0
Sunday 19 Feb 2012 14:45

امریکہ، اسلامی بیداری میں حقیقی ہاری ہوئی قوت

امریکہ، اسلامی بیداری میں حقیقی ہاری ہوئی قوت
تحریر: حمید حلمی زادہ
یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ جس نے ۱۹۴۵ سے لے کر آج تک ایک استعماری ملک کی حیثیت سے دنیا پر اپنا رعب و دبدبہ جما رکھا ہے، اب اقتصادی بحران اور دنیا خاص طور پر مشرق وسطی کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے باعث آہستہ آہستہ اپنا گذشتہ مقام کھوتا چلا جا رہا ہے۔
دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور انکا مقابلہ کرنے اور مناسب پالیسی اختیار کرنے میں امریکی حکام کی کمزور کارکردگی نے امریکہ کے سیاسی اقتدار کو انتہائی محدود کر کے رکھ دیا ہے حتی بعض سیاسی مسائل میں امریکہ کا ردعمل نہ فقط عقب نشینی کی صورت میں ظاہر ہوا بلکہ اسے شکست اور بیچارگی بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسکی ایک مثال عراق میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے میں امریکہ کی ناکامی ہے، امریکہ نے اپنی پوری کوشش کی کہ وہ ماضی کی طرح دجلہ و فرات میں اپنے قدم جمائے رکھے لیکن اسے بری طرح ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔
ایک اور مثال مصر کی ہے۔ امریکہ کے سیاہ پوست صدر براک اوباما مجبور ہو گئے کہ اس ملک کی باگ ڈور وہاں کے عوام کے حوالے کر دے اور اپنے تیس سالہ پرانے اتحادی سے نظریں پھیر لیں۔ البتہ بعض ایسی اسناد و مدارک کی روشنی میں جو موجود ہیں، مصر میں ۲۵ جنوری انقلاب کے آخری دنوں میں وائٹ ہاوس میں برگزار ہونے والے امریکی حکام کی خاص میٹنگز میں شدید اختلاف اور کشیدگی ایجاد ہو چکی تھی۔ امریکی نائب صدر جو بائڈن اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن امریکی اتحادی ہونے کے ناطے صدر حسنی مبارک کی حمایت پر زور دے رہے تھے جبکہ دوسرے افراد کا خیال تھا کہ مصر کا سابق ڈکٹیٹر امریکی مفادات کیلئے نقصان دہ ہو چکا ہے۔ آخرکار امریکی حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ مصر کا مستقبل ان مصری عوام کے ہاتھوں میں ہے جو سڑکوں پر نکل آئے ہیں لہذا بہتر یہ ہے کہ ان سے مذاکرات انجام دیئے جائیں۔
یمن میں بھی علی عبداللہ صالح کی آمرانہ حکومت کا انجام دوسروں سے بہتر نہ تھا لیکن گذشتہ تجربات کی روشنی میں وائٹ ہاوس نے یمن میں اپنے دیرینہ دوست کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور سعودی عرب کے تعاون اور خلیج تعاون کونسل کے پیش کردہ معاہدے کے ذریعے یمن کے آمر حکمران کو حسنی مبارک اور معمر قذافی جیسے انجام سے دوچار ہونے سے بچا لیا۔
بہرحال تیونس، مصر اور لیبیا میں اسلام پسند قوتوں کی جیت نے وائٹ ہاوس کے لیڈروں کے تمام حساب کتاب کا بیڑہ غرق کر دیا اور عراق میں بھی وزیراعظم نوری مالکی کی جانب سے امریکی مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا اور مقررہ وقت پر قابض فوجوں کا عراق سے انخلاء پر اصرار کرنا باعث بنا کہ دنیا والے آہستہ آہستہ امریکی رعب و دبدبے کے کم ہو جانے پر یقین کرنے لگیں۔ لیکن زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ نے گذشتہ کئی سالوں خاص طور پر ۲۰۱۰ اور ۲۰۱۱ کے دوران ثابت کیا ہے کہ ان پے در پے ناکامیوں کے مقابلے میں کسی قسم کا ردعمل ظاہر کرنے سے قاصر ہے اور صرف ایک تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔
اسلامی بیداری:
دنیا میں اسلامی بیداری کے معرض وجود میں آنے اور امریکی رعب و دبدبے کے خاتمے نے مسلمان اور آزاد منش ممالک کو یہ فرصت مہیا کی ہے کہ وہ ایک روشن مستقبل کیلئے اپنا راستہ خود تلاش کر سکیں اور استعماری قوتوں کے بغیر اس راستے پر گامزن ہو سکیں۔
۲۰۱۲ عیسوی کا سال بھی اس طرح سے آغاز ہوا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکہ کا وسیع پروپیگنڈہ بدستور جاری ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کو مسلسل دھمکیاں باعث بنی ہیں کہ ایران بھی انکے مقابلے میں آبنائے ہرمز کو بند کر دینے کی دھمکی لگائے۔
ایک اہم وجہ جس پر سیاسی تجزیوں میں کم توجہ دی جاتی ہے وہ یہ نکتہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں ان تیز سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں جنہیں "اسلامی بیداری" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے اور امریکہ اب مزید ایک روایتی اور غالب طاقت کے طور پر مطرح نہیں رہا۔ خطے کے عوام اس حقیقت کو اچھی طرح درک کر رہے ہیں کہ ایک بڑا ملک اپنی اس طاقت کے ذریعے
جو اس نے حال ہی میں حاصل کی ہے خلیج فارس اور مشرق وسطی میں عالمی سیاسی فارمولوں کو تبدیل کر رہا ہے اور اس ملک کا نام اسلامی جمہوریہ ایران ہے جو اس وقت خطے کی اسٹریٹجک طاقت اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہے۔
یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ کی روایتی پالیسی کے مطابق مشرق وسطی میں اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کے علاوہ کسی اور ملک کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خطے کا طاقتور ملک بن کر سامنے آئے۔ گذشتہ کئی سالوں کے دوران اسی پالیسی کا اجراء کئی مسائل کے پیدا ہونے کا باعث بنا ہے۔ دوسری طرف مختلف ممالک میں عوام کو متحرک اور فعال کرنے کے اہم عامل کے طور پر شیعہ سوچ کی وحدت کا معرض وجود میں آنے نے بھی امریکی حکام کو خطے کے آئندہ سیاسی حالات کے بارے میں شدید پریشان اور خوفزدہ کر دیا ہے۔ بحرین میں آل خلیفہ رژیم کی بھرپور حمایت اور بحرینی شیعہ مسلمانوں کو کچلنے کیلئے اسے اسلحہ کی فراہمی کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ وائٹ ہاوس اس حقیقت سے بہت اچھی طرح واقف ہے کہ ایک شیعہ سوچ کا معرض وجود میں آنا اور اسکا اسلامی جمہوریہ ایران سے متصل ہونا خطے میں اسکے اسٹریٹجک اہداف کہ نہ صرف مستقبل قریب بلکہ مستقبل بعید میں بھی نابود کر سکتی ہے۔
جدید سیاسی تبدیلیاں:
اسی طرح امریکہ کی جانب سے مشرق وسطی میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کی حفاظت کے گذشتہ دعوے بھی اپنا رنگ کھو چکے ہیں اور اس موقف کا تکرار کہ خطے میں امریکی فورسز امن کی خاطر ہیں اب مزید رائے عامہ کے نزدیک قابل قبول نہیں رہا۔ کیونکہ امریکہ کی جانب سے اپنی نیوی کے اڈے قائم کرنا اور بھاری تعداد میں اسکی فورسز کی موجودگی خطے کے ممالک منجملہ ایران میں تناو اور قومی سلامتی کا بحران پیدا ہونے کا باعث بنا ہے۔ لہذا ان تمام سیاسی تبدیلیوں اور تاریخی تجربات کی روشنی میں موجودہ دور امریکی پالیسیوں پر نظرثانی کیلئے مناسب ترین وقت سمجھا جاتا ہے۔ وائٹ ہاوس کی مکینوں کو چاہئے کہ وہ اس تاریخی فرصت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے سے شجاعانہ طور پر نکل جائیں اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی بھی بند کر دیں اور دوسروں کے ساتھ عاقلانہ رویہ اپنائیں۔
وائٹ ہاوس اور یورپی حکومتوں اور انکے ساتھ ساتھ اسرائیلی کی ناجائز رژیم کا اصلی مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو قبول کرنے پر تیار نہیں کہ وہ سب بحرانوں اور مسائل کے متلاطم سمندر میں غرق ہونے والے ہیں۔ یہ بحران جو عالمی سیاسی تبدیلیوں کے مقابلے میں انکی جانب سے اپنی غلط پالیسیوں کو تکرار کرنے کا نتیجہ ہیں نہ فقط باعث بنے ہیں کہ وہ حقائق کو صحیح طور پر درک کرنے سے عاجز ہو جائیں بلکہ انکا اپنی گذشتہ غلطیوں کے پنجوں میں جکڑے جانے کا بھی باعث بنے ہیں۔ عراقی عوام کی جانب سے امریکی فوجیوں کا اپنی سرزمین سے نکل جانے پر اصرار وائٹ ہاوس کے مکینوں کے غرور و تکبر پر ایک ایسا طمانچہ تھا جسے امریکہ کی سیاسی حیثیت پر مہلک ضرب قرار دیا جا سکتا ہے اور امریکی کانگریس کے اراکین نے اسے عراق میں امریکہ کی ۸ سالہ کامیابیوں کی نابودی اور امریکی خارجہ پالیسی کی واضح شکست قرار دیا۔ درحقیقت امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین کی نظر میں امریکہ کی جانب سے عراق اور افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی وائٹ ہاوس کے لیڈران اور امریکی خارجہ پالیسی پر مایوسی اور ناامیدی چھا جانے کا باعث بنی ہے۔ اسکے علاوہ امریکہ اور مغربی ممالک میں پیدا ہونے والے اقتصادی بحران کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے جو ۲۰۰۹ سے لے کر اب تک ان پر مسلط ہے اور معاشی مسائل پیدا ہونے کے باعث ان ممالک کے اندر سیاسی اعتراضات اور احتجاج جیسے "وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو" تحریک کو بھی اسی بحران کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
بہرحال امریکہ نے ماضی کی دوسری استعماری قوتوں کی مانند نہ فقط خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے کوئی درس عبرت حاصل نہیں کیا ہے بلکہ انتقامی پالیسی پر گامزن ہوتے ہوئے کوشش کی ہے کہ خفیہ سازشوں کے ذریعے اپنی گذشتہ ناکامیوں
کا بدلہ لے سکے۔ شام میں بحران کی ایجاد اور اس ملک کی اندرونی معاملات میں مداخلت اور وہاں سیاسی بحران ایجاد کرنے کی کوشش صرف اور صرف اس لئے ہے کہ عرب باشندوں کی توجہ اسرائیل کے ساتھ دشمنی سے ہٹا کر شام کی طرف مبذول کی جا سکے۔
امریکہ خطے میں موجود اختلافات کا حقیقی سبب:
خطے میں رائج سوچ یہ ہے کہ امریکہ کی شکست خوردہ پالیسیاں اور مغرب کی سازشیں ہی شام میں اختلافات کے پیدا ہونے اور اس ملک کا خانہ جنگی اور قتل و غارت کا شکار ہونے کی اصلی وجوہات ہیں۔ پہلے مرحلے پر خطے کے بعض ممالک جیسے ترکی، سعودی عرب، قطر اور اردن اور اسی طرح لبنان کے کچھ بکے ہوئے عناصر نے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے شام کی کمزور معیشت پر مہلک وار کیا تاکہ اس طرح سے شام کو سیاسی اور معاشی انتشار سے دوچار کر سکیں۔ ساتھ ہی امریکہ نے اپنے زیر تسلط غول پیکر میڈیا کی مدد سے ایران، شام اور لبنان اور فلسطین میں موجود اسلامی مزاحمتی گروپس کے خلاف بڑے پیمانے پر میڈیا اور نفسیاتی جنگ کا آغاز کر دیا اور تمام بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے جو پرامن بقائے باہمی اور دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ہیں، خطے میں اسرائیل کا دشمن ہونے کے ناطے صدر بشار اسد کی سرنگونی کیلئے شام میں بدامنی پھیلانے کی صورت میں اپنی مداخلت کو جاری رکھا۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکی دبدبے کا خاتمہ اور اسکا تیزی سے زوال پذیر ہونا خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے ثابت ہو گیا ہے۔ امریکی حکام کو چاہئے کہ وہ خطے کو ایک نئی جنگ سے دوچار کرنے سے پہلے دنیا کے موجودہ حالات کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ ماضی کی طرح دوبارہ ذلت آمیز شکست سے دوچار نہ ہوں۔
واشنگٹن کی جانب سے سابق سوویت یونین کی مانند فوجی طاقت پر حد سے زیادہ بھروسہ آخرکار اسکے زوال میں تیزی کا باعث بنے گا اور اسکی استعمار طاقت کو شدید خطرات سے روبرو کر دے گا۔ صحیح ہے کہ امریکہ اس وقت خطے میں اپنی ناکامیوں کا جبران کرنے کے قابل بھی نہیں رہا لیکن ماضی کی طرح دنیا میں پروپیگنڈہ ایمپائر کا مالک ہے اور ان ہتھکنڈوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا میں اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ اسکی ایک مثال ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر زہر آلود اور منفی پروپیگنڈہ ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت اقوام متحدہ بھی اپنے بنیادی اہداف و مقاصد کے برخلاف امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک آلہ کار بن کر رہ گئی ہے اور امریکہ اس میں موجود قوانین کے ذریعے دنیا میں اپنے اہداف و مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
فلسطین، افغانستان میں قتل و غارت، عراق پر امریکی فوجی قبضے اور امریکی ڈرون کی جانب سے ایران کی ہوائی حدود کی خلاف ورزی پر اقوام متحدہ کی پراسرار خاموشی کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کی نالائقی کی زندہ مثالیں قرار دیا جا سکتا ہے جو ایک امریکی اہلکار کے طور پر سرگرم عمل ہے۔
ملٹی پولر دنیا:
دنیا میں رونما ہونے والی حیرت انگیز سیاسی تبدیلیاں اس بات کی نوید دلاتی ہیں کہ مستقبل قریب میں نئی قوتیں عالمی میدان سیاست میں وارد ہونے والی ہیں اور دنیا پر یونی پولر نظام کی حکمفرمائی اور امریکی تسلط فراموشی کی نظر ہو جائیں گے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات ظاہر کرتے ہیں کہ مستقبل میں دنیا پر ٹو پولر یا ملٹی پولر عالمی نظام کی حکمفرمائی کا امکان ہر وقت سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ اسکی رو سے امریکہ ماضی کی طرح دنیا کے ایک طاقتور ملک کے طور پر باقی رہے گا لیکن اسکی صلاحیتوں میں خاطرخواہ حد تک کمی آئے گی۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ عراق اور افغانستان پر امریکہ کی فوجی یلغار اور تھکا دینے والی جنگ امریکہ کی توانائیاں ضائع ہونے کا باعث بنی ہیں اور اسکے زوال میں تیزی آنے میں انتہائی موثر ثابت ہوئی ہیں۔
اسی طرح سیاسی ماہرین کی نظر میں امریکہ عراق پر فوجی قبضے کے ۸ سال بعد اور تقریبا ۳ ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد نہ فقط کوئی نتیجہ حاصل نہیں کر سکا ہے بلکہ اپنے ملکی اقتصاد
کو بھی بحران اور دیوالیہ پن کی جانب دھکیل چکا ہے۔
یقینا اگر آمریکہ ایک دن افغانستان سے انخلاء کا فیصلہ کرتا ہے تو اس ملک کی باگ ڈور آخرکار وہاں کے عوام کے ہاتھ ہی لگ جائے گی جو امریکہ کو ایک اور ذلت آمیز شکست برداشت کرنے پر مجبور کر دیں گے۔
امریکہ جسے اسکی پروپیگنڈہ مشینری انسانی حقوق اور آزادی کا بڑا حامی بنا کر پیش کرتی ہے، نے ۲۰۰۱ سے دنیا میں اپنے بقول دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کر رکھا ہے اور اسکا پہلا نشانہ افغانستان اور طالبان تھے۔ البتہ اس نکتے پر توجہ ضروری ہے کہ اگر چند سال قبل یہ کہا گیا کہ طالبان خود امریکہ کی ہی پیداوار تھے تو یہ غلط نہیں۔ اس وقت یہ بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے اور حتی وائٹ ہاوس نے بھی اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
بہرحال امریکہ کو چاہئے کہ وہ نہ فقط اپنی عوام بلکہ دنیا کی کمزور قوموں خاص طور پر عراق اور افغانستان کو جواب دے کہ ہزاروں خواتین اور بچوں کو اپنے ناپاک مقاصد کے حصول کیلئے کیوں قربان کیا؟ اسے اس سوال کا جواب بھی دینا ہے کہ کیوں اپنے ہزاروں فوجیوں کو بغیر کسی وجہ کے موت کے منہ میں بھیج دیا؟
افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ امریکہ اس وقت افغانستان کی مظلوم قوم کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اور انکے ہزاروں افراد کو قتل یا زخمی یا گھر چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور کرنے کے بعد بھی اپنے قبضے اور تسلط کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنی ماضی کی ناکامیوں سے سبق حاصل نہیں کر رہا۔ اسکے علاوہ اپنے بقول دہشت گردی اور طالبان کے خلاف جنگ کے دس سال گزر جانے کے باوجود کچھ عرصہ قبل اچانک ہی دنیا والوں نے امریکی حکام کی زبان سے یہ الفاظ سنے کہ: طالبان امریکہ کے دشمن نہیں۔
امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے درحقیقت یہ بات کہ کر اپنے ملک کی شکست خوردہ اسٹریٹجی کو بین الاقوامی سطح پر پیش کیا ہے۔ امریکہ جس نے دو سال سے قطر کے تعاون سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ایک غیرمعمولی اقدام کے طور پر افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ماضی کے دشمنوں کے ساتھ گفتگو کرنے اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں انکا سفارتی دفتر کھولے جانے پر اپنی رضامندی کا اعلان کریں۔
جو بائیڈن نے گذشتہ سال ۱۹ دسمبر کو امریکی مجلے نیوزویک کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں رسمی طور پر اعلان کیا کہ افغانستان میں ہماری موجودگی کا مقصد طالبان کے ساتھ جنگ کرنا نہیں بلکہ القاعدہ کو ختم کرنا او اس ملک میں امن کا قیام ہے۔
واضح ہے کہ امریکی پالیسیوں میں یہ تضاد اور الفاظ کا کھیل خارجہ پالیسی میں امریکی حکام کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بوکھلاہٹ اس وقت اپنے عروج پر پہنچتی ہے جب امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن ۲۷ جنوری کو یہ اعتراف کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ : امریکہ نے خود ۲۰ سال قبل افغانستان میں القاعدہ کو بنایا تاکہ سوویت یونین کا مقابلہ کیا جا سکے۔
امریکہ کے بلند پایہ حکام کے یہ واضح اعترافات تاریخ میں ثبت ہو جائیں گے اور ایک دن آنے والی نسلیں اس پر مناسب ردعمل ظاہر کریں گی۔
افغانستان اور حال ہی میں پاکستان میں امریکہ کی یہ سیاسی قلابازیاں آخرکار اسکے زوال اور سقوط کا باعث بنیں گی اور اس عالمی طاقت کی شکست کا زمینہ فراہم کریں گی۔
دنیا کے سیاسی تجربات نے ثابت کیا ہے کہ ایک سپر پاور جس قدر بھی دولت اور قدرتی ذخائر، عظیم فوجی طاقت، اقتصادی طاقت اور سیاسی ہتھکنڈوں کی مالک ہی کیوں نہ ہو زیادہ عرصے تک دنیا کے معاملات پر اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکتی۔
یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ جسکا دنیا پر تسلط کا سنہری دور ۱۹۴۵ (دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد) سے شروع ہوا ۱۹۹۰ تک اپنی برتری کو برقرار رکھنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوا لیکن اسکے بعد متعدد فوجی، سیاسی اور اقتصادی ناکامیوں کا شکار ہوا۔ بے شک یہ ناکامیاں اسکی فوجی طاقت کی نابودی کا زمینہ فراہم کریں گی اور زیادہ عرصہ نہیں لگے گا کہ برطانیہ کی استعماری رژیم کی مانند وہ بھی زوال پذیر ہو جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 137388
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب