0
Saturday 28 Feb 2015 22:54

گلگت بلتستان انتخابات میں تحریک انصاف کی سیاسی انگڑائیاں اور مسلم لیگ نواز کی سردمہریاں

گلگت بلتستان انتخابات میں تحریک انصاف کی سیاسی انگڑائیاں اور مسلم  لیگ نواز کی سردمہریاں
رپورٹ: میثم بلتی
گلگت بلتستان میں انتخابات کی تیاری کے ساتھ ہی تحریک انصاف کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے اندیشے بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مسلم لیگ (ن) پر دوبارہ انگلی اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومتی جماعت نے گلگت بلتستان میں انتخابی دھاندلی کا اہتمام شروع کر دیا ہے۔ عمران خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں قبل از انتخابات مبینہ دھاندلی کی شدید مذمت کی اور گورنر سمیت نگران حکومت کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ انہوں نے نواز شریف کو خبردار کیا کہ وہ جو مرضی کر لیں، وہ نہ صرف گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا الیکشن جیت کر دکھائیں گے بلکہ اگلے عام انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کریں گے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ کسی صورت متنازعہ انتخابات کے انعقاد کی اجازت نہیں دیں گے، انہوں نے آئینی ترمیم کے ذریعے سینیٹ انتخابات کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کی خواہش ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری ختم کی جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ نواز کو مئی 2013ء میں ہونے والے انتخابات کی شفافیت پر یقین ہے تو عدالتی کمیشن قائم کرے اور اگر وفاقی حکومت عدالتی کمیشن قائم نہیں کرتی تو بھی دھاندلی کے ناقابل تردید شواہد قوم کے سامنے آئیں گے۔ اس وقت کا تو شدت سے انتظار ہے جب ایسے ثبوت قوم کے سامنے آ جائیں اور دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے۔ عمران خان کی پریس کانفرنس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے بھی اپنا رد عمل پیش کرنے کے لئے جوابی پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے عمران خان کے الزامات کو رد تو کیا ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ عمران خان پر لفظوں کے تیر بھی خوب برسائے۔ یہ بات البتہ اہم ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سینٹ کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری ختم کرنے کے لئے آئینی ترمیم کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ2013 ء کے عام انتخابات میں گلگت بلتستان کا درجہ کسی سیاسی جماعت کے منشور کا حصہ نہیں تھا لیکن اب ہر جماعت وہاں اپنی سیاست خوب چمکا رہی ہے، وہ یہاں اپنی سیاسی برتری ثابت کرنے کا یہ نادر موقع کھونا نہیں چاہتی۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت چوہدری برجیس طاہر کو گلگت بلتستان کا گورنر لگائے جانے پر بھی تحریک انصاف سخت برہم ہے، ساتھ ہی نگران وزیراعلٰی اور چیف الیکشن کمشنر کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور اسے مسلم لیگ کی بددیانتی گردان رہی ہے۔ اس کے برعکس چوہدری برجیس طاہر کا موقف ہے کہ ان کی آئینی حیثیت ایسی نہیں ہے کہ وہ وہاں انتخابی معاملات میں کسی بھی قسم کی کوئی مداخلت کر سکی ، وہ تو یقین دہانی بھی کرا رہے ہیں کہ وہاں انتخابی عمل شفاف اور دھاندلی سے پاک ہوگا۔ گلگت بلتستان اپنے انتظامی امور کو چلانے میں آزاد ہے، وہاں انتخابات میں دھاندلی کا معاملہ آئینی بحث سے قطع نظر سیاسی معاملہ زیادہ ہے، اسے سیاسی انداز میں حل کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ بات یاد رہے کہ گلگت بلتستان کو ایک انتظامی حکم کے ذریعے صوبائی درجہ دیا گیا ہے، اسے پاکستان کا ایک باقاعدہ آئینی صوبہ قرار نہیں دیا گیا، اس لئے اس کے امور کی کسی دوسرے صوبے سے مماثلت تلاش نہیں کی جانی چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی جماعت ہے، اس کے جذبات و احساسات اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، ابھی حال ہی میں مختلف سیاسی جماعتوں میں اپنا کردار نبھانے والے آزاد کشمیر کے پچاس سے زائد سیاستدانوں نے اس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ سیاستدان تحریک انصاف کی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، فی الحال تو یوں لگ رہا ہے کہ پرانے شکاریوں کو نیا جال میسر آ گیا ہے۔ پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ پرانے سیاسی کھلاڑی نیا پاکستان بنانے میں کتنے معاون ثابت ہو سکیں گے؟ بہر حال اس سے قطع نظر یہ بات تو طے ہے کہ تحریک انصاف کا حجم بڑھ گیا ہے۔ تحریک انصاف کے گلے شکوے یکسر بے بنیاد نہیں ہیں، انہیں دور کرنا حکومت کے لئے آئینی فریضہ نہ سہی لیکن اخلاقی ذمہ داری تو ہے۔ انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور و غوغا مچا کر انہیں آلودہ کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ ان معاملات کو پہلے ہی مل بیٹھ کر سلجھا لیا جائے۔ تمام سیاستدانوں کو اب تو یہ بات سمجھ آ جانی چاہئے کہ بیان بازی اور شکوہ، جواب شکوہ صرف وقت گزارنے کے اسباب ہیں، اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ معاملات کو درست سمت میں آگے بڑھانے ہی میں سب کی بھلائی ہے۔
خبر کا کوڈ : 443515
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے