اسلام ٹائمز 24 Oct 2019 گھنٹہ 10:35 https://www.islamtimes.org/ur/article/823736/غیروابستہ-تحریک-سے-وابستہ-توقعات -------------------------------------------------- ٹائٹل : غیروابستہ تحریک سے وابستہ توقعات -------------------------------------------------- رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں ایک وسیع افق کیطرف متوجہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا ایک تاریخی تجربے سے عبرت حاصل کرتے ہوئے ایک نئے بین الاقوامی نظام کی طرف حرکت کر رہی ہے اور ان حالات میں ناوابستہ تحریک ایک نیا کردار ادا کر سکتی ہے، ایسا ہوتا تو ٹرامپ جیسا شخص دنیا کو ڈکٹیٹ کرنے جرات نہ کرتا۔ متن : اداریہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں غیر وابستہ یا ناوابستہ تحریک کا اجلاس شروع ہے۔ پہلے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا اور اسکے بعد سربراہی اجلاس ہوگا۔ غیر وابستہ تحریک کا آغاز بڑا شاندار تھا۔ ۱۹۶۱ میں جب مصر کے جمال عبدالناصر، ہندوستان کے جواہر لعل نہرو اور یوگوسلاویہ کے جنرل ٹیٹو نے اس تنظیم کی بنیاد رکھی تو اسے مشرقی اور مغربی بلاک نیز نوآبادیاتی نظام کے خلاف ایک مضبوط و مطلوب پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا گیا۔ جس زمانے میں یہ تنظیم وجود میں آئی، اس دور میں امریکہ اور سویت یونین کا پوری دنیا پر طوطی بولتا تھا اور دونوں کی اجازت کے بغیر عالمی سیاست کا پتہ نہیں ہلتا تھا۔ ناوابستہ تحریک کو عالمی سیاست میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا تصور کیا گیا۔ اس تنظیم کا آغاز پچیس ممالک سے ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ شروع میں اسے امریکہ اور سویت یونین کے طنز و تشنیع کے نیزوں اور شمشیروں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن جب اس تنظیم کے ممبران کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اسکے اہداف و مقاصد سامنے آئے تو بڑی طاقتوں کو خطرے کا احساس ہوا۔ امریکہ اور یونین سویت نے براہ راست مقابلے کی بجائے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ اس کے اندر اپنی لابیاں تشکیل دینا شروع کر دیں۔ بڑٰی طاقتوں کو شروع میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن جلد ہی وہ اپنے اہداف میں کامیاب ہو گئے اور ناوابستہ تحریک کے اندر کیمونزم اور کیپٹل ازم کی بنیاد پر غیر محسوس لابنگ شروع ہو گئی۔ غیر وابستہ تحریک میں اس وقت باقاعدہ اور مبصر ممبران کی تعداد ایک سو بیس ہے۔ اقوام متحدہ کے بعد یہ سب سے بڑا ادارہ ہے، جس میں مختلف براعظموں کے ایک سو بیس ممالک شامل ہیں۔ غیر وابستہ یا ناوابستہ تحریک کے اغراض و مقاصد بڑے واضح اور شفاف ہیں، لیکن شروع کے چند برسوں کے علاوہ اس تنظیم کی عالمی سیاست میں کارکردگی توقع کے مطابق نہیں رہی۔ عالمی سطح پر بڑے بڑے واقعات، جنگیں اور بحران پیدا ہوئے، لیکن ناوابستہ تحریک کا فیصلہ کن کردار کہیں بھی نظر نہیں آیا۔ آج ایک ایسے دور میں اس تنظیم کا سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے کہ دنیا امریکہ کے یونی پولر نظام یعنی یک قطبی نظام سے متنفر نظر آ رہی ہے۔ عالمی برادری امریکی تسلط کی بجائے کثیرالفریقی تعلقات کی خواہشمند ہے اور عالمی سیاست کا تقاضا ہے کہ امریکی ڈیکٹیشن کی بجائے چند جانبہ تعلقات اور تعاون کو فروغ دیکر نئے عالمی نظام کیطرف قدم بڑھایا جائے۔ چند سال قبل ناوابستہ تحریک کا سربراہی اجلاس تہران میں منعقد ہوا تھا۔ اجلاس سے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بھی خطاب کیا تھا۔ آپ نے اس عالمی ادارے کو اپنے خطاب میں ایک وسیع افق کیطرف متوجہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا ایک تاریخی تجربے سے عبرت حاصل کرتے ہوئے ایک نئے بین الاقوامی نظام کی طرف حرکت کر رہی ہے اور ان حالات میں ناوابستہ تحریک ایک نیا کردار ادا کر سکتی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے اگست ۲۰۱۲ کے اس خطاب کو ناوابستہ تحریک اپنا نصب العین قرار دیتی تو آج عالمی سیاست کی موجودہ دگرگوں صورتحال ہرگز نہ ہوتی اور ٹرامپ جیسا شخص دنیا کو ڈکٹیٹ کرنے کی جرات نہ کرنا۔