0
Friday 24 May 2013 13:39

حضرت علی (ع) کا نظام حکومت اور ہمارے حکمران

امیرالمومنین (ع) کے یوم ولادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر
حضرت علی (ع) کا نظام حکومت اور ہمارے حکمران
تحریر: سید اظہار مہدی بخاری
izharbukhari5@hotmail.com

پاکستان میں ان دنوں انتقال اقتدار کی گہما گہمیاں جاری ہیں۔ مشکوک یا کنفرم انتخابات کے نتیجے میں سامنے آنے والے اہل یا نااہل ممبران حکومت سازی کرکے عوام کی بظاہر خدمت کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ سیاسی جوڑ توڑ، آزاد ممبران کو حکومتی مراعات کا لالچ دے کر شامل کرنے کا سلسلہ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اگلے پانچ سال کے لیے عوام کے لیے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دینے کے مترادف وعدے کئے جا رہے ہیں۔ حزب مخالف بھی اپنے تیر و تلوار و تفنگ اور اسلحے کو میان سے نکال کر صاف کر رہی ہے تاکہ حملے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے پائے۔ منتخب ممبران میں سے کتنے لوگ اس خدمت کے لیے اپنے ضمیر کے مطابق خود کو کتنا اہل سمجھتے ہوں گے؟ اس کے بارے میں وہ خود بہتر جانتے ہوں گے لیکن پہلا سال ہی ان کے دعووں کی قلعی کھول دے گا۔ انتقال اقتدار کے تمام مراحل میں حکومت سازی اور حکمرانی کے اسلامی، انسانی، انصاف و عدل پر مبنی اصولوں سے کس حد تک استفادہ کیا جا رہا ہے یہ بھی ہم سب کے سامنے ہے ۔ ہمارے شعور نے ہمیں متوجہ اور پھر مجبور کیا کہ اس سیاسی سرگرمی اور حکومت سازی کی تشکیل کے مرحلے پر پیغمبر اکرم (ص) کے بعد کائنات کے کامیاب ترین حکمران اور عدل و انصاف کی علامت امام  و جانشین رسول (ص)امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے ان فرامین کا چند سطوری تجزیہ کیا جائے جو آپ (ع) نے انہی موضوعات کے بارے میں ارشاد فرمائے۔ 

کتب تاریخ میں رقم ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی موجودگی میں حکومت کی حیثیت اور وقعت کے بارے میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر میرے پیش نظر حق کا قیام اور باطل کا مٹانا نہ ہو تو تم لوگوں پر حکومت کرنے سے یہ جوتا مجھے کہیں زیادہ عزیز ہے"۔ پھر آپ باہر تشریف لے گئے اور لوگوں میں یہ خطبہ دیا۔ "اللہ نے محمد (ص) کو اس وقت بھیجا کہ جب عربوں میں نہ کوئی کتاب (آسمانی) کا پڑہنے والا تھا نہ کوئی نبوت کا دعویدار۔ آپ (ص) نے ان لوگوں کو ان کے صحیح مقام پر اتارا اور نجات کی منزل پر پہنچا دیا۔ یہاں تک کہ ان کے سارے خم جاتے رہے اور حالات محکم و استوار ہو گئے۔ خدا کی قسم، میں بھی ان لوگوں میں تھا جو اس صورت حال میں انقلاب پیدا کر رہے تھے یہاں تک کہ انقلاب مکمل ہو گیا۔ میں نے کمزوری نہ دکھائی نہ بزدلی سے کام لیا اور اب بھی میرا اقدام ویسے ہی مقصد کے لیے ہے تو سہی جو میں باطل کو چیر کر حق کو اس کے پہلو سے نکال لوں"۔ ۔۔۔۔۔۔۔ 

اس ارشاد گرامی سے واضح ہوتا ہے کہ ذاتی طور پر امام (ص) کے رائے حکومت کے بارے میں کیا تھی یہ ذاتی رائے بھی عین حق ہے کیونکہ اُس وقت سے لے کر اب حکومت حاصل کرنے اور اسے چلانے کا رائج نظام اور اس میں لوگوں کی مداخلت کسی عام دیندار اور شریف آدمی کے لیے قابل قبول نہیں ہے تو ایک معصوم امام (ع) اور جانشین پیغمبر اکرم (ص) کے لیے کیسے قابل قبول ہو گی؟ لیکن آپ(ع) کے مدنظر ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی مفاد تھا یعنی امت مسلمہ و محمدیہ کو متحد و منظم رکھ کر اسلام اور شریعت کے عبادی پہلووں کے ساتھ سیاسی اور معاشرتی نظام کی عملی شکل سے بھی روشناس کرایا جائے اسی کلیدی اور بنیادی ضرورت کے تحت حضرت علی نے حکومت اور خلافت جیسی تلخ اور سنگین ذمہ داری سنبھالی لیکن اس کی دنیاوی حقیقت سے بھی لوگوں کو آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ اگر حکومتوں کے حصول اور تشکیل کا مقصد حق کا قیام اور باطل کو مٹانا ہو تو اس سے بڑی خدمت اور کوئی نہیں اس کے لیے ہر مشکل اور ہر سنگینی سے گذر جانا چاہیئے لیکن اگر حکومتوں کے حصول کا مقصد ذاتی مفادات، خاندانی مفادات، مراعات کا حصول، لوٹ کھسوٹ، جانبداری اور ناانصافی ہو تو ایسی حکومت کی حیثیت پھٹے ہوئے جوتے یا بکری کے ناک سے بہنے والی گندگی سے بھی کم ہے۔ 

اسی ارشاد میں حضرت حیدر کرار (ع) نے رسول اکرم (ص) کی سربراہی میں تشکیل پانے والی پہلی اسلامی، جمہوری اور فلاحی حکومت کا ذکر بطور خاص کیا اور بتایا کہ اللہ تعالٰی کے حکم و تائید کے ساتھ رسول اللہ (ص) نے کسی طرح انقلاب برپا کیا اور لوگوں کے اندر تبدیلی لانے کا آغاز کیا اس انقلاب میں میری شرکت، خدمت اور زحمت بھی بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔ پھر آپ (ص) نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میں جانشین رسول ہونے کے ناطے ایسی حکومت کی بنیاد رکھوں جو رسول (ص) کی حکومت کا عکس ہو اور اسی طرز کا انقلاب لاؤں گا جو رسول (ص) کے انقلاب کا تسلسل ہو۔ اس فرمان کا مقصد اور اسی میں مخفی سبق یہ ہے کہ جو بھی حکمران انقلاب برپا کرنا چاہے، تبدیلی لانا چاہے یا حکومت سازی کرے تو اسے اپنی ذاتی خواہشات اور جماعتی مفادات کو نہیں دیکھنا چاہیئے بلکہ اجتماعی مفادات اور خدا و رسول (ص) کے احکام کو ترجیح دینا چاہیئے۔ 

خیبر شکن علی (ع) نے جب مملکت کے امور کی ذمہ داری سنبھالی تو احتساب کے حوالے سے واضح فرمایا، ’’خدا کی قسم، اگر مجھے ایسا مال بھی کہیں نظر آتا جو عورتوں کے مہر اور کنیزوں کی خریداری پر صرف کیا جا چکا ہوتا تو میں اُسے بھی واپس پلٹا لیتا۔ چونکہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وسعت ہے اور جسے عدل کی صورت میں تنگی محسوس ہو اُسے ظلم کی صورت میں اور زیادہ تنگی محسوس ہو گی‘‘۔ اس فرمان عالیشان میں عدل اور احتساب کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ اقرباء پروری اور مال و منال بنانے کے فعل کی مذمت فرمائی ہے ۔ آپ (ص) نے عدل کو انسان کی فطری اور اصلی ضرورت قرار دیا ہے یہ بھی سچ ہے کہ جب عدل کا عملی نفاذ ہوتا ہے تو عام لوگوں کے علاوہ کرپٹ اور خائن لوگ زد میں آتے ہیں۔ عدل کے نفاذ سے اگرچہ عارضی طور پر لوگوں کو تنگی، دشواری، مشکلات درپیش ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو یہی عدل ان کے لیے زندگی ہے اور انہیں دنیاوی و اُخروی پریشانیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جو انسان عدل کی شدت برداشت نہیں کر سکتا وہ ظلم کی سنگینی کیسے برداشت کرے گا؟ لہذا انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ عدل پر انحصار کرے، عدل کو اپنائے، چاہے اس کے لیے اسے کتنی ہی مشکلات برداشت کرنی پڑیں لیکن عدل سے دامن بچائیں گے تو لامحالہ ظلم کا رواج ہو گا اور پھر ظلم کی سنگینی کی زد میں آئے ہوئے انسان یا معاشرے کبھی بھی دنیادی و اُخروی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ 

ان لوگوں کے بارے میں امام حق کا فرمان بھی ہمارے لئے باعث ہدایت ہے جو امت کے فیصلے چکانے کے لیے مسند قضا پر بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ وہ اس کے اہل نہیں ہوتے۔ ’’ ۔۔۔۔۔۔دوسرا مبغوض شخص وہ ہے جس نے جہالت کی باتوں کو ادھر ادھر سے بٹور لیا ہے۔ وہ امت کے جاہل افراد میں دوڑ دھوپ کرتا ہے اور فتنوں کی تاریکیوں میں غافل و مدہوش پڑا رہتا ہے اور امن و آشتی کے فائدوں سے آنکھ بند کرلیتا ہے۔ چند انسانی شکل و صورت سے ملتے جلتے جوئے لوگوں نے اسے عالم کا لقب دے رکھا ہے حالانکہ وہ عالم نہیں۔ وہ ایسی باتوں کے سمیٹنے کے لیے منہ اندھیرے نکل پڑتا ہے جن کا نہ ہونا ہونے سے بہتر ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس گندے پانی سے سیراب ہو لیتا ہے اور لایعنی باتوں کو جمع کر لیتا ہے تو لوگوں میں قاضی بن کر بیٹھ جاتا ہے اور دوسروں پر مشتبہ رہنے والے مسائل کے حل کرنے کا ذمہ لے لیتا ہے۔ اگر کوئی الجھا ہوا مسئلہ اس کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اپنی رائے سے اس کے لیے بھرتی کی فرسودہ دلیلیں مہیا کرلیتا ہے اور پھر اس پر یقین بھی کرلیتا ہے۔ اسی طرح وہ شبہات کے الجھاؤ میں پھنسا ہوا ہے جس طرح مکڑی خود ہی اپنے جالے کے اندر۔ وہ خود یہ نہیں جانتا کہ اس نے صحیح حکم دیا ہے یا غلط۔"۔ اگرچہ یہ ارشاد گرامی مسند قضاوت یعنی عدلیہ میں شامل ہر ہر فرد کے لیے ہے لیکن اسی شدت کے ساتھ حکمرانی پر فائز ہر شخص پر بھی صادق آتا ہے کیونکہ لوگ اپنے آپ کو حاکمیت کا حق دار قرار دیتے ہیں اور حاکمیت کے حصول کے لیے ہر حد پھلانگ جاتے ہیں ہر اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں دیکھتے کہ وہ اس مسند اور عہدے کے لیے اہل بھی ہیں یا نہیں؟ یہی وجہ ہے کہ اہل افراد مسند سیاست و حکومت تک نہیں پہنچ سکتے جبکہ نااہل اور نابالغ لوگ اس عہدے پر مسلط ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے اجتماعی نظام، معاشرے اور نظام حکومت کرپشن پر مشتمل ہو جاتا ہے۔ 

ایک اور مقام پر امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے آئین و قانون کی بالادستی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا، ’’ مجھے اپنی زندگی کی قسم، میں حق کے خلاف چلنے والوں اور گمراہی میں بھٹکنے والوں سے جنگ میں کسی قسم کی رو رعایت اور سستی نہیں کروں گا۔ اللہ کے بندو، اللہ سے ڈرو اور اس کے غضب سے بھاگ کر اس کے دامن رحمت میں پناہ لو، اللہ کی دکھائی ہوئی راہ پر چلو اور اس کے عائد کردہ احکام کو بجا لاؤ۔‘‘ اس فرمان ذیشان میں بھی بطور حکمران ہر حکمران کے لیے ایک لائن اور اصول دیا گیا ہے کہ وہ قانون و آئین کی بالادستی کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دے اور آئین و قانون کی خلاف ورزی کرنے والی ہر قوت ‘ ہر گروہ اور ہر شخص کے خلاف بھرپور کارروائی کرے، اس بالادستی میں کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت نہ کرے۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کو متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنی اجتماعی اور ذاتی ذمہ داریوں کا صحیح انداز میں ادا کرکے اور احکامات اسلام و دین پر عمل کرکے خدا کی خوشنودی حاصل کریں تاکہ خدا کے غضب سے بچ کر اس کی رحمت بے پایاں کے مستحق ٹھہریں۔ 

درج بالا چار فرامین کے مطالعہ اور مختصر تجزیہ کے بعد اگر ہم وطن عزیز پاکستان کی سیاسی اور حکومتی صورتحال کا حقیقت پسندانہ اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو ہمیں ساری کہانی ہی واضح ہو جائے گی۔ ماضی میں ہمارے حکمرانوں نے کیا خدمت کی، کیا گل کھلائے، کیا پالیسیاں تشکیل دیں، کیا اجتماعی اور ذاتی فیصلے کئے اور ملک کا کس حد تک بھلا کیا؟؟ یہ اگرچہ ماضی کا قصہ بن چکا ہے لیکن ہمارے لئے عبرت، سبق اور احتساب کا سامان ضرور بہم پہنچاتا ہے۔ اپنے ماضی کے حقائق اور غلطیوں کو دیکھ کر اور امیرالمومنین حضرت علی (ع) کے فرامین و ارشادات سے رہنمائی لے کر نئے نظام کی بنیادیں رکھنے والے اور نئی حکومت تشکیل دینے والے ذمہ داران اپنے عملی اقدامات کا آغاز کریں تو اس سے نہ صرف مستقبل کے حکمرانوں کے ذاتی فوائد بہتر انداز میں حاصل ہوں گے بلکہ اجتماعی طور پر پاکستان کے ہر شہری کے لیے یہ اقدامات سودمند اور ترقی کا باعث بنیں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی خوشحالی سے عالم اسلام بالخصوص اور دیگر ممالک بالعموم مستفید ہوں گے۔ لیکن یہ تو تب ممکن ہے جب سیاست مداروں کو باہمی اختلافات اور اپنے طے کردہ اہداف سے فرصت ملے اور وہ ان سنہرے فرامین کا مطالعہ کریں۔ ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے حجت تمام کرنے کے لیے اپنی سی کوشش ہی کرنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 266608
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش