اسلام ٹائمز 9 Jan 2017 گھنٹہ 16:04 https://www.islamtimes.org/ur/news/598495/نواز-حکومت-اور-پیپلز-پارٹی-کے-درمیان-پس-پردہ-سیاسی-رابطوں-میں-اہم-پیشرفت -------------------------------------------------- ٹائٹل : نواز حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ’’پس پردہ سیاسی رابطوں‘‘ میں اہم پیشرفت -------------------------------------------------- دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے باضابطہ آغاز کیلئے مولانا فضل الرحمان کا جلد آصف زرداری سے رابطہ متوقع ہے، اگر نواز حکومت نے رواں ماہ کے آخر تک ان کے مطالبات پر بتدریج عمل نہ کیا، تو پیپلز پارٹی حکومت مخالف احتجاجی تحریک پر پارٹی قیادت کی ہدایت کے مطابق عمل کریگی۔ متن : اسلام ٹائمز۔ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پس پردہ سیاسی رابطوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پیپلز پارٹی کو ان کے چار مطالبات پر جلد براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دینے کے بعد پی پی نے حکومت مخالف اپنی سیاسی حکمت عملی میں بتدریج نرمی لانے اور کولڈ سیاسی پالیسی پر عمل کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لئے اب تک پی پی قیادت نے حکومت مخالف سیاسی لانگ مارچ کی حتمی پالیسی طے نہیں کی ہے اور حکومت کے اقدامات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ لیگی ذرائع کے مطابق حکمراں لیگی قیادت کی ہدایت پر ایک اہم وفاقی وزیر پی پی کے کچھ رہنماؤں سے پس پردہ سیاسی رابطوں میں ہیں۔ ان رابطوں میں وفاقی حکومت کا مفاہمتی اور ان کے چار میں سے دو مطالبات کو منظور کرنے کا پیغام پی پی قیادت تک پہنچا دیا گیا ہے۔ پی پی ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے اپنے اہم پارلیمانی رہنماؤں کو حکمراں نواز لیگ سے مذاکرات شروع کرنے کا گرین سگنل دے دیا ہے۔ حکمراں لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان تناؤ کم کرانے کیلئے آئندہ دنوں میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اہم سیاسی رابطے کریں گے۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے باضابطہ آغاز کیلئے مولانا فضل الرحمان کا جلد آصف علی زرداری سے رابطہ بھی متوقع ہے۔ پی پی ذرائع کے مطابق اگر نواز حکومت نے رواں ماہ کے آخر تک ان کے مطالبات پر بتدریج عمل نہ کیا، تو پیپلز پارٹی حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے تحت پارلیمنٹ میں احتجاج، سیاسی جلسوں اور لانگ مارچ کے آپشنز پر بتدریج عمل پارٹی قیادت کی ہدایت کے مطابق عمل کرے گی، تاہم اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کے قیام کی پالیسی برقرار رہے گی۔ پی پی حکومت مخالف تحریک پر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے گی۔