0
Monday 16 Mar 2015 15:50

ایران کی نظر میں موجودہ بین الاقوامی نظام ناقابل قبول کیوں؟

ایران کی نظر میں موجودہ بین الاقوامی نظام ناقابل قبول کیوں؟
تحریر: حمید رضا منتظری

موجودہ بین الاقوامی نظام، جس کی بنیاد طاقت محوری اور سیکولرازم پر استوار ہے، عدالت محور نقطہ نظر سے عاری ہے۔ جبکہ عدالت پسندی انسان کا فطری مطالبہ ہے اور جو بین الاقوامی نظام عالمی سطح پر عدالت برقرار کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، آخرکار زوال اور نابودی کا شکار ہو جائے گا۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لے کر آج تک، گذشتہ تین عشروں کے دوران، ایران نے عدالت محوری کو اپنی خارجہ سیاست کی بنیاد بناتے ہوئے موجودہ غیرمنصفانہ عالمی نظام کے سامنے صدائے احتجاج بلند کر رکھی ہے اور اس عرصے میں دنیا والوں پر ثابت کیا ہے کہ عالمی سطح پر موجود طاقت کے بلاکس کا حصہ بنے بغیر اپنی ہمت اور طاقت کے بل بوتے پر ایک تیسرا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے اور درپیش مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنی قومی خودمختاری اور تشخص کی حفاظت کرتے ہوئے باہر کی دنیا سے دوطرفہ رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے، اور اس طرح اس نظریے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے جس کے مطابق عالمی طاقتوں میں سے کسی ایک کی چھتری تلے آئے بغیر سیاسی بقاء کو محال قرار دیا جاتا ہے۔ موجودہ غیرمنصفانہ عالمی نظام کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کے تناظر میں ایران کی نظر میں عالمی اور علاقائی سطح پر مطلوبہ اور پسندیدہ نظام کا جائزہ لیں گے۔
 
 الف)۔ عالمی سطح:
بین الاقوامی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کا مطلوبہ نظام ایک ایسا نظام ہے جو اسلامی، غیر سیکولر، اخلاق پر مبنی اور عادلانہ ہو اور اس میں تمام بشریت کو سعادت اور ترقی کی منزلوں تک پہنچانے کی صلاحیت پائی جاتی ہو۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں عالمی برادری کو ایک مشترکہ سمجھ بوجھ تک پہنچنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں تمام اقوام ایکدوسرے کا احترام کرنے لگیں اور یہ امر عالمی امن اور تعاون کے تحقق کی بنیادی شرط ہے۔ ایران ایسے عالمی نظام کے خلاف ہے جس میں چند ایک طاقتور ممالک کو تمام اختیارات سونپ دیے جائیں اور دنیا کے باقی ممالک انہیں کے مفادات کو مدنظر قرار دیتے ہوئے ان کے حصول کیلئے کوشاں رہیں۔ لہذا ایران کے مطلوبہ بین الاقوامی نظام کی تشکیل کیلئے عالمی سطح پر موجود ڈھانچے میں بنیادی مادی اور غیرمادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ یہ سماجی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی ڈھانچے اور ادارے ہیں جو عالمی طاقتوں کے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے اقدامات انجام دیتے ہیں اور دنیا کے دوسرے ممالک اور قوموں کا خون چوسنے کیلئے ان کے ہاتھ میں ایک ہتھکنڈے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ 
 
پس، اس نقطہ نظر کی روشنی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کی ڈاکٹرائن میں موجود عدالت محوری کا اصول، موجودہ غیرمنصفانہ عالمی نظام میں موجود طاقت محوری کے اصول کے مقابل قرار پاتا ہے۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے کہ حقیقت پسندی پر مبنی نظریے کی بنیاد پر بین الاقوامی نظام کا استحکام، موجودہ صورتحال کی حفاظت اور بین الاقوامی نظام کی مخالف قوتوں کو کنٹرول کرنے میں مضمر ہے۔ جبکہ انقلاب اسلامی ایران کی تعلیمات اور اصولوں کے مطابق موجودہ صورتحال کی حفاظت بذات خود عدم استحکام ہے اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی بدامنی اور شدت پسندی کی بنیادی وجہ عالمی طاقتوں کی جانب سے طاقت پر مبنی سیاست اور طاقت کے حصول کیلئے کھیلے جانے والے کھیل ہیں جن کا اصل ہدف کمزور اور محروم اقوام پر اپنا تسلط قائم کرنا اور ترقی یافتہ ممالک پر تیسری دنیا کے ممالک یا ترقی پذیر ممالک کے انحصار کو مزید شدت بخشنا ہے۔ 
 
انقلاب اسلامی ایران، بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ان نظریوں کی تقویت کا باعث بنا ہے جو عالمی استحکام کو موجودہ بین الاقوامی نظام کی حفاظت کی بجائے اس میں بنیادی تبدیلیاں اور اصلاحات ایجاد کرنے میں جستجو کرتے ہیں۔ ایسی اصلاحات جن کے نتیجے میں ایک مستحکم اور پائدار فضا میں دنیا کے تمام ممالک اور اقوام کو عالمی ایشوز میں مناسب کردار ادا کرنے کا موقع فراہم ہو سکے۔ کلی طور پر یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مطلوبہ بین الاقوامی نظام، عالمی سیکورٹی سسٹم کے بارے میں اصلاح پسندانہ نقطہ نظر پر استوار ہے اور علاقائی سیکورٹی سسٹم کو عالمی سیکورٹی سسٹم کے مقابلے میں پیش کرنا چاہتا ہے اور اس طرح خطے میں موجود طاقت کی شطرنج سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو حذف کرنے کے درپے ہے۔ 
 
ب)۔ علاقائی سطح:
اسلامی جمہوریہ ایران نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے ہی علاقائی سطح کی موجودہ غیرمنصفانہ صورتحال کو تبدیل کرنے اور خطے کے اسلامی ممالک کی خودمختاری پر زور دیا ہے اور انہیں آزادانہ فیصلے کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ اسی طرح اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے خود کو خطے کی طاقت میں تبدیل کرنے اور عالم اسلام کیلئے فکری و نظریاتی بنیادیں فراہم کرنے پر مبنی ہدف کی تکمیل کیلئے موثر اقدامات انجام دیے ہیں۔ حقیقت پر مبنی تجزیے کی روشنی میں یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ مغربی ایشیا کے خطے میں ایران کے دو حلیف ممالک کے طور پر سعودی عرب اور ترکی، موجودہ بین الاقوامی نظام کو قبول کر چکے ہیں اور اس سے مقابلے یا اس میں تبدیلی لانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ لیکن ایران موجودہ عالمی نظام کو غیرمنصفانہ قرار دیتا ہے اور اس بنا پر انرجی کے عظیم ذخائر کا مالک، جمہوری حکومت سے برخوردار اور خطے کے ممالک میں نظریاتی اثرورسوخ کا حامل ہونے کے ناطے خطے میں امریکی اثرورسوخ کو چیلنج کر چکا ہے لہذا ایران اس وقت خطے میں امریکہ کی استکباری اور آمرانہ پالیسیوں کی راہ میں اہم ترین رکاوٹ بن چکا ہے۔ 
 
دوسری طرف 11 ستمبر 2001ء کے بعد اور افغانستان اور عراق پر امریکی قبضے سے پیدا شدہ صورتحال اور خطے میں جنم لینے والے اس کے اثرات کے نتیجے میں علاقائی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کے کردار میں تبدیلی آ گئی اور یہ امر مغربی ایشیائی خطے میں عالمی طاقتوں کی جانب سے روایتی انداز میں طاقت کا توازن پیدا کرنے کی راہ میں ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا۔ اسی طرح یہ امور خطے میں ایران کے اصلی حلیفوں میں شمار ہونے والے ملک سعودی عرب کی جانب سے روز بروز اسلامی دنیا میں اپنا اسٹریٹجک مقام اور اہمیت کھو دینے کا باعث بنے جس کے نتیجے میں ایران کی علاقائی طاقت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس کے بعد مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے مسلمان عرب ممالک میں اسلامی بیداری کی موج کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلیوں اور شام اور عراق میں دہشت گردی کی لہر کے بارے میں ایران نے انتہائی معقول اور مناسب پالیسیاں اختیار کیں اور اپنی عدالت محور خارجہ سیاست کی بدولت علاقائی اور عالمی طاقتوں کی اعلانیہ اور ڈھکے چھپے مخالفت کے باوجود خود کو مغربی ایشیائی خطے کے ایک اہم اور اثرگزار کھلاڑی کے طور پر متعارف کروانے میں کامیاب ہو گیا۔ 
 
مختصر یہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور مغربی ایشیائی خطے میں اس کے اتحادیوں کا مطلوبہ علاقائی نظام، چند جہتی، اصلاح پسندانہ، امریکہ مخالف، خطے سے امریکی انخلاء کے طالب اور مسئلہ فلسطین اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے حامی اجتماعی انتظام پر مشتمل ہے۔ ظلم دشمنی، استکبار دشمنی اور عدالت محوری پر مبنی انقلاب اسلامی ایران کا فکری ڈھانچہ نہ فقط موجودہ بین الاقوامی نظام کو پسندیدہ اور موزوں نہیں سمجھتا بلکہ اسے بشری معاشرے کیلئے نقصان دہ تصور کرتا ہے جو انسانوں کو روحانیت سے دور اور صرف مادیات میں ہی غرق کر دینے کا باعث بن رہا ہے۔ لہذا اسلامی انقلاب ماورائے فکری، ساختی، قدری اور اداری جہتوں سے موجودہ عالمی نظام کو اپنی فکری و نظری بنیادوں اور ڈھانچے کے خلاف پاتا ہے اور اسی وجہ سے اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہوا ہے اور اسے شدید مشکلات سے دچار کر دیا ہے۔ سرد جنگ کے دوران اور دو قطبی نظام کے زوال کے بعد پایا جانے والا عالمی نظام انقلاب اسلامی ایران کے اہداف و مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی نہیں رکھتا اور ایران کا مطلوبہ بین الاقوامی نظام ایک ایسا نظام ہے جو عدالت محور ہو اور تمام انسانوں کے مساوی حقوق اور حاکمیت پر تاکید کرتا ہو۔ 
 
اسلامی جمہوریہ ایران کا مطلوبہ عالمی نظام، اقتصادی، سیاسی، اعتقادی اور فوجی امتیازی سلوک سے عاری اور عالمی عدالت پر استوار نظام ہے جو صرف اور صرف انسان کی اجتماعی زندگی کے تمام پہلووں اور پوری دنیا پر الوہی قوانین کی حاکمیت کی صورت میں ہی تحقق پا سکتا ہے۔ لہذا دو قطبی نظام کے زوال کے بعد انقلاب اسلامی ایران اپنے اعتقادی اور انقلابی اصولوں کی بنا پر ایک قطبی عالمی نظام کی تشکیل کو ہر گز قبول نہیں کر سکتا تھا۔ ایسا ایک قطبی عالمی نظام جو طاقت محور اور حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کے ذریعے دنیا کی دوسری مظلوم اقوام پر اپنے مطالبات ٹھونسنے کے درپے تھا اور اس کی نظر میں اخلاق اور عدالت کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہ تھی۔ خاص طور پر اس وقت جب یہ عالمی نظام اپنی گذشتہ امتیازی سوچ اور رویوں کو اس بار زیادہ طاقت کے ساتھ دنیا پر عائد کر دینا چاہتا تھا۔  اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ 35 برس کے دوران آزادانہ اور خودمختارانہ راستہ اپنا کر تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنے قومی تشخص اور خودمختاری کی بخوبی حفاظت کی ہے اور کامیابی کے ساتھ اس قانون کہ زندگی کی بقا کیلئے عالمی طاقتوں میں سے کسی ایک کے سائے تلے جانا ضروری ہے کو باطل ثابت کر دیا ہے۔ 
خبر کا کوڈ : 447875
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے