2
1
Thursday 18 Feb 2016 14:30

سعودی فوجی مشقیں کس کے خلاف ہیں!

سعودی فوجی مشقیں کس کے خلاف ہیں!
تحریر: عرفان علی

سعودی عرب نے رعد الشمال (Thunder North) کے عنوان سے فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ 14 فروری کو شروع ہونے والی یہ مشقیں 10 مارچ تک جاری رہیں گی اور اس میں زمینی افواج کے ساتھ ساتھ فضائیہ اور بحریہ بھی حصہ لے رہی ہیں۔ سعودی عرب سمیت 20 ممالک ان مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق خلیج فارس کے عرب ممالک کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور عمان سمیت اردن، مصر، سوڈان، سینیگال، مراکش، تیونس، چاڈ، کومورو آئی لینڈ، جبوتی، ماریطانیہ، ماریشس، ملائیشیا، مالدیپ اور پاکستان مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان مشقوں کے مقاصد کے بارے میں سعودی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں ہوا جیسا کہ دنیا بھر میں باتیں ہو رہی ہیں۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب اپنی طاقت اور اتحادیوں کے ساتھ ہونے کو دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ ان کے ساتھ کو آرڈی نیشن اور مہارتوں کا تبادلہ کرنا چاہتا ہے، یہ اس کا سرکاری بیان ہے۔

ان مشقوں کا محل وقوع کویت اور عراق کی سرحد کے نزدیک حفر الباطن سے 60 کلومیٹر دور مدینۃ الملک خالد العسکریہ (کنگ خالد ملٹری سٹی) نامی فوجی شہر ہے۔ اسی وجہ سے میری رائے یہ ہے کہ ان مشقوں کی بنیاد پر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ شام میں داخل ہونے کی تیاری ہے، کیونکہ شام بحر متوسط (پاکستانیوں کے لئے بحیرہ روم) کے کنارے آباد ہے اور سعودی عرب کی کوئی سرحد شام سے نہیں ملتی۔ اس کے لئے سعودی عرب کو اردن کا راستہ سوٹ کرتا ہے کہ وہ پہلے اردن میں داخل ہو اور وہاں سے شام جائے، لیکن یہ بھی فوجی نقطہ نظر سے مناسب نہیں کیونکہ شام کے دشمن باغی دہشت گردوں کا زور ترکی کی سرحدوں پر واقع علاقوں میں کسی حد تک موجود ہے، لیکن اردن والی پٹی پر جانے کی کوئی تیاری نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ بیان بازی کی حد تک بھی جو کچھ کہا گیا ہے، وہ ترکی کی سرحدوں سے شام میں یلغار کا منصوبہ ہے اور بہانہ داعش کا مقابلہ کرنا ہے۔ اگر اردن سے داخل ہونا ہوتا تو یہ مشقیں اردن کی سرحد کے نزدیک کی جاتیں۔

شام میں یلغار کے حوالے سے بھی جو بات سامنے آئی ہے، وہ سی این این کے دبئی میں موجود شعبہ عربی کی جانب سے جاری کی گئی 6 فروری کی خبر ہے۔ اس کے مطابق سعودی عرب اور ترکی شام میں یلغار کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں اور ان کوششوں میں مصر، اردن، مراکش، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، ملائیشیا، انڈونیشیاء اور برونائی بھی شریک ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پروپیگنڈا کی جنگ ہے، ورنہ مذکورہ ممالک کی اکثریت کی فوج اس قابل ہی نہیں کہ وہ شام جیسے ملک میں گھس کر کوئی کارروائی کرسکے۔ حتیٰ کہ مصر جیسے بڑے عرب ملک کی فوج بھی صہیونی افواج کے ہاتھوں 1967ء میں ڈھیر ہوچکی تھی اور صحرائے سینا کا علاقہ گنوا بیٹھی تھی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے میں اسے یہ علاقہ واپس ملا تھا۔ اردن بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوا تھا کیونکہ جنگیں وہ ہار چکا تھا۔ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اگر داعش یا اس جیسے گروہوں کے خلاف کارروائی کا مفروضہ بھی درست مان لیا جائے، تب بھی کسی ملک کی ریگولر آرمی irregular دہشت گرد گروہوں یا مزاحمت کاروں کے مقابلے میں زیادہ دیر قیام نہیں کرسکتی۔

بعض ماہرین کہتے ہیں کہ داعش بہانہ ہے اور اصل ہدف ایران کو پیغام دینا ہے۔ اصل ہدف بشار الاسد کی منتخب جمہوری عرب حکومت کو ختم کرنا ہے۔ اگر اس نکتہ نظر کو بھی دیکھیں، تب بھی زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مثال کے طور پر ایران تو صاف طور پر کہہ چکا ہے کہ وہ سعودی عرب سے جنگ لڑنا نہیں چاہتا۔ یعنی ایران نے تو سعودی عرب میں یلغار نہیں کرنی اور سعودی عرب میں اتنی ہمت و جرات ہے نہیں کہ وہ خلیج فارس کو پار کرکے ایران پر یلغار کرسکے۔ رہ گئی شام کی بشار الاسد حکومت تو اس کی اتحادی روسی حکومت نے شام میں فوج بھیج رکھی ہے اور وہ کامیابی کے ساتھ ترکی کی سرحدوں پر کارروائی میں مصروف ہے۔ اسی وجہ سے ترکی کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں اور سعودی عرب نے کوئی حرکت کی تو پھر سعودی عرب اپنی کمزور ہوتی ہوئی اقتصادی صورتحال کے ساتھ روس کو کھلا دشمن بننے پر مجبور کرنے کی پوزیشن میں ہوگا یا نہیں؟ یقیناً اس کا جواب نہ میں ہی ہوگا۔ شام کی حکومت سعودی عرب کی طرح تنہا نہیں ہے، ایران کے ساتھ بھی اس کا فوجی اتحاد موجود ہے اور شام کے فوجی اتحادیوں نے شام کے ساتھ وہ نہیں کیا جو سعودی عرب کے فوجی اتحادیوں نے کر رکھا ہے۔

ملاحظہ فرمائیں کہ سعودی عرب چونتیس ممالک کے فوجی اتحاد کا دعویٰ کرتا تھا اور مزید ممالک کی اس میں شمولیت کا اعلان کرچکا تھا، لیکن اس اعلان کے تین ماہ بعد ہونے والی ان مشقوں میں وہ انیس سے زیادہ ممالک جمع نہیں کرسکا۔ تین ماہ میں باقی ممالک کیوں کم ہوگئے۔ پھر ان مشقوں میں شامل بہت سے ممالک سعودی فوجی اتحاد کے حوالے سے واضح کرچکے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں یلغار کے حوالے سے کسی اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ دہشت گردی کے خلاف ایک کو آرڈی نیشن سینٹر قائم کرنے میں سعودی عرب کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جغرافیائی سلامتی و خود مختاری پر حملے کے خلاف ساتھ دیں گے۔ یعنی یہ کہ جس طرح یمن کی جنگ میں اس کے جو اتحادی تھے، انکے علاوہ کوئی اس کا اس طرح ساتھ نہیں دے گا اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یمن کی جنگ تاحال بغیر کسی نتیجے کے جاری ہے، اسی طرح سعودی عرب دیگر ایسے ایڈونچر کو شروع تو کرسکتا ہے، لیکن نتیجہ حاصل کرنا اس کے بس میں نہیں ہے۔ یمن جنگ کے اتحادیوں کا کردار بھی مشکوک ہے۔ سعودی عرب نے مصر پر 8 ارب ڈالر کا خرچہ کیا ہے اور مزید 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کر دیا ہے، لیکن مصر کی اس سعودی اتحاد میں شرکت نمائشی ہے۔ امداد کے باوجود اس کوئی عملی کردار نظر نہیں آتا۔

یہ ناچیز سحر اردو ٹی وی کے پروگرام انداز جہاں میں گذشتہ روز عرض کرچکا ہے کہ سعودی عرب اس خطے میں امریکی صہیونی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا ہے۔ اصل منصوبہ امریکی و صہیونی ہے اور فرنٹ مین سعودی ہے۔ چونکہ ماضی میں آل سعود کی بادشاہت نے عالم اسلام اور عالم عرب کی امنگوں کے خلاف امریکی سامراجی منصوبوں میں جو عملی کردار ادا کیا، اس کی وجہ سے اسے عالم عرب اور عالم اسلام میں ولن کا درجہ حاصل ہوچکا ہے۔ اس کا ہدف یہ تھا کہ عالم عرب مصر کی بجائے اسے قائد مان لے اور او آئی سی بنا کر وہ عالم اسلام کا قائد بننا چاہتا تھا، لیکن عالم عرب و اسلام کا سب سے اہم ترین مسئلہ فلسطین تھا اور ہے اور اس مسئلے کے حل کے لئے کوششوں میں ایران اور اس کے اتحادی ممالک اور گروہ سب سے بازی لے گئے اور انہوں نے اپنے عملی کردار سے ثابت کر دیا کہ یہ مسئلہ سعودی اتحادیوں کی خیانت کی وجہ سے حل نہیں ہو پا رہا۔ اسی وجہ سے ایران اور اس کے اتحادی ملک شام اور مقاومتی گروہوں کو عالم اسلام و عرب میں ہیرو کا درجہ حاصل ہوا، غیر اعلانیہ طور پر ایران کو قیادت و مرکزیت کی حیثیت حاصل ہوگئی۔

سعودی عرب کی ان فوجی مشقوں کا ایک اہم سبب اس کا یہ خوف ہے کہ فلسطین کی حمایت اور مدد کرنے والے ممالک اور گروہوں کی کامیابی کی وجہ سے اس کے ہم مسلک عوام بھی اس کے خلاف قیام کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ اسرائیل کے سرپرست امریکا کا اعلانیہ فوجی اتحادی ہے۔ وہ ان فوجی مشقوں سے یہ تاثر زائل کرنا چاہتا ہے کہ وہ فوجی معاملات میں تنہا ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے امیج کو بہتر کرنا چاہتا ہے، تاکہ سعودی عوام کو یہ جھوٹا تاثر دیا جاسکے کہ ان پر مسلط بادشاہت کے دنیا میں ایسے دوست ممالک ہیں، جو اس کی موجودہ پالیسیوں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور زیادہ تر ممالک سعودی عرب کی داخلی سیاست میں فریق نہیں۔ 14 فروری 2011ء کو بحرین کے عوام نے غیر نمائندہ بادشاہت کیخلاف عوامی انقلابی تحریک شروع کی تھی اور 14 فروری کے روز سعودی عرب نے فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔ یعنی بادشاہتوں کو لاحق اندرونی مشکلات ان مشقوں کا اصل سبب ہیں کہ ناراض عوام کو اپنی قوت اور طاقت سے خوفزدہ کرسکیں، ورنہ یہ حقیقت تو پوری دنیا کو معلوم ہے کہ ایران یا شام کو سعودی عرب تمام تر کوششوں کے باوجود خوفزدہ نہیں کرسکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 521910
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

راجہ جواد احمد
Satellite Provider
سعودی عرب بالکل پھنس چکا ہے، ایک طرف یمن کی جنگ دوسرے طرف کمزور معیشت، تیسرے طرف ایران شام اور روس۔
Pakistan
جی ہاں ایسا ہی ہے۔
منتخب