0
Sunday 30 Mar 2014 15:43

اسلامی بیداری کی تحریک، تاریخ کے آئینے میں

اسلامی بیداری کی تحریک، تاریخ کے آئینے میں
تحریر: محمد عبداللہی

اسلام ٹائمز – اسلامی بیداری کی تحریک ایک ایسی نئی اٹھان ہے جس نے گذشتہ دو صدیوں کے دوران عالم اسلام میں نئی روح پھونک دی ہے اور مادہ پرستی میں غرق دنیا میں معنویت کی محوریت میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک ایسی تحریک جسے بزرگ مسلمان مصلح شخصیات نے مضبوط بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ عملی میدان پر چھا گئی۔ جدید دور میں اسلامی بیداری کی تحریک کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم اسے تین بڑے مراحل میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ اس تحریر میں ان مراحل پر روشنی ڈالتے ہوئے مغربی دنیا پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ آغاز میں اسلامی بیداری کی ایک جامع تعریف اور اس کے بنیادی ارکان کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ حقیقی اسلامی بیداری کو اپنی مشابہ دوسری تحریکوں اور اسلامی بیداری سے منسوب جعلی تحریکوں سے تشخیص دینے میں مدد فراہم ہو سکے۔

1. اسلامی بیداری کی حقیقت اور وسعت:
محققین اور دانشور حضرات کے درمیان اسلامی بیداری کی تعریف کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ اس عنوان سے متعلقہ تحریروں میں بیان کی گئی وضاحتوں کے مطابق اسلامی بیداری ایک ایسی سیاسی اور فکری اسلامی تحریک کا نام ہے جو اکثر اسلامی ممالک میں مختلف ناموں جیسے اسلامی بنیاد پرستی، اسلام خواہی، اسلامی ریڈیکل ازم اور سیاسی اسلام کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ اسی طرح اس تحریک کو دینی اصلاح گری اور نشاہ ثانیہ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عرب زبان میں بھی اسلامی بیداری کیلئے مختلف اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں جیسے "الصحوہ الاسلامیہ"، "البعث الاسلامی"، "التیار الاسلامی" اور "الحرکہ الاسلامیہ" وغیرہ۔

اسلامی بیداری ایک ایسا معاشرتی عمل ہے جو امت مسلمہ میں بیداری اور آگاہی کے پلٹ آنے پر مشتمل ہے جس کا نتیجہ خوداعتمادی کا حصول اور اپنے دین اور سیاسی، اقتصادی اور فکری خودمختاری پر افتخار کرتے ہوئے بہترین امت کے طور پر دنیا میں اپنا کردار ادا کرنے کا عزم کرنا ہے۔ اسلامی بیداری سے مراد ایسے دینی اعتقادات کا مجموعہ ہے جو موجودہ دور میں دنیا بھر کے مسلمانوں میں پھیل چکے ہیں۔ بعض محققین نے اسلامی بیداری کو عالم اسلام میں موجود معنوی اعتقادات اور رجحانات کے مصادیق میں سے قرار دیا ہے۔ ایک ایسی تحریک جس کا مقصد حقیقی اسلام اور فراموش شدہ دینی تشخص کی جانب لوٹنا اور عالمی استکبار کے پنجوں سے رہائی پانا ہے۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اسلامی تفکر اور مغربی سوچ کے درمیان تنازعہ اور ٹکراو انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اسلامی بیداری کی تحریک میں اس ٹکراو کا کردار بھی بہت اہم جانا جاتا ہے۔ یہ ٹکراو مغرب کی جانب سے عالم اسلام کے خلاف ایک بھرپور اور شدید ثقافتی یلغار سے شروع ہوا۔ دوسری طرف اس مغربی یلغار کے مقابلے میں عالم اسلام کے اندر مزاحمتی تحریک نے جنم لیا جسے اس کا ردعمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ تحریک جدید مغربی تفکر کے مقابلے میں معرض وجود میں آئی اور اس کا بنیادی مقصد عظیم اسلامی تمدن کا احیاء اور اسلام کو سیاست کے میدان میں واپس لانا تھا۔ اس تحریک کے نتیجے میں سیاسی اسلام کا مفہوم ابھر کر سامنے آیا۔ اسلامی بیداری کی تحریک کا موجودہ بین الاقوامی سیاسی نظام سے ٹکراو کے ناطے مغربی دنیا اسے اپنے لئے عظیم خطرہ تصور کرتی ہے۔ لہذا اسلامی بیداری کی تحریک کو اچھی طرح جاننے کیلئے اس پر حکمفرما تفکر اور سوچ کی شناخت ضروری ہے جو اس کی تاریخ کا جائزہ لئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔

اسلامی بیداری ایک ایسی اجتماعی آگاہی کا نام ہے جو حقیقی اسلامی اصولوں کے تحت مسلمانوں کے مشترکہ عزم و ارداے پر استوار ہے۔ اسلامی بیداری کی حقیقت ایسے تین بنیادی عناصر پر مشتمل ہے جو تاریخ کے مختلف مراحل سے گزر کر آج ہم تک پہنچے ہیں اور ان کا یہ تاریخی سفر جاری رہے گا۔ یہ تین بنیادی عناصر مندرجہ ذیل ہیں:

الف۔ تعلیمات قرآن و سنت کی پیروی کرتے ہوئے حقیقی اسلام اور مکتب اسلام کے بنیادی اصولوں کی طرف واپسی۔

ب۔ امت اسلامی کو درپیش مشکلات اور مسلمانوں کی پسماندگی کا واحد اور حقیقی راہ حل ہونے کے ناطے وحدت اسلامی اور اتحاد بین المسلمین پر خاص تاکید۔

ج۔ عالمی استکبار سے مبارزہ اور اندرونی طاغوتی قوتوں کا مقابلہ۔

اسلامی بیداری کے تمام بڑے اور متفقہ رہنماوں کا نکتہ اشتراک ان تین سنہری اصولوں کی پاسداری اور ان پر حد درجہ تاکید ہے۔ مصر اور دوسرے اسلامی ممالک میں اسلامی بیداری کے فکری رہنماوں کا اصلی نعرہ "الاسلام ھو الحل" اور تمام دوسرے مادی اور الحادی مکاتب فکر کی نفی رہا ہے۔ سید جمال الدین افغانی سے لے کر امام خمینی تک ان تمام عظیم مسلمان مصلحین کے درمیان پائے جانے والے اہم مشترکات میں مختلف اسلامی فرقوں کے درمیان اتحاد اور وحدت پر زور دینا ہے۔ عالم اسلام میں اسلامی بیداری کی بنیاد رکھنے والی عظیم شخصیت سید جمال الدین افغانی کی نظر میں مسلمان فرقوں کے درمیان اتحاد اور وحدت اس قدر اہمیت کی حامل تھی کہ آج تک کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ خود وہ کس فرقے سے وابستہ تھے۔ آیت اللہ العظمی بروجردی کے زمانے میں حوزہ علمیہ قم اور جامعہ الازہر میں تقریب بین المذاہب کے مراکز کا قیام اور ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ان کوششوں کا جاری رہنا اور جدید اسلامی بیداری کی تحریک کے دوران شیعہ سنی اتحاد کی کوششیں انہیں اصولوں کی پیروی کا نتیجہ ہیں۔

استکبار ستیزی اور اندرونی آمریت اور بیرونی استعمار سے مقابلہ بھی اسلامی بیداری کے تمام رہنماوں اور حامیوں کا بنیادی اور مشترک اصول رہا ہے۔ سید جمال الدین افغانی اور محمد عبدہ کے زمانے میں برطانوی استعمار اور سلطنت عثمانیہ اور قاجاریہ بادشاہت جیسے آمرانہ نظاموں سے مقابلہ، حسن البناء کے زمانے
میں مصر اور مسلم ممالک میں سرگرم اخوان المسلمین کی دوسری شاخوں کی جانب سے مغربی اور مشرقی استعماری قوتوں سے مقابلہ اور امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی جانب سے عالمی طاغوت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا اسی بنیادی اصول کے چند واضح نمونے ہیں۔

مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں اور اسلام سے منسوب ہر ایسی تحریک اور جدوجہد جس میں ذکر شدہ اصولوں کی پابندی نہ پائی جاتی ہو حقیقی اسلامی بیداری کی تحریک سے نہ صرف کوسوں دور ہے بلکہ اس کے ساتھ تضاد اور تصادم پایا جاتا ہے۔ ایسی تحریک یا جدوجہد یقینی طور پر ایک جعلی اور انحرافی اسلامی تحریک کے طور پر پہچانی جائے گی۔ ایسی انحرافی تحریک کی واضح مثال عالم اسلام میں موجود القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیم اور اس کی سرپرستی میں معرض وجود میں آنے والی تکفیری تحریکوں کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ القاعدہ اور دوسری تکفیری تحریکیں وحدت اسلامی اور استکبار ستیزی جیسے بنیادی اصولوں سے عاری اور بے بہرہ ہیں لہذا انہیں حقیقی اسلامی بیداری کی تحریک کے ضمن میں قرار نہیں دیا جا سکتا۔

2. اسلامی بیداری کا تاریخی پس منظر:
اسلامی بیداری کی تاریخ کے آغاز کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بعض محققین رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکہ سے مدینے کی جانب ہجرت کو اسلامی بیداری کا آغاز قرار دیتے ہیں۔ لیکن دوسرے محققین کی رائے یہ ہے کہ اگرچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم موڑ ہے لیکن اسے اسلامی بیداری نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بیداری کا مطلب "احیاء" اور "نشاہ ثانیہ" ہے جبکہ ہجرت کے وقت مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کا تفرقہ اور اختلاف موجود نہیں تھا اور مدینہ میں ایک نیا اسلامی معاشرہ معرض وجود میں آیا تھا۔ لہذا اس دوران کو اسلامی بیداری کا آغاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بعض محققین کی نظر میں اسلامی بیداری کی تحریک کا آغاز ایک صدی یا دو صدیاں قبل ہوا۔ معروف عالم دین اور محقق شہید مرتضی مطہری اس بارے میں لکھتے ہیں:

"۱۳ ویں صدی ہجری یا ۱۹ ویں صدی عیسوی کے دوسرے نیمے میں عالم اسلام میں ایک اصلاحی تحریک کا آغاز ہوا۔ یہ تحریک ایران، مصر، شام، لبنان، شمالی افریقہ، ترکی، افغانستان اور برصغیر میں معرض وجود میں آئی۔ ان ممالک میں مسلمان مصلح شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنے اصلاحی افکار کی مدد سے اسلامی معاشرے کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ یہ تحریکیں کئی صدیوں کے خمود اور مسلمانوں کی پسماندگی کے بعد معرض وجود میں آئیں جنہیں ایک حد تک عالم اسلام پر استعماری قوتوں کی سیاسی جارحیت کا ردعمل قرار دیا جا سکتا ہے"۔

راقم کی نظر میں پہلا نظریہ صحیح نہیں جبکہ دوسرے اور تیسرے نظریے کو ایک حد تک قبول کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی بیداری کی تحریک درحقیقت مسلمانوں کی جانب سے بیرونی استعمار اور اندرونی آمریت کے خلاف ایک ردعمل تھا لہذا بیرونی استعماری قوتوں کے علاوہ اسلامی ممالک کے اندرونی مسائل اور کمزوریوں نے بھی اسلامی بیداری کی تحریک کے زور پکڑنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انیسویں صدی عیسوی میں عالم اسلام عالمی استعماری قوتوں کی جارحیت اور فوجی قبضے سے روبرو تھا۔ ان استعماری قوتوں نے اسلامی ممالک کو توڑ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر ڈالا اور بعض مسلم ممالک شدید شکست کے بعد کمزوری کی جانب گامزن ہونے لگے۔ اسی دوران مسلمان محققین کا مغربی ممالک کی جانب آمدورفت کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ان کے ذہن میں مسلمانوں کے زوال کے حقیقی اسباب کے بارے میں سنجیدہ قسم کے سوال ابھرنے لگے۔ اسی طرح مسلمان محققین اور مفکرین کی سوچیں اس بات پر متمرکز ہونے لگیں کہ مسلمانوں کو اس افسوسناک صورتحال سے کیسے باہر نکالا جائے۔ وہ ایک طرف مغربی دنیا میں ترقی، فلاح و بہبود اور نظم و ضبط کی اعلی صورتحال کا مشاہدہ کرتے تھے تو دوسری طرف مسلمان معاشروں میں پائی جانے والی زبوں حالی اور غربت اور کرپشن کو دیکھ رہے تھے۔ لہذا ان کیلئے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کس طرح مسلمان معاشروں کو ان گھمبیر مسائل سے نجات دلائی جائے؟

اس مسئلہ کے حل کیلئے مختلف افراد نے مختلف راہ حل تلاش کئے۔ بعض محققین اور دانشمند حضرات نے غرب کی پیروی کو اس مسئلے کا راہ حل قرار دیا۔ ان کی نظر میں مسلمان معاشروں میں پائی جانے والی پسماندگی اور مشکلات کا واحد راہ حل یہ تھا کہ مسلمان سر سے پاوں تک مغرب کے پیرو ہو جائیں۔ ان کی طرح کھائیں پئیں، ان کی طرح لباس پہنیں، ان کی طرح زندگی گزاریں اور مختصر یہ کہ پوری طرح مغربی ثقافت میں ڈھل جائیں۔ لیکن ان کے مقابلے میں بڑی تعداد میں ایسے مسلمان مفکرین اور محققین بھی موجود تھے جو ان تمام مسائل کے حل کو حقیقی اسلامی اقدار اور اصولوں کی جانب بازگشت میں تلاش کر رہے تھے۔ یہی وہ محققین اور مفکرین ہیں جنہوں نے اسلامی دنیا میں اسلامی بیداری کی تحریک کی بنیاد ڈالی۔

۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائیوں میں اسلامی بیداری کی تحریک اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ ۱۹۷۳ء میں اسرائیل کے خلاف عرب ممالک کا جہاد، ۱۹۷۹ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور ۱۹۸۱ء میں مصر میں مغرب نواز اور امریکہ کے پٹھو صدر انور سادات کا قتل اس اسلامی بیداری کے چند واضح نمونے ہیں۔ سید جمال الدین افغانی، رشید رضا، سید حسن البنا اور کچھ مدت کے بعد امام خمینی رحمہ اللہ علیہ جیسی عظیم مسلمان شخصیات اور مفکرین کی سوچ اور ان کے تفکر نے نہ صرف اسلامی بیداری کی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی بلکہ اس تحریک سے متعلق نظریہ و عمل میں بھی ایک گہرا رشتہ قائم کر دیا۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اسلامی بیداری کی اس تحریک میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہوئی۔ دنیا کے اکثر سیاسی و تاریخی
ماہرین اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

3. اسلامی بیداری کے بعض اہم تاریخی مراحل:
اسلامی بیداری کی تحریک عظیم تاریخی سرمایے اور مضبوط نظریاتی بنیاد کی حامل تحریک ہے۔ کلی طور پر اسلامی بیداری کی جدید تاریخ کو مندرجہ ذیل تین اہم مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

الف)۔ اسلامی بیداری کی پہلی موج، ثقافتی اور سیاسی اصلاحات کا مرحلہ:
اسلامی بیداری کی تحریک کا پہلا مرحلہ سید جمال الدین افغانی اور ان کے ہم عصر دیگر مسلمان مفکرین کی جانب سے عالم اسلام کی موجودہ زبوں حالی کو مطلوبہ صورتحال میں تبدیل کرنے کی غرض سے شروع کی جانے والی جدوجہد کی صورت میں معرض وجود میں آیا۔ سید جمال الدین افغانی کا شمار جدید دور میں اسلامی بیداری کی تحریک کے بانی مفکر اور مشرقی دنیا میں ایک عظیم مصلح مفکر ہونے کے ناطے ان معروف مسلمان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے عالم اسلام کو درپیش شدید بحرانی صورتحال کے دوران "مغربی جدیدیت" کی جانب سے مسلمانوں کو درپیش بڑے چیلنجز کو صحیح طور پر درک کرتے ہوئے انتہائی عقلمندی اور ہوشیاری کا ثبوت دیا اور اکثر اسلامی ممالک میں ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے انتہائی اہم سیاسی، ثقافتی اور معاشرتی تحریکوں کے آغاز میں بنیادی کردار ادا کیا۔

اسلامی بیداری کی پہلی موج کے نتیجے میں نہ صرف شیخ محمد عبدہ، علامہ اقبال، حسن البناء، بشیر الابراہیمی، سنوسی، ملا سعید نورسی، علامہ محمد باقر الصدر، علامہ مرتضی مطہری جیسے عظیم مسلمان مصلحین کے افکار و نظریات منظرعام پر آئے بلکہ عالم اسلام میں کئی فعال اسلامی تحریکوں نے بھی جنم لیا۔ اسلامی بیداری کے نتیجے میں جنم لینے والی ان تنظیموں اور تحریکوں میں عرب دنیا میں اخوان المسلمین، برصغیر میں جماعت اسلامی، ایران میں فدائیان اسلام کے نام سرفہرست ہیں۔ اسلامی بیداری کے اس پہلے مرحلے یا پہلی موج کی بانی شخصیات نے عالم اسلام کو موجود بحرانوں پر قابو پانے اور موجودہ زبوں حالی سے باہر نکلنے کیلئے اسلام کے بنیادی اصولوں کی پیروی اور ان کے اجراء کو اپنا لائحہ عمل قرار دیا۔ یہ ایک ایسا قیمتی تجربہ تھا جس نے بعد میں عالم اسلام میں اسلامی بیداری کی ایک اور زیادہ بڑی اور عظیم موج کی پیدائش کا زمینہ فراہم کیا۔ یہ عظیم موج امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی سربراہی میں ایران میں اسلامی انقلاب کی عظیم کامیابی کی صورت میں ظاہر ہوئی اور عالم اسلام پر اس کے اثرات کی گہرائی اور وسعت پہلی موج کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔

اسلامی بیداری کی پہلی موج کی خصوصیات:
عالم اسلام میں رونما ہونے والی اسلامی بیداری کی پہلی موج مندرجہ ذیل خصوصیات کی حامل تھی۔

۱۔ یہ اسلامی تحریک زیادہ تر پرامن طریقے سے انجام پائی اور بہت ہی نادر مواقع پر مسلح جدوجہد کا سہارا لیا گیا۔ اس تحریک پر گفتگو کا طریقہ غالب رہا اور قلم، بیان اور انفرادی گفتگو کے ذریعے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی۔

۲۔ اسلامی بیداری کے پہلے مرحلے کی ایک اور خصوصیت مسلمان مفکرین کی جانب سے انفرادی طور پر اور خودجوش انداز میں فعالیت انجام دینا ہے۔ اکثر مسلمان مصلح شخصیات نے اپنا کام مسلسل سفر کی حالت میں رہ کر کیا اور مختلف مسلمان معاشروں میں جا کر اخبار، مجلات اور کتب کی صورت میں اسلامی سوچ کو پھیلانے کی کوشش کی اور ہر قسم کی احتجاجی تحریک یا مظاہروں کے انعقاد سے گریز کیا۔

۳۔ اس مرحلے میں مسلمان مصلح شخصیات اور اسلامی بیداری کے سربراہان کی زیادہ تر توجہ موجودہ حکمرانوں اور حکمفرما سیاسی نظاموں کی اصلاح پر تھی اور انہوں نے کوئی نیا متبادل سیاسی نظام پیش کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

۴۔ اکثر محققین کی نظر میں اسلامی بیداری کے پہلے مرحلے کا آغاز مصر سے ہوا جب انیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں مغربی مہم جو فوجی کمانڈر نیپولین نے اس ملک پر فوجی حملہ کرتے ہوئے اس پر فوجی قبضہ جما لیا۔ یہ حملہ درحقیقت مغربی دنیا کی جانب سے عالم اسلام پر سیاسی اور اقتصادی تسلط اور فکری اور ثقافتی یلغار کا آغاز تھا جس کے ردعمل میں پورے عالم اسلام میں اسلامی بیداری کی لہر پیدا ہوئی۔ اسی وجہ سے اکثر محققین کی نظر میں اسلامی بیداری درحقیقت مغربی دنیا کی جانب سے عالم اسلام پر فوجی جارحیت اور ثقافتی یلغار کا ایک ردعمل قرار دی جاتی ہے۔

سید جمال الدین افغانی، علامہ محمد اقبال، شیخ محمد عبدہ، عبدالرحمان کواکبی، مولانا ابوالاعلی مودودی، آیت اللہ میرزای شیرازی اور حسن البناء کو اسلامی بیداری کی پہلی موج کے اہم مصلحان اور سربراہان کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔

ب)۔ اسلامی بیداری کی دوسری موج، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی:
اسلامی بیداری کی دوسری موج کا آغاز بیسویں صدی عیسوی میں امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی سربراہی میں ایران میں اسلامی انقلاب کی عظیم کامیابی کی صورت میں ہوا۔ امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی سربراہی میں جنم لینے والی انقلابی تحریک درحقیقت اسلامی تاریخ میں جنم لینے والی گذشتہ تمام انقلابی تحریکوں کا نقطہ اوج تھا جس میں ان تمام انقلابی تحریکوں کے اہداف اور آرزوئیں محقق ہوئیں اور عملی صورت اختیار کی۔ امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی اس انقلابی تحریک کی بنیادیں مدینہ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عظیم اسلامی تہذیب و تمدن پر استوار تھیں اور اس کا واحد ہدف مسلمانوں کو ان کی دست رفتہ عزت اور عظمت دوبارہ لوٹانا تھا۔

امام خمینی رحمہ اللہ علیہ نے حقیقی اسلامی فقاھت اور اسلامی تمدن کی صحیح اور کامل پہچان کے بل بوتے پر اور اسی طرح مسلمانان عالم کی موجودہ صورتحال اور مغربی استعمار کے جدیدترین ہتھکنڈوں کی درست شناسائی کی مدد سے اسلام کی نشاہ ثانیہ کی بنیاد ڈالی اور اپنا شرعی وظیفہ انتہائی احسن اور بھرپور طریقے سے سرانجام دیا۔ امام
خمینی رحمہ اللہ علیہ کی جانب سے پیش کردہ دینی اور ثقافتی ماڈل جس کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر استوار ہے، نے انسان کو درپیش مشکلات اور ضروریات کا بہترین راہ حل پیش کیا ہے۔ امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی جانب سے سیاسی اسلام کے پیش کردہ ماڈل کی جامعیت انسانی معاشروں میں اس کے روز بروز مقبول ہوتے چلے جانے اور عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لینے کا باعث بنی ہے۔

انقلاب اسلامی ایران نے امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی قیادت میں متحرک سیاسی اسلام کو اپنا محور و مرکز قرار دیتے ہوئے شہادت، جہاد، ظلم ستیزی، عدالت خواہی اور کفار کے تسلط کی نفی جیسے مفاہیم و تصورت کو ایک بار پھر زندہ کرتے ہوئے، نرم طاقت کے اوزاروں کو بروئے کار لاتے ہوئے اور عالمی سطح پر موجود اصلی – فرعی کی ظالمانہ تقسیم بندی کے مقابلے میں مستضعفین – مستکبرین کی تقسیم بندی کو متعارف کرواتے ہوئے درحقیقت ایک عظیم نظریاتی سونامی کی بنیاد ڈالی جس کی امواج ایران کی جغرافیائی حدود کو پار کر کے پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں۔

آج کی دنیا میں دینی و مذہبی افکار کو پیش کرنا انقلاب اسلامی ایران اور بانی انقلاب اسلامی ایران کے تفکر کے اہم ثمرات میں سے ایک ہے۔ انقلاب اسلامی ایران نے آج کی سیکولر دنیا میں "معنویت کی جانب بازگشت" اور "گہری روحانی زندگی" کا نعرہ بلند کیا ہے۔ یہ انقلاب، اسلامی تہذیب و تمدن میں معنویت جیسے گرانبہا گوہر کے دوبارہ پلٹ آنے کا باعث بنا ہے جو صدیوں سے فراموشی کی بھینٹ چڑھ چکا تھا۔ یہ وہی قیمتی عنصر ہے جس سے مغربی تہذیب و تمدن غافل ہے اور اس کا سب سے بڑا نکتہ ضعف بن چکا ہے۔ معنویت اور روحانیت ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے کچھ ہی مدت پہلے انسانی معاشرے کیلئے افیون قرار دیئے جانے کے بعد دور پھینک دیا گیا تھا۔ انقلابی اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد عالمی سطح پر اسلامی تعلیمات اور افکار اس شدت سے ابھر کر سامنے آئے کہ اسلام دشمن عناصر اس کے خلاف بھرپور مہم چلانے پر مجبور ہو گئے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی مفکرین کی جانب سے اسلام کا مقابلہ کرنے کیلئے “war of civilazations” جیسے بیہودہ قسم کے نظریات پیش کئے جانے لگے۔

امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی جدوجہد اور اس کے نتیجے میں انقلاب اسلامی ایران کی عظیم کامیابی ہی وہ چیز تھی جس کے باعث دنیا بھر کے مسلمانوں میں خوداعتمادی پیدا ہوئی اور انہیں حوصلہ ملنے لگا۔ اسلام کی اس عظیم جیت کے بعد مسلمانان عالم میں یہ امید پیدا ہو گئی کہ اب مغرب کے مقابلے میں عالم اسلام کی عقب نشینی اور شکستوں کا خاتمہ ہونے والا ہے اور اسلامی دنیا کی کامیابیوں کے نئے اور سنہری دور کا آغاز ہونے لگا ہے۔ لہذا انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی اسلامی تاریخ کا وہ اہم موڑ ہے جس میں عالم اسلام کے عظیم مصلح حضرت امام خمینی رحمہ اللہ علیہ نے اسلامی بیداری کی پہلی موج کے بعد پیدا ہونے والے جمود کو اسلامی بیداری کی دوسری عظیم موج کے ذریعے توڑ ڈالا اور اسلامی دنیا میں ایک نئی روح پھونک دی۔ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی اور دنیا بھر میں اس کے انقلابی پیغام کے پھیلاو نے عالم اسلام میں ایک سیاسی زلزلہ ایجاد کر دیا جیسا کہ دنیا نہ اس زلزلے کے ابتدائی اثرات کو اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کے خلاف اٹھنے والی نئی انتفاضہ اور جہادی تحریک کی صورت میں دیکھا اور فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ لبنانی جیسی اسلامی مزاحمتی قوتیں معرض وجود میں آئیں۔

اسلامی بیداری کی دوسری موج کی خصوصیات:
۱۔ اسلام پر حد سے زیادہ تاکید۔
۲۔ منظم انداز اور اداروں کا قیام۔
۳۔ وسعت اور کثیر مراکز کا حامل ہونا )عالم اسلام کے مختلف حصوں میں جنم لینے والی تحریکوں کے اپنے مختلف مراکز اور قائدین کا ہونا(۔
۴۔ تسلسل اور دوام۔
۵۔ مغربی دنیا پر ثقافتی اور فکری طور پر اثرانداز ہونا۔
۶۔ عالمی استکباری قوتوں خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل سے مقابلہ اور مسئلہ فلسطین پر خاص توجہ دینا۔

ج)۔ اسلامی بیداری کی تیسری موج، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں جنم لینے والی اسلامی تحریکیں:
سال ۲۰۱۱ء کے آغاز میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں جنم لینے والی سیاسی تحریکوں کے باعث بعض نئی سیاسی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئیں جن کی تیزرفتاری اور دھماکہ خیز ہونے کے باعث سیاسی ماہرین نے انہیں "سونامی" کا نام عطا کیا۔ یہ سونامی ایک ایسے خطے میں رونما ہوئی جو انسانی تاریخ کا ایک اہم ثقافتی و تہذیبی مرکز تصور کیا جاتا ہے اور تین توحیدی ادیان یعنی یہودیت، عیسائیت اور اسلام اسی خطے سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ خطہ قدرتی وسائل جیسی نعمت سے بھی مالامال ہے اور مغربی دنیا کیلئے انتہائی درجہ کی جیوپولیٹیکل اہمیت کا حامل بھی ہے۔

ان تحریکوں میں انجام پانے والے عوامی احتجاج پر مذہبی رنگ چھایا رہا ہے۔ عوام نے اپنے مطالبات کے اظہار کیلئے نماز جمعہ کا سہارا لیا اور مذہبی نعرے لگائے۔ لہذا انہیں بجا طور پر اسلامی بیداری کی تحریک کا نام دیا جا سکتا ہے۔ دسیوں سال کے جمود اور خاموشی کے بعد عرب اقوام کی جانب سے سیاسی بیداری کا مظاہرہ درحقیقت ان عظیم مسلمان مصلحین کی محنتوں اور زحمات کا نتیجہ ہے جنہوں نے اسلامی بیداری کی پہلی موج کے دوران اس خطے میں فعالیت انجام دی اور مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ یہ عرب اقوام اپنے حقیقی تشخص کی جانب پلٹنا چاہتی ہیں اور اندرونی آمریت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

خطے میں جنم لینے والی اسلامی بیداری کی اس تیسری موج کی سب سے اہم خصوصیت اس کا اسلامی تشخص ہے۔ اسلامی بیداری کی یہ موج درحقیقت اسی تحریک کا تسلسل ہے جس کی بنیاد ایک زمانے میں سید جمال الدین افغانی جیسی عظیم مصلح شخصیت نے
رکھی تھی۔ اسلامی بیداری کی پہلی موج کی مانند آج جنم لینے والی یہ تیسری موج بھی امت مسلمہ کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کیلئے ایک اسلامی راہ حل کی تلاش میں ہے اور سیاست، اقتصاد، اخلاق اور معاشرت میں اسلامی اقدار کا احیاء چاہتی ہے۔ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں سڑکوں پر نکلے مسلمان عوام اسلامی تہذیب و تمدن کے احیاء کے طالب ہیں اور وہ مغربی تہذیب جیسی دوسری اجنبی تہذیبوں سے اقدار قرض لینا نہیں چاہتے۔

ان انقلابی تحریکوں میں شامل افراد کی جانب سے پرشکوہ انداز میں نماز جمعہ کا قیام، اللہ اکبر جیسے اسلامی نعروں کا زبان پر لانا، کامیابی حاصل ہونے کے بعد سجدہ شکر کا ادا کرنا، اپنی تقاریر کے دوران آیات قرآن کریم کو بیان کرنا، اسلامی تنظیموں اور جماعتوں جیسے مصر میں اخوان المسلمین اور تیونس میں النھضہ کا بھرپور انداز میں سرگرم عمل ہو جانا ان کے اسلامی ہونے ما منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ سب حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت سیاسی اسلام نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور یہ وہی چیز ہے جس سے عالمی استعماری قوتیں بری طرح خوف زدہ ہیں۔

اسلامی بیداری کی تیسری موج کی صورت میں ظاہر ہونے والی اسلامی تحریکوں کا مقصد عالمی تسلط پسندانہ استعماری نظام اور خطے میں موجود اس کے کٹھ پتلی حکمرانوں سے مقابلہ کرتے ہوئے ان سے چھٹکارا پانے اور ان کی جگہ اسلامی اصولوں پر مبنی جمہوری حکومتوں کا قیام ہے۔ یہ تحریکیں اب تک خطے کی کئی کٹھ پتلی حکومتوں کا تختہ الٹنے میں کامیابی سے ہمکنار ہو چکی ہیں۔ اسلامی بیداری کی تیسری موج کا آغاز تیونس سے ہوا۔ تیونس میں مسلمان عوام مغرب نواز ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور بہت جلد اسے اپنے ملک سے نکال باہر کیا۔ کچھ ہی عرصے کے اندر یہ موج شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے دوسرے ممالک تک سرایت کر گئی۔ تیونس میں آمرانہ حکومت کے خاتمے کے بعد یکے بعد دیگرے مصر میں ڈکٹیٹر حسنی مبارک اور لیبیا کا آمر حکمران معمر قذافی بھی اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اسی طرح بحرین میں آل خلیفہ رژیم، سعودی عرب میں آل سعود رژیم اور یمن میں علی عبداللہ صالح کے خلاف بھی عوامی تحریک نے زور پکڑ لیا ہے۔ اسلامی بیداری کی تیسری موج شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں بڑے پیمانے پر سیاسی تبدیلیوں کا باعث بنی ہے۔

دوسری طرف امریکہ، مغربی ممالک اور خطے کے بعض ممالک کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ ان تحریکوں کے اسلامی پہلو کو ظاہر نہ ہونے دیا جائے بلکہ ان سیاسی تحریکوں کو اپنے حقیقی راستے سے منحرف کرتے ہوئے اسے لبرل ڈیموکریسی کی سمت پھیر دیا جائے۔ لیکن مصر، تیونس، بحرین، یمن، لیبیا اور دوسرے ممالک میں مسلمان عوام کی جانب سے نماز جمعہ کے عظیم اجتماعات، اللہ اکبر کے نعروں اور قرآن کریم کے سائے میں مظاہروں کے انعقاد نے ان تمام سازشوں کو ناکامی کا شکار کر دیا ہے۔ یہ سب حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے مسلمان عوام مغربی طرز کی لبرل ڈیموکریسی نہیں چاہتے بلکہ اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی جمہوری نظام کے قیام کے خواہاں ہیں۔

اسلامی بیداری کی امواج کی مشترکہ خصوصیات:
کلی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی بیداری کی امواج خاص طور دوسری اور تیسری موج کی تین بنیادی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ اسلامی بیداری کی ان تحریکوں کا عوامی اور خودجوش ہونا۔ جیسا کہ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ ان تحریکوں میں معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا ہے۔ ان تحریکوں کے اہداف و مقاصد کسی قوم یا فرقے کی حد تک محدود نہیں بلکہ سامنے آنے والے مطالبات میں صرف اسلام کو مدنظر قرار دیا گیا ہے۔ انقلاب اسلامی ایران کی مانند مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں جنم لینے والی حالیہ تحریکوں میں بھی خطے کے انقلابی مسلمان عوام اسلامی اقدار کے احیاء اور اسلام کے دیئے گئے سیاسی نظام کے برسراقتدار آنے کیلئے جدوجہد کرنے میں مصروف ہیں۔

۲۔ ان تحریکوں کی دوسری بڑی خصوصیت ان پر اسلامی رنگ کا حاوی ہونا ہے۔ ان تحریکوں کی روح اور نوعیت مکمل طور پر دینی اور اسلامی ہے۔ معاشرے میں موجود اکثر مسلمان افراد کی جانب سے انقلابی تحریک میں شمولیت، اسلامی اقدار جیسے حجاب، دینی سرگرمیوں میں ایک دوسرے سے تعاون اور زندگی کے تمام پہلووں میں شریعت اسلامی کے نفاذ کا مطالبہ، اسلامی تنظیموں اور گروہوں کی تشکیل اور ان کا سیاسی و اجتماعی سطح پر موثر کردار ادا کرنا، دینی رہنماوں اور علماء حضرات کا سیاست کے میدان میں حاضر ہونا، اسلامی تنظیموں جیسے اخوان المسلمین کا سیاسی جدوجہد میں شرکت کرنا، مذہبی اور دینی اجتماعات جیسے نماز جمعہ کا وسیع پیمانے پر انعقاد، اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا جانا اور ایسی ہی بے شمار دوسری نشانیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امت مسلمہ میں جنم لینے والی اسلامی بیداری کی یہ موج معاشرے سے سیکولرزم کو حذف کر کے حقیقی اسلامی تشخص کی جانب بازگشت کی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔

۳۔ اسلامی بیداری کی تحریک کی تیسری خصوصیت مغربی تسلط سے چھٹکارا پانے میں انقلاب اسلامی ایران کی پیروی ہے۔ اسلامی بیداری کی تحریک درحقیقت استکبار ستیز اور امریکہ اور اسرائیل مخالف ہے۔ خطے میں اسلامی بیداری کی تحریک کے آغاز سے ہی مسئلہ فلسطین بھی ایک بار پھر زندہ ہو گیا اور عالم اسلام کے بدن پر یہ پرانا زخم پھر سے تازہ ہونے کے بعد اس سے خون رسنا شروع ہو گیا۔ اسلامی بیداری کی برکت سے مسلمان اقوام میں ایک بار پھر قبلہ اول اور بیت المقدس کی آزادی کی امید مستحکم ہو گئی۔ خطے میں جنم لینے والی انقلابی تحریکوں میں نہ صرف اندرونی آمریت اور عالمی استعماری قوتوں کے تسلط سے رہائی پر زور دیا گیا بلکہ ساتھ ہی ساتھ قبلہ اول مسلمین کی اسرائیل کی غاصب صہیونیستی
رژیم کے پنجوں سے آزادی کو بھی مدنظر قرار دیا گیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مصر جو ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے دور میں اسرائیل کے اسٹریٹجک اتحادیوں میں شمار کیا جاتا تھا اور حزب اللہ لبنان کے خلاف اسرائیل کی جانب سے تھونپی گئی ۲۲ روزہ جنگ کے دوران اس کے ساتھ انتہائی قریبی تعاون کرتا رہا تھا، انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد اسرائیل کے مقابلے میں آ کھڑا ہوتا ہے۔ لہذا اسلامی بیداری کی تیسری موج کی چند اہم اور بڑی خصوصیات جیسے اسلامی رنگ، استکبار ستیزی، آمریت ستیزی اور طاغوت سے مبارزہ طلبی نے اسے جدید دور میں اسلامی بیداری کی ایک بڑی موج میں تبدیل کر دیا ہے۔

اسلامی بیداری کی تیسری موج سے حاصل ثمرات:
۱۔ معاشرے میں اسلام اور قرآن کا احیاء اور جمہوری طریقہ کار کو پہلی ترجیح حاصل ہونا۔
۲۔ اسلامی تفکر اور سوچ کی بھرپور صلاحیتوں اور توانائیوں کا منظرعام پر آنا۔
۳۔ دین اور سیاست کا ایک دوسرے سے جدا نہ ہونے پر تاکید پانا۔
۴۔ اقتصادی اور اجتماعی مسائل و مشکلات کی جانب توجہ۔
۵۔ اسلامی شریعت اور وظائف کی انجام دھی پر زور دینا۔

آج جب دنیا یر حکمرانی کے دعوے دار مغربی نظام یعنی لبرل ڈیموکریسی اور سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام شدید بحران سے روبرو ہے، اسلامی بیداری کی تیسری موج کے اثرات کی شدت توقع سے کہیں زیادہ ظاہر ہوئی ہے۔ اسلامی بیداری کی تحریک کے اثرات صرف مشرق وسطی اور عالم اسلام تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ خود مغربی دنیا میں بھی سرمایہ دارانہ ظالمانہ نظام کے خلاف اور عدالت خواہی کے حق میں تحریکیں جنم لینے کا باعث بنے ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال امریکہ میں جنم لینے والی "وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک" ہے جس میں امریکہ کی ۹۹ فیصد عوام وہاں پر موجود ۱ فیصد ظالم سرمایہ دار طبقے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ مشرق وسطی کے اسلامی ممالک میں سرمایہ دارانہ حکومتوں اور نظاموں کے خلاف جنم لینے والی انقلابی تحریکیں درحقیقت اسلامی بیداری کی ایک نئی موج شمار کی جاتی ہے جو ان ممالک میں پائے جانے والے اقتصادی بحران، غیرعادلانہ طبقانی نظام کی موجودگی، حکمرانوں کی بے انصافی اور عالمی استعماری قوتوں کی نوکری کے خلاف ایک عوامی ردعمل ہے۔

جس طرح اسلامی بیداری کی پہلی موج نے اسلامی بیداری کی دوسری موج کے جنم لینے کا زمینہ فراہم کیا بالکل اسی طرح اسلامی بیداری کی دوسری موج نے اسلامی بیداری کی تیسری موج کے جنم لینے میں انتہائی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی بیداری کی تیسری موج کا رول ماڈل انقلابی اسلامی ایران ہے۔ انقلابی اسلامی ایران کی کامیابی کے نتیجے میں ایران میں تشکیل پانے والا اسلامی جمہوری نظام پوری اسلامی دنیا کیلئے بہترین ماڈل ہے۔ خطے میں جنم لینے والی حالیہ انقلاب تحریکیں اسی رول ماڈل کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ اسلامی جمہوری نظام ہی وہ آئیڈیل نظام ہے جو اسلام کی نشاہ ثانیہ اور عظیم اسلامی تہذیب و تمدن کے احیاء کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔ اسلامی بیداری کی تیسری موج درحقیقت عظیم اسلامی تہذیب و تمدن کے قیام کیلئے کوشاں ہے۔

یہاں اس نکتے کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلامی بیداری کی تینوں امواج کے جنم لینے کے دوران عالمی استعماری قوتوں کی جانب سے اس کے مقابلے میں بعض منحرف اور جعلی تحریکیں بھی معرض وجود میں لائی گئیں اور انہیں اسلامی بیداری کا نام بھی دیا گیا۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی بیداری کی پہلی موج کے جنم لینے کے بعد بوڑھے استعمار برطانیہ کی جانب سے حجاز میں وہابیت اور ایران میں بھائیت جیسے منحوس اور ناپاک درختوں کے بیج بوئے گئے۔ اگرچہ ایران میں بزرگ شیعہ فقہاء کی موجودگی اور جدوجہد کی برکت سے بھائیت کا درخت زیادہ پروان نہ چڑھ پایا لیکن وہابیت کے درخت نے حجاز سے نکل کر اکثر عرب ممالک اور برصغیر پاک و ہند کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے منحوس اور شیطانی اثرات آج ہم اسلامی دنیا میں فرقہ واریت اور قتل و غارت اور دہشت گردی کی صورت میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح اسلامی بیداری کی دوسری موج یعنی انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی پشت پناہی سے سعودی عرب میں جھوٹی مہدویت کا دعویدار التیجانی کی تحریک رونما ہوتی ہے اور اسی طرح مصر اور دوسرے اسلامی ممالک میں جماعہ المسلمین، التکفیر اور الھجرہ جیسی مسلحانہ تحریکیں معرض وجود میں لائی جاتی ہیں تاکہ ان کی مدد سے انقلاب اسلامی ایران کو بھی بدنام کیا جا سکے۔

بالکل اسی طرح آج جب اسلامی بیداری کی تیسری موج معرض وجود میں آئی ہے تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ شیطان بزرگ امریکہ اور دنیا اور خطے میں اس کے چیلے شیطانوں کی جانب سے تکفیری دہشت گرد گروہوں کی صورت میں ایک نام نہاد "جہادی تحریک" معرض وجود میں لائی گئی ہے اور اس پر طرح طرح کے نام جیسے "عرب اسپرنگ" وغیرہ کی اسٹکرز چپکائی گئی ہیں۔ اگر کہا جائے کہ ان احمق اور بے وقوف تکفیریوں نے جتنا عالم اسلام کو نقصان پہنچایا ہے اتنا اسلام کے حقیقی دشمنوں یعنی امریکہ اور اسرائیل نے بھی نہیں پہنچایا تو بے جا نہ ہو گا۔

موجودہ عالمی حالات اور اسلامی دنیا کی صورتحال کے پیش نظر توقع کی جاتی ہے کہ اسلامی بیداری کی تیسری موج اپنے بنیادی عناصر جیسے اسلام خواہی، اتحاد اور وحدت اسلامی اور استکبار ستیزی کو حفظ کرتے ہوئے انقلاب اسلامی ایران اور امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی انقلابی جدوجہد اور ان کے اسلامی و انقلابی افکار کو اپنا رول ماڈل بناتے ہوئے اپنے راستے پر ثابت قدم رہے گی اور خدا پر توکل کرتے ہوئے اور اس کی نصرت پر ایمان رکھتے ہوئے آگے کی جانب قدم بڑھاتی رہے گی۔ خدا کرے اس اسلامی بیداری کی برکت سے ہم ایک دن حقیقی اسلام کی کامیابی اور شیطان بزرگ اور اس کے چیلوں کی ناکامی کا نظارہ کر سکیں۔ آمین۔
خبر کا کوڈ : 366016
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے