اسلام ٹائمز 11 Apr 2019 گھنٹہ 14:44 https://www.islamtimes.org/ur/news/788123/امریکہ-ایک-دہشتگرد-ملک-ہے-سید-حسن-نصراللہ -------------------------------------------------- ٹائٹل : امریکہ ایک دہشتگرد ملک ہے، سید حسن نصراللہ -------------------------------------------------- حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے سپاہ پاسداران کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خود ایک دہشتگرد ملک ہے، جو اکثر ممالک میں بے شمار دہشتگردانہ اقدامات انجام دے چکا ہے۔ متن : اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے "اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے زخمیوں" کے دن اور حضرت غازی عباس علمدار علیہ السلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے خطاب کیا۔ انہوں نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی امریکی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایک طرف تو وسطی ایشیاء کے متعدد ممالک میں دسیوں ہزار بے گناہ لوگوں کا قتل عام اور ہمیشہ دہشتگردوں کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوسری طرف حماقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایرانی مسلح فوج سپاہ پاسداران کو بھی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر دیتا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے مزاحمتی تحریکوں کے زخمی کارکنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی فتحیابیاں، کامیابیاں، امن و امان اور دشمن کو خود سے دور رکھنے کی طاقت شہداء کی قربانیوں اور ان کے خون کے مرہون منت ہے، جسے شہداء نے لبنان سمیت پورے خطے میں امن و امان اور استحکام قائم کرنے کے لئے بہایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے مفاد کی خاطر تمام اسلامی ممالک کے حقوق پامال کر رہا ہے۔ امریکہ غاصب صیہونی ریاست کے لئے تمام سہولیات مہیا کرتا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں اپنی سرزمین، مقدس مقامات اور اپنی عزت و آبرو کا دفاع کرنے والوں کو دہشتگرد قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے انتہائی بےشرمی کا ثبوت دیتے ہوئے سپاہ پاسداران کو بھی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ سپاہ پاسداران کے ساتھ کھڑے ہیں اور واشنگٹن کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر ہم امریکی سازشوں کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہوتے تو اسکی دہشتگردی کی فہرست میں شامل نہ کئے جاتے۔ سپاہ پاسداران اسلامی ایک مرکزی مقام کی حامل ہے اور نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ہم انواع و اقسام کی دہشتگردی کی فہرستوں اور پابندیوں کا سامنا کرچکے ہیں، جس کے مقابلے میں ہم نے صرف مذمت اور صبر پر اکتفاء کیا ہے۔ البتہ ہمارے صبر کا مطلب یہ نہیں کہ مقاومتی عمل میں ہمارے پاس اس سے بڑا کوئی اور کارڈ نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اب تک دشمن کے اقدامات کا جواب نہیں دیا۔ سید حسن نصراللہ نے امریکہ کے جارحانہ اقدامات پر اپنے ممکنہ ردعمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے سیاسی شکست اور بیچارگی کے مارے اٹھائے گئے اقدامات پر اب تک ہم نےصبر سے کام لیا ہے، لیکن یہ ہماری مستقل سیاست نہیں۔ بعض کام ایسے ہیں کہ اگر امریکہ ان کا مرتکب ہوا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ مقاومتی تحریکیں اس کا جواب کس انداز میں دیں گی۔ انہوں نے ایرانی قوم کو امریکہ کے وحشی اقدامات کے مقابلے میں انسانی اخلاق پر مشتمل ایک نمونہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے نہ صرف یمن میں انسانی امداد کے پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی بلکہ سیلاب زدہ عوام کے لئے بیرون ملک مقیم ایرانیوں کی امدادی رقوم بھی روک لیں۔