اسلام ٹائمز 7 Mar 2020 گھنٹہ 4:38 https://www.islamtimes.org/ur/article/848675/توحید-خدا-زبان-شیر-ع -------------------------------------------------- ٹائٹل : توحیدِ خدا از زبانِ شیرِ خدا(ع) بمناسبت 13 رجب المرجب، ولادت باسعادت امام علی(ع) -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ایک سازش کے تحت حضرت علی (ع) کو اللہ کے اختیارات کا حامل کہا گیا اور بڑھتے بڑھتے بات صرف اختیارات تک محدود نہ رہی بلکہ معاملہ حضرت علی (ع) کے اللہ اور خدا ہونے (نعوذ باللہ) تک جا پہنچا۔ جسکی نفی خود حضرت علی (ع) کی ذات سے لے تمام آئمہ طاہرین اور اسکے بعد فقہاء و علماء و مرجعین نے تسلسل کے ساتھ کی۔ حضرت علی (ع) کے خلاف اس قسم کے پروپیگنڈے کے پس منظر میں یقیناً وہی گروہ تھے، جن کے اجداد کفار و مشرکین ہونے کے سبب حضرت علی (ع) کی تلوار کی زد میں آئے۔ متن : علامہ محمد رمضان توقیر مرکزی نائب صدر شیعہ علماء کونسل پاکستان امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو امام المواحدین بھی کہا جاتا ہے۔ اس لقب کی متعدد وجوہات اور اس کے پس منظر میں کئی ایک اسباب ہیں۔ اپنے والد گرامی قدر حضرت ابو طالب (ع) اور دیگر اجداد سے ایک اللہ، ایک الہہ، ایک معبود اور ایک خدا کی تعلیم و تبلیغ تو بچپن سے ہی لے رہے تھے، مگر اسی وحدہ لاشریک کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوشِ تربیت نے علی (ع) کی ظاہری زندگی کا آغاز ہی اسی االلہ تعالیٰ کی حمد و توصیف سے فرمایا، جس اللہ کے گھر میں علی (ع) کی تشریف آوری ہوئی۔ نماز کی واجب ادائیگی کے حکم سے قبل ہی نبی اکرم (ع) نے علی (ع) کو ایک اللہ کے سامنے جھکنا اور ایک اللہ ہی کو اپنا ملجا و ماویٰ قرار دینے کا انداز سکھا دیا تھا۔ چشمِ تاریخ نے دیکھا کہ جب نماز پنجگانہ کی ادائیگی کا باقاعدہ حکمِ خداوندی نازل ہوا تو نبی (ص) کے بعد اللہ کے سامنے جھکنے والے دوسرے انسان علی (ع) تھے۔ حضرت علی (ع) جیسا توحید شناس کائنات میں نبی (ص) کے بعد کوئی نہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اور ہر مرحلہ توحید کی اطاعت اور توحید کی اشاعت سے عبارت ہے۔ کفار و مشرکین سے برتاؤ اور تعلق کا معاملہ ہو تب بھی حضرت علی (ع) کا معیار توحید رہتا ہے اور انہی کفار و مشرکین سے جہاد و قتال کا میدان ہو، تب بھی حضرت علی (ع) کی ترجیح توحید رہتی ہے۔ جہاد کے دوران اپنی ذات کی نفی اور توحید کے سائے میں جہاد کرنے کے واقعات عملی شواہد کے ساتھ تاریخ کا حصہ ہیں۔ حضرت علی (ع) کی سیرت کا ایک جداگانہ اور منفرد پہلو یہی رہا ہے کہ آپ نے اپنے ذاتی دشمن اول تو پیدا ہی نہیں کئے، اگر بوجوہ کسی نے آپ کے ساتھ ذاتیات پر مبنی دشمنی کرنے کی کوشش بھی کی تو آپ نے اس قسم کے دشمن کو معاف کرنے میں پہل فرمائی۔ حضرت علی (ع) نےایسے دشمن سے انتقام لینے میں تاخیر فرمائی یا انتقام لیا ہی نہیں بلکہ اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا۔ لیکن اسی حضرت علی (ع) کے سامنے جب اللہ اور توحید کے دشمنوں کا معاملہ آتا ہے، تو ان کے پاس کسی قسم کی رعایت نظر نہیں آتی۔ نہ حضرت علی (ع) کی تلوار کسی دشمنِ خدا کو معاف کرتی ہے اور نہ ہی حضرت علی (ع) کی زبان کسی توحید مخالف انسان کے ساتھ رعایت کرتی نظر آتی ہے۔ حضرت علی (ع) کے توحید پرست ہونے کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہوگا کہ شعب ِابی طالب کے سماجی بائیکاٹ سے لے کر کربلائے معلیٰ میں حضرت علی (ع) کے کنبے کے تہہ تیغ ہونے تک اور بازار شام سے شروع ہونے والے انتقام سے لے کر بنو امیہ و بنو عباس کے انتقامی اقدامات تک ہر مقام پر حضرت علی (ع) کے ساتھ دشمنی کا سبب صرف اور صرف ایک سامنے آتا رہا کہ حضرت علی (ع) نے بدر و احد و خندق و خیبر سے جمل و صفین و نہروان تک کسی جگہ اللہ کے باغیوں اور توحید کے مخالفین کو معاف نہیں کیا۔ جس کا خمیازہ آج تک حضرت علی (ع) کی اولاد اور حضرت علی (ع) کا گروہ بھگتا چلا آرہا ہے۔ ذیل میں حضرت علی (ع) کے کلام میں سے چند سطور اس غرض سے درج کرنے کی سعادت حاصل کی جا رہی ہے کہ صاحبانِ فکر و خرد کو تذکر دیا جا سکے اور امام المواحدین کی زبان سے توحید اور خالق کا احوال جانا جا سکے۔ (اگرچہ حضرت علی (ع) کے کلام میں ایک بے مثال شاہکار خطبہ اشباح کے نام سے موجود ہے، جس کے ذکر کے لیے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے، جسے کسی آئندہ موقع پر عرض کیا جا ئے گا) "تمام حمد ہے اس اللہ کے لیے جس کی رحمت سے ناامیدی نہیں اور جس کی نعمتوں سے کسی کا دامن خالی نہیں۔ نہ اس کی مغفرت سے کوئی مایوس ہے نہ اس کی عبادت سے کسی کو عار ہو سکتا ہے۔ اور نہ اس کی رحمتوں کا سلسلہ ٹوٹتا ہے اور نہ اس کی نعمتوں کا فیضان کبھی رکتا ہے۔"(خطبہ نمبر 54) "تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے کہ جس کی ایک صفت سے دوسری صفت کو تقدم نہیں کہ وہ آخر ہونے سے پہلے اول اور ظاہر ہونے سے پہلے باطن رہا ہو۔ اللہ کے علاوہ جسے بھی ایک کہا جائے گا، وہ قلت و کمی میں ہوگا۔ اس کے سوا ہر باعزت ذلیل اور ہر قوی کمزور و عاجز اور ہر مالک مملوک اور ہر جاننے والا سیکھنے والے کی منزل میں ہے۔ اس کے علاوہ ہر قدرت و تسلط والا کبھی قادر نہیں ہوتا اور کبھی عاجز اور اس کے علاوہ ہر سننے والا خفیف آوازوں کے سننے سے قاصر ہوتا ہے اور بڑی آوازیں (اپنی گونج سے) اُسے بہرا کر دیتی ہیں اور دور کی آوازیں اس تک پہنچتی نہیں ہیں اور اس کے ماسوا ہر دیکھنے والا مخفی رنگوں اور لطیف جسموں کو دیکھنے سے نابینا ہوتا ہے۔ کوئی ظاہر اس کے علاوہ باطن نہیں ہوسکتا اور کوئی باطن اس کے سوا ظاہر نہیں ہوسکتا۔ اس نے اپنی کسی مخلوق کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ اپنے اقتدار کی بنیادوں کو مستحکم کرے یا زمانے کے عواقب و نتائج سے اسے کوئی خطرہ تھا یا کسی برابر والے کے حملہ آور ہونے یا کثرت پر اترانے والے شریک یا بلندی میں ٹکرانے والے مدِّمقابل کے خلاف اسے مدد حاصل کرنا تھی، بلکہ یہ ساری مخلوق اسی کے قبضے میں ہے اور سب اس کے عاجز و ناتواں بندے ہیں۔ وہ دوسری چیز میں سمایا ہوا نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ اس کے اندر ہے اور نہ ان چیزوں سے دور ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ ان چیزوں سے الگ ہے۔ ایجاد خلق اور تدبیر عالم نے اسے خستہ و درماندہ نہیں کیا اور نہ (حسب ِمنشا) چیزوں کے پیدا کرنے سے عجز اسے دامن گیر ہوا ہے اور نہ اسے اپنے فیصلوں اور اندازوں میں شبہ لاحق ہوا ہے، بلکہ اس کے فیصلے مضبوط، علم محکم اور احکام قطعی ہیں۔ مصیبت کے وقت بھی اسی کی آس رہتی ہے اور نعمت کے وقت بھی اسی کا ڈر لگا رہتا ہے۔" (خطبہ نمبر 36) "تمام حمد ہے اُس اللہ کے لیے، جو نظر آئے بغیر جانا پہچانا ہوا ہے اور سوچ و بچار میں پڑے بغیر پیدا کرنے والا ہے اور وہ اُس وقت بھی دائم و برقرار تھا جبکہ نہ برجوں والا آسمان تھا، نہ بلند دروازوں والے حجاب تھے، اندھیری راتیں، نہ ٹھہرا ہوا سمندر، نہ لمبے چوڑے راستوں والے پہاڑ، نہ آڑی ترچھی پہاڑی راہیں اور نہ بچھے ہوئے فرشوں والی زمین، نہ کسی بل رکھنے والی مخلوق تھی۔ وہی مخلوقات کو پیدا کرنے والا اور اُس کا وارث اور کائنات کا معبود اور ان کا رازق ہے۔ سورج اور چاند اس کی منشا کے مطابق (ایک ڈھیر پر) بڑھے جانے کی سرتوڑ کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، جو ہر نئی چیز کو فرسودہ اور دور کی چیزوں کو قریب کر دیتے ہیں۔ اس نے سب کو روزی بانٹ رکھی ہے، وہ سب کے عمل و کردار اور سانسوں کے شمار تک کو جانتا ہے۔ وہ چوری چھپی نظروں اور سینے کی مخفی نیتوں اور صلب میں ان کے ٹھکانوں اور شکم میں ان کے سونپے جانے کی جگہوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہاں تک کہ ان کی عمریں اپنی حد و انتہاء کو پہنچ جائیں۔ وہ ایسی ذات ہے کہ رحمت کی وسعتوں کے باوجود اس کا عذاب دشمنوں پر سخت ہے اور عذاب کی سختیوں کے باوجود دوستوں کے لیے اس کی رحمت وسیع ہے۔ جو اسے دبانا چاہے، اس پر قابو پا لینے والا اور جو اس سے ٹکر لینا چاہے، اسے تباہ و برباد کرنے والا اور جو اس کے مخالف کرے، اسے رسوا و ذلیل کرنے والا اور جس اس سے دشمنی برتے، اس پر غلبہ پانے والا ہے۔ جو اس پر بھروسہ کرتا ہے، وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور جو کوئی اس سے مانگتا ہے، اسے دے دیتا ہے اور جو اسے قرضہ دیتا ہے (یعنی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے) وہ اسے ادا کرتا ہے۔ جو شکر کرتا ہے، اسے بدلا دیتا ہے۔"(خطبہ نمبر 88) ایسے امام المواحدین اور توحید شناس انسان کے بارے میں سابقہ تاریخ اور موجودہ زمانے تک ایسی بے سرو پا باتیں اور خلاف ِاسلام عقائد گھڑے گئے، جن کی مثال نہیں ملتی۔ ایک سازش کے تحت حضرت علی (ع) کو اللہ کے اختیارات کا حامل کہا گیا اور بڑھتے بڑھتے بات صرف اختیارات تک محدود نہ رہی بلکہ معاملہ حضرت علی (ع) کے اللہ اور خدا ہونے (نعوذ باللہ) تک جا پہنچا۔ جس کی نفی خود حضرت علی (ع) کی ذات سے لے تمام آئمہ طاہرین اور اس کے بعد فقہاء و علماء و مرجعین نے تسلسل کے ساتھ کی۔ حضرت علی (ع) کے خلاف اس قسم کے پروپیگنڈے کے پس منظر میں یقینا وہی گروہ تھے، جن کے اجداد کفار و مشرکین ہونے کے سبب حضرت علی (ع) کی تلوار کی زد میں آئے۔ لہذا انہوں نے حضرت علی (ع) سے محبت کرنے والوں کو نصرانیوں جیسی میٹھی محبت سکھانے کا راستہ اپنایا، تاکہ حضرت علی (ع) جیسے خدا شناس سے محبت کرنے والے ہی اللہ کے دشمن بن جائیں اور حضرت علی (ع) کے بھی دشمن بن جائیں۔ لہذا دور ِحاضر میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ تمام مذاہب کے لوگوں کے سامنے بالعموم اور اہل اسلام کے تمام مکاتب کے سامنے بالخصوص حضرت علی (ع) جیسے موحد کی گفتار کے شاہکار رکھے جائیں اور چیلنج کیا جائے کہ حضرت علی (ع) جیسا موحد، خدا شناس اور حضرت علی (ع) جیسا شارح توحید و عاملِ توحید سامنے لا کر دکھائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اطاعت کے لیے حضرت علی (ع) کے دامن سے متمسک رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔