0
Tuesday 15 Feb 2011 23:57

انقلاب تیونس اور فوکویاما کا پرندہ

انقلاب تیونس اور فوکویاما کا پرندہ
تحریر: سید علی جوادہمدانی 
اسلام ٹائمز- 14 جنوری کو 23 سالہ استبدادی دور گزار کر تیونس سے فرار ہونے والے ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کو 20 گھنٹے ہوا میں سرگردانی کے بعد عرب دنیا کے سب سے بڑے مستبد ملک کے حکمرانوں یعنی سعودی حکام نے ہی قبول کیا۔ اپنی افادیت کھونے کے بعد اسی ڈکٹیٹر کے ہمسائے میں آباد آقاؤں فرانس اور اٹلی نے اسے اپنے ملک میں داخل نہ ہونے دیا۔ جس طرح ایرانی شاہ کو فرار کے بعد امریکہ نے اجازت نہیں دی تھی۔
یورپ سے نزدیک بحیرہ روم کے آر پار چند سو سمندری ناٹیکل میلوں کے فاصلے کی وجہ سے جہاں مادی ترقی میں یورپ کی ہمراہی میں اقتصادی ترقی کے لحاظ سے تیونس عرب دنیا میں پہلے نمبر پر تھا وہاں فکری اور نظریاتی سطح پر تو یورپ سے دو قدم آگے ہی تھا، کیونکہ سرکاری طور پر مساجد میں اذان اور نماز جماعت کی اجازت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ ترکی اور آذربائیجان کی طرح یہ تیسرا اسلامی ملک تھا جہاں سرکاری اداروں میں حجاب کی اجازت بھی نہیں تھی۔ یورپ کے مقابلے میں تیونس کا ایک اور طرہ امتیاز یہ تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے اختتام سے اب تک نزدیک ترین یورپی ہمسایہ ملک اٹلی میں 50 سے زیادہ حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں مگر تیونس میں فرانس سے 1956 میں آزاد ہونے سے لے کر اب تک 55 سالوں میں فقط دو صدر براجمان رہے ہیں۔
سنگل پارٹی کی طولانی مدت حکومت کی وجہ سے مطلق العنانی کے ہمراہ کرپش عروج پر تھی۔ اقتصادی ترقی میں آگے ہونے کے باوجود معاشی بدحالی اور تنگ دستی کے ہاتھوں جواں سال بے روزگار یونیورسٹی گریجویٹ محمد بوعزیزی کی دسمبر میں خودسوزی سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے بالآخر اس 23 سالہ ڈکٹیٹرشپ کو بدترین انجام تک پہنچا دیا، یہاں تک کہ اسی ڈکٹیٹر کی باقیات کو بھی عبوری کابینہ میں برداشت نہ کیا۔ اس معرکے کے بعد پیش آنے والی عارضی آزاد فضا میں اپنے ملک واپس پلٹنے والے ممنوعہ ''جماعت اسلامی النہضہ'' کے 20 سال سے جلاوطن راہنما راشد الغنوشی، جنہیں انکی غیر حاضری میں عدالت 3 دفعہ
سزائے موت سنا چکی ہے، نے برطانیہ سے واپسی سے پہلے 31 جنوری کو الجزیرہ چینل پر اپنے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں کہا: "نہ تو میں امام خمینی (رہ) ہوں اور نہ ہی شیعہ، جبکہ کچھ لوگ امام خمینی ؒ کی عبا میرے اوپر اوڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔ انکی اس بات کی کئی تفاسیر اور تجزیے پیش کئے گئے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ الغنوشی، امام خمینی رح کے مداحوں میں سے ہیں۔ پھر اس جملے کے پیچھے کیا حقائق تھے جنکی بنیاد پر انہیں یہ کہنا پڑا؟۔ صورتحال کو واضح کرنے کیلئے پہلے یہاں امریکی سیاسی مفکر فرانسس فوکویاما، جو پینٹاگون کے ذیلی عسکری تجزیاتی ادارے رانڈ (RAND) سے وابستہ ہیں،کے 80 کی دھائی میں اسرائیل میں منعقدہ شیعہ مطالعاتی کانفرنس سے کچھ اقتباسات کا تجزیہ کرتے ہوئے الغنوشی کے بیان کی طرف پلٹتے ہیں۔
فوکویاما شیعہ مذہب کے پیروکاروں سے متعلق کہتے ہیں: "شیعہ ایک ایسا پرندہ ہے جسکی پرواز کی سطح ہمارے تیروں سے کہیں بلند ہے۔ ایک ایسا پرندہ ہے جسکے دو پروں میں سے ایک پر سبز ہے اور ایک سرخ۔ اس پرندے کا سبز پر اسکا مہدویت و عدالت خواہی پر ایمان ہے، چونکہ شیعہ عدل و انصاف کے پھیلنے کے انتظار میں ہیں، لہٰذا امیدوار ہیں اور امید کا حامل انسان ناقابل شکست ہوتا ہے، ایسے شخص کو تسخیر نہیں کیا جا سکتا جو اس بات کا دعوے دار ہو کہ کسی نے آنا ہے، جس نے ظلم و ستم سے بھری دنیا کو عدل سے بھر دینا ہے۔ شیعہ کا سرخ پر، اسکی شہادت کی آرزو ہے جسکی جڑیں کربلا میں ہیں اور اس جذبہ شہادت نے شیعہ کو لازوال بنا دیا ہے"۔
یعنی شیعہ مذہب ان دو پروں کے بل بوتے پر اتنی بلندی پر پرواز کر رہا ہے کہ ہمارے سیاسی، اقتصادی، معاشی، ثقافتی، اخلاقی اور زہر آلود تیر اس تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ایک تیسرا نقطہ جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے شیعہ مذہب کا تیسرا رخ ہے۔ وہ کہتا ہے: "اس پرندے نے ایک زرہ ولایت کے نام کی پہن رکھی ہے جسکی وجہ سے یہ ناقابل شکست بن گیا ہے"۔ تمام اسلامی مذاہب میں سے صرف شیعہ مذہب ہی ہے جس میں ولایت کا
نظریہ جو پیغمبر ص کے بعد آئمہؑ اور پھر آج تک فقہاء کی شکل میں جاری ہے۔ یہ نظریہ افلاطون کے حکماء کے نظریے سے برتر ہے۔
فوکویاما معتقد ہے: "شیعہ نظریے میں ولایت پذیری، صلاحیت اور اہلیت کی بنیاد پر ہے جو اسے ہر قسم کے خطرے سے بچائے رکھتی ہے"۔ فوکویاما نے اپنا نظریہ 1984 میں پیش کیا تھا۔ البتہ یہ شیعوں کی تعریف میں نہیں تھا، بلکہ اس تزویراتی منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس میں اسرائیل کے ارد گرد موجود ممالک کے اقتصادی حیات سے مالا مال ذخائر پر قبضہ کرنا اور اسرائیل کا تحفظ سرفہرست تھا۔ اس تحفظ میں سب سے بڑا خطرہ 1979 کے شیعہ انقلابِ ایران کی بدولت ولایت فقیہ کا صرف فقہی حدود سے بڑھ کر انسانی زندگی کے تمام امور میں عملی طور پر شامل ہونے سے تھا۔ فوکویاما نے اس خطرے کے بارے میں اپنے اس نظریے میں کہا تھا: "ہماری تاریخی تحقیق کی بنیاد پر 2007 شیعہ اور مغرب کے درمیان معرکہ آرائی کا سال ہے لہٰذا مکمل اور دقیق منصوبہ بندی کے ذریعے شیعوں کو حذف اور اپنی طاقت کو پھیلانا پڑے گا"۔
بقول فوکویاما، آرماگڈون (Armageddon) معرکے میں دو قوتیں آمنے سامنے ہوں گی: جیسس کرایس اور انٹی کرایس۔ صہیونی فرقہ اسی شیطانی قوت کی تخریبی کاروائیوں کیلئے دن گن رہا ہے۔
فوکویاما کے مطابق: "اس وقت ایک ہلال (Crescent) موجود ہے، شیعہ ہلال (Shia Crescent) جو کہ شام، عراق اور سعودی عرب تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ میں ایک تیر ہے جس کا پچھلا حصہ قندھار میں اور اس کا نشانہ قدس کی طرف ہے، آرماگڈون میں ہمارا سامنا اسی تیر سے ہے۔ قدس سے قندھار تک شیعہ تزویرانی علاقہ (Strategic Area) ہے"۔
وہ شیعہ خطرے سے بچاؤ کیلئے برعکس تدارکاتی منصوبہ بندی (Counter Engineering) اور اپنے لئے براہ راست منصوبہ بندی کے حوالے سے لکھتا ہے: "شیعوں کهلئے برعکس منصوبہ بندی کے پہلے مرحلے میں ولایت فقیہ کو نشانہ بنایا جائے چونکہ جب تک اسے نہ ہٹایا گیا تو کربلا اور مہدویت پر حملہ نہیں کر سکیں گے"۔
اسی سلسلے میں وہ اپنا نظریہ "خواہشات کی مائکرو
سیاست اور اقتدار کی مائکرو فزکس" (Micro Politics of Desires and Micro Physics of Power) پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: "کسی ملک پر قبضے کیلئے عوام کی خواہشات کو تبدیل کرنا پڑے گا، اگر لوگوں کی خواہشات کو شہادت کے حصول، ایثار ، قربانی اور دسیوں عوامل جنکی بنیاد پر یہ ثقافت تشکیل پاتی ہے، کو آسائش، مغربی کلچر اور مادیات کی طرف نہ موڑ پائیں تو ایسے ہی ہے جیسے ہاون میں پانی کوٹا جا رہا ہو۔ یہ خواہشات تبدیل نہ ہو پائیں گی مگر یہ کہ ارکان اقتدار کی طرف سے اس تبدیلی کی حمایت کی جائے اور اس مد میں ولایت فقیہ کو کمزور کرنا اہم ترین کڑی ہے"۔
دوسرے اہم اقدامات 1984 کی اس کانفرنس میں فوکویاما نے تجویز کئے اس میں آرماگڈونی تیر کو چلنے سے روکنے کیلئے افغانستان پر قبضہ، ایران کو بے اثر بنانا اور سینما کا مؤثر استعمال جس میں اسلامی کلچر کی طرز پر فلمیں بنا کر اسلامی تہذیب کو مخدوش اور مشکوک کرنا مثلاً امام مہدی عج کی جگہ یسوع مسیح، کربلا کی طرز پر امریکی فوج کی جان فشانی وغیرہ جیسے اقدامات کو پیش کرنا چند اہم ترین واقعات تھے۔
اگر ہم گزشتہ کچھ عرصہ کا مطالعہ کریں تو اس وقت واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ 2001 کے نو گیارہ ڈرامے کے بعد سے واقعات تسلسل کے ساتھ اسی نہج پر وقوع پذیر ہوئے ہیں اور ان واقعات کی تان 2006 کی 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ کے مقابلے میں اسرائیلی شکست پر ٹوٹی ہے، اور اس منصوبہ بندی کا انٹی کلائمکس شروع ہو چکا ہے اور کھیل ان شیطانی ہرکاروں کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، کیونکہ اس منصوبہ بندی کا اصل ہدف حزب اللہ کے خاتمے پر شروع ہونا تھا۔ اس منصوبے کے تابوت میں آخری کیل ایران کے 2009 میں ہونے والے انتخابات کی شرپسندی اور فسادات کی ناکامی نے جڑا۔
دوسرا اہم واقعہ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے اہلسنت کے اکابرین کے بارے میں توہین کے حرام ہونے کا فتوی تھا جسکو تمام اسلامی دنیا نے سراہا اور جامعۃ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد خطیب نے نہ فقط اس فتوے کو سراہتے ہوئے دشمن کی سازشوں
کو ناکام بنانے کا سبب قرار دیا بلکہ شیعہ اجتہاد کی طرز پر اہلسنت کے درمیان اجتہاد کے نہ ہونے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں لکھا: "میں نے تحسین اور تمجید کے ساتھ صحابہ رضوان اللہ علیہم کی توہین کی تحریم کے سلسلے میں حضرت امام علی الخامنہ ای کا مبارک فتویٰ وصول کیا۔ یہ ایسا فتویٰ ہے جو صحیح معرفت اور شرپسندوں کی طرف سے انجام پانے والے اعمال کے خطرے سے متعلق گہری سوجھ بوجھ کی بنیاد پر جاری ہوا ہے اور مسلمانوں کے درمیان وحدت اور یکجہتی سے ان کے اشتیاق کا غماز ہے"۔
انہوں نے کہا: "جو چیز اس فتوے کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ فتویٰ مسلمانان عالم کے بزرگ علماء میں سے ایک عالم دین، عالم تشیع کے بزرگ مراجع میں سے ایک مرجع اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ ترین رہبر کی جانب سے صادر ہوا ہے"۔
اسی طرح یکم جنوری 2011 کو ایرانی جماعت اتحاد اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے اپنے نجف دورے کے دوران جب آیت اللہ سیستانی سے اپنی ذمہ داریوں سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا جو کوئی بھی اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کرنا چاہتا ہو تو لازمی طور سے محور ولایت کے گرد اپنی پوری توانائیاں صرف کرے۔ 
2006 کی اسرائیل جنگ کے بعد اپنے خیالات کے اظہار میں سید حسن نصراللہ جو عرب دنیا کی نمبر ایک شخصیت ہیں نے بھی فرمایا تھا: "اس جنگ میں خداوند کریم پر بھروسے کے بعد فقط قائد انقلاب اسلامی ایران تھے جنہوں نے تمام اسلامی ممالک کی مخالفت کے باوجود ہمیں اس جنگ کو جاری رکھنے اور جیت کی نوید دی تھی اور وہ کامیابی ہمیں حاصل ہوئی"۔
لہذا شیطانی منصوبو ں کے برعکس نظام ولایت اور زیادہ ابھر کر سامنے آیا۔ البتہ یہ وہ جگہیں تھی جہاں بابصیرت علماء اور دانشور موجود ہیں اور شیطانی طاقتوں کی کامیابیوں کے آگے بند باندھے ہوئے ہیں مگر وہ علاقے جہاں عوام اور علماء حداقل بصیرت سے تہی ہیں ان شیطانی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں بڑی حد تک کامیاب ہیں اور لوگ فقہاء اور مراجع کرام کے احترام اور
عزاداری اور مہدویت کے نظریے کے تحفظ اور ان میں آنے والے انحراف سے محفوظ نہیں ہیں۔
اب ایک دفعہ پھر ہم پلٹتے ہیں تیونسی اسلامی جماعت النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی کی بات کی طرف۔ راشد الغنوشی الازھر کے ڈاکٹر احمد الطیب کی طرح اس بات سے باخوبی آگاہ ہیں کہ انکے درمیان اجتہاد کا وہ مقام اور مرجعیت کا اقتدار موجود نہیں۔ اور ہر کوئی اپنی ذاتی رائے پر فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ البتہ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو ان کے علماء اور مدارس کا حکومت سے وابستہ ہونا اور دوسرا انکا اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا کوئی نظام نہ ہونا۔ جبکہ شیعہ علماء خمس جیسے عبادتی پہلو کی بنا پر اپنے مدارس کے نظم و نسق میں خودکفیل ہیں اور یہی وجہ مرجعیت کے اقتدار اور استقلال کا باعث ہے۔
اسی لئے راشد الغنوشی نے اس خلاء کا احساس کرتے ہوئے شدت پسند عناصر سے اپنی دوری کا کھلم کھلا اظہار بھی کیا ہے اور ملک کو جمہوری بنیاد پر چلانے کا عندیہ دیا ہے۔ اور امام خمینی رح سے متعلق بیان دے کر مغربی ممالک کی غیرضروری بے چینی کو کم کرنا چاہا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تیونسی عوام اپنے شہداء کے خون کا احترام برقرار رکھتے ہوئے باہمی اتحاد کا مظاہرہ کریں اور امریکہ نواز سعودی وہابی مفتیوں کو اپنے درمیان تفرقہ اور شرانگیزی پھیلانے کا موقع نہ دیں۔ کیونکہ استعماری طاقتوں کے ہاتھوں میں تفرقہ اندازی ہی وہ مہلک ہتھیار ہے جسکی مدد سے وہ قوموں کو اسیر بناتے ہیں اور اس وقت بھی مغربی طاقتیں اس اسلامی ملک میں آئے انقلاب کو اپنے پسند کے کٹھ پتلی افراد کے ذریعے اصل راستے سے ہٹانے میں ذرا بھر بھی سستی نہیں کریں گی۔ ایک ایسا اسلامی ملک جہاں مساجد میں اذان اور باجماعت نماز پر پابندی تھی اور مسجد میں جانے کیلئے حکومت کارڈ ایشو کرتی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہاں کی عوام اتنی قربانی دینے کے بعد دوراندیشی کا مظاہرہ کرتی ہے یا پھر خواہشات کی مائکرو سیاست اور اقتدار کی مائکروفزکس (Micro Politics of Desires and Micro Physics of Power) کے نظریہ کی بھینٹ چڑھتی ہے۔


خبر کا کوڈ : 54747
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب