1
0
Tuesday 8 Mar 2016 23:35

جزب اللہ لبنان سے سعودی عرب کی دشمنی کیوں؟

جزب اللہ لبنان سے سعودی عرب کی دشمنی کیوں؟
تحریر: امین حطیط

عرب اور اسلامی خطے سے آگاہ ماہرین اور تجزیہ نگاران آل سعود رژیم کی حقیقت اور ماہیت سمجھنے اور امریکی اسرائیلی منصوبے سے اس کے موقف کی ہم آہنگی جاننے کیلئے اب آل سعود رژیم کے مزید اقدام کے محتاج نہیں رہے۔ وہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ سعودی رژیم خطے میں جارحیت اور قبضے کے ذریعے قدرتی ذخائر پر مسلط ہو کر اور مقامی افراد کے قتل عام اور انہیں نقل مکانی پر مجبور کر کے اس امریکی اسرائیلی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کوشاں ہے۔ یہ تمام اقدامات ایسی تکفیری سوچ کے ذریعے انجام پا رہے ہیں جو اپنے خیال خام میں اسلامی شریعت کے نفاذ میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب نے اپنے اقدامات کے تازہ ترین مرحلے میں ایسی واضح مثالیں پیش کی ہیں جن کے ذریعے امریکی صہیونی منصوبے میں اس کی موجودگی کی گہرائی اور مسلمان اور عرب ممالک کے خلاف جارح محاذ میں اس کی مشارکت کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سعودی حکومت نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مظلوم فلسطینی عوام، عرب باشندوں اور مسلمانان عالم کے جذبات و احساسات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اور غاصب صہیونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے اسرائیل سے اپنے تعلقات کی سطح اونچی ترین حد تک بڑھا دی ہے اور ان تعلقات کو جو خفیہ حالت میں تھے منظرعام پر لے آیا ہے۔

آل سعود رژیم نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کو مجبور کیا کہ وہ حزب اللہ لبنان کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کریں۔ وہ حزب اللہ لبنان جو اسلامی مزاحمت کی صورت میں 2000ء اور 2006ء کی جنگوں میں اسرائیل کی عبرتناک شکست کا باعث بنی اور اس کی توانائیوں اور صلاحیتوں نے اسرائیل کو شدید خوف اور وحشت کا شکار کر رکھا ہے اور اسرائیل اسے اپنے لئے ایٹم بم جیسا بڑا خطرہ تصور کرتا ہے۔ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے پالیسی میکرز نے حزب اللہ لبنان کو دہشت گرد گروہ قرار دے کر اپنے اس عقیدے سے پردہ ہٹا دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اپنا اتحادی ملک تصور کرتے ہیں اور جو قوتیں اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں وہ دہشت گرد ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حزب اللہ لبنان کی نظر میں سعودی عرب کی جاری کردہ دہشت گرد گروہوں کی فہرست کی کوئی اہمیت نہیں اور حزب اللہ لبنان کے اہداف اس فہرست اور حتی عرب حکمرانوں کے مغربی اور امریکی آقاوں سے کہیں زیادہ بلند ہیں۔ اسلامی مزاحمت اپنی جدوجہد اور سرگرمیاں جاری رکھے گی اور اس قسم کے شیطنت آمیز اقدامات اس کی راہ میں رکاوٹ ثابت نہیں ہو سکتے۔ حزب اللہ لبنان نے اپنا نام مغرب کی جانب سے جاری کردہ دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل ہونے سے پہلے اسرائیل کو شکست دی اور اس فہرست میں اپنا نام شامل ہونے کے بعد اسرائیل کے خلاف مانع قوت کا کردار ادا کرتے ہوئے اسے لبنان پر نئی جنگ مسلط کرنے سے باز رکھا کیونکہ اسرائیل اچھی طرح جان چکا تھا کہ نئی جنگ تل ابیب کیلئے تباہ کن ثابت ہو گی۔

یہاں دو انتہائی اہم سوال یہ پیدا ہوتے ہیں کہ:
1)۔ سعودی عرب کی جانب سے حزب اللہ لبنان کے خلاف دشمنانہ اقدامات میں اس حد تک آگے جانے کی کیا وجہ ہے؟ اور
2)۔ بعض قوتیں کیوں اس قدر کوشش کر رہی ہیں کہ حزب اللہ لبنان سعودی عرب کی پالیسیوں اور موقف کے مقابلے میں کوئی ردعمل ظاہر کرے؟
سب سے پہلے اس نکتے کی جانب توجہ کرنا ضروری ہے کہ حزب اللہ لبنان ایک مزاحمتی تنظیم ہے جس نے عرب باشندوں اور مسلمانوں پر امریکی – اسرائیلی سازش اور گٹھ جوڑ کے بے پناہ ظلم و ستم کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ اس گٹھ جوڑ کا بنیادی مقصد لبنان کی سرزمین پر قبضہ جمانا اور لبنانی عوام کو اپنے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کرنا تھا۔ حزب اللہ لبنان کی جانب سے قابض قوتوں کے مدمقابل محاذ میں شمولیت ایک منطقی امر تھا۔ اسی طرح جارح قوتوں اور اسلامی مزاحمتی گروہوں کے درمیان بھرپور ٹکراو بھی متوقع تھا۔

لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لبنان پر قابض قوتوں کا حصہ ہونے کے ناطے سعودی عرب اور اس امریکی – صہیونی سازش کے مقابلے میں سرگرم اسلامی مزاحمتی بلاک کا بنیادی رکن ہونے کے ناطے حزب اللہ لبنان کے درمیان ٹکراو اور آمنا سامنا ایک فطری امر ہے۔ لیکن بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ٹکراو اور آمنا سامنا ماضی میں کیوں وقوع پذیر نہیں ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ماضی میں حزب اللہ لبنان براہ راست طور پر صرف اسرائیل کے مدمقابل کھڑی تھی اور اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع نہیں کیا تھا کیونکہ اس وقت سعودی عرب نے بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات اور امریکی – صہیونی منصوبے میں اپنی شمولیت کو خفیہ رکھا ہوا تھا۔ سعودی حکام اس وقت کوشش کرتے تھے کہ جہاں تک ہو سکے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو درپردہ رکھیں۔ البتہ حزب اللہ لبنان بھی اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات پر زیادہ توجہ نہیں دے رہی تھی۔ لہذا اگرچہ وقتی طور پر دونوں محاذوں کے درمیان محدود ٹکراو سامنے آتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات نارمل ہونے لگتے تھے۔

گذشتہ عشرے خاص طور پر 2005ء کے بعد سے یہ صورتحال بہت حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ اس عرصے میں واضح ہو گیا کہ امریکی – صہیونی بلاک عراق پر قبضے اور شام پر تسلط پیدا کرنے کی کوشش کے ذریعے خطے کو مکمل طور پر اپنے زیر اثر لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ لبنان نے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور خطے میں اس کے عزائم کے خلاف ڈٹ جانے کا عزم جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس مرحلے پر سعودی عرب نے روز بروز امریکی – صہیونی بلاک میں اپنا کردار واضح سے واضح تر کرنا شروع کر دیا۔ البتہ ابھی تک سعودی حکام انتہائی محتاط اور خفیہ میں سرگرم تھے اور کھلم کھلا دشمنی سے پرہیز کرتے ہوئے موذیانہ سفارتکاری کو جاری رکھا۔ اس سے اگلے مرحلے میں سعودی عرب نے اپنے اقدامات میں تیزی لائی اور عراق پر امریکہ کے فوجی قبضے کے ساتھ ہی ایسے دہشت گرد عناصر کی حمایت کا آغاز کر دیا جو عراق پر امریکی حملے کے دوران اس ملک میں گھسنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ ان دہشت گرد عناصر کی مدیریت کرنے والی قوتوں کی کوشش تھی کہ وہ اسلامی مزاحمت کی طرز پر ایسا دہشت گرد گروہ تشکیل دیں جس کی مدد سے اسلامی مزاحمتی تحریکوں کو بھی بدنام کیا جا سکے اور ان پر بھی دہشت گردی کا لیبل لگایا جا سکے۔

سعودی عرب کا اگلا قدم بحرین میں اپنے بنیادی حقوق کی جدوجہد کرنے والی اکثریت کے خلاف فوجیں بھیجنا تھا۔ اسی طرح شام میں بدامنی اور جنگ کی آگ بھڑکانے والی اصلی قوتوں میں سعودی عرب کا نام سرفہرست ہے۔ ریاض نے خطے میں امریکی – اسرائیلی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تکفیری اور وہابی دہشت گردی کا سہارا لیا۔ اس سلسلے میں آل سعود رژیم کا تازہ ترین اقدام یمن کے خلاف فوجی جارحیت ہے۔ اس طرح سعودی عرب نے ثابت کر دیا ہے کہ عراق کی بعث رژیم کے بعد وہ دوسرا عرب ملک ہے جس نے خودمختار ریاست کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا اور اس کے خلاف جنگ شروع کی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک نے ان مجرمانہ اقدامات اور حتی یمن پر سعودی جارحیت پر چپ سادھ رکھی ہے۔ یہ خاموشی سعودی عرب کی جانب سے ان حکومتوں کو لالچ یا دھمکیوں کا نتیجہ ہے۔ سعودی عرب کے پاس اس قدر خام تیل کے ذخائر موجود ہیں کہ وہ بین الاقوامی محافل میں مختلف ممالک کی رائے اپنے حق میں خرید سکتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے پاس اس قدر پیسہ، میڈیا اور سیاسی طاقت بھی موجود ہے کہ وہ ایسے ممالک کی تنبیہہ کر سکے جو اس کے احکامات سے سرگردانی کرتے ہیں۔ سعودی عرب نے یہ طاقت 1967ء میں قوم پرست عرب قوتوں کی شکست کے بعد عرب اور اسلامی دنیا کی لیڈرشپ اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد حاصل کی ہے۔

سعودی عرب کے جارحانہ اقدامات پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کے شجاعانہ خطاب سے ٹوٹ گئی جس میں انہوں نے یمن کے بیگناہ عوام کے قتل عام پر شدید اعتراض کرتے ہوئے یمن کے خلاف سعودی جارحیت کی پرزور مذمت کی۔ سید حسن نصراللہ کے اس اقدام کے تین بڑے محرکات درج ذیل ہیں:

1)۔ وہ اخلاقی اور انسانی جذبہ جس کے تحت ہر انسان فطری طور پر مظلوم کی حمایت کرتا ہے اور ظالم کے خلاف اس کی مدد کرتا ہے۔ یمن کے خلاف سعودی جارحیت سراسر ناحق اور غیرقانونی ہے۔ سعودی حکام کے پاس یمنی عوام کے قتل عام کا کوئی جواز نہیں اور ان کی جانب سے یمن کی قانونی حکومت کی درخواست پر مبنی دعوی سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔

2)۔ پیشگی دفاع جس کے تحت سعودی عرب کی جانب سے دوسرے ممالک پر اپنا سیاسی ارادہ مسلط کرنے کیلئے فوجی طاقت کا سہارا لینے کو مسترد کیا گیا۔ اگر عالمی برادری سعودی عرب کی جانب سے بحرین میں پرامن عوامی احتجاج کو کچلنے کیلئے فوج بھیجے جانے کے اقدام کی مذمت کرتی تو اسے ہر گز یمن کے خلاف لشکرکشی کی جرات نہ ہوتی۔ اگر سعودی عرب یمن کے خلاف جنگ میں کامیاب ہو جاتا ہے تو آئندہ وہ ہر ایسے عرب اور اسلامی ملک کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنائے گا جو اس کی آمرانہ پالیسیوں کے خلاف موقف اختیار کرے گا اور اس کے تسلط سے خارج ہونے کی کوشش کرے گا۔ اسی بنیاد پر شام میں سعودی حکومت کی غیرقانونی مداخلت اور تکفیری دہشت گرد گروہوں کی حمایت کی وضاحت بھی دی جا سکتی ہے۔ سعودی حکومت شام میں براہ راست فوجی مداخلت کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے اور سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب شام میں صدر بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کیلئے سیاسی ہتھکنڈوں کے علاوہ فوجی طاقت کا سہارا لینے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔

3)۔ خودمختاری اور آزادی پسندی پر مبنی اسٹریٹجی۔ یہ انتہائی اہم نکتہ ہے۔ سعودی عرب اس وقت کھلم کھلا اسرائیل کے ساتھ اتحاد تشکیل دے چکا ہے اور غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ اپنے تعلقات کو منظرعام پر لانے سے بھی نہیں شرماتا بلکہ اس پر فخر محسوس کرتا ہے۔ سعودی عرب کا دعوی ہے کہ وہ اسرائیل کے شانہ بشانہ ایران کے خلاف متحدہ محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ سعودی عرب نے اس اتحاد کے ذریعے اسرائیل کو سنہری موقع فراہم کیا ہے کہ وہ فلسطینی قوم کی مزاحمت کو پوری طرح کچل دے اور مقبوضہ فلسطین اور قبلہ اول مسلمین کی آزادی کی تمام امیدیں ختم کر ڈالے۔ سعودی عرب کے اقدامات، اسرائیل کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات اور اس کی دہشت گردانہ اور فوجی پالیسیوں کے پیش نظر اسلامی مزاحمت پر اپنے دفاع کیلئے ضروری اقدامات انجام دینا لازمی قرار پایا ہے۔ اسی طرح ایسے تمام عرب اور اسلامی ممالک پر بھی مناسب موقف اختیار کرنا لازمی ہے جو اپنی قومی خودمختاری اور ملکی سالمیت پر اصرار کرتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان نے گہرے اسٹریٹجک تجزیہ و تحلیل کے بعد موجودہ موقف اختیار کیا ہے جو سعودی حکومت کی جانب سے امریکی – اسرائیلی منصوبے میں شامل رہ کر خطے میں اسے عملی جامہ پہنانے کی کوششوں تک جاری رہے گا۔

یہاں ایک اور اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ٹکراو کا نتیجہ کیا ہو گا؟ سعودی عرب کا تصور ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اتحاد تشکیل دے کر، امریکا کی حمایت حاصل کر کے اور پیسے کے ذریعے یورپی ممالک کی تائید لے کر اور خلیجی ریاستوں کو ڈرا دھمکا کر اسلامی مزاحمت کے خلاف فتح سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ سعودی حکومت سمجھتی ہے کہ تلوار، تکفیری افکار اور پیسے کے ذریعے ایک اسلامی اور عربی سعودی سلطنت قائم کر سکتی ہے۔ لیکن آل سعود رژیم اس حقیقت سے غافل ہے کہ اس نے جن ممالک پر تکیہ کر رکھا ہے وہ خود اپنے دفاع کیلئے پناہگاہ اور تکیہ گاہ کی تلاش میں ہیں۔ اسرائیل اس وقت اسلامی مزاحمت کے مدمقابل بے بس ہو چکا ہے اور یورپ بھی مکمل طور پر گوشہ نشینی کا شکار ہے۔ امریکا اپنی گذشتہ ناکامیوں اور ان سے حاصل عظیم مالی نقصان کے ازالے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ لہذا سعودی عرب اس وقت اپنی تاریخ کی بدترین صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے۔ جبکہ دوسری طرف اسلامی مزاحمت اپنے اتحادی ممالک اور قوتوں کے ہمراہ سیاسی اور فوجی میدان میں روز بروز طاقتور ہوتی جا رہی ہے اور انہیں اپنی کامیابی پر پورا یقین ہے۔
مترجم : سید ضیغم عباس ھمدانی
خبر کا کوڈ : 526350
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Noor Syed
Pakistan
سعودی حکومت نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مظلوم فلسطینی عوام، عرب باشندوں اور مسلمانان عالم کے جذبات و احساسات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اور غاصب صہیونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے اسرائیل سے اپنے تعلقات کی سطح اونچی ترین حد تک بڑھا دی ہے اور ان تعلقات کو جو خفیہ حالت میں تھے منظر عام پر لے آیا ہے۔
کیونکہ اسکی پلانگ برطانیہ اور اسکے اتحادیوں نے لارنس آف عریبیہ کے ذریعے عبدالوہاب نجدی اور سعود کے ذریعے 1900- 1838 سے کر رکھی تھی، جو اج ظاہر ہوئی۔ اس پلان کا نام پلانA تھا۔جو پورا ہوا
اب پلان B پر عمل شروع کرنا ہے۔
منتخب