0
Thursday 16 Jul 2015 18:50

بھارت کا اسرائیل اور عرب ممالک سے دوستانہ

تحریر: عرفان علی

پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدگی کے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں اور پاکستان نے بھارت کا جاسوس ڈرون طیارہ مار گرایا ہے۔ لیکن آج کا مقالہ بھارت اسرائیل تعلقات کے تناظر میں لکھا جارہا ہے۔ بھارت نے 17 ستمبر 1950ء کو باضابطہ طور پر جعلی ریاست اسرائیل کو ایک مملکت کی حیثیت سے تسلیم کرلیا تھا۔ اس کے بعد جیوش ایجنسی نے بمبئی میں ایک امیگریشن آفس کھولا، جو بعد ازاں تجارتی دفتر میں تبدیل ہوا اور بالآخر یہی دفتر بمبئی میں اسرائیلی قونصلیٹ میں تبدیل ہوا۔ بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو چاہتے تھے کہ صہیونی ریاست کو بنڈونگ کانفرنس (1955ء) میں شرکت کی دعوت دیں، لیکن عرب ممالک کی وجہ سے انہوں نے فلسطین کی حمایت کی پالیسی وضع کی اور سرد جنگ کے دور میں نہرو کی ہی پالیسی پر عمل کیا گیا۔ یاد رہے کہ جعلی و غاصب ریاست اسرائیل اور بھارت کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات 1992ء میں قائم ہوئے تھے، اس سے قبل بھارت میں صہیونی سفارتخانہ قائم نہیں ہوا تھا۔ ستمبر 2003ء میں صہیونی وزیراعظم ایریل شیرون نے بھارت کا اسٹیٹ وزٹ کیا تھا۔ بھارتی حکومت نے فلسطین کے غاصب نسل پرست اسرائیل سے اپنے اسٹرٹیجک تعلقات کو خفیہ رکھنے کی پالیسی اپنائی ہوئی تھی، لیکن اب یہ پالیسی تبدیل ہوچکی ہے۔

بھارت اور جعلی ریاست اسرائیل کے مابین فوجی معاونت پر مبنی تعلق پہلے ہی قائم ہوچکا تھا۔ 1962ء کی چین کے خلاف اور 1965ء اور 1971ء میں پاکستان کے خلاف جنگوں میں صہیونی ریاست نے بھارت کو فوجی معاونت فراہم کی تھی۔ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے والے ممالک میں ناجائز و غاصب وجود اسرائیل بھی پیش پیش تھا۔ صہونی وزیر خارجہ موشے دایان نے اگست 1977ء میں بھارت کا خفیہ دورہ کیا تھا، تب بھارت میں جن سنگھ پارٹی کی حکومت تھی، بھارتیہ جن سنگھ راشٹریہ سیوک سنگھ کا سیاسی ونگ تھی۔ اندرا گاندھی نے اپنے والد نہرو کی پالیسی پر عمل کیا، لیکن اندرا کے بیٹے راجیو گاندھی وہ پہلے بھارتی وزیراعظم تھے جنہوں نے ستمبر 1985ء میں صہیونی وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اعلانیہ ملاقات کی تھی۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ پاکستان نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے نسل پرست صہیونی حکومت اور بھارت کے مابین قربتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ آج بھی پوری دنیا جانتی ہے کہ ناجائز صہیونی ریاست بہت پہلے سے نیوکلیئر ہتھیار بنانے پر گامزن ہوچکی تھی اور بھارت نے بھی 1970ء کے عشرے میں ایٹمی تجربات کئے تھے، پاکستان نے تو ردعمل میں ایٹمی ہتھیاروں پر کام کیا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے جون ایف کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ کے بیلفر سینٹر فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں نیوکلیئر سکیورٹی کی پوسٹ ڈاکٹورل فیلیو جییتا سرکار نے پچھلے سال بھارت اور اسرائیل کے خفیہ تعلقات پر ایک معلوماتی مقالے میں اس حقیقت کو اجاگر کیا تھا کہ بھارتی حکومت کا صہیونی حکومت سے تعلقات پر اظہار کا طریقہ مختلف ہے، تعلقات کی نوعیت پر نہ تو انڈین نیشنل کانگریس کو اعتراض ہے اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کو۔ فرق صرف یہ ہے کہ کانگریس ان روابط کو خفیہ رکھنے کو ترجیح دیتی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی اس کو ظاہر کرنے پر مصر رہتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب گجرات کے مسلمانوں کا قتل عام کروانے والا نریندرا مودی انڈیا کا وزیراعظم بنا تو ان تعلقات میں مزید استحکام کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

1992ء میں باضابطہ اور مکمل سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے نامور رہنما ایل کے آڈوانی پہلے سینیئر بھارتی وزیر تھے، جنہوں نے سال 2000ء میں جعلی ریاست اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور اسی سال ’’دہشت گردی کے خلاف‘‘ انڈو اسرائیلی جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم ہوا۔ 2003ء میں بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر برجیش مشرا نے امریکن جیوش کمیٹی سے خطاب کیا جہاں ’’اسلامی انتہا پسندی‘‘ سے لڑنے کے لئے بھارت، اسرائیل اور امریکا کے مابین تعاون کے امکان پر زور دیا تھا۔ اس کے بعد کانگریس کی قیادت میں اتحادیوں کی بھارتی حکومت نے صہیونی حکومت کے ساتھ روابط کے بارے میں میڈیا کے سامنے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ 2010ء میں کانگریس سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ مانی شنکر آیار کو بھارتی وزارت خارجہ نے اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث سے منع کر دیا تھا، کیونکہ ان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ بھارت کے دفاعی تعلقات اسٹیٹ سیکرٹ ہے۔ دہلی میں قائم آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کی جونیئر فیلو کانچی گپتا کے مطابق 2004ء تا 2014ء کانگریس و اتحادی حکومت کی جانب سے سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا 2012ء کا دورہ اسرائیل ہی سینیئر سطح کا کوئی دورہ تھا اور وہ بھی علاقائی دورہ تھا، جس میں متحدہ عرب امارات، اردن اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ بھی شامل تھا۔

ان تعلقات کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ممبئی میں دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کو صہیونی حکومت کی جانب سے اسلحے کی فروخت میں بے حد اضافہ کیا گیا اور 2009ء میں صہیونی حکومت نے روس کی جگہ لے لی، یعنی بھارت کو سب سے زیادہ اسلحہ روس فروخت کیا کرتا تھا، لیکن ممبئی حملوں کے بعد فلسطین کے غاصب نسل پرست دہشت گرد اسرائیل بھارت کے اتنا زیادہ نزدیک آگیا تھا۔ 2014ء کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی کل ڈیفنس ایکسپورٹ 7بلین ڈالر تھی اور اس میں بھارت کو کی گئی ایکسپورٹ کی مالیت ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کئے درمیان بتائے جاتے ہیں۔ 29 اکتوبر 2014ء کو دی ڈپلومیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت اینٹی ٹینک ہتھیاروں کی خریداری کا 525 ملین ڈالر مالیت کا معاہدہ کر رہا ہے اور یہ خریداری امریکا کی بجائے اسرائیل سے کی جا رہی ہے۔ بھارت نے اسرائیل سے ڈرون طیارے بھی خریدے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وہ اسرائیل سے 8356 اسپائیک میزائل بھی خریدے۔ مجموعی طور پر بھارت اپنی فوج کی جدیدیت پر 13 بلین ڈالر سے زائد مالیت کے منصوبے تیار کرچکا ہے، تاحال روس اس کا پہلے نمبر کا فوجی ساز و سامان فراہم کرنے والا ملک ہے اور اسرائیل دوسرے نمبر پر ہے اور امریکا کے مقابلے میں بھارت اسی کو ترجیح دے رہا ہے۔

نومبر 2014ء میں مقبوضہ بیت المقدس سے ایک خبر آئی کہ صہیونی حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ انڈیا اسرائیل کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے جبکہ چین اس کا ٹریڈ پارٹنر ہے، جو اسکے ساتھ سالانہ 10 بلین ڈالر کی تجارت کرتا ہے، بھارت کی سالانہ تجارت محض پانچ بلین ڈالر ہے۔ صہیونی روزنامہ ھا آرتس کے آموس ہارل کی رپورٹ (18 فروری 2015ء) کے مطابق موشے یعلون پہلا صہیونی وزیر دفاع ہے جس نے بھارت کا دورہ کیا۔ بنگلور میں ایئرو انڈیا نمائش میں اسرائیل ایئرواسپیس انڈسٹریز پویلین پر بھارتی وزیراعظم مودی نے بھی حاضری دی اور اسی نمائش میں یعلون نے شرکت کی۔ 2 جون 2015ء کو انکت پانڈے نے رپورٹ دی کہ نریندرا مودی پہلے بھارتی وزیراعظم ہوں گے جو اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ اسی سال مجوزہ دورہ کا مقصد اسٹرٹیجک اور اقتصادی تعاون پر بات چیت ہے۔ اس وقت بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج ہیں جو سال 2006ء تا 2009ء انڈو اسرائیلی پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کی سربراہ تھیں۔ یاد رہے کہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے ذمے دار مودی نے وزیراعلٰی گجرات کی حیثیت سے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ اس سال کے مجوزہ دورہ مودی سے قبل سشما جعلی ریاست، اردن اور مقبوضہ فلسطین کا دورہ بھی کریں گی۔ سشما سورج نے جب 2008ء میں صہیونی علاقے کا دورہ کیا تھا، تب تل ابیب کو قابل اعتماد پارٹنر قرار دیا تھا۔ صہیونی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو بھی نیویارک میں اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے دوران مودی سے ملاقات کرچکے ہیں۔

بھارت اسرائیل تعاون مختلف شعبوں میں جاری ہے۔ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ زرعی، تعلیمی، تحقیقی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کی اپنی ایک تاریخ ہے، لیکن دفاعی شعبے میں تعلقات میں گرمجوشی پاکستان سمیت دنیا بھر کے فلسطین دوست ممالک اور انسانوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ لیڈن یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر آف انٹرنیشنل ریلیشنز نکولس بلیرل کا خیال ہے کہ کارگل بحران کے بعد بھارت کا جھکاؤ صہیونی حکومت کی جانب زیادہ ہوگیا۔  میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کشمیر میں اس کے خلاف کو عوامی تحریک 1980ء کے عشرے میں شروع ہوئی تھی، اس کے بعد بھارت صہیونیت کے زیادہ قریب ہونا شروع ہوچکا تھا۔ لاس اینجلس سے شایع ہونے والے صہیونی جریدے میں ایک مقالہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ اس میں ایک صہیونی نے لکھا تھا کہ جس طرح حماس، حزب جہاد اسلامی فلسطین جیسی ’’دہشت گرد‘‘ تنظیموں سے خطرہ ہے، اسی طرح کی دہشت گردی سے بھارت کو خطرہ ہے۔ اس لئے دونوں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ ہونی چاہیے۔ یہ مائنڈ سیٹ رکھنے والے لوگ پاکستان کو بھی اس زمرے میں رکھا کرتے تھے کہ وہ بھی اس جوائنٹ سسٹم کا حصہ بن جائے اور یہ پرویز مشرف کی جرنیلی جمہوریت میں بہت زیادہ زیر بحث آیا تھا۔ بندہ یہ بھی رائے رکھتا ہے کہ کشمیر کے جہاد کو ہائی جیک کرنے والی بعض تنظیموں اور رہنماؤں کا حماس اور حزب جہاد اسلامی جیسی تنظیموں سے موازنہ کرنا سراسر ظلم پر مبنی ہے۔ کشمیریوں کے حقوق کا دفاع کرنے والی کشمیری تنظیموں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مادر وطن کا دفاع کریں، لیکن کشمیریوں کے نام سے جو ہائی جیکر نام نہاد جہادی بنے بیٹھے ہیں، ان کے بارے میں میرے رائے مختلف ہے۔

اگر بھارت اسرائیل تعلقات واقعی خطرناک اور نقصان دہ ہیں تو بھارت کا خلیجی عرب ممالک سے دوستانہ بھی نقصان دہ قرار دیا جانا چاہیے۔ بھارت خلیجی عرب ممالک کو 51 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ کرتا ہے اور عرب ممالک اس سے کہیں زیادہ گنا بھارت کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ ان ممالک میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، قطر سبھی شامل ہیں۔ لیکن کیا بھارت کو پاکستان کا دشمن کہنے والوں نے ان عرب ممالک کے خلاف ایک لفظ بھی تنقید کا منہ سے نکالا ہے؟؟ جب ایران سے گیس پائپ لائن کو امن پائپ لائن قرار دے کر اسے بھارت تک لے جانے کے منصوبے پر کام شروع ہوا تو سبھی اس کے خلاف میدان میں آگئے، لیکن ترکمانستان، افغانستان، پاکستان سے پائپ لائن انڈیا تک جائے گی اس منصوبے TAPI کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ مائنڈ سیٹ ہے ورنہ بھارت اسرائیل تعلقات کیا خود امریکا بھی پاکستان کو بھارت کے ساتھ مل کر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ پاکستان کی ہیئت مقتدرہ جب تک خلیجی عرب ممالک کو فلسطین دوست پالیسی پر متحد نہیں کرے گی، اور جب تک ان کی غلامی کو دوستی اور اخوت قرار دیتی رہے گی، تب تک بھارت دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتا رہے گا۔ ایران نیوکلیئر ڈیل پر سعودی عرب اور اسرائیل کا ایک جیسا منفی موقف بھی خائن حرمین بے شرمین کی اسلام دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے۔
خبر کا کوڈ : 478079
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب