0
Monday 19 Nov 2012 21:48

قرآن اور عزاداری

قرآن اور عزاداری
تحریر: جابر حسین قادری اسکردو

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو فرد یا قوم صرف اللہ کیلئے ظالم و باطل قوتوں کے خلاف قدم اٹھاتی ہے اس کا نام اور کردار رہتی دنیا تک کی تاریخ میں ثبت ہوتے ہیں۔ جبکہ خودسر و ظالم اور خود پرست افراد کا نام قابل نفرت بن جاتا ہے۔ تاریخ میں بہت سارے ایسے واقعات اور معرکے منصہ شہود پر آئے ہیں جو حق و باطل اور ظالم و مظلوم کے درمیان رونما ہوئے۔ واقعہ کربلا بھی انہی واقعات اور معرکوں میں سے ایک ہے جو حق و باطل اور ظالم و مظلوم کے درمیان وقوع پذیر ہوا۔ اس معرکے میں اگر فتح و کامرانی کا معیار صرف افرادی قوت، استحکامِ اقتدار و معیشت، ظاہری جاہ و جلا ل اور عارضی رُعب و دبدبہ ہوتا تو آج دنیا میں یزید کے مدّاحوں کی کثرت ہوتی اور امام حسین (ع) کا کوئی تذکرہ نہ ہوتا، جبکہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔

آج دنیا میں شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہو جس میں امام مظلوم (ع) اور ان کے باوفا اصحاب و انصار کے نام کو محافل و مجالس و اجتماعات اور کتابوں میں بلند ہمتی، شجاعت، استقامت اور جوان مردی کے نمونۂ کامل کے طورپر ذکر نہ کیا جاتا ہو۔ ایسا کیوں نہ ہو؟ کیونکہ حق کی حمایت، ظلم سے نفرت اور باطل کی سرکوبی خواہ کمترین ہتھیار سے ہی کیوں نہ انسانی فطرت میں شامل اور حسن عقلی ہیں۔ آج کل کشمیر و فلسطین کے بےگناہ عوام کے قتل عام پر پوری مسلم دنیا کا گریہ و احتجاج اسی بات کا منہ بولتا ثبوت اور زندہ مثال ہے۔ مظلوم کیساتھ اظہار ہمدردی و مظلوم کی مظلومیت پر گریہ غیریت و جذبۂ انسانی کی علامت ہے۔

علاوہ ازیں اس کے بارے میں مسلمانوں کی لاریب کتاب قرآن مجید میں واضح آیات شریفہ موجود ہیں۔ بطور نمونہ دو آیات کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
۱۔ حضرت یعقوب(ع) کا اپنے بیٹے حضرت یوسف(ع) پر گریہ: ترجمہ:’’پھر حضرت یعقوب (ع) نے ان(بیٹوں) سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: ہائے افسوس! اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں‘‘۔(سورہ یوسف ،آیۃ۸۴) قارئین محترم! ایک سوال یہاں ذہن میں آتا ہے کہ کیا حضرت یعقوب(ع) حکم خدا اور اپنی ذمہ داری سے نابلد تھے کہ حضرت یوسف (ع) کی جدائی پر زار و قطار رونے لگے یہاں تک کہ آپ(ع) کی آنکھیں کثرت گریہ کی وجہ سے نابینا ہوئیں؟ یا یہ کہ وہ (نعوذباللہ) رونے کو خلاف شرع جانتے ہوئے شریعت کی عمداً مخالفت کررہے تھے؟ یقیناً نہ حضرت یعقوب(ع) حکم خدا سے غافل تھے اور نہ ہی عمداً شریعت کی مخالفت کررہے تھے۔ بلکہ ان کا یہ عمل عین شریعت اور خدا کے حکم کے عین مطابق تھا، تبھی تو آنحضرت(ع) اس فعل کو بلاخوف و جھجھک انجام دیتے تھے۔ کیونکہ ایک پیغمبر(ع) سے (جو کہ شریعت کا محافظ ہوتا ہے) شریعت کی عمداً خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

۲۔حضرت ابراہیم (ع) کی زوجہ محترمہ کا اپنا چہرہ پیٹنا:
ترجمہ:’’پس اس (زوجہ ابراہیم ) نے اپنا چہرہ پیٹا‘‘۔ (القرآن) کوئی اُولوالعزم پیغمبر اپنی بیوی کو خلاف شریعت فعل انجام دیتے ہوئے دیکھ لے لیکن اسے منع نہ کرے کیا ایسا کسی پیغمبر سے ممکن ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ پیغمبر  آتے ہی اسی لیے ہیں کہ وہ خلافِ شرع وعقل اُمور کو ختم کریں اور لوگوں کو احکام خداوندی کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کریں۔ اگر وہ اپنی اس ذمہ داری سے عہدہ برآ نہ ہوں تو ان کی بعثت کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ پس معلوم ہوا کہ زوجہ حضرت ابراہیم کا یہ فعل غیر شرعی نہ تھا بلکہ شرعی تھا۔

اب تک کہ قلم فرسائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم پر گریہ وزاری کرنا یا بہت زیادہ خوشی حاصل ہونے پر گریہ کرنا کوئی نیا فعل، نئی سنت اور قرآنی احکام کے خلاف نہیں ہے۔ بلکہ ایسا کرنا سیرتِ ابنیاء، شریعت اور فطرتِ انسانی میں شامل ہے۔ ظلم سے نفرت اور مظلوم کی حمایت نیز مظلوم سے اظہار ہمدردی کی خاطر ہونے والی عزاداری اور گریہ وزاری پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں، وہ صرف کم فہمی، دشمن کے غلط پروپیگنڈوں اور متعصبانہ طرز تفکر کی پیداوار ہیں۔ وَمَا عَلَیْنَا اِلّاَ الْبَلاَغ الْمُبِیْن۔
خبر کا کوڈ : 213390
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب