اسلام ٹائمز 22 Oct 2021 گھنٹہ 12:20 https://www.islamtimes.org/ur/article/959925/اسرائیل-امریکہ-امارات-انڈین-اتحاد-اور-خطے-کی-بدلتی-صورتحال -------------------------------------------------- ٹائٹل : اسرائیل، امریکہ، امارات و انڈین اتحاد اور خطے کی بدلتی صورتحال -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: ڈاکٹر عبدالقدیر کی وفات پر اسرائیل کے سب سے موقر اخبار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ واحد اسرائیل دشمن ایٹمی سائنسدان تھا، جو اپنی موت سے بستر پر مرا۔ امریکہ اس تاثر کو بھی دور کرنا چاہتا ہے کہ اس نے خطے کو چھوڑ دیا ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ اسرائیل کے تحفظ کے منصوبے کا حصہ ہے کہ اسے الگ تھلگ قابض ملک سے ایک قابل قبول ملک کے طور پر خطے کے ممالک کیلئے قابل قبول بنایا جائے۔ لگ یہ رہا ہے کہ انڈیا ایران اور عربوں میں تعلقات کے جس توازن کی پالیسی پر عمل پیرا ہو رہا تھا، اب وہ ایران مخالف قوتوں کا اتحادی بن رہا ہے۔ متن : تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس مشرق وسطیٰ کے حالات بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ میں کہیں اتحادی بدل رہا ہے اور کہیں دوستیوں کو نیا رخ دے رہا ہے۔ امریکہ سے خطے کے ممالک کا اعتبار مسلسل گرواٹ کی سمت جا رہا ہے۔ امریکہ نے جس طرح افغانستان میں اپنی اتحادی حکومت کو طالبان کے رحم کرم پر چھوڑا اور جس انداز میں بیس بیس سال ساتھ کام کرنے والوں کو طالبان کے سپرد کر دیا، اس سے انفرادی اور اجتماعی طور پر امریکہ کے بے اعتبار ہونے کے تاثر کو تقویت ملی ہے کہ امریکہ مفادات کے لیے استعمال کرکے چھوڑ دیتا ہے۔ میرے خیال میں امریکہ استعمال کے بعد چھوڑ دے تو خوش قسمتی ہے، ورنہ اس نے داعش اور طالبان جیسے گروہوں سے ذبح کرانے کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔ امارات اور بحرین جیسے ممالک انتہائی خوفزدہ ہیں، ان کے اقدامات ان کے وجود سے بڑے تھے اور انہوں نے خطے کے ممالک کو امریکی اشاروں پر نقصان پہنچایا ہے۔ امارات نے یمن میں انتہائی منفی کردار ادا کیا اور یمن کی بندگارہ کو اپنے کنٹرول میں لینے کا خواب لیے وہاں کے عوام پر آگ و بارود کی برسات کرتا رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب اسے احساس ہوا کہ یمنی میزائل اور ڈرون دبئی اور دیگر مقامات کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے تو اس جنگ سے ظاہراً دستبردار ہوا۔ امارات اور بحرین نے اپنے تحفظ کی ذمہ داری مکمل طور پر امریکہ کے حوالے کر رکھی ہے، اسی لیے یہ امریکی اشاروں پر ہی پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں۔ جب ان ممالک نے دیکھا کہ امریکہ خطے سے جا  رہا ہے تو انہوں نے ٹرمپ کے دباو پر اسرائیل کو ایک نام نہاد معاہدے کے تحت تسلیم کرکے امت مسلمہ کے فلسطینی موقف سے غداری کی۔ اسرائیلی نقطہ نظر سے یہ بڑی کامیابی تھی، اسی کا نتیجہ ہے کہ اب اسرائیلی جہاز اور وزراء پانامہ اور امارات کے ائرپورٹس پر اتر رہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسرائیلی تحفظ کے اس منصوبے کو اماراتی اپنے تحفظ کا منصوبہ خیال کیے بیٹھے ہیں، ان ارسطووں سے کوئی پوچھے آپ نے اسرائیل سے تعلق بنا کر اپنے تحفظ پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔؟ اسرائیل سے تعلقات تمہارے گلے پڑنے والے ہیں، کیونکہ اسرائیل جس طرح سے عرب زمینیں ہڑپ کر رہا ہے، اس سے تو دور رہنے کی ضرورت تھی۔ انڈیا کی یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ عرب ممالک کو پاکستان سے دور رکھنے کے لیے اسرائیل سے مناسب فاصلہ رکھتا ہے۔ انڈیا کی یہ پالیسی 1992ء میں تبدیل ہوگئی، جب اسرائیل اور انڈیا میں باقاعدہ سفارتخانے بنا دیئے گئے۔ اس سے پہلے اگرچہ انڈیا نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا تھا، مگر سفارتخانے نہیں تھے۔ انڈیا کے سفارتی ماہرین کا یہ خیال تھا کہ امریکہ سے اچھے تعلقات کا راستہ اسرائیل سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس لیے جب تک ہم اسرائیل سے اچھے تعلقات قائم نہ کر لیں، امریکہ سے اچھے تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈیا ایران عرب تعلقات میں بھی توازن قائم رکھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ایران سے اچھے تعلقات تجارت و دفاع کے لیے بہت اہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا ایران سے سستا تیل خرید رہا تھا، اب جسے امریکی دباو پر بندکر دیا گیا ہے۔ انڈیا محسوس کر رہا ہے کہ اسرائیل اور عربوں کے بہتر تعلقات کا اسے فائدہ اٹھانا چاہیئے، یہ اس لیے بھی اہم ہیں کہ عرب اور اسرائیل امریکی اتحادی ہیں، یوں دوست کا دوست دوست ہوتا ہے، والا فامولا بھی ہے۔ دوسرا امریکہ خود خطے سے نکل رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے، اس کے لیے اسرائیل کی صورت میں ایک مہرہ تو موجود ہے۔ انڈیا کو خطے میں کسی بھی کردار کا شوق ہے اور وہ تازہ تازہ اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے پاوں پھیلا رہا تو ایسے میں اسے یہ کردار ادا کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی۔ اب امریکہ، امارات، اسرائیل اور بھارت کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا ہے۔ اس اجلاس میں اسرائیل کا اپنا مقصد ہے کہ وہ خطے کے ممالک کو کسی نہ کسی طرح ڈرا دھمکا کر مزاحمتی محاذ کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور اس میں اسے امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ امارات کا خام خیال یہ ہے کہ اسے برے وقت میں خطے اور دنیا کی بڑی طاقتوں کا تعاون حاصل ہوگا۔ امارات کے لیے فقط اتنا ہی کہ جب شکست و ریخت آتی ہے تو امریکہ بہادر بذات خود افغانستان سے اس طرح بھاگتا ہے کہ اسے ایک ماہ مزید قیام کی اجازت بھی نہیں ملتی۔ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ چین کے خلاف خطے کے ممالک کو متحرک کرے، اس کے لیے پاکستان اور ایران تو تیار نہیں ہوسکتے۔ ظاہر ہے کہ اب امارات، اسرائیل اور انڈیا ہی کے موجود آپشنز ہیں۔ اس لیے ان ممالک کے وزرائے خارجہ ایک اجلاس رکھا گیا، اس گروپ میں موجود ہر ملک کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ انڈیا کی یہ کوشش ہے کہ عرب امارات  اور پاکستان کو ایک دوسرے کے خلاف کر دے اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہا ہے، کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے پر عربوں نے اسے انڈیا کا داخلی مسئلہ قرار دیا اور کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں کیا گیا۔ یہ انڈیا کی پاکستان کے خلاف بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ اسی طرح اسرائیل بنیادی طور پر پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے خلاف اس کی سازشیں اب راز نہیں رہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی وفات پر اسرائیل کے سب سے موقر اخبار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ واحد اسرائیل دشمن ایٹمی سائنسدان تھا، جو اپنی موت سے بستر پر مرا۔ امریکہ اس تاثر کو بھی دور کرنا چاہتا ہے کہ اس نے خطے کو چھوڑ دیا ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ اسرائیل کے تحفظ کے منصوبے کا حصہ ہے کہ اسے الگ تھلگ قابض ملک سے ایک قابل قبول ملک کے طور پر خطے کے ممالک کے لیے قابل قبول بنایا جائے۔ لگ یہ رہا ہے کہ انڈیا ایران اور عربوں میں تعلقات کے جس توازن کی پالیسی پر عمل پیرا ہو رہا تھا، اب وہ ایران مخالف قوتوں کا اتحادی بن رہا ہے۔