1
0
Monday 16 May 2016 14:03

مثالی یکجہتی

مثالی یکجہتی
تحریر: سردار تنویر حیدر بلوچ

استعماری طاقتوں اور انکے آلہ کار تکفیری شدت پسندوں کی ملی بھگت سے سرزمین پاکستان پر غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کی سازش عمل پذیر ہے۔ مدافع اسلام، محافظ وطن، ولایت فقیہ کے خط پہ قائم ملت تشیع پاکستان کو زبردست چینلجز کا سامنا ہے۔ ایک محاذ مسلمانوں کے درمیان وحدت کی فضا کو برقرار رکھنا، دوسرا وطن عزیز کی سلامتی ہے۔ ملت تشیع کی ترقی، رشد و ارتقا اور استحکام کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ قیام پاکستان سے لیکر استحکام پاکستان اور وطن عزیز کی نظریاتی بنیادوں کے دفاع تک ملت تشیع کا کردار تاریخ کا اہم باب ہے۔ گذشتہ دنوں پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں تکفیری دہشت گردوں کی بہیمانہ کارروائیوں میں متعدد شیعہ مسلمان شہید کئے گئے ہیں۔ پارا چنار میں متعصب ایف سی افسر کی جانب سے نہتے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس ساری صورتحال میں پورے ملک میں بے چینی کی نئی لہر پیدا ہوئی۔ تمام شیعہ تنظیموں نے پورے ملک میں مظاہرے کئے اور احتجاج ریکارڈ کروایا، سرکاری یقین دہانیوں کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے احتجاج کی کال دی، پھر وفاقی دارالحکومت میں بھوک ہڑتال شروع کی، جو تاحال جاری ہے۔ بھوک ہڑتال احتجاج کا مہذب انداز اور آخری حد ہے، ورنہ پاکستان کی سڑکیں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہاں ظلم کے مارے کئی لوگون نے اپنے آپ کو آگ لگائی ہے، لیکن ستمگر حکمران اشرافیہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ ایم ڈبلیو ایم ایک ملک گیر شیعہ تنظیم ہے، سیاسی میدان میں اپنی ساکھ رکھتی ہے، جہاں قیادت علماء کے پاس ہے، پڑھے لکھے جوان علماء کا دست و بازو ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس کی طرف سے شروع کی گئی احتجاجی تحریک کی یہ دوسری بڑی مثال ہے، اس سے پہلے سانحہ کوئٹہ کے موقع پر ملک گیر دھرنوں نے پورا نظام جام کر دیا تھا۔ ملت تشیع کیساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کے لئے ایم ڈبلیو ایم نے دس نکات پر مشتمل مطالبات پیش کئے ہیں۔ اہل سنت تنظیموں نے بھی اس موقف کی تائید کی ہے۔

بھوک ہڑتالی کیمپوں کا سلسلہ پورے ملک میں پھیلنا شروع ہوگیا ہے۔ ایک بار پھر ملت تشیع پاکستان کو یکجہتی اور ٹھوس بنیادوں پہ متحد ہو کر اپنے وجود کا ثبوت دیتے ہوئے، ملک کے طول و عرض میں شہید ہونے والے معصوم پاکستانیوں کے حق میں آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، آئی ایس او پاکستان نوجوانوں کا ہراول دستہ ہے، شہید علامہ عارف حسین الحسینی نے اس کی تصدیق کی کہ یہ نوجوان میرے پر ہیں، جن سے میں پرواز کرتا ہوں۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اور مجلس وحدت مسلمین دو الگ الگ تنظیمیں ہیں، انکے الگ دستور، تشکیلات اور ادارے ہیں، دونوں اپنے فیصلوں میں خود مختار ہیں۔ مذکورہ تنظیمیں فعال اور موثر ترین تاریخ رکھتی ہیں۔ امامیہ نوجوانوں کی جانب سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے اسٹینڈ کی تائید ایک اہم موڑ ہے۔ ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے گلگت سے کراچی تک احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

لاہور میں بھوک ہڑتالی کیمپ علماء کی سرپرستی میں جاری ہے۔ یہ وقت اعتراضات اور تحویلات کا نہیں، یہ عمل کا وقت ہے، میدان سج چکا ہے، دشمن تمام حربے آزما رہا ہے، ملک کی سلامتی کو دہشت گردی اور کرپشن کے عفریت نے گھیر رکھا ہے۔ یہ درست ہے کہ وحدت سے مراد ادغام اور ضم ہونا نہیں ہے، لیکن ایک سوال موجود ہے کہ کیا ایک ہی مسلک، ایک ہی فرقے اور ایک ہی خط پہ چلنے والے مختلف گروہوں کے درمیان ہم آہنگی، اتحاد اور وحدت کو کیسے ادغام اور ضم ہونا کہا جا سکتا ہے۔ دراصل زیادہ قربتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اصولی طور پر کوئی نیا نظریہ بنانے کی ضرورت ہی نہیں، مل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک غیر ضروری نکتہ ہے کہ وحدت سے مراد ضم ہونا نہیں ہے، الگ مونوگرام، تنظیمی دستور، ڈھانچہ، دفتر اور ایک دوسرے سے مختلف رنگ کے جھنڈے بنا کر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دینا عقل کا تقاضا ہے، اس سے الگ مسلک اور الگ مشرب نہیں بن جاتا ہے، جہاں یہ کہا جائے کہ ہم ایک دوسرے میں ضم نہیں ہوسکتے۔ اہل ایمان کا خمیر ایک ہی مٹی سے اٹھا ہے، وہ ایک نور سے خلق ہوئے ہیں، ایک امام علیہ السلام کے پیروکار ہیں، سب نائب امام کے سپاہی اور کارکن ہیں۔

ملت واحدہ، ملت واحدہ ہے، ایک ہی مسلک کے کارکنوں، تنظیموں اور اداروں کے درمیان وحدت ایک اصول کے طور موجود ہے، شہید باقر الصدر نے جس طرح فرمایا کہ امام خمینی میں اس طرح ضم ہو جاو، جیسے وہ اسلام میں ضم ہوچکے ہیں، امام خمینی کے پیروکار ہونے کے دعویدار کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم امام خمینی کی ذات میں اس طرح ضم نہیں ہوئے، جیسے وہ اسلام میں جم ہوچکے تھے۔ مکتب اہلبیت علہیم السلام کے ماننے والے ایک ہیں، ایک جھنڈے تلے جمع ہیں۔ یہ خوش آئند ہے کہ ایم ڈبلیو ایم نے مختلف اضلاع میں بھوک ہڑتالی کیمپوں کا سلسلہ بڑھانا شروع کیا ہے اور آئی ایس او پاکستان کے نوجوان بھی انکی حمایت اور تائید سے یکجہتی کی فضا پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر علی مہدی کی جانب سے مرکزی کابینہ سمیت اسلام آباد کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکت دو برادر تنظیموں میں مثالی یکجہتی کی دلیل ہے، یہ وقت کا تقاضا اور قوم کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 538821
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
اس موقع پر تمام ملی تنظیموں، شخصیات اور مدارس کو علامہ راجہ ناصر صاحب کی تائید اور حمایت کرنی چاہیے۔
منتخب
ہماری پیشکش