اسلام ٹائمز 21 Sep 2018 گھنٹہ 10:54 https://www.islamtimes.org/ur/article/751277/حضرت-امام-حسین-اور-واقعہ-کربلا-غیر-مسلم-اہل-قلم-کی-نظر-میں -------------------------------------------------- ٹائٹل : حضرت امام حسین اور واقعہ کربلا غیر مسلم اہل قلم کی نظر میں -------------------------------------------------- اسلام ٹائمز: لبنان کے عیسائی مصنف انتونی بارا[[Antoine Bara نے اپنی کتاب [Hussain in Christian Idealogy, 2008] میں نہیں مانتا کہ امام حسین صرف شیعوں یا صرف مسلمانوں کے امام ہیں، میرا ماننا ہے کہ وہ تمام عالم کے امام ہیں کیونکہ وہ تمام مذاہب کا ضمیر ہیں۔ برطانیہ کے [1819-1905]William Muir نے اپنی کتاب Annals of the Early Caliphate,London,1883 میں لکھا ہے کہ کربلا کے حادثے نے تاریخِ محمد میں خلافت کے خاتمے کے بعد بھی اسلام کو انسانی ذہنوں میں زندہ رکھا ہے۔ واقعہ کربلا نے نہ صرف استبدادی خلافت کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا بلکہ محمدی ریاست کے اصول و معیار بھی متعین کر دیئے، جو ابتدائی خلافتوں کے بعد کہیں کھو گئے تھے۔ متن : تحریر: ڈاکٹر جابر حسین اسلام آباد 61 ہجری کو عراق کے کربلا/نینوا نامی صحرا میں حبیب خدا، رسولِ معظم حضرت محمد مصطفٰیِ (ص) کے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان اور باوفا 72 ساتھیوں کی عظیم شہادت اسلام کی تاریخ کا بے مثال واقعہ و معرکہ ہے۔ اس پر ہر انصاف پسند اہلِ قلم اور آزاد فکر دانشور نے اظہارِ افسوس کیا ہے۔ مختلف مذاہب و نظریات کے حامل اہلِ قلم و دانش نے اس واقعے سے اپنے لئے، اپنی تحریکوں اور اپنی اقوام کے لئے آزادی، حریتِ فکر، اصول پسندی، مذہبی بادشاہت اور استحصال پسندی کے خلاف انتہائی درجے کی مزاحمت اور سچائی کے لئے مال، جان اور ناموس کی لازوال قربانی دینے کا درس حاصل کیا ہے۔ اسلام کے کم و بیش تمام مسالک کے منصف مزاج اہلِ دانش و بینش کے نزدیک تو حضرت امام حسین کی مقدس ذات اور ان کے بے مثال گھرانے کی خاندانی و مذہبی عظمت و رفعت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ غیر مسلم اہلِ قلم و دانش نے بھی امام حسین، ان کے اہل و عیال اور باوفا ساتھیوں کی میدان کربلا میں پیش کی گئی لازوال قربانی کو اپنے اپنے انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں یہاں چند اہلِ قلم کے خیالات پیش کئے جاتے ہیں۔ معروف انگریز اہل قلم Charles John Huffam Dickens [1812-1870]اگر امام حسین کی جنگ مال و متاع اور اقتدار کے لئے تھی تو پھر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ خواتین اور بچے ان کے ساتھ کیوں گئے تھے؟ بلا شبہ وہ ایک مقصد کے لئے کھڑے تھے اور ان کی قربانی خالصتاً اسلام کے لئے تھی۔ فارسی ادب کی تاریخ پر کتاب Literary History of Persia مصنف [1862-1926]Edward Granville Brown نے لکھا ہے کہ کربلا کا خون آلود میدان یاد دلاتا ہے کہ وہاں اللہ کے پیغمبر کا نواسہ اس حال میں شہید کیا گیا کہ بھوک اور پیاس کا عالم تھا اور اس کے ارد گرد لواحقین کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ یہ بات گہرے جذبات اور دلدوز صدمے کا باعث ہے، جہاں درد، خطرہ اور موت تینوں چیزیں ایک ساتھ رونما ہو رہی ہیں۔ روس کے معروف ادیب اور دانشور ٹالسٹائی[Leo Tolstoy .1828-1910] امام حسین ان تمام انقلابیوں میں ممتاز ہیں، جو گمراہ حاکموں سے گڈ گورننس کا تقاضا کرتے تھے۔ اسی راہ میں انہیں شہادت حاصل ہوئی۔ لبنان کے عیسائی مصنف انتونی بارا[[Antoine Bara نے اپنی کتاب [Hussain in Christian Idealogy, 2008] میں نہیں مانتا کہ امام حسین صرف شیعوں یا صرف مسلمانوں کے امام ہیں، میرا ماننا ہے کہ وہ تمام عالم کے امام ہیں کیونکہ وہ تمام مذاہب کا ضمیر ہیں۔ برطانیہ کے [1819-1905]William Muir نے اپنی کتاب Annals of the Early Caliphate,London,1883 میں لکھا ہے کہ کربلا کے حادثے نے تاریخِ محمد میں خلافت کے خاتمے کے بعد بھی اسلام کو انسانی ذہنوں میں زندہ رکھا ہے۔ واقعہ کربلا نے نہ صرف استبدادی خلافت کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا بلکہ محمدی ریاست کے اصول و معیار بھی متعین کر دیئے، جو ابتدائی خلافتوں کے بعد کہیں کھو گئے تھے۔ فرانس کے ادیب [1802-1885]Victor Maire Hugon امام حسین کے انقلابی اصول ہر اس حریت پسند کے لئے مشعل ِ راہ ہیں، جو کسی غاصب سے حقوق حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ چیسٹر کے ادیب Reynold Alleyne Nicholson[1868-1945] نے اپنی کتاب Literary History of Arab میں لکھا ہے کہ جس طرح امام حسین کے ساتھی ان کے ارد گرد کٹ کر گر گئے اور آخرکار امام حسین بھی شہید ہوگئے، یہ بنو امیہ کا وہ تلخ کردار ہے، جس پر مسلمانوں کی تاریخ امام حسین کو شہید اور یزید کو ان کا قاتل قرار دیتی ہے۔ بھارت کے اولین صدر ڈاکٹر راجندر پرساد بیدی[۱۸۸۴-۱۹۶۳ء] نے کہا کہ امام حسین کی قربانی کسی ایک ریاست یا قوم تک محدود نہیں بلکہ یہ بنی نوع انسان کی عظیم میراث ہے۔ بنگال کے معروف ادیب رابندر ناتھ ٹیگور[۱۸۶۱ءتا۱۹۴۱ء] سچ اور انصاف کو زندہ رکھنے کے لئے فوجوں اور ہتھیاروں کی ضرورت نہیں، قربانیاں دے کر بھی فتح حاصل کی جا سکتی ہے، جیسے امام حسین نے کربلا میں قربانی دی۔ بلاشبہ امام حسین انسانیت کے لیڈر ہیں۔ چلی کے معروف اہل قلم رابرٹ بولانو [۱۹۵۳ءتا۲۰۰۳ء] امام حسین کو شہید کرنا بنو امیہ کی سب سے بڑی سیاسی غلطی تھی، جو ان کی ہر چیز کو نظر انداز کرنے پر مجبور کر گئی بلکہ ان کے نام و نشان اور ہر چیز پر پانی پھیر گئی۔ City Sikh Progressive Organization London دی کے بانی ممبر جسویر سنگھ کہتے ہیں کہ اس بات سے قطع نظر کہ ہم کس کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ہم امام حسین سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا ڈھنگ۔ امام حسین عدل و انصاف کے لئے کھڑے ہوگئے تھے۔ انہوں نے جس بات کو حق سمجھا اس کے لئے اپنی جان بھی دے دی۔