0
Wednesday 17 Feb 2016 12:18

آزاد جموں و کشمیر میں مداخلت

آزاد جموں و کشمیر میں مداخلت
   آزاد جموں و کشمیر انتخابی موسم میں داخل ہوا چاہتا ہے، مگر افسوسناک بات ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، دونوں ہی جمہوریت کے بارے میں سیکھے گئے وہ سبق نظرانداز کیے جا رہی ہیں جو انہوں نے بظاہر خودمختار علاقے کے باہر سیکھے ہیں۔ ہفتے کے دن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک شخص کی موت ہوئی، جبکہ دونوں جانب سے اپنے اپنے مفادات کے لیے دوسروں پر کیچڑ اچھالا گیا۔ ہفتے کے تصادم کے بعد آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم عبدالمجید نے، جو خود پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سخت انتخابی معرکے کے بعد وزارتِ عظمیٰ تک پہنچے ہیں، نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر آزاد کشمیر کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کا الزام عائد کیا۔ردعمل میں مسلم لیگ (ن) کی شہہ پر وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے قریبی ساتھی آصف کرمانی نے آزاد جموں کشمیر کے وزیراعظم کے خلاف جوابی حملہ کیا اور مطالبہ کیا کہ عبدالمجید فی الفور استعفیٰ دے دیں۔

اگر تصادم سانحہ انگیز تھا، تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری لفظوں کی جنگ پہلے سے خراب صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔ ہوشمندی سے کام لینا وقت کی ضرورت ہے۔ حالیہ صورتحال کا ایک وسیع پس منظر ہے۔ پیپلز پارٹی، جو 2013ء تک سندھ، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں حکومت میں تھی، آزاد جموں و کشمیر کے اگلے انتخابات کے بعد صرف سندھ تک محدود ہو جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم عبدالمجید اور ان کی انتظامیہ کافی تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے اور مخالفین کی جانب سے انتظامیہ پر بار بار بدعنوانی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ مگر اصل مسئلہ کچھ اور ہے، وفاقی حکومت آزاد جموں و کشمیر کے معاملات پر ہمیشہ ہی غالب رہتی ہے، اس لیے اسلام آباد میں جو بھی حکومت ہوتی ہے، وہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو اپنا ماتحت سمجھتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کا یہ الزام کہ عبدالمجید کی حکومت پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت، یعنی آصف زرداری، بلاول بھٹو، فریال تالپور اور دیگر کی کٹھ پتلی ہے، شاید درست ہو، مگر یہ بھی واضح ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوتی ہے، تو بھی مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے براہ راست زیراثر ہو گی، جس کی شروعات وزیراعظم پاکستان نواز شریف سے ہوتی ہے۔ جب تک کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کو آئینی طور پر خود مختار ریاست تسلیم نہیں کریں گے، تب تک وہاں جمہوریت مضبوطی حاصل نہیں کر سکے گی۔ ہمیشہ کی طرح، سیاستدانوں کی تمام تر غلطیوں کے علاوہ نظام کے مسائل کا ایک اور رخ بھی ہے، یعنی فوج کا کردار۔ فوجی عینک سے دیکھا جائے تو آزاد جموں و کشمیر بنیادی طور پر ایک سیکیورٹی مسئلہ ہے. ایک ایسا علاقہ جسے وسیع تر تنازعہ کشمیر سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا اور جسے ہمیشہ تیسرے ملک کی مداخلت سے محفوظ رکھنا چاہیے۔

قومی سلامتی کا یہ نظریہ بالآخر آزاد کشمیر کی سیاست پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اگر کوئی ایک جگہ ایسی ہے جہاں پاکستان کی سول اور فوجی قیادت آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے لیے مثبت اور فوری بہتری پیدا کر سکتی ہیں، تو وہ جامع دو طرفہ مذاکرات، جو پہلے ہی حد سے زیادہ تاخیر کا شکار ہیں، کے بارے میں کشمیر کے اندر اعتماد سازی کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

بشکریہ، ڈان نیوز
خبر کا کوڈ : 521563
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے