0
Sunday 17 Apr 2016 19:36

شام میں روس کا کردار

شام میں روس کا کردار
تحریر: سعداللہ زارعی

گذشتہ کچھ عرصے سے عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شام کا سیاسی و سیکورٹی مستقبل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ حالیہ چند دنوں میں اکثر تجزیات کا موضوع شام کے صدر بشار اسد کے بارے میں امریکہ اور روس کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ہے۔ پیش ہونے والے تجزیات میں جو سب سے اہم دلیل ذکر کی گئی وہ شام سے روس کا فوجی انخلاء تھا۔ لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان تجزیات میں بیان شدہ آراء اور بیرونی حقیقت میں بہت زیادہ فاصلہ پایا جاتا ہے۔ بہتر ہو گا کہ ہم سب سے پہلے شام سے متعلق روس کے رویے سے متعلق چند اہم سوال پیش کریں اور ان سوالات کے ممکنہ جوابات کو زیر بحث لائیں۔ یہ سوالات درج ذیل ہیں:

روس کی خارجہ پالیسی میں شام کس قدر اہمیت کا حامل ہے؟ کم یا زیادہ؟ کیا روس کی سیکورٹی صورتحال ایسی ہے کہ وہ یوکرائن کے مقابلے میں شام پر سازباز کرنے پر مجبور ہے؟ یعنی روس یوکرائن کو اپنی تحویل میں لینے کے بدلے شام کو مغرب کے حوالے کر دے؟ شام میں روس کا اثرورسوخ کس حد تک ہے؟ یعنی شام کا مسئلہ کس حد تک روس کے اثرورسوخ میں ہے؟ کیا شام گذشتہ پچاس برس کے دوران مشرقی بلاک کا ایک حصہ اور روس کے اہم اتحادیوں میں شمار ہوتا رہا ہے؟ روس اور شام کے درمیان فوجی تعلقات کی سطح کیا ہے؟ شام میں فوجی مداخلت کے وقت روس کے مدنظر کون سے اہداف تھے اور روس کی جانب سے 6 ماہ بعد شام سے فوجی انخلاء عمل میں کیوں لایا گیا؟ شام حکومت اور مخالف گروہوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں روس کا کردار کیا ہے؟ جنیوا مذاکرات کے دوران امریکہ اور روس کے درمیان کون سا معاہدہ طے پایا ہے؟ کیا جنیوا مذاکرات میں روس کو مرکزی کردار دینے اور روس اور امریکہ میں خفیہ معاہدہ انجام پانے کا مطلب ایران کے کردار کو کمزور کرنے اور اپنے اتحادی ایران کی قسمت ماسکو – واشنگٹن معاہدوں کے سپرد کرنا نہیں؟ ایسی صورت میں کریملن – وائٹ ہاوس خفیہ مذاکرات کا نتیجہ واضح ہونے کے ناطے کیا ضرورت تھی کہ ایران گذشتہ پانچ برس کے دوران شام حکومت کو سرنگونی سے بچانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا اور اس راستے میں اپنے جوانوں کو شہید ہونے دیتا؟ اور آخری سوال یہ کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں کیا روس کے کھیل پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟

عالمی میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا میں ان سوالوں کی بہتات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شام کا مسئلہ کس قدر زیر بحث آ چکا ہے اور دوسری طرف یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شام کے مستقبل کے بارے میں کس حد تک پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ ان سوالات کے جواب کیلئے درج ذیل نکات پر توجہ دینا ضروری ہے:

1)۔ مغربی میڈیا سلطنت کا جانا پہچانا ہتھکنڈہ "پروپیگنڈہ" ہے جس کے ذریعے خاص قسم کی اخبار اور افواہیں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ مغرب کے سیاسی اور انٹیلی جنس حلقوں کے پیش نظر اہداف کو جامہ عمل پہنایا جا سکے۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ شام میں روس کے کردار سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہیں اور پروپیگنڈہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت انجام پا رہا ہے جس کا مقصد شام حکومت کو مایوس کرنا ہے۔ گذشتہ پانچ برس کے دوران مغرب کی جانب سے ایسا پروپیگنڈہ کوئی نئی چیز نہیں۔

2)۔ روس کی خارجہ سیاست میں شام کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ شام کی خارجہ سیاست میں بھی روس کا مقام انتہائی بلند ہے، اس کی مزید وضاحت آگے چل کر کریں گے۔ شام اور بحیرہ روم میں اس کے ساحلی علاقے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے وہ واحد علاقے ہیں جو نیٹو کے زیر اثر خطے کی جنوبی سرحدوں سے قریب واقع ہیں۔ یہ علاقے ایک حد تک روس کے اثرورسوخ میں ہیں۔ دوسری طرف ہر ایسا منصوبہ جو اس حساس خطے میں روس کی فوجی موجودگی پر اثرانداز ہوتا ہو وہ روس کی قومی سلامتی اور مفادات کے خلاف تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح روس مغرب کے ساتھ کسی ایسے معاہدے پر اعتماد نہیں کر سکتا جس کا نتیجہ شام میں صدر بشار اسد کی سرنگونی اور روس کے اثرورسوخ میں کمی کی صورت میں نکلتا ہو۔ لہذا یہ کہنا درست ہو گا کہ جیوپولیٹیکس اور اسٹریٹجک مفادات کے اعتبار سے اس وقت روس اور مغرب میں صدر بشار اسد سے متعلق کسی قسم کے اتفاق رائے کا حصول ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ مگر یہ کہ روسی حکام مذاکرات میں کسی غلطی اور خطا کا شکار ہو جائیں اور ایسی صورت میں بھی ایران کے ساتھ روس کے خوشگوار تعلقات کے پیش نظر اس غلطی کا ازالہ ممکن ہے۔ جیسا کہ گذشتہ ایک دو سالوں کے دوران ایسی ہی دو غلطیاں انجام پائیں اور پھر ان کا ازالہ کیا گیا۔

3)۔ یوکرائن کے مشرقی حصے پر روس کے اثرورسوخ اور جزیرہ نما کریمہ پر اس کے قبضے کے نتیجے میں بحیرہ اسود پر روسی فوج کے تسلط کے پیش نظر اس امکان کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی کہ روس یوکرائن کے بدلے شام پر مغرب سے سازباز کرے۔ اس وقت مغربی طاقتیں اور یوکرائن کی مغرب نواز حکومت یوکرائن کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں روس کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے شدید پریشان دکھائی دیتی ہے۔ لہذا اس دعوے میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی کہ روس شام کو مغرب کے حوالے کر کے یوکرائن کو اپنے تسلط میں واپس لانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

4)۔ شام کیلئے روس کی اہمیت کس حد تک ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ روس شام کے مسئلے میں انتہائی موثر ملک ہے۔ لاذقیہ اور طرطوس کے ساحلی علاقوں میں روس کی فوجی موجودگی نیز شام اور روس کے درمیان فوجی معاہدوں نے روس کو انتہائی اہم مواقع میسر کر رکھے ہیں۔ لیکن روس کی یہ حیثیت شام کیلئے ایران اور حزب اللہ لبنان کی حیثیت جیسی "اسٹریٹجک" نہیں۔ روس اور شام میں بعض بنیادی ایشوز پر اسٹریٹجک اختلافات پائے جاتے ہیں جبکہ دمشق اور تہران کے درمیان اس قسم کے اختلافات موجود نہیں۔ مثال کے طور پر ٹھوس شواہد کی روشنی میں حزب اللہ لبنان اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے خلاف 33 روزہ جنگ کے دوران روس کے بعض یہودی افسر بنت جبیل میں حزب اللہ کے خلاف برسرپیکار اسرائیلی افسروں کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ جبکہ دوسری طرف اس جنگ کے دوران شام حکومت نے اسلحہ اور لاجسٹک سپورٹ کے اعتبار سے مکمل طور پر حزب اللہ لبنان کی مدد کی۔ اس وقت بھی شام اور روس کے درمیان ایسے اضافی پروٹوکول موجود ہیں جن کے تحت شام حکومت پر اسرائیل کو حملوں کا نشانہ نہ بنانے کی پابندی عائد ہو چکی ہے۔ شام بھی محدود حد تک ان کی پابندی کرتا ہے۔ لہذا شام میں روس کا اثرورسوخ اس حد تک نہیں کہ وہ شام حکومت اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی طرف سے کوئی فیصلہ کر سکے اور اسے عملی شکل دے سکے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ روس کے نہ شام حکومت کے ساتھ اور نہ ہی حکومت مخالف گروہوں جیسے النصرہ فرنٹ اور داعش کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات استوار نہیں جن کی مدد سے وہ شام میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے قابل ہو۔ روس کی طاقت کا راز اس میں ہے کہ شام، ایران اور حزب اللہ لبنان اس کے ساتھ دکھائی دیں۔ دوسری صورت میں وہ بھی برطانیہ اور فرانس کی مانند ایک غیرموثر ملک میں تبدیل ہو جائے گا۔

5)۔ شام گذشتہ پچاس سال کے دوران سابق سوویت یونین اور روس کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کے باوجود کبھی بھی مشرقی بلاک کا حصہ محسوب نہیں ہوا۔ خود شام نے بھی کبھی کوئی ایسا اقدام یا فیصلہ نہیں کیا جو اس امر کی توثیق کرتا ہو۔ شاید اس کی ایک وجہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ روس کے خوشگوار تعلقات ہیں۔ بہرحال، شام کی خارجہ پالیسی ہر گز ماسکو سے تعلقات اور اس کی پالیسیوں کے تحت نہیں رہی۔ جبکہ دوسری طرف ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے شام ہمیشہ اسلامی مزاحمتی بلاک کا حصہ تصور کیا جاتا رہا ہے اور اس وقت بھی شام اپنی بقا میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مخصوص اور موثر مدد اور حمایت کا مرہون منت ہے۔ روس کے برخلاف، ایران اور حزب اللہ لبنان شام کی سرزمین میں دفاعی لائن قائم کئے ہوئے ہیں اور شام کے مرکز، شمال اور جنوب میں براہ راست فوجی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ اگر روس کسی تیسرے ملک سے ایسا معاہدہ انجام دے جو ایران کیلئے قابل قبول نہ ہو تو یہ معاہدہ یقیناً شکست کا شکار ہو گا جیسا کہ گذشتہ 30 برس کے دوران یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ ہر وہ فیصلہ ناکامی کا شکار ہوا ہے جو ایران کو اعتماد میں لئے بغیر خطے کے ممالک اور اسلامی مزاحمت کے بارے میں کیا گیا ہے۔

6)۔ اسلحہ اور فوجی سازوسامان کے اعتبار سے شام کا روس پر انحصار مطلق نہیں بلکہ ایک عرصے سے ایران شام کی اسٹریٹجک فوجی سازوسامان کی ضروریات کو پورا کرتا آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان 33 روزہ جنگ کے دوران شام حکومت نے روس کے ساتھ پائے جانے والے فوجی پروٹوکولز کے منسوخ ہونے کی پرواہ کئے بغیر اور روس کی جانب سے پیش کردہ شرائط کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے پاس موجود روسی اسلحہ حزب اللہ لبنان کو فراہم کیا اور روس بھی اس مسئلے پر شام کے خلاف کوئی موثر اعتراض نہ کر سکا۔ اگر شام اپنے اسلحہ کی ضروریات پوری کرنے میں مکمل طور پر روس پر منحصر ہوتا تو وہ شام حکومت ہر گز روس سے اپنے معاہدات کی یکطرفہ منسوخی جیسا قدم نہ اٹھاتی۔

7)۔ روس نے 1 اکتوبر 2015ء کو ایران کی جانب سے باقاعدہ درخواست کے بعد شام مسئلے میں مداخلت کا آغاز کیا۔ ماسکو نے ایران کے ایک اعلی فوجی وفد کے دورے کے دو روز بعد شام میں دہشت گرد عناصر کے خلاف اپنی ائیرفورس اور میزائل سسٹم شام بھیجا۔ اس کے تقریبا پانچ ماہ بعد روس نے اپنی فوجی طاقت کا کچھ حصہ شام سے واپس بلا لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایران کے فوجی حکام کا معاہدہ بھی پانچ ماہ کی مدت پر مشتمل تھا۔ روس نے یہ مدت پوری ہونے کے بعد اپنی فوجی طاقت کا بعض حصہ شام سے نکالا۔ روس نے ایسے وقت ایران کی درخواست پر شام میں فوجی مداخلت کی جب یہ مداخلت انتہائی ضروری اور موثر تھی اور ایک ایسے وقت اپنی فوجی طاقت کا کچھ حصہ شام سے واپس بلایا جب شام سے روس کا مکمل فوجی انخلاء بھی شام حکومت کیلئے زیادہ نقصان دہ ثابت نہیں ہو سکتا تھا۔ البتہ ایران کی رائے بھی یہی تھی کہ اب روس کو شام سے فوجی طاقت کا انخلاء کر لینا چاہئے۔

حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ سال بہار سے گرمیوں کے درمیان تکفیری دہشت گرد عناصر نے بہت حد تک پیشقدمی انجام دی۔ اس مدت میں تکفیری دہشت گرد ادلب، شیخ مسکین، سخنہ اور پالمیرا پر قابض ہونے میں کامیاب ہو چکے تھے جس کے باعث ان کے حوصلے بہت بلند ہو گئے تھے۔ ایسے حالات میں ایک ایسے بڑے اقدام کی ضرورت تھی جو شام حکومت اور قوم کو ایک نئی امید دلاتا۔ البتہ شام میں روس کی فوجی مداخلت سے قبل حزب اللہ لبنان زبدانی جیسے اسٹریٹجک شہر کو دہشت گرد عناصر سے آزاد کروا چکی تھی۔ یہ بڑا اقدام گذشتہ برس اکتوبر میں انجام پایا جس کے تحت شام آرمی اور اس کی حامی فورسز نے حلب کے مغربی حصے میں نصر 2 آپریشن انجام دیا اور اس آپریشن نے شام میں جاری جنگ کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ لہذا اب جب روس نے اپنی آرمی کا ایک حصہ شام سے واپس نکالا ہے تو اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں رہی اور یہ کہنا بالکل درست نہیں کہ روس کے اس فیصلے نے ایران اور شام کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔

8)۔ سیاسی مذاکرات شام کی ضرورت ہیں اور ایران نے بھی ہمیشہ فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ سیاسی بات چیت اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔ اسی طرح ایران اکثر مذاکرات خاص طور پر میونخ اور جنیوا میں انجام پانے والے حالیہ مذاکرات میں موثر انداز میں شریک رہا ہے۔ شام کے مسئلے میں روس کا کردار دو پہلووں پر مشتمل ہے۔ ایک پہلو شام میں جاری جنگ سے متعلق زمینی حقائق سے مربوط ہے۔ اس لحاظ سے روس اور ایران میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ دوسرا پہلو روس کے خاص منصوبوں سے مربوط ہے جس کی ایک مثال روس کی جانب سے شام میں فیڈرل نظام حکومت کے نفاذ کا منصوبہ پیش کرنا ہے۔ ایران اس بارے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور سمجھتا ہے کہ ابھی اس منصوبے کو زیر بحث لانے کا مناسب وقت نہیں آیا۔
خبر کا کوڈ : 533914
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے