1
0
Tuesday 14 Jul 2015 20:33

سعودی عرب، اسرائیل اور داعش گٹھ جوڑ

سعودی عرب، اسرائیل اور داعش گٹھ جوڑ
تحریر: زاہد عباس

26 جون کویت کے شہریوں کیلئے بڑا غمناک دن تھا، جب کویت سٹی کے علاقے الصوابیر میں واقع جامعہ مسجد امام الصادق دہشتگردی کا نشانہ بنی۔ اس کریہہ واقعہ میں ایک گمراہ اور بدطینت بدبخت نوجوان نے نماز جمعہ میں مصروف روزہ دار نمازیوں کے درمیان جا کر اپنے آپ کو اڑا لیا، جس کے نتیجے میں خدائے متعال کی بارگاہ میں سربسجود نمازی اپنے ہی خون میں تر بدنوں کے ساتھ اپنے معبود کی بارگاہ میں جا پہنچے۔ اس سانحہ جانفراں میں میں چھبیس کے قریب نمازی شہید ہوگئے، جبکہ دو سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے بیشتر کو طبی امداد کے بعد ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا، لیکن چالیس سے زائد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ مسلمان ممالک بالخصوص مشرق وسطٰی کے ممالک میں افراتفری اور ناامنیت پیدا کرنا صہیونی ایجنڈا ہے۔ اس وقت پورا خطہ زبردست کشیدگی اور خانہ جنگی کا شکار نظر آتا ہے۔ ایک کے بعد دوسری عرب ریاست باہمی اختلافات کی بنیاد پر بدامنی کی شدید ترین لپیٹ میں ہے۔ عراق، بحرین، شام، لبنان، شام، لیبیا، مصر، یمن ان مسائل میں پوری طرح گھری ہوئی ہیں، جبکہ لگتا یہ ہے کہ باقی ریاستیں اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔

ماہرین، دانشوروں کی متفقہ آرا کے مطابق مشرق وسطٰی میں اس تمام بدترین صورتحال کا ذمہ دار اسرائیل و امریکہ ہے، جبکہ بعض عرب ریاستیں جو اپنے آپ کو عربوں کا باپ تصور کرتی ہیں، وہ اپنے مخصوص خاندانی مفادات کے دفاع میں اس صہیونی ایجنڈے کی تکیمل اور ان قوتوں کی معاون کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ کویت میں دہشتگردی کے واقعے نے پورے ملک کو صدمے کی صورتحال سے دوچار کر دیا، کیونکہ یہ واقعہ ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا، ملت کویت کو تقسیم کرنے کی کوششوں کا آغاز تھا، دہشتگرد گروہ یہ چاہتا تھا کہ اس واقعہ کے ذریعے ملک کی شیعہ سنی فیبرک کو پارہ پارہ کر دے، تاکہ اس کے ذریعے سے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرسکے، لیکن واقعہ کے ردعمل میں کویتی سنی شیعہ عوام نے باہم متحد ہو کر دہشتگردوں کو جو پیغام دیا، وہ دہشتگردوں اور ان کی پشت پناہ قوتوں کے عزائم کی ناکامی پر مہر تصدیق ثبت کرنے کیلئے کافی ہے۔ اس سنگین واقعہ کے بعد کویتی عوام نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ملت کے جسم پر لگے زخم پر ایسا مرہم رکھا کہ اسکی تاثیر نے نہ صرف پوری ملت اسلامیہ بلکہ پوری دنیا نے محسوس کئے۔

سانحہ کے فوری اثرات

سوشل میڈیا پر سانحہ کی بھرپور مذمت
کویتی شیعہ سنی عوام کا اپنے درمیان وحدت ایجاد کرنا
شیعہ مساجد میں اکٹھے باجماعت نماز کی ادائیگی
سانحہ میں شہید ہونیوالے شیعہ خاندانوں سے اظہار تعزیت
سانحہ کے بعد سنی نوجوانوں کا مسجد اور ہسپتالوں کا رخ کرنا اور زخمیوں کیلئے خون کی فراہمی کا انتظام
سب سے اہم بات جو قابل توجہ ہے، کہ اس سانحہ کے بعد جائے حادثہ پر سب سے پہلے پہنچنے والی شخصیت امیر کویت تھے، جو شہیدوں اور زخمیوں سے اظہار یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
میرے خیال میں اس سانحہ کے بعد کسی بھی ملک و ملت میں اس طرح کے جذبات کا اظہار واقعہ کی شدت اور دشمنوں کے مقاصد کو خاک میں ملا دینے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ کویت کے دشمنوں نے دہشتگردی کے ذریعے قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کی جو کوشش کی، کویتی عوام نے اپنے جذبہ ہمدردی و ایثار سے ناکام بنا دی۔ اس موقع پر امیر کویت کا یہ پیغام دہشتگرد ہمیں کمزور نہیں کرسکتے، دہشتگرد کمزور ہیں، جبکہ ہم ان سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں اور یہ ہم نے ثابت کر دیا ہے۔ کویتی دانشورں نے اپنی قوم کے اس لطیف جذبات کی قدردانی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کویت نے قابل فخر قوت اور طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پہلا کویت کی تمام عوام نے سانحہ کو دہشتگردی قرار دیکر مذمت کی نہ کہ اسے کسی ایک فرقے سے منسوب کیا۔ دوسرا پوری سوسائٹی نے متحرک ہو کر اپنا کردار ادا کیا، جس سے قومی وحدت اور ہم آہنگی کی فقید المثال تصویر سامنے آئی۔ تیسرا داعش کو واضح پیغام دیا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہوگئی۔ چوتھا اس دہشتگردی نے قوم کو تقسیم نہیں کیا بلکہ متحد کر دیا۔

کویتی حکام نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگلے ہی روز دہشتگردوں کو بے نقاب کر دیا اور دہشتگردوں کی شناخت تک رسائی حاصل کرنے کیساتھ ساتھ اس کے سہولت کاروں کو بھی گرفتار کر لیا۔ کویتی وزارت داخلہ کی اطلاعات کے مطابق خودکش حملہ آور سعودی شہری تھا، جس کا نام فہد سلمان عبدالمحسن القباع تھا۔ بدبخت دہشتگرد جمعہ کی صبح سعودی عرب سے بذریعہ ہوائی جہاز کویت پہنچا، جہاں سے اسے ایک مکان میں چھپا دیا گیا، اور نماز جمعہ سے قبل اسے کار میں ڈال کر مسجد پہنچایا گیا۔ کویتی سکیورٹی اداروں نے پہلے کار کو ٹریس کیا، جو ایک بدوی قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص کی ملکیت تھی، جسے چلانے والا ڈرائیور عبدالرحمن صباح عیدان سعود تھا، جبکہ دہشتگرد کو جس کے مکان میں چھپایا گیا تھا، وہ کویتی شہری نکلا، جو بنیاد پرست اور منحرف نظریات رکھتا ہے۔ سکیورٹی اداروں نے مالک مکان، کار مالک اور ڈرائیور تینوں ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ علاوہ ازیں آخری اطلاعات تک سات ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا تھا، جن سے تفتیش جاری ہے۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا تھا کہ خودکش حملے میں ملوث تمام عناصر انکی سازش کو بے نقاب کیا جائیگا اور اس کے پیچھے تمام مذموم مقاصد اور حقائق منظرعام پر لائیںگے۔

خطہ عرب پچھلے پانچ سالوں سے تبدیلیوں کی زد میں ہے، ممالک اور مختلف گروہوں کے درمیان کھینچا تانی نے پورے خطے کے اندر خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ ایسی صورتحال میں فرقہ وارایت کو پھیلانا علاقے کی موجودہ جاری صورتحال سے گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرا بعض قوتیں فرقہ وارانہ اختلافات کو ابھار کر بنیادی طور پر جہاں اسلام کا شفاف چہرہ گرد آلود کرنا چاہتی ہیں، وہیں وہ عرب معاشرے کے تاروپود کو بھی بکھیرنے کی خواہشمند ہیں، اسرائیل اس میں سرفہرست ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ کون کون سے ممالک اور گروہ ہیں، جو فرقہ وارانہ بنیاد پر پالیسی استوار کرکے اپنے گھنائونے مفادات کیلئے سرگرم ہیں۔ دیکھا جائے تو سعودی عرب، اسرائیل اور داعش تین ایسے عناصر ہیں جو خطے میں تسلط پسندانہ پالیسی پر کار بند ہیں۔ اول سعودی عرب جبر و استبداد کے ذریعے اپنے عوام کو کچلنے کے ساتھ ساتھ علاقے کے عوام و ممالک کا بھی گارڈ فادر بنکر رہنے کا خواہشمند ہے۔ اسرائیل نیل سے فرات تک عظیم صہیونی ریاست کی تکمیل کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھا ہے۔ داعش تمام اسلامی ممالک پر مشتمل خلافت کے قیام کیلئے صرف مسلمانوں کے گلے کاٹ رہی ہے۔ چاہے اس کیلئے مسلمان رہیں، یا نہ رہیں اسلامی خلافت کا قیام حتماً عمل میں آنا چاہیئے اور حالات و واقعات کے مطابق ابھی تک داعش اس نکتے پر کامیابی سے عمل پیرا ہے۔ اب ہم ان تینوں قوتوں کے کردار کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لیتے ہیں۔

سعودی عرب:

آل سعود کی حکومت مشرق وسطٰی کی موجودہ صورتحال میں تہرے عذاب میں مبتلا ہے، عراق میں صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد شیعہ حکومت کے قیام سے کئی صدیوں سے اپوزیشن میں رہنے اور ظلم واستبداد کا شکار شعیوں کو اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ وہ نہ صرف مختلف عرب ممالک میں حکومتیں تشکیل دے سکتے ہیں، بلکہ عربستان کی کل آبادی کا بھی ایک معتبدہ حصہ ہیں۔ جہاں یہ احساس شیعہ عوام کے اندر جاگزیں ہوا، وہاں اس تبدیلی کو سنی عرب حکمرانوں نے بھی بڑی شدت سے نہ فقط محسوس کیا، بلکہ اس نئی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری بھی شروع کر دی۔ شیعہ عربوں میں نئی ترنگ پیدا کرنے میں اولین کردار انقلاب اسلامی ایران اور ازاں بعد حزب اللہ کے اسرائیل مخالف کردار کا تھا، صرف عراق کے مقامات مقدسہ کی آزادی اور وہاں مراسم عزاداری کا دوبارہ اجرا نہ صرف عربوں بلکہ پوری دینا کے شیعوں کیلئے ایک انقلاب آفرین اور حیات بخش لمحہ تھا۔ کربلا، نجف اشرف، کاظمین اور عسکرین میں شیعوں کے کروڑوں کے تظاہرات نے ہر شیعہ عرب کے سینہ میں محمد و آل محمد (ص) کی محبت اور انقلاب سے الفت کی ہلچل مچا دی۔ ہمیں یقین ہے کہ ان تظاہرات کو دیکھ کر اگر محبان اہلبیت (ع) کے دل فخر سے مخمور ہوجاتے ہیں تو دشمنان کا تڑپنا سمجھ میں آنیوالی بات ہے۔ اس سے قبل کہ گفتگو اپنا رخ بدل لے، ہم واپس اپنے موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔

عربستان میں شیعوں کی بیداری میں سب سے زیادہ پریشانی سعودی عرب کو ہوئی، کیونکہ یہ واحد ایسی ریاست ہے، جو داخلی اور خارجی طور پر جغرافیائی اعتبار سے شیعوں کے حصار میں ہے۔ یمن، بحرین، عراق اس کی سرحدوں پر ایک بڑی آبادیاں ہیں۔ علاوہ ازیں اس پر طرہ یہ کہ خود سعودی عرب کا ایک پورا صوبہ جسے الاحسا یا العوامیہ بھی کہا جاتا ہے، کی نوے فیصد آبادی شیعہ ہے۔ سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں شیعہ آبادیاں اس کے علاوہ ہیں۔ بحرین میں سیاسی تحریک، یمن میں شیعوں کا منظم و متحرک ہونا، عراق میں حکومت کا قیام، شام میں اسرائیل مخالف حکومت، لبنان میں حزب اللہ جیسی منظم اور بااثر جماعت کی موجودگی، یہ سب علامتیں اس بات کیلئے کافی ہیں کہ سعودی عرب جیسی انتہا پسند نظریات کی حامل ریاست ایسی پالیسی اختیار نہ کرے، جس کی بنیاد فرقہ وارانہ ہو۔ اگر آپ تھوڑی سے دقت کریں، تو سمجھ سکتے ہیں کہ
عراق میں ایک مضبوط اور مستحکم شیعہ حکومت کا قیام کیوں ممکن نہیں ہو رہا۔؟ شام میں خانہ جنگی کیوں اس قدر طول پکڑتی جا رہی ہے؟ بحرین میں جاری چار سال سے پرامن سیاسی تحریک کے مطالبات کیوں تسلیم نہیں کئے جا رہے؟ یمن کی سیاسی تحریک کو سعودی عرب نے خلیجی تعاون کونسل کے ممبران ممالک سے ملکر کیوں بمباری کا نشانہ بنا رکھا ہے؟ حزب اللہ کی ساتھی اور اسرائیل مخالف فلسطینی جماعت حماس کے موقف کو کیوں درست تسلیم نہیں کیا جاتا۔؟ ایران کی بجائے اسرائیل سے تعلقات کیوں استوار کئے جا رہے ہیں؟ ان سب سوالات کا جواب اوپر بیان کئے گئے تجزیئے میں پنہاں ہے۔

سعودی عرب کیلئے دوسری درد سر بن جانیوالی صورتحال اسلامی بیداری کی تحریک سے پیدا ہونیوالے حالات ہیں۔ چار سال قبل تیونس سے شروع ہونیوالی عوامی بیداری کی تحریک نے تقریباً تمام عرب ممالک میں اپنے اثرات مرتب کئے، کئی سالوں سے عرب خاندانی بادشاہتوں کے آمرانہ تسلط تلے پسے عوام نے اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا شروع کی، تو عرب آمریتیں اسے اپنے اپنے اقتدار کیلئے خطرہ محسوس کرنے لگیں۔ اس صورتحال کا بھی سب سے بڑا استفادہ کرنے والا خاندان آل سعود ہے۔ سعودی عرب نے ابتدائی دور میں تو بیداری کی تحریک کی کوئی مخالفت نہیں کی، بلکہ خاموشی سے اسکا جائزہ لینے میں وقت گزارا۔ تیونس میں اسلام پسند النہضہ پارٹی جو نظریاتی طور پر اخوان المسلمین کے نزدیک تصور کی جاتی ہے، کی کامیابی کے بعد مصر میں تبدیلی آئی۔ ان دو ممالک میں چالیس سالوں سے قائم آمریتوں کا عوام کے ہاتھوں تختہ الٹ دیا گیا۔ مصر میں اخوان المسلمین کی کامیابی خطے میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ اس تبدیلی کی شدت اور علامتوں سے تمام عرب حکمران اور ان کے عالمی و علاقاتی اتحادی یعنی امریکہ اور اسرائیل انتہائی تشویش میں مبتلا ہوگئے تھے، کیونکہ یہ بات طے ہے کہ اگر عرب آمریتوں کے اقتدار یا مفادات کو کوئی بھی خطرہ درپیش ہوگا، تو وہ درحقیقت امریکہ و اسرائیل کو خطرہ تصور کیا جائیگا۔ اس لئے کہ ان اتحادیوں کے مفادات میں اتنی مماثلت پائی جاتی ہے، کہ ان کے درمیان تفریق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسرائیل بطور خاص مصر میں تبدیلی سے انتہائی خوفزدہ ہوگیا تھا، کیونکہ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کا مطلب حماس کی توانائی میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ اسلامی ممالک میں ایک آئیڈیل حکومت بن جانے کے خوف میں مبتلا سعودی عرب نے اخوان المسلمین سے منافقانہ تعلقات استوار کئے، ابتدا میں اسے تمام تر حمایت کا یقین دلایا اور پھر موقع ملتے ہیں فوجی بغاوت کے ذریعے ڈاکٹر مرسی حکومت کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ چہ جائیکہ اس وقت ڈاکٹر مرسی کو ان کے رفیق کار سعودی عرب کی چالوں پر نظر رکھنے کا کہہ رہے تھے، لیکن اخوان کی ناتجربہ کاری کی بدولت یہ موقع گنوا دیا گیا۔ اس وقت جب اخوان المسلمین کی آنکھیں کھلیں دشمن اپنی چال چل چکا تھا، اس وقت سے آج تک اخوان المسلمین اور سعودی حکمرانوں کے درمیان تعلقات درست نہیں۔

داعش:

سعودی عرب کیلئے تیسرا درد سر داعش کی سرگرمیاں ہیں، داعش کی تمام تر خلاف اسلام سرگرمیوں کے باوجود عرب معاشرے بالخصوص سعودی عرب میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو سعودی عرب میں تنگ نظریات کے حامل ملائوں کا سعودی ریاست کے اہم اداروں میں رسوخ ہے۔ یہی تنگ نظر ملاں اور سعودی مخیر افراد کا گٹھ جوڑ پورے عرب خطے میں انتہا پسندی کو پروموٹ کر رہا ہے، دہشتگردی کا کوئی بھی واقعہ اٹھا لیجئے، اسکے ڈانڈے سعودی عرب کے اس نیٹ ورک کے ساتھ ملتے دکھائی دینگے۔ شاہ سلیمان کی حکومت سے پہلے شاہ عبداللہ حکومت کی پالیسی شام، عراق اور دیگر علاقوں میں داعشی عناصر کو سپورٹ کرنا تھا، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ داعش کی پیدائش میں سعودی انٹیلی جنس ایجنسی اور بالخصوص اس وقت کے چیف انٹیلی جنس شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کا ہاتھ تھا، تو بے جا نہ ہوگا، لیکن بعد کے بدلتے حالات میں داعش نے اپنے اصلی مقاصد کو آشکار کیا، تو سعودی عرب اس کے اہداف کی ہٹ لسٹ سے اپنے آپ کو بچا نہ سکا۔ آج بھی چہ جائیکہ کہ داعش آل سعود کو کعبۃ اللہ سے نکالنے کیلئے اپنے عزائم و اہداف واضح کرچکی ہے، اس کے باوجود سعودی عرب کے اندر سے اسے بھرپور مکمل مالی و اخلاقی مدد حاصل ہے۔ یہ صورت حال آل سعود کیلئے نہایت خطرناک ہے۔ سعودی عرب کے اندر داعش کو حاصل مکمل مدد کے پیچھے سعودی شاہی خاندان کے انداز حکمرانی کا بڑا ہاتھ ہے۔ عام سعودی شہری سعودی خاندان کی عیش و عشرت اور امریکہ و اسرائیل نواز پالیسیوں کا شدید مخالف ہے۔ داعش اپنے نظریات سے قطع نظر صرف سعودی حکمرانوں کی مخالفت میں اور ان کے انداز حکمرانی کو للکارنے کی وجہ سے عوامی مقبولیت حاصل کر پائی ہے۔

سعودی عرب کا ان خطرات سے نمٹنے کی پالیسیوں کا انداز مختلف ہے۔ سعودی حکومت عراق، شام، یمن، فلسطین اور بحرین میں القاعدہ، داعش، جبہۃ النصرہ جیسے انتہا پسند دہشتگرد گروپوں کی مکمل سرپرستی کا کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ یہ گروپ ان تمام مناطق میں اس کی پالیسی کے عین مطابق اسکے دشمنوں سے نبرد آزما ہیں، لیکن یہی گروپ اس وقت دشمن کا روپ اختیار کر لیتے ہیں، جب وہ اپنے نیٹ ورک کو سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادی عرب ممالک تک وسعت دینے کیلئے اپنی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہیں۔ سعودی عرب جیسے ممالک کی اسٹیبلشمنٹ یہ نہیں جانتی کہ ان گروپوں کی سرپرستی فقط وہ نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اس کے پیچھے کئی طاقتیں ہوتی ہیں، جن کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے انہوں نے’’ایڈوانس‘‘ پکڑ رکھا ہوتا ہے۔ سعودی عرب بحران زدہ علاقوں میں تو ان گروپوں کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کر لے گا، لیکن جن طاقتوں کا ہدف سعودی عرب اور مسلمانوں کا دل کعبۃ اللہ اور مقامات مقدسہ ہیں، انہیں کیسے دور کرسکے گا۔ بے شک داعش کی ساخت پرداخت میں سعودی عرب کا مکمل کردار ہے، لیکن یہی گروپ جب عفریت بن کر سامنے آیا اور اسلامی خلافت کا نعرہ لگا کر آل سعود اقتدار کے خاتمے کیلئے بھی پرتول رہا ہے۔

دلیل کے طور پر اس کی مثال پاکستان میں طالبان اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے تعلق کے حوالے سے دی جاسکتی ہے، کہ جب تک پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ان کے نظریات کے مطابق کام کرتی رہی وہ اسکے مطیع رہے، لیکن جیسے ہی پالیسی تبدیل کی گئی تو اس عفریت نے پورے ملک کو آلیا اور وہ گروپ جنہیں ایک عرصے تک پال پوس کر توانا کیا گیا، وہ دشمن کی گود میں جا کر بیٹھ گئے۔ آج اگر داعش جیسے گروپ بظاہر سعودی عرب کیخلاف ہوچکے ہیں، تو اس کے پیچھے امت مسلمہ کے دلوں کو جیتنے کی دوڑ کی امنگ شامل ہے۔ سعودی عرب کی یہ خواہش ہے کہ وہ شیعہ سنی تفریق کے ذریعے سنی مسلمانوں کو اپنے پیچھے لگائے رکھے، جبکہ یہی خواہش داعش کی بھی ہے، سعودی عرب ایک طویل عرصے تک مسلمانوں کا بلاشرکت غیرے گارڈ فادر بنا رہا اب داعش یہی کردار ادا کرنے کیلئے اسکے رقیب کے طور پر سامنے آچکی ہے۔ درحقیقت سعودی عرب اور داعش کے درمیان امت مسلمہ کی لیڈر شپ کے حصول کی دوڑ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ البتہ دونوں کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ شیعہ مسلمان جہاں ملیں، ان کا خون بہانا جائز ہے۔ عراق، شام اور یمن ان کے مکروہ اتفاق کی بھیانک مثالیں ہیں۔

اسرائیل:

مشرق وسطٰی میں مسلمانوں کے ابتر حالات سے سب سے زیادہ استفادہ اسرائیل نے کیا ہے، ایک وقت تھا جب تمام عرب ممالک اسرائیل کے شدید ترین مخالفین میں شمار ہوتے تھے، لیکن ان رہنمائوں کی بداعمالیوں، اقتدار کی ہوس اور کمزوریوں کی بدولت آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے، کہ یہ عرب ممالک اسرائیل کے اشارے پر باہم دست و گریبان ہیں۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ خطے کے حالات کو بدترین نہج تک پہنچانے میں اسرائیل کی سازشیں کارفرما ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے فلسطین کا ایشو بھلا دیا گیا، وہ قوتیں اور عرب ممالک جو فلسطینی کاز پر یک زبان ہوا کرتے تھے، آج ان کی یکجہتی گہنا گئی ہے، کیا یہ بات چند برس پہلے سوچی بھی جاسکتی تھی، کہ شام کی حکومت جو اسرائیل کیخلاف مزاحمت و مقاومت کی سب سے بڑی پشتیبان تھی، اس کے خلاف وہی ہتھیار آزمائے جائیں گے، جو اسرائیل جیسی غاصب ریاست کیخلاف اٹھنے کا عزم کرچکے تھے۔ وہ جو مقاومت کے مجاہدین اور بیٹے تھے، آج اسرائیلی اشارے پر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کیلئے تیار ہونگے۔ اس خطے میں جہاد و مقاومت کیخلاف اس سازش میں سعودی عرب ایک بہت بڑا عامل کے طور پرسامنے آچکا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شیعہ و سنی نوجوان اسرائیل کیخلاف مزاحمت و مقاومت کے دو بازو تھے اور یہ بات کبھی بھی سعودی عرب کو گوارہ نہیں تھی۔ وہ مسلسل اس تاک میں تھا کہ کسی بھی طریقے سے اسرائیل مخالف مقاومت کے ان بازوئوں کو شل کر دے۔ پھر وہ دن آیا کہ جب سعودی عرب و اسرائیل کے عزائم پورے ہونا شروع ہوگئے، اسلامی بیداری کی تحریک کو منحرف کرکے فرقہ وارانہ لڑائی میں بدل دیا گیا۔ یہ سارا منظر نامہ یونہی نہیں بدلا، اس پر برسوں کی محنت اور سرمایہ گزاری کی گئی، تب کہیں جا کر مطلوبہ نتائج حاصل ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

اسرائیل نے ایک منصوبے کے تحت خطے میں ایران کے خوف کا ’’ہوا‘‘ کھڑا کیا۔ عرب ممالک کو ایران کے ایٹمی پروگرام سے خوفزدہ کرکے کہا گیا کہ یہ ایٹمی پروگرام عربوں کو نیچا دکھانے کیلئے ہے، تاکہ خطے میں ایران کی بالادستی قائم کی جاسکے۔ یوں غیر حقیقی تصور کے ذریعے تمام عرب ممالک کو اپنا ہم نوا بنا لیا گیا، چہ جائیکہ اسرائیلی منصوبے سے زیادہ کار آمد عربوں کا اپنا کینہ بھی شامل تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ عرب ممالک ہزاروں فلسطینی بچوں، بوڑھوں اور خواتین کے قاتل اسرائیل کیساتھ تو باہمی اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کیلئے بیتاب رہتے ہیں، لیکن ایک مسلم ملک ایران کو اپنا دشمن سمجھ بیٹھے ہیں، جو ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ اسرائیل کی ہر طور یہ کوشش ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے، لہذا کوئی بھی ایسا قضیئہ جس میں مسلمانوں کے درمیان باہم دست و گریبان ہونے کی نوبت آجائے، اسے اسرائیلی سازش سمجھنے میں کوئی تامل اختیار نہیں کرنا چاہیئے۔ آج اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی جو نوعیت ہے، ماضی میں ایسی ’’خوشگوار‘‘ فضا کبھی مشاہدے میں نہیں آئی۔ سعودی عرب کی اس وقت کی تمام اسٹریٹجی اسرائیلی مشاورت سے طے کی جا رہی ہے۔ خطے میں ایرانی اثرات سے نمٹنے کیلئے دونوں ممالک یک جان ہوچکے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے اپنا آئرن ڈوم میزائل سسٹم تک سعودی عرب کو فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یمن کیخلاف اسرائیل کی مکمل مشاورت کے بعد جنگ شروع کی گئی، اس وقت سعودی عرب کے فضائی حملوں میں اسرائیلی ماہرین کی خدمات بھی سعودی ریاست کو حاصل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ سعودی عرب کی فرقہ واریت پھیلانے کی پالیسی کا خالق بھی اسرائیل ہے۔

خودکش حملوں کی وجوہات:
کویت کے خودکش حملے سے قبل مئی میں سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی علاقوں کی دو مساجد میں بھی اسی طرح کے دو خودکش حملے ہوئے۔ ان واقعات کے تذکرہ کا مقصد یہ ہے کہ دہشتگردی کے ان واقعات میں دو ریاستوں کے حکمرانوں کے ردعمل کا مشاہدہ کیا جائے، کہ جس سے اندازہ لگایا جاسکے کہ ریاست ان واقعات کو کس نظر سے دیکھتی ہے اور کیا اقدامات سرانجام دیتی ہے، تاکہ متاثرین کے تحفظات کا لحاظ رکھنے کے ساتھ ریاست کے ذمہ داران ایسے واقعات کو کتنا خطرہ تصور کرتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کویت میں خودکش حملے کے بعد کویتی امیر جائے حادثہ پر پہنچتا ہے، وہ وہاں پر کھڑے ہو کر داعش کو للکارتا ہے اور اس عزم کا اظہار کرتا ہے، کہ تم ہمیں کمزور نہیں کرسکتے۔ ہم طاقتور ہیں اور تم کمزور ہو۔ اگلے دن ہی دہشتگردوں کا نیٹ ورک کا پتہ چلا لیا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں شیعہ مساجد میں خودکش حملوں کے دو واقعات ہوئے، ان واقعات کے بعد کوئی بڑی ریاستی شخصیت شہداء اور زخمیوں کے لواحقین سے ملی، نہ ان سے اظہار تعزیت کیا اور نہ ان دہشتگردوں گروہوں کے نیٹ ورک کا پتہ چلایا جاسکا۔ ہاں البتہ ان دہشتگردوں کو یہ باور کرا دیا گیا کہ اب اگلا دھماکہ سعودی عرب کی بجائے کسی قریبی ریاست میں ہونا چاہیئے۔

ان دو رویوں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں، کون ایسے جرائم کیخلاف اپنی ریاست اور شہریوں کا تحفظ کرنا چاہتا ہے، کسے اپنے بے گناہ شہریوں کے قتل کا افسوس ہے۔ ایسے اشارے مل رہے ہیں، کہ شاید اس طرح کے کریہہ واقعات بعض دیگر خلیجی ریاستوں میں بھی ہوں، بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یمن کی صورتحال کا غصہ سعودی عرب پورے عربستان میں شیعہ شہریوں کو اس طرح کے واقعات میں نشانہ بنا کر اس پیغام کے ساتھ دینا چاہتا ہے کہ اگر تم سیاسی گمشدگی اختیار نہیں کرو گے، تو تمہارے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ شاید سعودی عرب یہ نہیں جانتا کہ انقلاب اسلامی کے اثرات اور ولایت کے دامن سے وابستہ ہونے سے جو بیداری عالم تشیع کو نصیب ہوئی ہے، اس کی لذت اتنی جلدی ختم ہونے والی نہیں، مشکلات ضرور ہیں، لیکن وہ دن ضرور آئیگا جب ولائت و بیداری، حقیقی اسلام کا جھنڈا پوری دنیا میں لہرائے گا۔
خبر کا کوڈ : 473623
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ریحان
Pakistan
بہت اچھا تجزیہ ہے۔۔۔۔