0
Sunday 3 Apr 2016 17:14

پاک ایران دوستی۔۔۔۔۔سازشوں کی زد میں

پاک ایران دوستی۔۔۔۔۔سازشوں کی زد میں
تحریر: نصرت علی شہانی

احکام خداوندی کی رُو سے انسان حق کا ساتھ دے اور باطل کی مخالفت کرے، چاہے اس کی زد اس کے اپنے یا والدین پر ہی کیوں نہ پڑے۔ (القرآن)۔ وطن عزیز گذشتہ 3 عشروں سے جن بحرانوں کی زد میں ہے، ان میں عرب ممالک اور ایران کا مختلف حوالوں سے کردار اور ان کی ہمارے ازلی دشمن بھارت سے تعلقات کی نوعیت ایک اہم موضوع بحث رہا ہے، جس میں 3 مارچ 2016ء کو گرفتار ہونیوالے بھارتی نیول افسر کی گرفتاری کی مارچ کے آخر میں ”بریکنگ نیوز“ نے عین اس وقت کھلبلی مچا دی، جب صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی کے دورہ پاکستان کی تقریبات عروج پر تھیں۔ محب وطن حلقے اس دورہ کے ثمرات سے خوش تھے، کیونکہ ماہرین کے مطابق ایران پر عالمی پابندیوں کے خاتمے کا سب سے زیادہ فائدہ ہمیں پہنچنا ہے۔ اگرچہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان میں تباہی کی منصوبہ بندی اور علیحدگی پسندوں کی سرپرستی کرنیوالے اور ان میں رقوم تقسیم کرنیوالے بھارتی ایجنسی را کے آفیسر کل بھوشن یادیو کی گرفتاری یا بقول ان کے، گرفتاری کے اعلان کا وقت خاص مضمرات کا حامل ہے، جسے ہمارے دفتر خارجہ نے محض ”اتفاق“ قرار دیا ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ میڈیا میں سیکرٹری داخلہ جناب عارف احمد خان کے ایرانی سفیر کے نام خط کے متن کی تشہیر بھی کیا محض ”اتفاق“ ہے۔؟

وزیر داخلہ پنجاب نے بھی اس حوالے سے وزیراعظم کی خاموشی پر غیر معمولی تبصرہ کیا ہے۔ اس مسئلہ پر غیر معمولی اقدامات سے یہ سوالات بھی اُٹھ رہے ہیں کہ وطن عزیز کی شہ رگ کراچی کو کاٹنے میں متحدہ کے منحرف رہنما مصطفٰی کمال کے بیان کردہ ’'را“ کے کردار کے ناقابل تردید شواہد کا کیا نتیجہ نکلا؟ ایران بھارت دوستی کو بھی ہوا دی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف عرب ممالک کے بھارت سے تعلقات کا ذکر بھی ہونا چاہیئے۔ وہ سعودی عرب جس کی دوستی کو ایک مخصوص طبقہ جزو ایمان خیال کرتا ہے اور اقتدار شاہی کے زوال کو حرمین شریفین کیلئے خطرہ قرار دیتا ہے، کبھی اس پر غور کیا ہے کہ ہمارے وجود کے ازلی دشمن اور مظلوم کشمیریوں کے قاتل بھارت کیساتھ اس کا کیا رویہ ہے؟ تفصیل کی بجائے فقط گذشتہ ماہ سعودی وزیر خارجہ کا بھارتی اخبار سے انٹرویو ہی ان کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے، جس میں مظلوم کشمیریوں کی حمایت تو دور کی بات ہے، اس سعودی شہزادے نے پاک بھارت دوستی کیلئے اپنی بےتابی کا اظہار کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی، جبکہ چند ہی ہفتے قبل اسی ملک نے ہمارے وزیراعظم نواز شریف اور ہردلعزیز آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے سعودی عرب نے ایران سے مصالحت کی پیشکش کو ٹھکرا کر ہمارے قومی وقار کی توہین کی۔ دیکھیں آئندہ چند روز میں بھارتی وزیراعظم کا سعودیہ کا دورہ کیا گل کھلاتا ہے۔؟

بھارتی ایجنٹ کے حوالے سے ایران کے باضابطہ جواب سے پہلے ہی جس طرح میڈیا ٹرائل جاری ہے، اس سے بہت سے شکوک جنم لے رہے ہیں۔ ہمارے 70 سالہ قابل اطمینان برادر ہمسائے کو دور کرنے میں بلاشبہ وہ قوتیں سرگرم ہیں، جو دونوں ملکوں کی قربت سے خائف اور بالخصوص پاکستان کو ان فوائد سے محروم کرنا چاہتی ہیں، جو توانائی کے وسائل سے مالا مال اور ٹیکنالوجی میں خود کفیل ایران سے مل سکتے ہیں۔ ایک کالم نگار نے اس ”کارخیر“ میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے ایران پر پاکستان میں دہشتگردی کیلئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی ”اجازت“ کا الزام بھی دھر دیا، حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں ایران میں کبھی کوئی پاکستانی شہری یا سفارتکار قتل نہیں ہوا، جبکہ ہمارے ملک میں اس دوست ملک کے 25 کے قریب شہری دہشتگردی میں شہید کئے گئے، جن میں عالم، سفارتکار، انجینئیر، طلباء اور تاجر شامل ہیں۔ اس کے باوجود ایران نے سفارتی تعلقات پر آنچ نہ آنے دی۔ کسی سرزمین کا جرائم یا دہشتگردی کیلئے ”استعمال“ اور اس ملک کی اس کیلئے ”اجازت“ میں واضح فرق ہے۔ خود ہمارے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہوئی ہے۔

پاک سرزمین کا ایران میں دہشتگردی کیلئے استعمال:

ذرائع ابلاغ کے مطابق کل بھوشن کے ایرانی ساتھی ملتان کے مدرسے سے گرفتار کئے گئے ہیں۔ ان کا تعلق ایرانی بلوچستان سے ہے، جہاں سے لشکر جھنگوی کی حلیف دہشتگرد تنظیم ”جنداللہ“ ایران میں اپنی دہشتگردانہ کارروائیوں کیلئے سالہا سال نہ صرف ہمارے بلوچستان کی سرزمین استعمال کرتی رہی، بلکہ اس کے سرغنہ، سفاک دہشتگرد عبدالمالک ریگی کے پاکستانی شناختی کارڈ پر کراچی کے ایک معروف مدرسہ کا پتہ درج ہونے کی خبریں کافی سال قبل منظرعام پر آچکی ہیں، چونکہ ان دنوں قومی ایکشن پلان کی طرح کی کارروائی نہیں ہوتی تھی، لہٰذا معاملہ دبا دیا گیا تھا۔ امید ہے اب تفتیشی ادارے ملتان مدرسہ سے گرفتار کل بھوشن کے ساتھیوں کے ریگی نیٹ ورک سے ممکنہ تعلق کے پہلو پر بھی خصوصی توجہ دیں گے۔

ایران میں ذمہ دار علماء کی حکومت ہے، جو پاکستان جیسے دیرینہ دوست مسلمان ملک کیلئے بھارت جیسے خونخوار سے تعاون کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کا مقابلہ مظلوم فلسطینیوں کے قاتل اسرائیل سے ہے یا اہلبیت و اصحاب رسول ﷺ کے مزارات پر حملے کرنیوالے دہشتگردوں کے مقابلے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور یہی اسلامی حکومت کی روش ہوتی ہے۔ ہماری حکومت، پاک فوج، سیاستدان اس عزیز ہمسایہ ملک سے دوستی کیخلاف سازشوں کو ناکام بنا کر دونوں ملکوں کے مفادات کا تحفظ کریں۔
خبر کا کوڈ : 531315
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش