ کے بعد اپنی قومی شناخت اور قوت کو محسوس کیا اور اسے ایسا حوصلہ ملا، جس کا اثر ہم آج بھی محسوس کرتے ہیں، اس عظیم کانفرنس نے ایک قومی قیادت، ایک قوم اور ایک مقصد و ہدف کی شناخت کروانے میں اہم کردار ادا کیا اور یوں ایک ہجوم سے ایک قوم کی جانب موڑ کاٹنے میں آسانی محسوس ہوئی۔ آج ان کی انتیسویں برسی پر مجھے وہ دن بھی یاد آ رہا ہے، جب ہم نے انہیں کربلا گامے شاہ میں آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر برادر حسنین گردیزی سے جلسہ عام میں حلف لیتے دیکھا اور ان کا خطاب سنا۔ ان کی رس بھری میٹھی اور شیریں زبان اور لہجے میں ان کی گفتگو کا لطف اٹھایا اور یہی وہ دن ہوتے تھے، جب ہم اسکائوٹس میں ڈیوٹیز سرانجام دیتے تھے اور عمومی طور پہ یہ سنتے تھے کہ قائد کسی کو اپنا ہاتھ نہیں چومنے دیتے۔ ہم اسکائوٹس آپس میں مقابلہ بازی کرتے تھے کہ آج ہم نے آغا کے ہاتھ کا بوسہ لینا ہے اور جب ہم ہاتھ ملاتے ہوئے جلدی سے جھک کے انہیں چومنے کی کوشش کرتے تھے تو جھٹک کے پیچھے ہٹا لیتے تھے اور اگر کوئی ہاتھ چومنے میں کامیاب ہو جاتا تھا تو وہ اسے اعزاز اور سعادت سمجھتے ہوئے کئی کئی دن اس کا لطف اٹھاتا تھا۔ یہ بات میں کیا ہر ایک تیقن سے کہہ سکتا ہے کہ شہید کے چہرے، ان کے لب و لہجے اور ان کے عمل و کردار میں ایسی کشش اور جاذبیت تھی، جس کا احساس ہم نے اس کے بعد محسوس نہیں کیا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے یہ نعرہ تو بہت لگایا اور زور و شور سے لگایا اور اب بھی لگایا جاتا ہے کہ؛ زندہ ہے حسین زندہ ہے، ہم سب کی شکل میں زندہ ہے، یا فلاں کی شکل میں زندہ ہے؛ مگر اس میں جذبات ہوسکتے ہیں، اغراض ہوسکتا ہے، مجبوری ہوسکتی ہے، ضروری ہوسکتا ہے، مگر حقیقت ہرگز نہیں ہوسکتی۔ اب تک جب انتیس برس گزر گئے ہیں، کوئی بھی ایسا نہیں آیا، جس کا سینہ قوم کے درد سے چھلنی ہو، جیسے شہید کا تھا۔ اب تک کوئی ایسا نہیں آیا، جس کا اخلاص ویسا ہو، جیسا شہید قائد کا تھا، اب تک کوئی ایسا نہیں آیا، جس کی سادہ زیستی کی مثال ان کی طرح دی جا سکے، اب تک کوئی ایسا نہیں آیا، جس کے چہرے کو دیکھ کے خدا یاد آتا ہو، اب تک کوئی ایسا نہیں آیا، جس نے خدا کو راضی کیا ہو اور اللہ نے اسے عرفان عطا کیا ہو، اب تک کوئی ایسا نہیں آیا، جو ولایت کا ایسا مبلغ اور پیرو ہو، جسے متعارف کروانے یا بتانے کی ضرورت محسوس نہ کی جاتی ہو، اب تک ایسا کوئی نہیں آیا، جس نے قیادت کے دوران اتنے زخم اپنوں کے کھائے ہوں کہ ان کا شمار ہی ممکن نہ ہو، اب تک ایسا کوئی نہیں آیا، جسے دیکھ کے نوجوان اپنا سب کچھ بھول جائیں اور اپنی جانوں کو ان کی امانت سمجھنے لگیں، اب تک ایسا کوئی نہیں آیا، جس نے پابرہنہ لوگوں اور ستم رسیدہ قوم میں انقلاب کی امید جگمگا دی ہو۔ ایسا کوئی نہیں آیا، جس نے صرف ساڑھے چار سال کے عرصہ میں بلوچستان کے اندرونی دیہاتوں، سندھ کے گوٹھوں اور گلگت بلتستان کے فلک بوس پہاڑوں تک ہر جگہ جا کر قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا ہو اور ان کے سیاسی و اجتماعی شعور کو ایک نئی جہت دی ہو۔ یہ ایک احساس ہے، ایک تجربہ ہے، ایک تاریخ ہے، جس سے کسی کو بھی اختلاف ہوسکتا ہے، کوئی بھی اسے اپنے خلاف سمجھ سکتا ہے، مگر یہ ایک ایسے شخص کے جذبات ہیں، جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے شہید قائد اور ان کے بعد بڑے بڑے لوگوں کو قریب سے دیکھا ہے، ایسا نہیں کہ شہید قائد کے بعد ہمارے جذبات و احساسات ہی ختم ہوگئے۔۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں، ہم انقلاب اسلامی کا درس شہید کی زبان سے سن چکے ہیں، اس لئے اس انقلاب کیساتھ وابستگی اور اس نظریہ و فکر سے ہم آہنگی کیلئے کسی کی محتاجی ہرگز محسوس نہیں کرتے۔ ہاں وہ ایسی خوشبو کی مانند تھے، جسے دور سے محسوس کیا جاتا ہے، جو اپنا پتہ خود دیتی ہے، جسے ہر ایک محسوس کرتا ہے اور جذب کرتا ہے، وہ ایسی روشنی کی مانند تھے، جس کی کرنیں اور شعائیں تاریک اور اندھیرے ماحول میں جگمگاہٹ پیدا کر دیتی ہیں، وہ ایسے تعلق کی طرح تھے، جسے ہر ایک اپنائیت محسوس کرتا ہے، ہر ایک کو ایک جیسا احساس دیتا ہے، وہ ایسی کشش تھے، جس نے نوجوانوں کو اپنی طرف اس قدر مائل کیا کہ ہر دم ان کے گرد جھرمٹ بنائے نظر آتے تھے۔ ہم نے انبیاء اور معصومین ؑ کو نہیں دیکھا، مگر ان کی حیات و زندگی کے واقعات اور کردار بارے پڑھتے، سنتے رہتے ہیں اور یہ بھی سنتے ہیں کہ علماء ٗ انبیا کے وارث ہیں، مگر بدقسمتی سے جب علماء کے نزدیک ہوتے ہیں تو بہت ہی مایوسی ہوتی ہے، مگر شہید قائد ایسی ہستی تھے، جن کے جتنا بھی نزدیک ہوتے، ان کی قدر اور عزت پہلے سے کہیں بڑھ جاتی اور بندہ پہلے سے کہیں زیادہ ان کا دیوانہ ہو جاتا۔ وہ واقعی انبیاء و معصومین کی سیرت کا نمونہ تھے اور ان کی زبان اور عمل میں یعنی گفتار و کردار میں فرق نہیں تھا، کوئی نہیں جس نے ان سے کسی کی غیبت نہیں سنی اور کون ہے جو اس سطح پر ہوتے ہوئے اپنے کپڑے اور اپنے گارڈز کے کپڑے بھی چپکے سے دھو دیتا ہو، شہید قائد کے قریب رہنے والے ان کے سٹاف نے یہ گواہی دی ہے کہ وہ کئی دفعہ ان کے کپڑے بھی دھو دیا کرتے تھے اور انہیں پتہ بھی نہیں چلتا تھا اور وہ اپنے قریب رہنے والوں کے دل کا حال جانتے تھے۔ اللہ نے ان کے صدق اور عبادت و ریاضت کی بدولت انہیں یہ خاصیت عطا فرمائی تھی کہ وہ سامنے والے کے دل کی خواہش کو پڑھ لیتے تھے، اس طرح کے کئی واقعات کے گواہ اب بھی موجود ہیں کہ شہید سے ملاقات کے وقت اس کی خواہش تھی کہ شہید اسے یہ دے دیں اور شہید قائد نے بغیر بتائے اور اس کے اظہار سے قبل ہی ایسا ہی کر دیا، جیسا وہ دل میں لے کے بیٹھا تھا۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا ہاں یہ حقیقت ہے، مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کی ہم اس کردار کی تلاش میں انتیس برس سے بھٹک رہے ہیں، اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمارے بزرگان سمیت سب کو یہ کردار ادا کرنے کی توفیق حاصل ہو۔ یہ توفیقات کا بھی معاملہ ہوتا ہے، کسی پر توفیقات کی بارش ہوتی ہے اور کسی سے توفیقات سلب ہو جاتی ہیں۔ شہید حسینی پر توفیقات کی بارش تھی، اسی لئے صرف اڑتیس برس کی عمر میں ملت کی قیادت کا علم سنبھالا اور صرف ساڑھے چار سال کے مختصر عرصہ میں اتنے کام کئے جن کا شمار آج بھی ہم نہیں کرسکتے۔