2
1
Saturday 7 Feb 2015 19:52

یمن کی حرکت انصاراللہ کی ایک اور کامیابی

یمن کی حرکت انصاراللہ کی ایک اور کامیابی
تحریر: عرفان علی

آج جب جمہوری اسلامی ایران میں انقلاب اسلامی کی 36ویں سالگرہ کی مناسبت سے عشرہ فجر دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے تو سرزمین مقدس اویس قرنیؓ یمن سے بھی انقلابیوں کی کامیابی کی نوید سنائی دے رہی ہے۔ اس موقع پر رزمندگان اسلام ناب محمدی، جماران کے مکین اور بہشت زہراء میں خاک نشین، خلد میں محو استراحت امام خمینیؒ کے حرم مطہر پر امام زمان (عج) کے بسیج اور نائب مہدی (عج) رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای کی حاضری ایک کامیاب امت اور کامیاب قائد کی حاضری کہی جانی چاہئے۔ بانی انقلاب نے جو برنامہ ترتیب دیا تھا، امت مرحومہ کی اسلامی سیاسی بیداری کے جس سلسلے کی داغ بیل انہوں نے ڈالی تھی، اور جس کو احسن طریقے سے امام خامنہ ای آگے بڑھاتے رہے، آج اس کے اثرات و ثمرات کا مشاہدہ پوری دنیا کر رہی ہے۔ دشمنوں کی جانب سے امت حزب اللہ کی کامیابی اور اپنے اہداف کے حصول میں ناکامی کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔

امام خمینی نے اپنی زندگی ہی میں لبنان کی حزب اللہ کی بعض کامیابیوں کی جھلک دیکھ لی تھی۔ لیکن آج یمن کی حرکت انصار اللہ دنیا کے استکبار شکن قائد امام خامنہ ای کی زندگی میں انقلاب کے پیچیدہ مراحل کو کامیابی سے اس کے منطقی انجام کی طرف لے جا رہی ہے۔ آج بحرین کے شیعہ مسلمان اور ان کے سنی اتحادی امریکی اتحادی بادشاہت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لئے میدان عمل میں حاضر ہیں۔ شام و لبنان میں حزب اللہ اور قدس فورس بیک وقت دنیا بھر کی تکفیری قوتوں اور ان کے آقاؤں کا غرور خاک میں ملا رہے ہیں۔ حزب اللہ کا میزائل صہیونی قابض دہشت گرد فوج کو جبل الشیخ سے فرار پر مجبور کرچکا ہے۔ عراق کے سنی عرب اور کرد بھی خمینی بت شکن کی خواہش پر قائم کی گئی قدس فورس کے سربراہ حاج قاسم سلیمانی کے گیت گا رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ شیعہ اسلامی انقلاب کا ڈنکا چہار سو بج رہا ہے۔

یمن کے شیعہ زیدیوں کی انقلابی تحریک انصار اللہ کو حوثی تحریک کے نام سے بھی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شناخت کیا جاتا ہے۔ ماہ ستمبر 2014ء سے حرکت انصار اللہ یمن کے سیاسی و مقاومتی انقلابی منظر نامے میں قیادت کا کردار ادا کرتی نظر آرہی ہے۔ ماضی میں شمالی یمن کے صوبہ صعدہ تک محدود تصور کی جانے والی اس تحریک نے شمال کے دیگر صوبوں خاص طور پر ال عمران میں بھی جگہ بنائی اور اب یہ شمالی صوبوں سے مغربی اور مشرقی صوبوں تک پھیل چکی ہے، حتیٰ کہ جنوب کے بھی بعض علاقوں میں اسے پذیرائی حاصل ہوچکی ہے۔ نیا سال یمن کے زیدی شیعوں کے قائدانہ کردار کے ساتھ شروع ہوا ہے۔

غیر نمائندہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے چیف آف اسٹاف احمد عواد بن مبارک کو گرفتار کرکے حرکت انصاراللہ نے وضاحت کی کہ ستمبر 2014ء میں کئے گئے معاہدے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اسے گرفت میں لیا گیا تھا اور سیاسی ٹرانزیشن میں تعطل کا ذمے دار بھی یہی احمد عواد تھا۔ دباؤ کا یہ طریقہ بھی کارگر ثابت نہیں ہوا تو دارالحکومت صنعا میں ایوان صدر کو گھیرے میں لے لیا۔ حرکت انصار اللہ کے مشیر صالح ال صمد سے مذاکرات میں صدر نے شرائط تسلیم کرنے کے ساتھ استعفٰی کا بھی اعلان کیا۔ اسی روز غیر نمائندہ نگران حکومت کے وزیراعظم خالد ال بحاح نے اپنا اور پوری کابینہ کا استعفٰی بھی پیش کر دیا۔ لیکن غیر نمائندہ پارلیمنٹ نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا تو انصار اللہ کے حامیوں نے پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرلیا۔

فروری کے آغاز میں ہی یمن کے حوثی انقلابیوں نے احتجاج کے فیصلہ کن مرحلے کا آغاز کیا، قومی مفاہمت کے لئے کانفرنس بلائی اور حکومت کو تین دن کی مہلت دی کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے چار مطالبات پر فوری عمل کرے۔ جب حکومت ناکام ہوئی تو اقوام متحدہ کے نمائندہ کے تحت یمن کی جماعتوں کی اکثریت نے ایک عبوری صدارتی کاؤنسل کے ذریعے ملک کا نظم و نسق چلانے پر اتفاق کرلیا۔ الاصلاح جس نے انصار اللہ سے امن معاہدہ کر رکھا ہے، اس سے اتفاق نہیں کیا لیکن قاطع اکثریت نے اس تجویز کو منظور کرلیا۔ البتہ یہ مجوزہ صدارتی کاؤنسل بھی 551 رکنی عبوری قومی کاؤنسل کے ذریعے منتخب کردہ افراد پر مشتمل ہوگی۔ پارلیمنٹ تحلیل اور دو سال کی عبوری مدت کے لئے یہ قومی کاؤنسل یمن کے پرامن سیاسی ٹرانزیشن کے مرحلے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔ سارے اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل عبوری قومی کاؤنسل اور 5 رکنی صدارتی کاؤنسل کے ذریعے یمن میں مثبت جمہوری تبدیلی کا منصوبہ حرکت انصار اللہ کی پرامن سیاسی و جمہوری سوچ کی نشاندہی کرتا ہے۔

پہلے اسے نجات (سالویشن) کاؤنسل کے عنوان سے یاد کیا گیا تھا، لیکن اب غیر متنازعہ اور سب کی شراکت داری پر مبنی نگران حکمران کاؤنسل قائم ہوگی۔ انصار اللہ کے قائد سید عبدالملک ال حوثی نے کہا کہ یمن کا انقلاب ایک درست، ذمے دار اور بیدار انقلاب ہے اور عوام سازشوں کو ناکام بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے جنوبی یمن کے عوام کو اپنا بھائی قرار دیا اور یقین دلایا کہ حقوق کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ القاعدہ سمیت بعض تکفیری دہشت گرد گروہ یمن میں بھی دہشت گردی کر رہے ہیں، لیکن انصار اللہ بتدریج صوبوں کو ان کے کنٹرول سے آزاد کروانے میں کامیاب مقاومت میں مصروف ہے۔

کہا جاسکتا ہے کہ سرزمین حضرت سلمان فارسیؓ سے انقلاب اسلامی کا جو نیا سورج طلوع ہوا تھا اور جس کی کرنوں نے سرزمین حضرت ابوذرؓ لبنان و فلسطین میں نئے انداز کی مسلح مقاومت کی سرپرستی کی، اب سرزمین حضرت اویس قرنیؓ میں بھی اس کی روشنی سے اسلام و مسلمین فیضیاب ہو رہے ہیں۔ انقلاب اسلامی کی 36ویں سالگرہ کا سورج اس پیغام کے ساتھ افق پر نمودار ہو رہا ہے۔ علامہ اقبال نے تہران کو عالم مشرق کا جنیوا یوں ہی نہیں کہا تھا بلکہ اسے کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بھی سمجھا تھا۔ آج تہران اقبالیات کے کشکول میں موجود اس شعر کا مصداق نظر آتا ہے۔ اس خوشگوار انسانیت دوست و اسلام دوست انقلابی تبدیلی سے انکار ممکن نہیں۔ ہمیں ناقدین کو اقبالؒ کے الفاظ سنانے ہوں گے:
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!
خبر کا کوڈ : 438285
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Ghulam Abbas Kazmi
Pakistan
World will shortly observe the flag of Islamist hosted all over Insha Allah
Irfan
Pakistan
Insha Allah