0
Friday 3 Jul 2015 00:35

تیونس میں بڑھتی ہوئی تکفیریت اور ممکنہ راہ حل

تیونس میں بڑھتی ہوئی تکفیریت اور ممکنہ راہ حل
تحریر: حسن ابراہیم

تیونس براعظم افریقہ کا وہ مسلمان ملک ہے، جہاں ایک سبزی فروش شخص محمد بوعزیزی کی جانب سے آمرانہ حکومت کے خلاف اعتراض کے طور پر خود سوزی کے اقدام نے پورے مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں تہلکہ مچا دیا اور ان خطوں میں موجود ممالک میں سیاسی تبدیلیوں کا آغاز ہوگیا۔ لیکن اس وقت کوئی بھی سیاسی تجزیہ کار یہ پیشین گوئی نہیں کرسکتا تھا کہ خطے کے ممالک ان سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں تکفیریت کے پھیلاو جیسے بحران سے بھی روبرو ہوسکتے ہیں۔ تیونس بھی خطے کا ملک ہونے کے ناطے اس بحران سے نہ بچ سکا۔ یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ تیونس جیسا ملک جہاں کے جوانوں میں شرح خواندگی تمام ممالک سے زیادہ ہے، کیونکر تکفیری گروہوں کی پرورش کا مرکز بن گیا ہے؟ اور ایسے ملک میں جہاں تکفیری سوچ زیادہ رائج نہ تھی، کس وجہ سے اچانک ہی تکفیری دہشت گردانہ افکار میں زبردست اضافہ ہوگیا اور تکفیریت کا دیو ظاہر ہونے لگا؟ تیونس جیسا ملک جہاں چار سال کی جمہوریت کے بعد نئے انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں ہو رہی تھیں، ہمسایہ ممالک خاص طور پر لیبیا میں شدت پسند تکفیری عناصر کے پھیلاو کے بعد ان عناصر نے تیونس کا رخ کیا اور اس ملک کو بڑے سکیورٹی چیلنج سے روبرو کر ڈالا۔

تکفیری گروہوں کی تشکیل میں کارفرما عوامل:
تیونس میں سلفی تکفیری گروہوں کی تشکیل کا آغاز بورقبیہ اور بن علی کے دور حکومت سے شروع ہوا۔ ابتدا ہی میں ان گروہوں کو طاقت کے زور پر کچل دیا گیا اور انہیں تیونس میں زیادہ سرگرمیاں انجام دینے کا موقع نہ مل سکا۔ لیکن تیونس حکومت کی یہ پالیسی سلفی تکفیری عناصر کا ملک چھوڑ کر دوسرے عرب ممالک جیسے سعودی عرب منتقل ہو جانے کا باعث بنی۔ یہ سلفی عناصر بعد میں افغان جہاد کا حصہ بن گئے اور سابق سوویت یونین کے خلاف برسر پیکار ہوگئے۔ جب تیونس میں ڈکٹیٹر بن علی کے خلاف انقلابی تحریک کا آغاز ہوا تو سلفی تکفیری عناصر کو بھی اپنی سیاسی سرگرمیوں کو از سر نو آغاز کرنے کا موقع مل گیا۔ لہذا انہوں نے ملک کے بدلتے سیاسی حالات کے سائے تلے خود کو مضبوط کرنا شروع کر دیا۔ دوسری طرف تیونس کی سب سے بڑی سیاسی جماعت "النھضہ" نے بھی اصلاح شدہ سلفی گروہوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ اس طرح تیونس میں بنیادی طور پر تین قسم کے سلفی گروہ منظر عام پر آگئے:
1)۔ غیر فعال یا ارشادی سلفی گروہ، جنہیں تبلیغی تعلیمی سلفی بھی کہا جاتا ہے۔ (روایتی)
2)۔ اصلاحی سلفی گروہ، جو قانون کے اندر رہ کر سیاسی سرگرمیاں انجام دینے پر یقین رکھتے ہیں،
3)۔ تکفیری – وہابی سلفی گروہ، جو دہشت گردانہ اقدامات کے ذریعے اپنے اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہیں (داعش اور القاعدہ)

شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والی سلفی تحریکوں میں سے تکفیری تحریکوں میں مالکی مذہب اور وہابیت کی طرف بہت زیادہ رجحان اور تعصب پایا جاتا ہے۔ لہذا تیونس میں انقلاب کے بعد تکفیری عناصر ابو عیاض تیونسی کی سربراہی میں "انصار الشریعہ آرگنائزیشن" کے روپ میں ابھر کر سامنے آئے۔ بہرحال ہم تیسری قسم کی سلفی – تکفیری تحریکوں کی تشکیل اور نشوونما میں کارفرما عوامل پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔ ان تحریکوں نے تیونس کے معاشرے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پوزیشن کو مضبوط بنایا ہے اور ملک میں تیزی سے پھیلی ہیں۔
تیونس میں تکفیری گروہوں نے چار اہم حصوں سے افراد کو اپنے گرد جمع کیا ہے:
1۔ تیونس کے اہم شہروں کے گرد و نواح والے علاقے
2۔ الجزائر اور لیبیا کی سرحد کے قریب واقع سرحدی علاقے
3۔ جوان طبقہ
4۔ خواتین (جہاد نکاح)

تیونس میں انقلاب سے قبل پائے جانے والے طبقاتی فاصلوں نے جو انقلاب کے بعد بھی موجود ہیں، اس ملک کو کئی بڑے چیلنجز سے روبرو کر ڈالا ہے۔ ان میں سے چند اہم ترین چیلنجز درج ذیل ہیں:
1)۔ سیاسی چیلنجز: ملک چلانے کا تجربہ نہ ہونا، مشترکہ سوچ کا فقدان، مختلف سیاسی جماعتوں اور گروہوں کے درمیان سیاسی اختلافات، گذشتہ رژیم کے باقیماندہ اسٹرکچر کی موجودگی۔
2)۔ اقتصادی چیلنجز: عوام اپنے مطالبات کی فوری رسیدگی کی منتظر ہے، ٹیکنوکریٹ مدیران کی کمی، سیاحت میں کمی کے باعث مالی منابع کی کمی۔
3)۔ ثقافتی و سماجی چیلنجز: لمبے عرصے تک آمرانہ نظام حکومت کے باعث جمہوری کلچر کا کمزور ہونا، روایتی سماجی ساخت، بوڑھے لیڈران اور جوان انقلابی طبقے کے درمیان ہماہنگی کا نہ ہونا۔
4) سکیورٹی چیلنجز: سلفی شدت پسند تحریکیں، ملکی سیاسی کھلاڑیوں کے درمیان مفادات کا ٹکراو، علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت۔

مذکورہ بالا وضاحتوں کی روشنی میں ہم بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں کہ تیونسی جوان غربت و افلاس اور اسلام کی صحیح پہچان نہ ہونے کی وجہ سے کس طرح شدید حالات سے دوچار ہیں اور خطے کی عرب سلطنتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک القاعدہ رہنما السعدی البراہمی جو اپنے بھائی محمد البراہمی کی ہلاکت کے بعد نئے القاعدہ کمانڈر کے طور پر سامنے آیا ہے "جیوپولیٹیکل نیوز" نامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتا ہے: "خطے کی عرب سلطنتوں نے تیونس میں برسراقتدار بعض سیاسی جماعتوں کو مالی مدد دینے کے بدلے ان سے ملک کے صحرائی علاقے "ٹوزویر" میں موجود 200 ہیکٹر رقبے پر مشتمل کھجوروں کے باغات کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے رادص بندرگاہ حاصل کرنے اور اسلحہ کی اسمگلنگ روکنے کے بہانے لیبیا کی سرحد پر واقع علاقے میں ایک ہوائی اڈہ بنانے کی غرض سے زمین کے حصول کی درخواست بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بربر قوم کیلئے خود مختار ریاست کے قیام کیلئے بھی جگہ مانگی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بتدریج بربر قوم کیلئے ایک علیحدہ ریاست تشکیل دے دی جائے۔ اسی طرح ان عرب حکومتوں نے تیونس کے جوانوں کو 2 ہزار پاونڈ کے بدلے عسکری تربیت کیلئے لیبیا بھیجنے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے, تاکہ انہیں وہاں سے ٹریننگ کے بعد شام بھیجا جاسکے۔ ایک اور حیرت انگیز اقدام کے تحت ان حکومتوں نے بڑی تعداد میں تیونس کی جوان لڑکیوں اور خواتین کو جہاد النکاح کی غرض سے شام بھیجا ہے, جن میں سے اکثر حاملہ ہو کر وطن واپس لوٹ چکی ہیں۔"

تیونس میں سرگرم قانونی اور غیر قانونی سلفی جماعتیں:
تیونس میں انقلابی تحریک کے آغاز سے ہی یہ بات واضح تھی کہ ملک کے نئے سیاسی سیٹ اپ میں سرگرم کھلاڑیوں میں سے ایک سلفی جماعتیں ہوں گی۔ لہذا انقلاب کی کامیابی اور سیاسی قیدیوں کی آزادی پر مبنی عام معافی کے اعلان کے بعد جلاوطن اور ملک میں قید سلفی رہنما سیاسی میدان میں واپس لوٹ آئے اور انہیں بھرپور سیاسی و سماجی سرگرمیاں انجام دینے کا موقع مل گیا۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام سلفی گروہ اور جماعتیں آپس میں متحد ہوچکے تھے بلکہ بعض شدت پسند سلفی حلقوں کی جانب سے انجام پانے والی شدت پسندانہ سرگرمیوں نے تیونس کے جدید حکمرانوں کو قدرے پریشان کر ڈالا۔ مثال کے طور پر ملک میں انقلابی تحریک کے عروج کے دنوں میں "سیدی بوزید" نامی شہر میں واقع دو بڑی مسجدوں پر تکفیری سلفی عناصر کا قبضہ ہوگیا اور مقامی افراد نے انہیں مسجد قندھار کا نام دینا شروع کر دیا۔ لیکن تیونس میں انقلاب کی کامیابی کے بعد سلفی تحریکیں بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئیں۔ ایک حصہ قانون کے اندر رہ کر سیاسی سرگرمیاں انجام دینے جبکہ دوسرا حصہ قانون سے بالاتر ہو کر فعالیت کرنے کا حامی تھا۔

تیونس میں سرگرم قانونی (سلفی) اور غیر قانونی (تکفیری) گروہوں کی فہرست کچھ یوں ہے:
1)۔ اصالت پارٹی؛ سربراہ: مولدی علی؛ نظریات: سنی سلفی؛ اہداف: شریعت الٰہی کا نفاذ اور تیونس میں اسلامی حکومت کا قیام؛ طریقہ کار: سیاسی جماعت کی شکل میں جدوجہد۔
2)۔ اصلاحات فرنٹ پارٹی؛ سربراہ: محمد خوجہ؛ نظریات: سنی سلفی؛ وابستگی: خلیج عرب ریاستوں کی جانب سے حمایت یافتہ؛ اہداف: اسلامی جمہوری نظام کا قیام؛ طریقہ کار: سیاسی پارٹی کی شکل میں جدوجہد۔
3)۔ التحریر پارٹی؛ سربراہ: رضا بلحاج؛ نظریات: سنی سلفی؛ وابستگی: 1950ء کے عشرے میں اخوان المسلمین سے علیحدہ ہو کر نئے گروہ کی شکل میں سامنے آئی؛ اہداف: نظام خلافت کا احیاء اور امت مسلمہ پر شریعت اسلامی کے نفاذ کا راستہ ہموار کرنا؛ طریقہ کار: سیاسی جماعت کی شکل میں جدوجہد۔
4)۔ الرحمہ یا رحمت پارٹی؛ سربراہ: سعید الجزائری؛ نظریات: سنی سلفی؛ وابستگی: النھضہ پارٹی سے علیحدہ ہوئی؛ اہداف: اصالت پارٹی کی طرح قانون کے اندر رہ کر شریعت کے نفاذ کی کوشش؛ طریقہ کار: سیاسی جماعت کی شکل میں جدوجہد۔
5)۔ نصرہ التائید اسلامک گروپ؛ سربراہ: شیخ ابو مصعب عبداللہ کی نمائندگی میں شورا؛ نظریات: ریڈیکل شدت پسندانہ؛ وابستگی: مراکش اور الجزائر میں موجود القاعدہ گروہ سے منسلک؛ اہداف: اسلامی نظام کا قیام؛ طریقہ کار: مسلح جدوجہد۔
6)۔ انصار الشریعہ اسلامی گروپ؛ سربراہ: ابو عیاض التونسی؛ نظریات: شدت پسندانہ؛ وابستگی: لیبیا میں موجود القاعدہ گروہ سے منسلک؛ اہداف: اسلامی نظام کا قیام؛ طریقہ کار: ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردانہ اقدامات اور مسلح جدوجہد۔
7)۔ القاعدہ مراکش اسلامی (تیونس اور الجزائر کی سرحد پر واقع الشعائبی پہاڑی سلسلے میں سرگرم)؛ نظریات: شدت پسندانہ ریڈیکل؛ وابستگی: الجزائر میں القاعدہ سے منسلک؛ اہداف: اسلامی نظام کا قیام؛ طریقہ کار: مسلح جدوجہد۔

تیونس میں انقلاب کے بعد تکفیری گروہوں کی سرگرمیاں:
مذکورہ بالا گروہوں اور جماعتوں نے تیونس میں انقلاب کی کامیابی کے بعد اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں اور ملک بھر سے نئے افراد کو بھرتی کرنا شروع کر دیا۔ تیونس کے مذہبی رہنماوں کے بقول اس وقت ملک کی 5300 مساجد میں سے تقریبا 1 ہزار مساجد کا کنٹرول تکفیری گروہوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے علاوہ تکفیری عناصر نے تیونس میں انقلاب کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں تقریباً 200 مساجد حکومت کی اجازت کے بغیر تعمیر کی ہیں اور ان میں سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ مزید برآں، ملک بھر میں ایسے 3500 خیراتی ادارے بھی تکفیری عناصر کے کنٹرول میں ہیں جنہیں قطر، سعودی عرب اور خطے کے بعض دیگر عرب ممالک سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ لہذا یہ تکفیری عناصر اپنے پاس موجود انفرااسٹرکچر کی بدولت اب تک حکومت کے سامنے کئی سنجیدہ سکیورٹی چیلنجز ایجاد کرچکے ہیں۔ اسی وجہ سے تیونس کے حکام ان گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے پر اپنی پریشانی کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔

تکفیری گروہوں کے پھیلاو کی روک تھام کیلئے ممکنہ راہ حل:
اس وقت تیونس اور سیاسی تبدیلیوں کا شکار ممالک ایک بڑے چیلنج سے روبرو ہیں، کیونکہ ان ممالک میں تکفیری دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کیلئے مناسب فضا قائم ہوچکی ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ تیونس کو ہے، کیونکہ تیونسی حکام نے مذہبی شدت پسند گروہوں کے خلاف نرم پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور اس ملک میں تکفیری افکار و نظریات کیلئے مناسب ماحول نہ ہونے کے باوجود تکفیری گروہ بہت تیزی سے نشوونما پا رہے ہیں۔ شمالی افریقہ میں تکفیری گروہوں سے متعلق بیان شدہ حقائق کی روشنی میں ان سے مربوط اندرونی اور بیرونی عوامل پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اول یہ کہ شمالی افریقہ کے ان اہم ممالک، جہاں تکفیری گروہ سرگرم ہوچکے ہیں، کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جو گذشتہ چند سالوں کے دوران (2011ء کے بعد سے) سیاسی تبدیلیوں کا شکار ہوئے ہیں اور وہاں موجود حکومتیں سرنگون ہونے کے بعد نئی حکومتیں برسراقتدار آئی ہیں۔ یہ ممالک طاقت کے خلا کے باعث مختلف قسم کے سیاسی، سماجی، اقتصادی، سکیورٹی اور ثقافتی چیلنجز سے روبرو ہیں۔ لہذا جس قدر ان ممالک کی حکومتیں خود کو درپیش چیلنجز کے مقابلے میں کامیابی سے عمل کریں گی، اسی قدر ان کا معاشرہ امن و امان اور خوشحالی سے قریب ہوتا جائے گا اور نتیجتاً تکفیری دہشت گروہوں کو اپنی سرگرمی انجام دینے یا اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے کا موقع مہیا نہیں ہوسکے گا۔ لیکن اگر یہ حکومتیں درپیش چیلنجز کے مقابلے میں موثر اقدامات انجام دینے میں ناکام رہتی ہیں تو اس کے نتیجے میں عوامی ناراضگی اور احتجاج معرض وجود میں آسکتا ہے جس کے باعث ملکی سکیورٹی کو شدید دھچکہ پہنچ سکتا ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کی شرح کم ہونے کے نتیجے میں ملک معیشتی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں تکفیری دہشت گرد گروہوں کو بھی اپنی سرگرمیاں بڑھانے کا موقع ہاتھ آجائے گا۔

دوسرا یہ کہ اس بات کے پیش نظر کہ عرب اسپرنگ کے بعد اکثر تکفیری دہشت گرد عناصر نے شام کا رخ کیا ہے اور اس کے بعد اپنی سرگرمیوں کو عراق اور مشرق وسطٰی کی دوسری ریاستوں تک پھیلا دیا ہے، ان ممالک کی حکومتوں کو مضبوط بنانے اور انہیں خود کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے قابل بنانے سے وہاں تکفیری دہشت گرد عناصر کے پھیلاو کو روکا جاسکتا ہے۔ لہذا اس مرحلے میں تکفیری دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر کوششوں اور عزم کا کردار انتہائی موثر واقع ہوسکتا ہے۔ جس قدر عالمی برادری، علاقائی طاقتیں اور بین الاقوامی طاقتیں اپنے باہمی سیاسی اختلافات اور رقابتوں کو بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہوں گی، اسی قدر ان دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ زیادہ امکان پذیر ہوجائے گا۔ لیکن اگر عالمی برادری اور خطے کی حکومتیں اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہیں اور دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے اظہار لاتعلقی کرتی رہیں یا صرف شام اور عراق کی حد تک تکفیری دہشت گردی کے خاتمے پر تاکید کرتی رہیں تو اس کے نتیجے میں شمالی افریقہ کا علاقہ تکفیری دہشت گرد گروہوں کیلئے جنت بن جائے گا اور انہیں وہاں پھلنے پھولنے کا بھرپور موقع میسر ہوجائے گا۔ اس بات کا واضح نمونہ آج تیونس کے مشرقی ہمسایہ ملک لیبیا کی موجودہ صورتحال کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔

نتیجہ:
تیونس میں سرگرم تکفیری نظریات رکھنے والے گروہ اور جماعتیں جن کا مقصد اسلامی خلافت کی طرز پر حکومت کی تشکیل ہے، عوام کے اندر مضبوط جڑیں نہ ہونے کے سبب دائمی اور مضبوط سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے نہیں آسکتیں۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان سرطانی گروہوں کے خطرے کو کم سمجھا جائے۔ موجودہ حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیونس کے سیاسی حالات اور فضا کے پیش نظر یہ تکفیری گروہ انتہائی خفیہ انداز میں زیر زمینی سرگرمیاں انجام دینے میں مصروف ہیں اور اگر ان کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات انجام نہ پائیں تو وہ مستقبل میں ایک بڑے خطرے کے طور پر ظاہر ہوسکتے ہیں۔ لہذا ان گروہوں سے درپیش خطرے کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ تیونس کی مختلف سیاسی جماعتیں اپنے گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفادات اور سلامتی کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔ تکفیری گروہوں سے درپیش خطرات صرف اسی صورت میں دور کئے جاسکتے ہیں جب تیونس کے مقتدر حلقے مذکورہ بالا چار بڑے چیلنجز سے مقابلے کیلئے جامع حکمت عملی تشکیل دیں۔ اسی طرح اہم سیاسی جماعتوں اور سیاسی و مذہبی رہنماوں کے درمیان اتحاد بھی انتہائی ضروری ہے۔ واضح ہے کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ملک کو درپیش چیلنجز شدید سے شدید تر ہوتے چلے جائیں گے۔ 
خبر کا کوڈ : 471159
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب