0
Saturday 23 Apr 2016 22:47

دھمکیاں اور تسلط پسندی، امریکہ کی ناکام خارجہ پالیسی

دھمکیاں اور تسلط پسندی، امریکہ کی ناکام خارجہ پالیسی
تحریر: مائیکل پاینے (Michael Payne)

واشنگٹن میں بیٹھی ہماری حکومت بدستور ایسی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کا غیر موثر اور بے فائدہ ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ ہمیں اب وزارت خارجہ اور پینٹاگون میں بیٹھے اس خارجہ پالیسی کے موجدین اور نفاذ کے ذمہ داران کو اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ ماضی کی طرح اس خارجہ پالیسی کو جاری رکھیں کیونکہ اس کی ناکامی میں کوئی شک باقی نہیں رہ گیا۔ گذشتہ کئی عشروں سے ویت نام، افغانستان، عراق، لیبیا اور اب شام میں جاری اس سراسر غلط امریکی خارجہ پالیسی کا نتیجہ سوائے واضح شکست کے نہ کچھ نکلا ہے اور نہ ہی نکلے گا۔ اس پالیسی کا نتیجہ مختلف ممالک کی تباہی و بربادی، نابودی اور امریکی سپاہیوں کی بیہودہ ہلاکت کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ پالیسیاں بدستور جاری ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی جا رہی جس کے باعث امریکہ روز بروز حالات کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔

آئیے امریکی خارجہ پالیسی کی حالیہ تاریخ پر ایک نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ کیوں اور کیسے یہ پالیسی شکست خوردہ پالیسی ہے؟ یوکرائن اور جزیرہ کریمہ میں انجام پانے والے واقعات پر توجہ دیں۔ امریکہ کی جانب سے روس اور یوکرائن کے درمیان تعلقات میں مداخلت کی مثال ایسے ہی ہے جیسے روس شمالی امریکہ میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرتے ہوئے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تعلقات بگاڑنے کی کوشش کرے۔ یوکرائن سے متعلق امریکی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے اور امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے یوکرائن میں فوجی طاقت بھیجے جانے کی دھمکی کے باوجود وہ اس پر عمل نہ کر سکے۔ یوکرائن سے متعلق امریکی پالیسیوں کی ناکامی کی وجہ روس کی جانب سے فوری ردعمل کا اظہار تھا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے واضح انداز میں اعلان کیا کہ اگر امریکی صدر براک اوباما نے یوکرائن میں فوج بھیجی تو روس بھی صورتحال پر کنٹرول پانے کیلئے بلافاصلہ اپنے فوجیں یوکرائن میں اتار دے گا۔ روسی صدر کے اس اعلان کے ساتھ ہی امریکی خارجہ پالیسی کی شکست خوردہ مہم جوئی کا اختتام ہو گیا۔ شام سے متعلق امریکی خارجہ پالیسی کا بھی یہی حال ہے۔ شام میں امریکی خارجہ پالیسی کا کیا نتیجہ نکلا؟ شام میں جاری وسیع اندرونی خلفشار اور کشمکش کے دوران جس میں شام کی مسلح افواج داعش سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کے خلاف برسرپیکار تھے، امریکہ کی جانب سے صدر بشار اسد کی اقتدار سے علیحدگی پر اصرار کیا معقولانہ اقدام تھا؟ امریکہ نے شام میں صدر بشار اسد کو اقتدار سے علیحدہ کر کے اس ملک پر شدید قسم کے ہوائی حملوں کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ اگر ایسا نہ بھی کہا جائے کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر بے فائدہ تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا فائدہ نہ ہونے کے برابر تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی بنانے والے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ شام میں صدر بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش وہی اقدام تھا جو وہ کچھ عرصہ قبل شام کے ہمسایہ ملک عراق میں انجام دے چکے تھے اور اس کے نتائج بھی دیکھ چکے تھے۔ ستمبر 2015ء میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اپنی ائیرفورس شام بھیجی اور شام حکومت اور ایرانی فورسز کی حمایت میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف ہوائی حملوں کا آغاز کر دیا۔ کچھ عرصے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا جو اب تک جاری ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بدستور جاری رہے گی۔ حال ہی میں روس نے شام میں موجود اپنی فوج کا بڑا حصہ واپس بلا لیا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ کی شکست خوردہ خارجہ پالیسی کے بانیوں کی نئی مصروفیت روس اور چین کو ڈرا دھمکا کر کنٹرول کرنا ہے۔ ایسی پالیسی جو محض پاگل پن نظر آتا ہے۔

آئیے اس انداز میں اس پالیسی پر نظر ڈالیں کہ اگر امریکی خارجہ پالیسی کے نااہل بانی ایسے دو ممالک کو چننا چاہیں جن کے بارے میں انہیں یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ ہر گز ان کے خلاف ڈرانے دھمکانے والی پالیسی اختیار نہیں کرنی تو وہ روس اور چین ہوں گے۔ اس امر کی کئی وجوہات ہیں۔ جیسے یہ کہ روس اور چین دونوں عالمی طاقتوں میں شمار ہوتے ہیں، دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور عظیم اور طاقتور مسلح افواج کے حامل ہیں۔ چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ روس رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک محسوب ہوتا ہے۔ نہ تو چین اور نہ ہی روس ہر گز کسی ملک کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ان کے خلاف دھمکی آمیز پالیسی اختیار کرے۔ لہذا آپ اس قدر بے احتیاط اور گستاخ کیوں ہیں جو اس کوشش میں مصروف ہیں کہ ان دو ممالک میں سے کسی ایک کو ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور کر دیں؟ کیا امریکی خارجہ سیاست کی ڈکٹیشن کرنے والے جنگ طلب عناصر اس حقیقت کو درک کرنے سے قاصر ہیں کہ ان کے غیرمعقول اقدامات چین اور روس کے درمیان پہلے سے موجود مضبوط اور طاقتور اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بن رہے ہیں؟ ایسا اتحاد جو یوریشیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں وسیع دوطرفہ اقدامات انجام دینے کیلئے اپنی طاقت کو بروئے کار لائے گا؟ اور ایسا اتحاد جو فوجی اعتبار سے شکست ناپذیر ہے؟ کیا یہ نالائق افراد اس حقیقت سے غافل ہیں کہ اس قسم کی پالیسیوں کے ذریعے انجام پانے والی ان کی تمام تر کوششیں بے فائدہ اور بیہودہ ثابت ہو رہی ہیں؟

اب جبکہ چین سے متعلق امریکہ کی غلط خارجہ پالیسی کا تذکرہ چل نکلا ہے تو یہ کہنے کی اجازت بھی دیں کہ امریکہ میں زیر استعمال پروڈکٹس کا بڑا حصہ چین ساختہ ہے اور اسی طرح اس وقت امریکہ پر چین کا 1.2 کھرب ڈالر کا قرضہ بھی ہے۔ کسی بھی وقت چین کی جانب سے اپنے قرضے کا مطالبہ امریکہ کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ لیکن چین نے اب تک امریکہ کے خلاف کمترین دھمکی آمیز رویہ یا پالیسی اختیار نہیں کی۔ انسان سوچتا ہے کہ زیادہ مناسب خارجہ پالیسی ایسی پالیسی ہے جس کے تحت چین سے تعلقات مزید بہتر اور مضبوط بنانے پر زور دیا جائے کیونکہ چین اور امریکہ دونوں کے اہداف و مقاصد ایک ہی ہیں یعنی زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایسے افراد جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے، اس مناسب خارجہ پالیسی کو اپنانے کی بجائے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اب جنوبی چین میں واقع سمندر کی جانب حرکت کرنے اور اس خطے پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جو چین کا پچھواڑہ جانا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد امریکی نیوی کا بڑا حصہ اس خطے میں بھیج کر چین کی طاقت اور اثرورسوخ کو کمزور بنانا ہے۔ اس قسم کی "جنگی کشتیوں" پر مبنی خارجہ پالیسی ایسے وقت بروئے کار لائی جا رہی ہے جب امریکہ کو کسی قسم کا کوئی خطرہ درپیش نہیں، اور یہ امر قابل فہم نہیں۔ یہ حالیہ اسٹریٹجی یعنی "ایشیا کو مرکز" بنانے والی پالیسی ایسے ہی ہے جیسے چین اپنی نیوی کا بڑا حصہ بحر اوقیانوس بحرالکاہل اور امریکی ساحلی علاقوں کے قریب تعینات کر دے۔ ایسے اقدامات کا نتیجہ ٹکراو کی صورت میں نکلنے کا امکان بہت زیادہ ہے اور اگر دونوں عالمی طاقتوں میں سے کسی ایک کی جانب سے کوئی غیرمحتاطانہ قدم اٹھ جائے تو جنگ کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایسا ہولناک واقعہ رونما ہو جائے جس کے امکانات بھی موجود ہیں تو آپ امریکی معاشرے پر اس کے ہولناک نتائج پر غور کریں۔ تصور کریں کہ اگر چین امریکہ برآمد ہونے والی اپنی پروڈکٹس کو منقطع کر دے تو کیا نتائج ظاہر ہوں گے؟

چین سے ٹکراو پر مبنی پالیسی اختیار کرنے سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم ایک ایسی خارجہ پالیسی وضع کریں جو چین کی خارجہ پالیسی سے ملتی جلتی ہو۔ ایسی پالیسی جس کی بنیاد دیگر ممالک سے مثبت باہمی تعامل قائم کرنے پر استوار ہو۔ چین نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد ڈرانے دھمکانے اور تسلط پسندی پر نہیں رکھی۔ بلکہ چین خود کو مضبوط بنانے، اپنا انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے اور دنیا کے اکثر ممالک سے باہمی تعاون استوار کرنے کی انتھک کوششوں میں مصروف ہے۔ چین دیگر ممالک سے مل کر ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ چین کے ترقیاتی بینک نے دنیا کے 60 ممالک میں جاری 900 پراجیکٹس پر 890 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ یہ ایسی خارجہ پالیسی ہے جو دوسروں کو اپنا دشمن بنانے کی بجائے نئے دوست پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ یہ کیسی خارجہ پالیسی ہے؟ مزید برآں، چین نے حال ہی میں اپنا 13 واں پانچ سالہ منصوبہ منظور کیا ہے جس میں ملک کے اندر اور دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کے عظیم پراجیکٹس شامل ہیں۔

مجھے یاد نہیں پڑتا کبھی امریکی حکومت نے بھی کوئی پانچ سالہ منصوبہ بنایا ہو یا ملکی انفرا اسٹرکچر کی ترقی یا دیگر ممالک میں سرمایہ کاری اور ان سے باہمی تعاون کے فروغ کیلئے کوئی اقدام انجام دیا ہو۔ لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امریکی ٹیکس دھندگان کے اربوں ڈالر عراق اور افغانستان میں اس تباہی و بربادی کے ازالے پر خرچ کئے گئے جو ہمارے ہی نادرست فوجی اقدامات کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی۔ جب بھی امریکی حکومت ایک نئی جنگ کا آغاز کرتی ہے اور کسی دوسرے ملک پر حملہ یا اس پر قبضہ کرتی ہے اور ہوائی حملوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے اس ملک کے سربراہان کو ختم کر کے مطلوبہ افراد لانے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں امریکی حکام ایسی بدبودار دلدل میں مزید دھنس جاتے ہیں جسے وہ خود معرض وجود میں لائے ہیں۔ اگر امریکہ میں ایک ایسا سیاسی انقلاب رونما ہو جائے جس کی کوشش برنی سینڈرز کر رہے ہیں، تو سب سے پہلے ان جنگ طلب عناصر کے خاتمے کی ضرورت ہے جو موجودہ خارجہ پالیسی کے بانی ہیں اور اس کے بعد امریکی خارجہ پالیسی کو ایک مثبت اور تعمیری پالیسی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا یہ اقدام ایک مثبت تبدیلی کیلئے مناسب پیش خیمہ فراہم نہیں کرے گا؟
خبر کا کوڈ : 534862
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب