0
Monday 27 Jun 2016 12:08

یتیم پرور مولا علی ﴿ع﴾

یتیم پرور مولا علی ﴿ع﴾
تحریر: توقیر ساجد

خداوند عالم سخی انسان سے محبت کرتا ہے اور اسے اخروی اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی عزت و اقبال سے نوازتا ہے، جس کی ایک واضح صورت یہ ہے کہ سخاوت کرنے والا شخص لوگوں میں محبوب، محترم اور بزرگ سمجھا جاتا ہے۔ جود و سخا انبیاء و صالحین کی صفت ہے اور آئمہ معصومین علہیم السلام نے اس کی بہت تاکید کی ہے، حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ علیہ السلام نے نصف شب کے بعد گھر سے نکلتے اور دن بھر کی اپنی کمائی سے ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کو اپنا تعارف اور پہچان کروائے بغیر غزا و دیگر اشیاء پہنچاتے تھے۔ جب آپ کی شہادت ہوئی تو معلوم ہوا کہ رات کی تاریکی میں آنے والا شخص امیر المومنین حضرت علی ع کے سوا کوئی نہ تھا، سیرت بنوی درحقیقت اسی شیوہ عمل کا نام ہے۔

اسی طرز کو تمام آئمہ معصومین علہیم السلام، بزرگان دین، صالح مومنین نے اپنایا ہے اور اس کے علاوہ کسی دین و آئین کی پیروری سے ماوراء اس پاکیزہ انسانی عمل کو اپنانے والے افراد کا تذکرہ تاریخ کی ناقابل انکار حقیقت ہے اور اس کا ایمانی اجراء اور معاشرت عملی نتیجہ بھی کسی وضاحت کا محتاج نہیں جود و سخا کمالی صفت ہے، اس کا حامل شخص ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ لہذا اسے اپنا کر عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرکے اپنے وجودی کمالات کو جلا بخشی جائے اور ظاہری زندگی میں حصول عزت کے ساتھ ساتھ، اخروی سعادت سے بہرہ من کویقینی بنایا جائے، تاکہ مقصد تخلیق حاصل ہو سکے۔ اخلاقی خوبیوں میں سے ایک یتیموں کی سرپرستی اور ان کے ساتھ لطف و مہربانی کا مظاہرہ کرنا ہے، کیونکہ انسانوں کی زندگی میں ایسی مشکلات و محرومیاں ہوتی ہیں، جن کا علاج صرف الفت و محبت ہوتا ہے، حضور نے بھی یتیموں کی سرپرستی اور ان کا احترام کرنے کی ترغیب دی ہے۔

ایک حدیث میں فرمایا سب سے زیادہ پسندیدہ گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم عزت و احترام کی زندگی گزارتا ہو۔ یعنی اسلامی تعلیمات یتیموں کی مدد ان کی عزت و احترام کی طرف متوجہ کرتی ہیں، تاکہ وہ سرفرازی و سربلندی کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور بے چارگی، حقارت اور بے کسی کا احساس نہ ہو، امیرالمومنین علیہ السلام ملک اور عوام کے حالات سے باخبر تھے، مخصوصا یتیموں، بیواں، غریبوں سے غافل نہیں ہوتے تھے، لیکن کبھی اپنی حکومت کے کارندوں اور امت اسلامیہ کو سبق دینے کے لئے ایک عام انسان کی طرح کام کیا کرتے تھے۔ ایک روز آپ نے دیکھا کہ ایک عورت شانوں پر پانی کی مشک رکھے جا رہی ہے، آپ نے اس سے مشک لی اور اس کے گھرتک پہنچا دی، اور پھر اس عورت کے حالات دریافت کئے، اس عورت نے کہا، علی نے میرے شوہر کو کسی سرحد پر بھیجا جو وہاں قتل ہو گیا، اب میرے یتیم بچے ہیں اور ان کے خرچ کے لئے بھی میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، اس لیے خود ہی کام کرنے پر مجبور ہوں۔

امیر المومنین علیہ السلام اپنے بیت الشرف پلٹ آئے اور پوری رات پریشانی اور بے چینی کے عالم میں گزاری، جب صبح نمودار ہوئی ، آپ نے کھانے پینے کا کچھ سامان لیا اور اس کے گھر کی طرف روانہ ہوئے،آپ کے بعض اصحاب نے کہا: لائیے یہ بوجھ ھمیں دیدیجئے تاکہ ہم اس کے گھر تک پہنچا دیں، تو امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا؟ اس عورت کے گھر کے دروازے پر پہنچے، اور دق الباب کیا، اس عورت نے سوال کیا: کون ہے جو دروازہ کھٹکھٹاتا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: میں وہی بندہ ہوں جس نے کل تمہاری پانی کی مشک تمہارے گھر تک پہنچائی تھی، دروازہ کھولو کہ میں بچوں کے لئے کھانے پینے کا سامان لایا ہوں، عورت نے کہا: خدا تم سے خوش ہو اور میرے اور علی کے درمیان فیصلہ کرے، علی علیہ السلام مکان میں وارد ہوئے اور فرمایا: میں تمہاری مدد کر کے ثواب الہی حاصل کرنا چاہتا ہوں، روٹی بنانے اور بچوں کو بہلانے میں سے ایک کام میرے حوالہ کر دو۔ عورت نے کہا کہ میں روٹیاں بنا سکتی ہوں، لہذا آپ بچوں کو بھلائیں، عورت نے آٹے کی روٹی بنانا شروع کی اور علی اور گوشت اور خرما بچوں کو کھلانے لگے۔

جب بچے لقمہ کھاتے تو امیر المومنین بچوں سے فرماتے، بیٹو! علی کی وجہ سے تم پر جو مصیبت پڑی ہے، ان کو معاف کردینا! جب آٹا گندھ گیا تو عورت نے کہا، اے بندہ خدا! تنور روشن کرو، علی علیہ السلام تنور کی طرف گئے اور اس کو روشن کیا اور جب تنور سے شعلہ نکلنے لگے تو اپنے چہرے کو اس کے نزدیک لے گئے تاکہ حرارت چہرے تک پہنچے، اور فرماتے تھے اے علی! بیواوں اور یتیم بچوں کے حق سے غافل ھونے کی سزا آگ کی حرارت ھے۔ ناگہاں پڑوس کی ایک عورت آئی اور اس نے علی علیہ السلام کو پہچان لیا اور بچوں کی ماں سے کہا، وائے ہو تجھ پر یہ امیر المومنین علیہ السلام ہیں، یہ سن کر وہ عورت آپ کی طرف دوڑی اور وہ مسلسل کہتی جاتی تھی، یا امیرالمومنین! میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں! امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا، اے کنیز خدا! میں تجھ سے زیادہ شرمندہ ھوں کہ تیرے حق میں کوتاہی کی ہے۔ پس ہم شیعان علی، حضرت علی علیہ السلام کی سیرت مبارکہ پر عمل پیرا ہوکر معاشرے کی بیواوں، یتیموں اور محتاجوں کا خیال رکھیں، ہم علی علیہ السلام والے ھیں، تو آئیں علی علیہ السلام کے ہم قدم ہو جائیں۔
خبر کا کوڈ : 548949
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب