1
Tuesday 17 Mar 2015 16:59

دہشت گرد بمقابلہ امریکا، فکسڈ میچ کی طویل اننگ (1)

دہشت گرد بمقابلہ امریکا، فکسڈ میچ کی طویل اننگ (1)
تحریر : عرفان علی

امریکی فتنہ داعش کے پھیلاؤ کے اسباب: آپ گواہی دیں گے کہ پچھلے سال سے ماضی قریب تک اس موضوع پر اتنا لکھ چکا ہوں کہ اب یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ یہ صرف امریکی ہی نہیں بلکہ صہیونی، امریکی و مغربی ممالک کی مثلث اور ان کے اتحادی بعض مسلم حکمرانوں کا ایجاد کردہ فتنہ ہے۔ مسلم اتحادیوں سے مراد امت اسلام کے خائن عرب بادشاہ اور ترک حکمران ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کریں۔ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں اب عراق، شام اور لبنان میں شکست کے بعد مصر اور لیبیا میں داعش کا وائرس پہنچا دیا گیا ہے۔ اردن کا پائلٹ قتل ہوگیا لیکن اردن کی چنی منی بادشاہت کہتی ہے کہ داعش پر زمینی جنگ نہیں کریں گے۔ ترک عدالت میں چلنے والے مقدمے کی فائل میں یہ حقیقت لکھی گئی کہ شام ترکی سرحد پر شامی علاقے کسب پر پچھلے سال داعش، القاعدہ، جبہۃ النصرہ اور ترک تکفیری گروہوں کا قبضہ کروانے کے لئے نہ صرف یہ کہ ان گروہوں کو ترک حکومت، انٹیلی جنس اور فوج نے ہر طرح کی مدد فراہم کی بلکہ خود ترک افواج نے شامی افواج پر فضائی بمباری اور شیلنگ بھی کی تھی۔کسب پر مارچ 2014ء میں تکفیریوں کا قبضہ شامی افواج نے چند ماہ بعد ختم کروادیا تھا۔

شام اردن فلسطین سرحد پر قنیطرہ صوبے میں شام کی افواج اور مراکز پر داعش و دیگر تکفیری دہشت گردوں کو اسرائیلی افواج نے ہر طرح کی مدد کی اور خود بھی شامی افواج پر حملے کئے۔ ان کو موبائل اسپتال اور کمیونیکیشن کے آلات بھی دیئے اور ان کے زخمیوں کو صہیونی زیر تسلط علاقے میں علاج معالجے کی سہولت بھی فراہم کی۔ لبنان شام کی سرحد پر وادی بقاع و طرابلس میں لبنان کی فوج اور حزب اللہ نے داعش سمیت دیگر تکفیری حملہ آور دہشت گردوں کو مار بھگایا۔ یہ سب عرب ذرائع ابلاغ اور عرب سمیت سارے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شایع ہوچکا ہے۔ اب اس سارے پس منظر کو نظر میں رکھتے ہوئے اس وائرس کو ایجاد کرنے والے صہیونیت زدہ امریکا و مغربی اتحاد اور ان کے اتحادی مسلم ممالک کی حکمت عملی پر غور فرمائیں۔ پچھلے سال جون میں داعش نے عراق کے موصل سمیت بعض علاقوں پرقبضہ کرلیا تھا اور امریکا مدد کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔ تب ہفنگٹن پوسٹ میں یہ رپورٹ آئی کہ عراقی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار نے امریکا سے کہا کہ وہ داعش سے نمٹنے کے لئے ایران سے مدد کی باضابطہ درخواست کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد امریکا نے ہمیشہ کی طرح کھوکھلے اور نمائشی اقدامات کا اعلان کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے عالمی اتحاد کا اعلان کردیا اور فضائی بمباری کا ڈرامہ رچایا گیا۔

کرد پیش مرگا اور عراق حکومت سبھی نے جب یہ دیکھا کہ امریکی اسلحہ اور اقوام متحدہ کی امداد سبھی کردوں کے بجائے داعش کے ہاتھوں تک پہنچائی جارہی ہے تو انہوں نے ایران سے مدد طلب کی اور قدس فورس کے حاج قاسم سلیمانی نے خود جاکر محاذ جنگ پر بیوی بچوں سمیت عراق کے مرد و خواتین کو تکفیریت کے چنگل سے رہائی دلوائی۔ ان کی عسکری مشاورت سے کئی علاقے داعش کے قبضے سے آزاد ہوئے۔ سامرہ میں حرمین مطہر عسکریہ کو دہشت گردی کے خطرے سے نجات دلائی۔ کردوں اور سنی عربوں نے ایران کا شکریہ ادا کیا۔ اب امریکی کانگریس دنیا کو بیوقوف بنانے کے لئے عالمی امداد داعش تک پہنچنے کی تحقیقات کی خبریں جاری کررہی ہے۔ اس صورتحال میں امریکی حکومت حکومت نے متشدد انتہاء پسندی کے خلاف 18، انیس اور 20 فروری 2015ء کو تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس 3 روزہ اجتماع کو سربراہی یا چوٹی کی وائٹ ہاؤس کانفرنس کا عنوان دیا گیا۔ لیکن اس کی تفصیلات سے محسوس ہوتا ہے کہ اس میں وائٹ ہاؤس سے زیادہ امریکی محکمہ خارجہ نے کردار ادا کیا۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے 19 فروری کو اسی کانفرنس کے وزارتی اجلاس میں جو خطاب کیا، اس میں کہا کہ 60 ممالک سے حکومتی اور سول سوسائٹی کی مدعو شدہ شخصیات اور وفود شریک ہیں۔ سارے بر اعظموں سے تعلق رکھنے والے شرکاء کے بارے میں کہا کہ ہم یہاں اس لئے جمع ہیں کہ متشدد انتہاپسندی اور دہشت گردی کے عذاب کے خلاف ہم سب متحد ہیں۔

قبل اس کے کہ اس کانفرنس کے بارے میں رائے پیش کی جائے، یہ ضروری ہے کہ ہم اس کی میزبان امریکی حکومت کا مائنڈ سیٹ سمجھیں کہ اس عنوان سے ان کی اصل مراد کیا ہے؟ متشدد انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے بارے میں انہوں نے عراق، شام، مصر، لیبیا میں داعش، القاعدہ گروہوں کی، نائیجیریا کی بوکوحرام اور صومالیہ میں الشباب، یمن اور افغانستان کے بارے میں میں القاعدہ کا نام لے کر تذکرہ کیا۔ اس خطے سے باہر انہوں نے کینیڈا میں اوٹاوہ، آسٹریلیا میں سڈنی، فرانس میں پیرس اور ڈنمارک میں کوپن ہیگن شہر میں جو حملے ہوئے ان کا بھی تذکرہ کیا۔ یاد رہے کہ یہ حملے فرانسیسی ہفت روزہ چارلی ہیبڈو میں توہین رسالت پر مبنی تضحیک آمیز کارٹون کی اشاعت اور اس کے بعد دیگر ممالک کے ذرائع ابلاغ میں اس کی تکرار کے بعد ہوئے اور خود مغربی حکومتوں اور ذرائع ابلاغ نے اسے رد عمل سمجھا لیکن توہین رسالت کرنے والوں کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

سب سے پہلے اس مسئلے کے پاکستانی پہلو پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ مسئلہ افغانستان سے یہاں داخل کروایا گیا۔ افغانستان میں کمیونسٹ سوویت یونین کے فوجی قبضے کے خلاف افغانی مسلمانوں کی قومی و اسلامی مزاحمت کو ہائی جیک کرنے کے لئے سرمایہ دارانہ نظام کے سرخیل امریکا کی قیادت میں اس کے اتحادی یورپی ممالک نے سعودی بادشاہ اور پاکستانی جرنیل ضیاء الحق کی غیر آئینی آمریت کو استعمال کیا۔ افغانی مسلمانوں کی قومی و اسلامی مزاحمت کو نیابتی جنگ میں تبدیل کرکے دنیا بھر میں متشدد انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو ایکسپورٹ کیا گیا۔ افغان مجاہدین کو تقسیم در تقسیم کرکے ان میں سے اپنی پسند کے افراد کو اس کام کے لئے چنا گیا۔ بعد ازاں اسی امریکی و اتحادی ایجنڈا کے تحت افغانستان میں طالبان کی حکومت مسلط کروائی گئی۔ بعض پاکستانی مدارس بھی استعمال ہوئے۔ پاکستان کے نامور سفارتکار ریاض خان نے پاکستان اور افغانستان پر ایک کتاب لکھی جو 2011ء میں شائع ہوئی اس میں طالبان کے قیام میں برطانوی و امریکی کردار کا واضح تذکرہ موجود ہے۔ امریکی کردار کے بارے میں پاکستان سفارتکار افتخار مرشد کی کتاب میں موجود حقائق سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امریکا اور ان کے درمیان روابط موجود تھے۔

امریکی صحافی جون کولے کی رحلت ہوچکی، ان کی کتاب ان ہولی وارز اور اسٹیو کول کی گھوسٹ وارز اور بن لادنز کے دقیق مطالعہ سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ جس متشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی پر امریکا و یورپ بظاہر سیخ پا نظر آتے ہیں، یہ ان کی اپنی ایجاد کردہ ہے اور شام کی حکومت کے خلاف اعلانیہ دہشت گردوں کو ماڈریٹ قرار دے کر ان کی مدد کی جارہی ہے۔ عراق میں ابو مصعب الزرقاوی افغانستان سے ہی گیا تھا۔ ابو مصعب الزرقاوی اور اس کے دوستوں ہی نے داعش ایجاد کی تھی۔ امریکی سینیٹر رینڈ پال نے داعش کو امریکا کی جانب سے مسلح کئے جانے کا انکشاف سی این این کے پروگرام میں کیا تھا۔ یمن میں حرکت انصار اللہ نے القاعدہ کو کچلنا شروع کیا تو امریکا اور اس کے اتحادی عرب ممالک نے سیاسی و سفارتی بحران ایجاد کردیا ہے۔ امریکا کے اتحادی غیر نمائندہ عبوری صدر جو استعفیٰ بھی دے چکے ہیں، وہ جنوبی یمن فرار کرگئے ہیں جہاں القاعدہ اور ان کے اتحادیوں کا کنٹرول ہے۔ ایک عام آدمی آج سال 2015ء میں بھی دیکھ سکتا ہے کہ عراق، اس کے بعد شام، لبنان، میں یہ دہشت گردی و متشدد انتہاء پسندی امریکا کے اتحادیوں کی اتحادی حکومت طالبان کے اتحادی دہشت گردوں کے ذریعے ہی پہنچی ہے۔

لیکن امریکی صدر نے افغان طالبان کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا۔ پاکستانی طالبان کے بارے میں صرف ایک جملے میں کہا کہ ایک طویل عرصے سے وہ پاکستانی عوام کے خلاف violence کی مہم چلارہے ہیں اور تازہ ترین اسکول کے بچوں اور خواتین کا قتل عام ہے۔ کیا افغانستان میں طالبان موجود نہیں؟ کیا پاکستانی طالبان افغان طالبان کا تسلسل نہیں؟ کیا وہ ملا عمر کی بیعت کا اعلان نہیں کرچکے؟ حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکی کانفرنس کے بارے میں پیٹر برجن کا تبصرہ سی این این پر آیا۔ یہ دہشت گردی پر اہم مبصر ہے اور اسامہ بن لادن کا سی این این کے لئے پہلا انٹرویو اسی نے 1997ء میں مشرقی افغانستان کی پہاڑیوں میں جاکر لیا تھا۔ اسامہ کی ہلاکت کے بعد مین ہنٹ کے عنوان سے کتاب بھی لکھی۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ امریکی حکومت کا euphemism ہے۔ یعنی ملائم پیرائے میں کی جانے والی ناخوشگوار بات یا با الفاظ دیگر سخت بات کو نرم بنا کر کہنا۔ انگریزی میں اس کا مفہوم ہے a word or phrase that is less expressive or direct

پیٹر برجن نے تو مختلف تحقیقی مقالوں اور رپورٹس کی بنیاد پر چند نکات بیان کرنے کی کوشش کی لیکن نادانستہ طور پر ان کی تحریر میں یہ ایک جملہ بھی آگیا کہ داعش کو جنم دینے والی اصل تنظیم القاعدہ تھی جس کا ہیڈ کوارٹر نائن الیون امریکی حملوں کے وقت افغانستان تھا۔ سی این این کے سیکیورٹی تجزیہ نگار برجن نے یہ بھی لکھا کہ یمنی نژاد امریکی شہری انور العولقی جو القاعدہ در خطہ عرب کا رہنما تھا، وہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کررہا تھا۔ اس کا باپ یمن حکومت میں وزیر رہ چکا تھا۔ اسامہ کا نائب ڈاکٹر ایمن الظواہری مصر کے جس خاندان سے تعلق رکھتا ہے وہ بھی مصری حکومت اور معاشرے میں اہم مقام کی حامل ہے، اس خاندان میں سفارتکار، سیاستدان اور علماء شامل ہیں۔ کیا مصر اور یمن کی حکومتیں امریکا کی اتحادی نہیں رہیں اور ان کے اہم خاندان امریکیوں کے آلہ کار نہیں رہے؟ کس کے دور حکومت میں ایمن الظواہری افغانستان آیا؟ کیا اخوان المسلمون کی حکومت تھی؟ نہیں بلکہ انور سادات اور اس کے بعد حسنی مبارک کی حکومت آئی۔ یہ ناجائز و جعلی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنے والی مصری حکمران تھے۔ یعنی فلسطینیوں کے دشمن اور اسرائیل کے حامی۔ یمن میں بھی امریکا اور سعودی عرب کی اتحادی حکومت تھی، اس حکومت کے کسی وزیر کا بیٹا امریکی شہری تبھی بن سکتا تھا جب امریکی حکومت اس پر مہربان ہو۔ القاعدہ اور طالبان کی حقیقت بھی دنیا پر آشکارا ہے۔

(جاری ہے)
خبر کا کوڈ : 448119
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش